شہداء بدر کے معطر خون کی خوشبو

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,458
1,066
263


شہداء بدر کے معطر خون کی خوشبو
نوید مسعود ہاشمی

یا رسولﷺآپ تشریف لے چلئے‘ جدھر آپﷺ کا ارادہ ہے‘ ہم آپﷺ کے ساتھ ہیں‘ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اگر آپﷺ ہمیں سمندر کے سامنے لے جائیں تو ہم آپﷺ کے حکم پر سمندر میں چھلانگ لگا دیں گے‘ ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہیں ہٹے گا‘ ہم جنگ کے گھمسان میں صبر کرنے والے ہیں اور دشمن کے مقابلے کے وقت ہم سچے ہی… حضرت سعدؓ کے ایمان افروز اور پاکیزہ جذبات سن کر خاتم الانبیاءﷺ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی‘پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا روانہ ہو جائو‘تمہیں خوشخبری ہو‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے دو گروہوں میں سے ایک گروہ پر غلبہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے ‘ بخدا میں کفار مکہ کے مقتولوں کی قتل گاہوں کو دیکھ رہا ہوں۔
پاکیزہ مجلس مشاورت ختم ہوئی اور وہاں سے کوچ کرکے صحابہ کرامؓ حضور اکرمﷺ کی زیر قیادت بدر کے میدان میں آن پہنچے‘اور پھر بدر کے میدان میں صحابہ کرامؓ نے جانثاری و سرفروشی کے ایسے ایسے باب رقم کیے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد آج بھی بدر کی دھرتی سے شہداء بدرکے معطر خون کی خوشبو محسوس کی جاسکتی ہے ’’بدر‘‘ اسلام کے غلبے اور کفر کی مغلوبیت کا چشم دید گواہ ہے ’’بدر‘‘ نے دو بچوں معوذؓ اور معاذؓ کے ہاتھوں سرکش اور باغی ابوجہل کو زخموں سے چور چور ہوکر تڑپتے ہوئے دیکھا۔
’’بدر‘‘ نے سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ اور شیر خدا سیدنا علی المرتضیؓ کی شجاعت و بسالت کو اپنی آنکھوں میں سمو رکھا ہے۔
’’بدر ‘‘کو کمسن حضرت معاذؓ کا وہ بازو آج بھی یاد ہے کہ عکرمہؓ کی تلوار سے جو کٹا تو ضرور مگر تسمہ لٹکا رہا‘ پھرحضرت معاذؓ نے کٹا ہوا ہاتھ پائوں تلے دبا کر تسمہ بھی الگ کر دیا‘ کیونکہ وہ جہاد میں رکاوٹ بن رہا تھا ’’بدر‘‘ آج بھی بتاسکتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیؓ اور حضرت حمزہؓ کے ہاتھوں مارے جاے والے دشمنان رسولﷺ‘ عتبہ ‘ شیبہ اور ولید کہاں کہاں مارے گئے تھے؟
’’بدر‘‘ آج بھی سوال کرنے والے کو زبان حال سے بتاتا ہے … کہ کافروں کو کاٹتے کاٹتے حضرت عکاشہ بن محصنؓ کی تلوار ٹوٹ گئی‘ خاتم الانبیاﷺ نے ایک درخت کی شاخ ان کو عنایت فرمائی کہ اس سے لڑو انہوں نے اسے حرکت دی تو عکاشہؓ کے ہاتھ میں وہ نہایت عمدہ تلوار بن گئی‘ پھر اسی تلوار سے وہ غزوہ بدر میں ہی نہیں بلکہ کئی دیگر غزوات میں بھی برابر لڑتے رہے ‘ یہاں تک کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے دور خلافت میں شہید ہوکر ہمیشہ کیلئے امر ہوئے۔
