صحت مندرہنے کے چند اصول ،تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
صحت مندرہنے کے چند اصول ،تحریر : پرفیسر ضیا ء زرناب
115710

زندگی میں جہاں دولت کمانا بہت اہم ہے وہیں اس دولت کا لطف اُٹھانا اس کے کمانے سے بھی کہیں زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ اکثر لوگ کامیابی کے سفر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس پورے عمل میں لازم ہے کہ ہم دوسرے امور کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کا بھی بھرپور خیال رکھیں۔آپ کی کمائی ہوئی دولت کا مزہ آپ کے صحت اور تندرستی کے ساتھ ہے۔ بیماری میں تو سب کچھ برا لگنے لگتا ہے۔اسی لئے تو تندرستی کو ہزار نعمت گردانا جاتا ہے۔جسم آپ کیلئے خدا کے بڑے عطیات میں اہم ترین عطیہ ہے ۔

جسم میں78اعضاء دو سو سے زائد ہڈیاں، 320پٹھے اور 360 جوڑ ، جو آپس میں 37.2ٹریلین سیلز سے جڑے ہیں دنیا کا و ُہ شانداراور مربوط ترین نظام تشکیل دیتے ہیں کہ اس جیسا کوئی اور بنانا ممکن ہی نہیں۔خدا کی یہ نعمت ا میر غریب سب میں یکساں طور پر تقسیم کی جاتی ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس کی حقیقی معنوں میں قدر کرتے ہیں اور اس کا بھر پورخیال رکھتے ہیں۔اسی لئے تو اکثر لوگوں کو صحت و تند رستی کی قدر اُس وقت آتی ہے جب و ُہ یہ دولت گنوا بیٹھتے ہیں۔ جسمانی صحت و ترقی سے مر ُاد یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صحت اورشاندار جسم کی اس طرح حفاظت کریں کہ اسے بیماریوں سے بچا کرر کھیں جو کہ صرف اور صرف صحت و صفائی کے اعلیٰ اصولوں پر عمل کر کے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔جسمانی صحت کا خیال رکھ کر ہی ذہنی اور نفسیاتی صحت کو برقرا ر رکھنا یقینی بنایا جا سکتا ہے۔مگر یہاں یہ بات بھی ملحوظِ خاطر رہے کہ صحت مند رہنا کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے جس میں ہم اپنی ذات میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لا کر صحتمند اور خوش وخر م زندگی گذار سکتے ہیں اور کامیابی سے حقیقی طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ جسمانی ترقی کے مندرجہ ذیل اصولوں جن کی بنیاد سائنسی تحقیق اور نتائج پر رکھی گئی ہے کو اپنی زندگی کا ضروری حصہ بنا لیں تاکہ آپ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی طور پر بھی صحت مند اور توانا زندگی گذار سکیں۔

