شیزو فرینیا : علامات اور علاج

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
شیزو فرینیا : علامات اور علاج
117774

محمد اقبال
ذہنی امراض میں شیزوفرینیا سب سے شدید اور تکلیف دہ بیماری ہے۔ چونکہ یہ جواں عمری میں ظاہر ہوتی ہے، اس لیے مریض کی ذاتی زندگی کو بہت متاثر کرتی ہے۔ مناسب اور بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں ایسے مریض کی اپنی زندگی بھی اجیرن ہو جاتی ہے اور اس کے خاندان اور عزیزواقارب کو بھی انتہائی ذہنی، معاشی اور معاشرتی تکلیف اٹھانی پڑتی ہے کیونکہ ایسے مریض کو اپنی عجیب و غریب حرکات پر کنٹرول نہیں ہوتا اور معاشرے میں بھی اسے حقارت اور ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض اوقات مریض کی ذاتی، سماجی اور معاشرتی زندگی اس حد تک متاثر ہو جاتی ہے کہ اسے گھربار چھوڑنا پڑتا ہے۔ شیزوفرینیا کیا ہے؟ یہ ایک شدید دماغی مرض ہے جو ذیابیطس یا بلڈ پریشر کی طرح پیچیدہ ہے۔ بیماری زیادہ تر 15 سے 35 سال کی عمر میں لاحق ہوتی ہے۔ یہ مرض دماغی کیمسٹری اور ساخت میں تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اکثر اس کے اثرات ابتدائی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ مریض اپنے دوست احباب اور عزیزواقارت سے ملنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔ کام کاج، پڑھائی اور ملازمت میں دلچسپی کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ الگ تھلگ اور اپنے آپ میں ڈوبا رہنا اور صحت و صفائی کا خیال نہ رکھنا عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے یعنی اس کا طرز زندگی بالکل بدل جاتا ہے۔ علامات اس مرض کی خاص علامات میں سے چند کی موجودگی سے مرض کی تشخیص کی جاتی ہے۔ 1۔ Hallucination یعنی مریض کو غیر حقیقی آوازیں سنائی دیتی ہیں یا اَن دیکھی چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور وہ انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ 2۔ Delusion یعنی مریض کے ذہن میں غلط اور بے بنیاد خیالات آنے لگتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ اس کا پیچھا کر رہے ہیں یا اسے مارنے کے درپے ہیں، یا وہ کوئی اہم شخصیت ہے، وغیرہ وغیرہ۔ مریض ان خیالات کے حقیقت ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ 3۔ مریض سمجھتا ہے کہ اس کے دماغ سے خیالات دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں، اسے یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اس کے خیالات کوئی کنٹرول کرتا ہے اور اس پر مختلف کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔ 4۔ مریض کے موڈ اور مزاج میں خاصی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ بے معنی اور لغو باتیں کرنا، قہقہے لگانا، بے ربط قصے سنانا، ایک ہی بات بار بار دہرانا اور کبھی بالکل خاموش ہو جانا۔ 5۔ مریض کی گفتگو بے ربط ہو جاتی ہے اور وہ اکثر غیر منطقی باتیں کرنے لگتا ہے۔ ایک بات میں دوسری، دوسری میں تیسری بات شروع کر دینے کا اسے کوئی احساس نہیں ہوتا۔ یا پھر دماغ بالکل خالی محسوس ہوتا ہے۔ 6۔ روزمرہ کے کام کاج میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں احسن طریقے سے ادا نہیں کر پاتا حتیٰ کہ اپنی دیکھ بھال بھی نہیں کر پاتا۔ 7۔ مریض کے سماجی تعلقات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ عزواقارب سے علیٰحدگی، جذباتی لاتعلقی، جارحانہ رویہ، توڑ پھوڑ اور بعض حرکات اسے باقی لوگوں میں غیر مقبول بنا دیتی ہیں۔ 8۔ بے چینی، بے معنی خاموشی، الٹی سیدھی شکلیں بنانا، بلاجواز نامناسب جگہوں پر اٹھنا بیٹھنا، کپڑے اتار دینا، ہفتہ ہفتہ نہ نہانا، موسم کی ضروریات کے برعکس کپڑے پہننا، کوڑا کرکٹ جمع کرنا وغیرہ جیسی حرکات و سکنات شیزوفرینیا کے مریضوں میں اکثر دیکھی جاتی ہیں۔ وجوہات شیزوفرینیا ایک پیچیدہ مرض ہے اور اس کی وجوہات بھی پیچیدہ ہیں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغ کی ساخت اور دماغ میں کچھ کیمیائی تبدیلیاں اس مرض کے پیدا ہونے کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد جو روزمرہ زندگی میں ناموافق حالات کے دباؤ کا شکار ہو جائیں وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اس مرض میں موروثی، خاندانی حالات، ماحول اور نشہ آور اشیا کے استعمال کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلّمہ ہے۔ ایسے خاندان میں جہاں یہ مرض موجود ہو، دوسرے افراد کے اس مرض کا شکار ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ علاج شیزوفرینیا زندگی بھر کی بیماری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاج کے لیے جو ادویات استعمال ہوتی ہیں اکثر اوقات وہ مرض کی علامات کو مستقل کنٹرول تو کر لیتی ہیں لیکن علامات کو ختم نہیں کرتیں۔ ممکن ہے شیزو فرینیا کے مریض کو عمر بھر ادویات استعمال کرنا پڑیں۔ شیزوفرینیا کے اکثر مریض دوسری طبی بیماریوں مثلاً بلڈ پریشر، ذیابیطس یا امراضِ قلب کا بھی شکار ہوتے ہیں اس لیے ایسی مناسب ادویات موجود ہیں جو ان تمام بیماریوں کے ساتھ استعمال ہو سکتی ہیں۔ ادویات کے ساتھ ساتھ ایسے مریضوں کی بحالی کے لیے نفسیاتی طریقہ علاج بھی بہت ضروری اور اہم ہے۔ اس کے لیے فرد کی جذباتی، سماجی اور معاشرتی ضروریات پر کام کر کے اسے ممکنہ حد تک عام اور روزمرہ زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مریض کے ساتھ ساتھ اس کے اہل خانہ کو بھی مناسب رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے مریض کے مسائل کو ممکنہ حد تک حل کر سکیں۔ صرف مرض کی شدت کی صورت میں مریض کو ہسپتال میں داخل کرانا ضروری ہے تاکہ فوراً مناسب طبی اور نفسیاتی علاج سے مرض کی شدت پر قابو پایا جا سکے۔ ایسے مریض کو اپنے جیسے مریضوں کا گروپ مل جائے تو اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور اس میں خود اعتمادی پیدا ہونے لگتی ہے۔ Rehabilitation کے ذریعے مریض کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ دوبارہ سے اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے۔ ڈاکٹر سے مسلسل رابطہ اور اس کی دی ہوئی دواؤں کا پابندی سے استعمال ضروری ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دواؤں میں کمی بیشی خطرناک ہو سکتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک تہائی مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ باقی دو تہائی عارضی طور پر شفایاب ہو جاتے ہیں لیکن یہ مرض ساری عمر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ بیشتر مریض علاج معالجے کے بعد اپنے پرانے کام کاج میں دوبارہ مصروف ہو جاتے ہیں اور اپنے گھر بار میں معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ مریض کیا کریں؟ شیزوفرینیا کا شدید حملہ آپ کو بہت سی مشکلات میں مبتلا کر دے گا۔ اس کی علامات اور اثرات پریشان کن ہوتے ہیں۔ ایسے میں آپ ڈاکٹر سے فوراً رجوع کریں۔ جو لوگ اس مرض کا شکار رہ کر صحت یاب ہو چکے ہوں، ان سے ملنا جلنا آپ کے ذہنی سکون اور خوداعتمادی کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیں! جب آپ کی بیماری شدید ہو گی تو آپ خود کو مایوس، قابلِ رحم اور قصوروار سمجھیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے لوگوں پر آپ کا اعتماد ہی اٹھ جائے اور آپ ان سے بالکل الگ تھلگ ہو جائیں۔ ایسے حالت میں اپنی کیفیت کو رازداری میں رکھنا ٹھیک نہیں ہوتا۔ اپنے مخلص عزیزوں، دوستوں، ڈاکٹروں اور بزرگوں کو بتائیے کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں تاکہ موزوں حل تلاش کیا جائے۔ عملی حل میں آپ ایسا کام یا ایسی سرگرمی ڈھونڈ سکتے ہیں جسے کرنے میں آپ کا دل لگا رہے۔ اس میں باقاعدہ ورزش، ریڈیو سننا، ٹی وی دیکھنا اور دوستوں سے ملنا جلنا شامل ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ رفتہ رفتہ زندگی کے کاموں کو دوبارہ اپنا معمول بنا لیں اور ان جگہوں اور لوگوں سے دور رہیں جن سے آپ کو ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔ دوست اور عزیزواقارب کی ذمہ داریاں یہ سچ ہے کہ قریبی عزیزوں اور دوستوں کے لیے شیزوفرینیا کے مریض کا ساتھ نبھانا بہت پریشان کن ہوتا ہے۔ ممکن ہے آپ ایسے مریضوں کو سمجھانا چاہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط لیکن ایسا بھی ہو گا کہ آپ کے مشوروں کو وہ سرے سے قبول ہی نہیں کریں گے۔ اس طرح آپ کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں لیکن یہ بات ذہن میں رکھیے کہ مریض جو کچھ کر رہا ہے وہ اس کے بس میں نہیں۔ وہ رفتہ رفتہ علاج معالجے اور دیکھ بھال سے دوبارہ آپ کے قریب آ سکتا ہے۔ تفصیل اور معاونت کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
آپ سے رجوع کرنا ہے؟
بہت عمدہ انتخاب
شیئر کرنے کا شکریہ
یہاں رجوع کی دو قسمیں ہیں ایک جو مریض اس مرض سے صحت مند ہو چکے ہیں اور دوسرا ڈاکٹر صاحب جو معالج ہیں؟ مجھے بتا دیں کس حثیت میں مجھ سے رجوع کرنا ہے؟
پسند اور رائے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Super Star
Jul 7, 2019
5,094
5,421
213
یہاں رجوع کی دو قسمیں ہیں ایک جو مریض اس مرض سے صحت مند ہو چکے ہیں اور دوسرا ڈاکٹر صاحب جو معالج ہیں؟ مجھے بتا دیں کس حثیت میں مجھ سے رجوع کرنا ہے؟
پسند اور رائے کا شکریہ
رجوع کی اور بھی کئی قسمیں ہیں =)) لیکن یہاں معاملہ طبیب اور مریض کا ہے اس تناظر میں رجوع آپ سے بنتا ہے
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?