’’بدر‘‘ بتاتا ہے کہ اس نے بڑے بڑے سرمایہ دار سرداروں کو بے سرو سامان جانثاران مصطفی کریم ﷺ کے ہاتھوں مرتے ہوئے دیکھا ’’بدر‘‘ بتاتا ہے کہ ابھی70 موذی کافر ہی واصل جہنم ہوئے تھے کہ کافروں کے پائوں اکھڑنا شروع ہوگئے‘ اور ایسا کیسے نہ ہوتا اس لئے کہ مجاہدین بدر کے پاکیزہ سپہ سالار خاتم الانبیاﷺ نے سخت خشوع و خضوع کے ساتھ دونوں ہاتھ پھیلاے ہوئے تھے ‘ ان پر محویت اور بے خودی کا ایسا عالم طاری تھا کہ چادر کندھے سے گر پڑتی مگر آپﷺ کو خبر تک نہ ہوتی‘ آنکھوں سے اشک جاری تھے‘ لسان نبوتؐ پر یہ الفاظ تھے‘ خدایا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اسے آج پورا کر‘ اگر یہ چند نفوس آج مٹ گئے تو قیامت تک تیرا کوئی نام لیوا باقی نہیں رہے گا۔
’’بدر‘‘ نے ثابت کیا کہ فتح جدید اسلحے اور بڑی فوج کی محتاج نہیں ہوا کرتی بلکہ ’’فتح‘‘ تو اللہ کی نصرت سے حاصل ہوا کرتی ہے ’’بدر‘‘ نے ثابت کیا دنیا میں سب سے طاقتور خاتم الانبیاءﷺ کے اطاعت اور ایمان کی دولت ہوا کرتی ہے ’’بدر‘‘ نے ثابت کیا کہ ’’جہاد‘‘ ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کیا جاسکتا ہے ’’بدر‘‘ نے درس دیا کہ درحقیقت دین اسلام کی ترویج و اشاعت جہاد ہی کے ذریعے ممکن ہے ’’بدر‘‘ نے پیغام دے دیا کہ بزدلی اور بے غیرتی کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے … ’’جہاد‘‘ کے منکروں‘ جہاد کو منسوخ قرار دینے والوں‘ جہاد کو کرپٹ اور دو نمبر حکمرانوں کے حکم کے ساتھ مشروط کرنے والوں ’’جہاد‘‘ کو بدنام کرنے کی کوشش کرنے والوں کا جواب صرف ’’بدر‘‘ ہے‘ بونے قسم کے دانش فروش‘ کم ظرف سیاست دان ‘جہاد کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے ‘ معرکہ بدر کو قرآن کے صفحات سے ختم کرسکتے ہیں تو کرلیں؟ کیونکہ جب تک معرکہ بدرکا تذکرہ قرآن میں رہے گا‘ تب تک جہاد کا سورج روشن رہے گا۔
امریکہ اور یورپ کے ڈالر زدہ ’’ملاں‘‘ مافیا کے خرکاروں کو کوئی بتائے کہ بدر کا بیانیہ ساڑھے چودہ سو سال قبل قرآن مقدس میں بیان کیا جاچکا‘ معرکہ بدر میں جب سب سے پہلے مشرکین کی طرف سے شیبہ ‘ عتبہ اور ولید تلواریں گھماتے ہوئے میدان میں نکلے تھے تو امام المجاہدین حضرت محمد کریم ﷺ نے ان کے مقابلے میں حضرت سیدنا امیر حمزہؓ‘ حضرت سیدنا علی المرتضیؓ اور حضرت عبیدہ بن حارثؓ کو بھیجا تھا جنہو ں نے تینوں کافروں کو قتل کرکے اور سیدنا عبیدہ بن حارثؓ کے زخمی وجود کا لہو بہا کر جو ’’بیانیہ‘‘ رقم کیا تھا ‘ ساری دنیا کے کافر اور منافق مل کر بھی اس ’’بیانیئے‘‘ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے … اللہ کی نصرت میدان بدر میں اتری‘ جہادی میدانوں سے پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے ‘ مجاہدین کے خلاف یہود و نصاریٰ اور ہنود کو مخبریاں کرنے والے ‘ عالمی صیہونی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنا خمیر اور ضمیر بیچنے والے … کیا جانیں بدر کے عظیم الشان پیغام کی اہمیت کو؟
جھوٹے اسٹیٹس اور ڈالروں کے جال میں گرفتار ان بندگان ’’امریکہ‘‘ کے ’’بیانیئے‘‘ فائلوں میں ہی دبے رہ جائیں گے … اور بدر کا بیانیہ قرآن کی صورت میں پوری کائنات میں ’’امن‘‘ کی خوشبوئیں بکھیرتا رہے گا۔
 
Top
Forgot your password?