اپنے جسم کی حفاظت کریں:جسم و ُہ سرائے یعنی عارضی قیام گاہ ہے جس میں خدا کی پھونکی ہوئی روح کا دنیاوی زندگی کے لئے قیام ہوتاہے۔ اس جسم کی حفاظت اللہ کی امانت سمجھ کر کریں کیونکہ اگر یہ تکلیف یا بیماری میں ہو گا تو دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی کا لطف ادھورا اور نامکمل ہو گا۔اپنے جسم کو موٹاپے اور فربہی سے ہر صورت بچائیں کیونکہ 85فیصد سے زیادہ امراض کی بنیادی وجہ فرد کے وزن میں زیادتی ہوتا ہے۔آپ اپنے جسم کی ضرورت کے مطابق خوراک کھائیں جس کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو پتہ ہو کہ آپ کی عمر، قد، وزن، اوجنس کے اعتبار سے آپ کی روزانہ کی خوراک میں کلوریز کی کتنی مقدارکی ضرورت ہے؟انٹرنیٹ پر بیش بہا ویب سائٹس پر آپ مفت اور دو منٹ میں یہ معلوم کر سکتے ہیں۔اگر آپ کا وزن معیاری اور اوسط وزن سے زیادہ ہے تو فوری طور پر اس میں کمی لائیں۔ایک کلوگرام وزن کم کرنے میں آپ کو اپنی خوراک میں 7000ہزار کلوریز کم کرنا ہو ں گی۔یہ بالکل سادہ سی سائنس ہے جسکا ایک اصول یہ ہے کہ اپنے جسم کو ایک بنک خیال کریں پہلے اس میںپہلے محنت کر کے اس میں کلوریز جمع کروائیں پھر اس میں خرچ کریں تاکہ آپ دنیا کی صحت کی نمبر ایک دشمن بیماری یعنی موٹاپے سے بچ سکیں۔ یعنی آپ ایک برگریا شوارما کھاناچاہتے ہیں تو جان لیں اس میں تقریباً300کیلوریز ہوتی ہیں۔ تو پہلے اپنے جسم کو حرکت دیں اور کم از کم ایک گھنٹہ ورزش کر کے جسم میں تین سو کلوریز جمع کروائیں۔ پھر خرچ کریں یعنی اس کے بعد اگر آپ ایک برگر یا شوارما کھا بھی لیں گے تو آپ موٹے نہیں ہوں گے۔ بس اسی اصول کا اطلاق کھانے پینے کی ہر شے پر کر دیں تو ماہرین ِ طب و صحت آپ کو ضمانت دیتے ہیں کہ آپ کبھی موٹاپے اور فربہی کا شکار نہیں ہوں گے جو آج کی جدید دنیا میں تمام بڑے امراض کی بنیادی وجہ ہے۔

متوازن خوراک کھائیں: پیسے اچھی خوراک پر خرچ کرنا ہیں یا دوائوں پر فیصلہ آپ کا ہے۔ آپ کی خوراک متوازن ہونی چاہیے جس میں تمام غذائی اجزاء شامل ہوں تاکہ آپ بھرپور اور صحتمند زندگی کا مزہ لے سکیں۔پھل اور سبزیاں ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی فیسوں سے زیادہ بہتر ہیں ۔کیونکہ یہ صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جنک فوڈ سے بچائو یقینی طور پر بیماریوں کوگٹھانے کا باعث بنتا ہے۔ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر محمد نوید الحق کا کہنا ہے کہ بیکریاں بیماریوں کا سب سے بڑا گڑھ ہیں جہاں سے ہم جسمانی بیماریاںمہنگے داموں خرید کر لاتے ہیں۔اس لئے کوشش کریں کہ اپنی زندگی سے بیکری کی مصنوعات کم سے کم کر دیں اور اپنی خوراک میں تمام اقسام کی کھانے کی اشیاء جن میں لحمیات، شکر ، نشاستہ ، دالیں، سبزیاں ، پھل غرض یہ کہ ہمہ قسم کی خوراکیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنالیں تاکہ متوازن غذ ا کی بدولت آپ صحت مند زندگی جی سکیں۔ ملک کے ایک معروف ماہر غذائیات کھانے میں تین باتوں کا خیال رکھنے کو لازم بنانے پر صحت مند زندگی کی گارنٹی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت کے کھانے میں گرم اور ٹھنڈا کبھی مکس نہ کریں، دوسری بات ایک وقت کے کھانے میں مائع اور ٹھوس غذا کبھی اکٹھی استعمال نہ کریں، اور تیسری بات یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں میٹھا اور نمکین اکٹھا مت کھائیں تو آپکے بیمار ہونے کے چانسز بہت کم ہو جائیں گے۔

