ظالم اور مظلوم کے درمیان اللہ صلح کرائیگا

ROHAAN

LOVE IS LIFE
TM Star
Aug 14, 2016
3,359
2,290
513
117147


ظالم اور مظلوم کے درمیان اللہ صلح کرائیگا

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپِﷺ مسکرا رہے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے پوچھا یارسول اللہﷺ کون سی چیز ہنسی کا سبب ہوئی؟ فرمایا کہ میرے دو امتی اللہ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایک اللہ سے کہتا ہے کہ یارب! اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے‘ میں بدلہ چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس (ظالم) سے فرماتے ہیں کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کردو۔ ظالم جواب دیتا ہے یارب! اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں۔ تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ! میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے۔ یہ کہتے ہوئے حضورﷺ آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے کہ وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ لوگ اس بات کے حاجت مند ہوں گے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں۔ اب اللہ تعالیٰ طالب انتقام سے فرمائے گا کہ نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ‘ وہ سر اٹھائے گا‘ جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا یارب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں‘ موتیوں کے بنے ہوئے ہیں یارب! یہ محل کس نبی اور کس صدیق اور شہید کے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائینگے جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دئیے جاتے ہیں۔ وہ کہے گا یارب! کون اس کی قیمت ادا کرسکتاہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائینگے کہ تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔ اب وہ عرض کرے گا یارب! کس طرح؟ اللہ جل شانہٗ ارشاد فرمائے گا: اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کردے۔ وہ کہے گا یارب! میں نے معاف کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائینگے: اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا کہ: ’’اللہ سے ڈرو‘ آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بھی مومنین کے درمیان آپس میں صلح کرانے والا ہے‘‘۔
( تفسیر ابن کثیر جلد2صفحہ 269
 
  • Like
Reactions: Angela

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
3,171
3,357
213
~Dasht e Tanhaayi~
View attachment 117147

ظالم اور مظلوم کے درمیان اللہ صلح کرائیگا

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ آپِﷺ مسکرا رہے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے پوچھا یارسول اللہﷺ کون سی چیز ہنسی کا سبب ہوئی؟ فرمایا کہ میرے دو امتی اللہ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایک اللہ سے کہتا ہے کہ یارب! اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے‘ میں بدلہ چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس (ظالم) سے فرماتے ہیں کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کردو۔ ظالم جواب دیتا ہے یارب! اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں۔ تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ! میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے۔ یہ کہتے ہوئے حضورﷺ آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے کہ وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ لوگ اس بات کے حاجت مند ہوں گے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں۔ اب اللہ تعالیٰ طالب انتقام سے فرمائے گا کہ نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ‘ وہ سر اٹھائے گا‘ جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا یارب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں‘ موتیوں کے بنے ہوئے ہیں یارب! یہ محل کس نبی اور کس صدیق اور شہید کے ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائینگے جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دئیے جاتے ہیں۔ وہ کہے گا یارب! کون اس کی قیمت ادا کرسکتاہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائینگے کہ تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔ اب وہ عرض کرے گا یارب! کس طرح؟ اللہ جل شانہٗ ارشاد فرمائے گا: اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کردے۔ وہ کہے گا یارب! میں نے معاف کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائینگے: اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا کہ: ’’اللہ سے ڈرو‘ آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بھی مومنین کے درمیان آپس میں صلح کرانے والا ہے‘‘۔
( تفسیر ابن کثیر جلد2صفحہ 269
Subhanallah.... Jazakallah o khairan wa kaseeraaaaaaa
 
  • Like
Reactions: ROHAAN
Top
Forgot your password?