جسمانی طور پر مضبوط اور توانا رہیں: جن قوموں کے کھیلوںکے میدان آباد ہوتے ہیں اُن کے ہسپتال اکثر ویران ہوتے ہیں۔ ورزش دنیا کی سب سے بہترین دوائی ہے۔ آپ اپنی قوت ِ برداشت کو آہستہ آہستہ بڑھائیں تاکہ آپ اپنے دل و دماغ کی حفاظت کر سکیں ۔ آپ کو جو بھی ورزش پسند ہے کرنا شروع کردیں یعنی آپ واکنگ، جوگنگ، رننگ ، سوئمنگ ، یا کچھ بھی اپنی پسند کے مطابق ہو سکے تو ایک گھنٹہ ورنہ 40منٹ ضرور کریں کیونکہ چالیس منٹ بعد دماغ سے ڈوپامین نامی ایک کیمیکل خارج ہوتا ہے جو آپ کو خوشی کا احساس دلاتا ہے اور آپ کو بہت سی ذہنی بیماریوں سے بچائے رکھتا ہے اس لئے تو کہا جاتا ہے کہ ایک مضبوط جسم میں ہی ایک مضبوط دماغ ہو تا ہے۔ اگر آپ اتنا وقت نکال نہیں سکتے تو جناب تیار رہیں کچھ ہی عرصے میں جناب کو ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے چکر لازمی لگانا پڑیں گے۔ میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ ورزش کیلئے ایک مہنگے ترین جم میں جانا ایک سستے ترین ڈاکٹر یا ہسپتال کے چکر لگانے سے بہتر ہے۔ کیونکہ مہنگے جم سے آپ صحت مند اور بیماریوں سے بچائولے کر جب کہ ڈاکٹر یا ہسپتال سے بیماریوں کے علاج لے کر لوٹتے ہیں۔ پہلی صورت میں آپ خوش و خرم اور چاک و چوبند ہوتے ہیں کہ زندگی بہت پر لطف اور شاندار لگتی ہے جب کہ دوسری صورت میںآپ زندگی سے تھکنے لگتے ہیں اور یہ بوجھ لگنے لگتی ہے۔

اپنی قوت مدافعت بڑھائیں: زندگی میں اپنی متوازن خوراک اور ورزش کی مدد سے اپنی قوتِ مدافعت بڑھائیں تاکہ بیماریوں سے بچ سکیں ۔ اس کے لئے لازم ہے کہ آپ اپنے جسم میں وٹامنز اور منرلز کی درکار مقدار کو پورا رکھیں ورنہ بیماریوں کا شکار ہو کر کامیاب زندگی کا حقیقی لطف اُٹھانے سے محروم رہیں گے۔ قو ت ِ مدافعت بڑھانے کیلئے اپنی خوراک میں ڈاکٹر کے مشورے سے کیلشیم، زنک، آئرن، وٹامن اے ،سی،ڈی اور ای، سیلینیم، اور کاپر ضرور شامل رکھیں۔خاص طور پر چالیس سال کی عمر کے بعد اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے اپنی خوراک میں وٹامنز اور منرلز ضرور شامل کریں کیونکہ جدید سائنسی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم یہ کیمیاوی مادے کم مقدار میں بناتا ہے یا بنانا چھوڑ جاتا ہے اس لئے ان کی کمی کو گولیوں اور کیپسولوںسے پورا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔مزید برآں اکثر لوگوں کی خوراک متوازن نہ ہونے کی وجہ سے جسم میں ان کی کمی ہوجاتی ہے جس کو پورا کرنا صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔قوتِ مدافعت میں کمی کی ایک بڑی وجہ سٹریس یعنی ذہنی دبائو بھی ہوتا ہے۔ اس لئے کوشش کریں کہ آپ اپنے آپ کو مستقل ذہنی دبائو والی کیفیات اور صورتحال سے ہر حال میں بچا کرر کھیں ۔اگر کسی بھی کام ، ملازمت یا کاروبار میں ذہنی دبائو بہت زیادہ ہے تو جلد از جلد اُسے چھوڑ کر ایسی جگہ کام کاج کریں جہاں ذہنی تنائو کم ہو چاہے اس میں آپ کو کم مشاہرہ اور تنخواہ ہی ملے۔زیادہ تنخواہ لے کر اسے ڈاکٹروں کو دے دینا کہاں کی عقلمندی ہے کہ اس میں جان کا دُکھ بھی ہے اور روح پر بوجھ بھی۔ ایسے میں قناعت آپ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے جو آپ کو اطمینان و سکون عطا کرے گا۔

صفائی پرپورا ایمان رکھیں :صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے مگر آپ اس کو اپنی زندگی میں پورا ایمان بنا لیں۔ صفائی چاہے جسم کی ہو یا خیالات کی، گھر کی ہو یا سماج کی، اس کا بھرپور خیال رکھیں۔ہر وقت اپنے جسم اور روح کو پاکیزہ اور صاف رکھیں تاکہ لوگ آپ کے ساتھ اور رفاقت پر فخر محسوس کریں۔ میں ایسے کئی نو دولتیوں کی محفلوں سے اُٹھ کر چند منٹ میں ہی بھاگا ہوں جہاں عالی جناب کے جسم یا خاص طور پر منہ سے بدبو ہ سے بھبھوکے اُٹھ رہے تھے کہ بیٹھنا محال تھا۔روح کی پاکیزگی کا راستہ جسمانی طہارت و صفائی سے ہو کر گذرتا ہے۔آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ ہارٹ اٹیک کی بڑی وجوہات میں سے ایک منہ کی صفائی نہ کرنا ہے کیونکہ اس سے منہ میں ایسے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جو ہارٹ اٹیک کا باعث بنتے ہیں۔ آپ کی اعلیٰ شخصیت کا بھرپور اظہار اور بہت سے بیماریوں کا بچائو صرف اس بات میں پوشیدہ ہے کہ آپ اپنے جسم کی روزانہ کی بنیادوں پر صفائی کا خیال رکھیں۔ اسلام میں توصفائی یعنی طہارت کی عادت پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے کیونکہ اس کی بدولت ہم نہ صرف چاک و چوبند محسوس کرتے ہیں بلکہ بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔اسی لئے تو ترقی یافتہ قوموں میں محکمہ صحت یعنی ہسپتالوں کا بجٹ بڑھانے کی بجائے وہاں کھیلوں کے میدانوں اور لوگوں میں صفائی ستھرائی کا شعور پیدا کرنے پر زیادہ خرچہ کیا جاتا ہے ۔تاکہ لوگ بیماریوں سے بچیں اور صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہوں۔کیونکہ اگر گندگی بیماریوں کی ماں ہے تو صفائی بیماریوں کی قاتل ہے جو انہیں جنم لینے سے پہلے ہی مار دیتی ہے۔

آرام کریں: اپنے جسم کو آرام دیں تاکہ دوبارہ تازہ دم ہو کر زندگی کی جنگ لڑ سکیں۔ نیند خدا کے بڑے عطیات اور نعمتوں میں سے ایک ہے ۔صحت مند زندگی کیلئے اپنی نیند کا خاص خیال رکھیںتاکہ آپ جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے بچ سکیں ۔ زیادہ تر نفسیاتی اور ذہنی بیماریاں فرد کی نیند کو تباہ کر دیتی ہیں اور اُن کی نیند یا تو مر جاتی ہے یا بڑھ جاتی ہے۔ سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جن لوگوں کی نیند بہت زیادہ ڈسٹرب ہوتی ہے ان میں موٹاپا، شوگر اور دل کے مسائل پید ا ہونے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔نیند کے مسائل سے ہی تو بھوک میں بہت کمی یا بہت شدت پیدا ہوتی ہے جو بہت سی جسمانی بیماریوں کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔ نیند میں کمی کی وجہ سے ذہنی اعمال جیسے توجہ، استغراق، یادداشت اور ادراک میں مسئلہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے فرد کی پیدا روایت اور کارکردگی میں واضح کمی آتی ہے اور فرد کی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ مزید برآں ایک سائنسی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہو ا ہے کہ وہ ایتھلیٹ اور کھلاڑی جو اپنی نیند پوری کر کے مقابلے یا کھیل میں اُترتے ہیں دوسروں کی نسبت زیادہ مہارت، تیزی، چستی، پھرتی اور کارکردگی دکھاتے ہیں جنکی نیند پوری نہیں ہوئی ہوتی۔ ہیلتھ لائن پر شائع شدہ 15سے زیادہ تحقیقات کے مجموعی مطالعے میں یہ بات مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ جو لوگ رات میں7سے8گھنٹے نہیں سوتے ان کو ہارٹ اٹیک یعنی دل کا دورہ پڑنے ، فالج ہونے، جسم میں معدے میں خرابی ، اور قوتِ مدافعت کم ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔ڈپریشن اور انگزائٹی کا بھی نیند کی کمی سے گہرا تعلق پایا گیا ہے۔جان لیں کہ کام کے ساتھ آرام بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔ آجکل ایک نیا رواج چلا ہے کہ لوگ راتوں کا جاگتے اور دنوں کو سوتے ہیں۔ بہت پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی ایسا ہوتا ہے جو کہ خدا کے بتائے ہوئے اصولوں کی سخت خلاف ورزی ہے ۔ رات نیند اور دن کو معاش کیلئے بنایا گیا ہے اس لئے آپ رات میں کم از کم 7سے8گھنٹے آرام ضرور کریںتاکہ آپ دن میں اپنے آپ کو بھرپور انداز میں معاشی سرگرمیوں اور زندگی کے دیگر امور میں بہترین انداز میں لگا سکیں اور یوں اللہ آپ کے لیل و نہار میں برکت دے ۔

اپنے آپ کو وقت دیں: دنیا کی سب سے بڑی دولت وقت ہے۔ اس کی قدر کریں اور یہ تحفہ سب سے پہلے اپنے آپ کو دیں تاکہ آپ جسمانی اور روحانی طور پر صحتمند اور توانا رہ سکیں۔اپنی ذات میں بہتری میں گذارا گیا وقت ہی فرد کی اصل دولت ہوتا ہے ۔ کامیاب لوگ اپنے ساتھ یعنی اکیلے وقت گذارنا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس میں فرد کا تدبر و تفکر اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ اپنے جسم و روح کو شاداب رکھنے کیلئے کم از کم 40منٹ ورزش اور 20منٹ مراقبہ ضرور کریں۔ اگر آپ اپنی ذات میں بہتری کیلئے یہ ایک گھنٹہ نہیں نکال سکتے تو آپ کسی سے بھی مخلص نہیں ہو سکتے کیونکہ اگر آپ اپنے آپ سے ہی مخلص نہیں تو کسی اور سے آپ کے اخلاص کے دعوے کیسے سچے ہوسکتے ہیں؟ اپنی ذات کے ساتھ گذارا ہو یہ وقت آپ کو جسمانی اور روحانی طور پر مضبوط ، تر وتازہ اور چوکس رکھتا ہے جس کی بدولت آپ زندگی کی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرتے ہوئے نہیں گھبراتے۔ آج کل کی ٹیکنالوجی کی دنیا میں فرد اپنے ساتھ اور دوسرے لوگوں کیساتھ بہت ہی کم وقت گذارتا ہے جس کی وجہ بہت سی روحانی اور نفسیاتی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ لوگ اپنی ذات کا سامنا کرنے سے یا تو بہت ڈرتے ہیں یا پھر کچھ منٹوں میں ہی بور ہونے لگتے ہیں۔ اپنے ساتھ آپ کا جتنا وقت زیادہ گذرتا جائے گا آپ کی شخصیت(personality) اُتنی ہی مضبوط اور انفرادیت(Individuality) اُتنی ہی شاندار ہوتی چلی جاتی ہے۔ مطلق سچائی آپ پر ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں تو کبھی ظاہر نہیں ہو گی اس کا تجربہ کرنے کیلئے آپ کو اکیلے رہنے اور اپنے ساتھ وقت گذارنے کی عادت کو اپنا نا ہو گا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
2,800
2,784
213
سرخیاں الگ الگ کر دیا کریں
مفید معلومات شیئر کرنے کا شکریہ
جزاک اللہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?