عہدِ وسطیٰ کے جاپان میں روزمرہ زندگی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
عہدِ وسطیٰ کے جاپان میں روزمرہ زندگی
115383


مارک کارٹ رائٹ

آج جاپان کا شمار دنیا کے جدید صنعتی ممالک میں ہوتا ہے لیکن عہدِ وسطیٰ کا جاپان بالکل مختلف تھا۔ آئیے اس دور میں جھانک کر دیکھتے ہیں۔ عہدِ وسطی کے جاپان (1185-1606ئ) میں بیشتر افرادکی زندگی کھانے کا بندوبست کرنے، خاندان بنانے، صحت برقرار رکھنے اور اچھی چیزوں سے محظوظ ہونے کی جدوجہد سے عبارت تھی۔ بالائی طبقات کے کپڑے بہتر اور زیادہ رنگین ہوا کرتے تھے، وہ غیر ملکی چینی مٹی کے برتن استعمال کرتے، ’’نوہ‘‘ تھیٹر سے لطف اندوز ہوتے اور جاپان کے دوسرے علاقوں کا سفر کرنے کے بھی قابل ہوتے۔ دوسری جانب نچلے طبقات کاٹن کے سادہ کپڑے پہنتے، چاول اور مچھلی کھاتے اور انہیں بار بار آنے والے قحطوں ، بیماریوں اور خانہ جنگوں سے نبردآزما ہونا پڑتا۔ عہدِ وسطی کے جاپان کی بہت سی ثقافتی سرگرمیاں آج بھی جاری ہیں جن میں سبزچائے نوش کرنا، بورڈ گیم ’’گو‘‘ کھیلنا، کھانے کی تیلیاں رکھنا اور جولائی، اگست کے اوبون میلے میںاپنے آباؤاجداد کو یاد کرنا شامل ہیں۔ معاشرہ: عہدِ وسطی کے جاپان میں معاشرہ اقتصادی افعال کی بنیاد پر طبقات میں تقسیم تھا۔ سب سے بلند سمورائی یا بوشی جنگجو طبقہ تھا۔ علاوہ ازیں اس میں زمینوں کی مالک اشرافیہ، مذہبی پیشوا، کسان، دستکار اور تاجر شامل تھے۔ حیران کن طور پر تاجروں کا سماجی رتبہ کسانوں سے کم سمجھا جاتا تھا۔ کچھ پیشوں کو نیچ سمجھا جاتا تھا جیسے قصائی، چمڑے کا کام کرنے والے، اداکار، تجہیزوتدفین کا انتظام کرنے والے اور مجرم۔ ان طبقات میں تھوڑا سا ردوبدل بھی ہوتا رہتا تھا، مثلاً بار بار کی خانہ جنگیوں میں کسان جنگجو بن جایا کرتے۔ کسی ایک طبقے کے فرد کو دوسرے طبقے میں شادی کرنے پر قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا تھا۔ اگرچہ عورتوں کو مردوں جیسی مراعات حاصل نہیں تھیں لیکن مذکورہ عہد میں ان کے رتبے اور حقوق میں کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔ اس کا انحصار شوہر کے مقام اور رہائشی علاقے پر بھی ہوتا۔ وراثت، جائیداد کی ملکیت، طلاق اورآنے جانے کی آزادی، ان سب کے وقت اور علاقے کے ساتھ بدلنے کا امکان موجود رہتا۔ شادی: اعلیٰ طبقات میں شادی بہت رسمی ہوا کرتی تھی، جبکہ دیہی برادریوں میں شادی پر کم ہی اہتمام ہوتا۔ قدیم جاپان میں شادی شدہ مرد، بیوی کے خاندانی گھر میں جا کر رہتا تھا مگر عہدِ وسطیٰ میں معاملہ الٹ ہو گیا۔ سمورائی کی بیوی ہونے کی صورت میں، جب شوہر جنگی مہم پر جاتا تو گھر کی حفاظت بیوی کی ذمہ داری ہوتی اور اس کی علامت کے طور پر شادی کے موقع پر تحفتاً اسے ایک چاقو دیا جاتا تھا۔ عورتوں کی اچھی خاصی تعداد مارشل آرٹس سیکھتی تھی۔ طلاق کا فیصلہ مرد ایک سادہ خط لکھ کر کرتا۔ خاندان: عہدِ وسطیٰ کے جاپان میں خاندان کی بنیادی اکائی ’’ای‘‘ (گھر) تھی جس میں والدین اور اولاد، اور پھر ان کی اولاد سمیت خونی رشتہ دار رہا کرتے تھے۔ اس میں گھریلو ملازمین اور ان کی اولاد بھی شامل ہوا کرتے۔ عموماً سب سے بڑے بیٹے کو ’’ای‘‘ کی ملکیت وراثت میں ملتی تھی لیکن اگر اولادِ نرینہ نہ ہوتی تو کوئی اور گھر کا سربراہ بنتا اور بچوں کو گود لے لیتا۔ اس کی بیوی گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتی۔ ’’ای‘‘ کو کسی بھی فرد پر فوقیت حاصل ہوتی اور اس کے لیے تین اصولوں پر عمل کیا جاتا؛ ذمہ داری، اطاعت گزاری اور وفاداری۔ خاندان کی تمام ملکیت کسی فرد کے بجائے ’’ای‘‘ کی مجموعی ملکیت ہوتی تھی۔ تعلیم: کسانوں اور دستکاروں کے بچوں کو ان کے ماں باپ آبائی ہنر سکھاتے۔ زیادہ رسمی تعلیم قبل ازیں اشرافیہ یا بدھ مت کی خانقاہوں میں جانے والوں کا حق سمجھی جاتی تھی۔ عہدِ وسطیٰ میں ابھرتا ہوا سمورائی طبقہ بھی اپنے بچوں کو رسمی تعلیم دینے لگا تھا۔ عموماً یہ بدھ مت کی عبادت گاہوں میں دی جاتی تھی۔ اس کے باوجود بالائی طبقے میں خواندہ افراد کی تعداد قلیل تھی۔ اس دور میں جدید معنوں میں ایک مشہور اشیکاگا سکول تھا جسے سمورائی یوئی سوگی نوریزانے نے 1439ء میں قائم کیا۔ سولہویں صدی کے وسط میں اس کے طلبا کی تعداد تین ہزار تھی۔ یہاں لڑکوں کو جنگجوؤں کے پسندید دو مضامین پڑھائے جاتے تھے؛ عسکری حکمتِ عملی اور فلسفۂ کنفیوشس۔ بہت سے خوش حال سمورائی نے کلاسیک چینی اور جاپانی لٹریچر کی لائبریریاں بھی قائم کر رکھی تھیں، جن تک مذہبی پیشواؤں اور سکالرز کو رسائی حاصل تھی۔ ’’ایڈو‘‘ دور (1603-1868ئ) میں یہ علم و آموزش کی اہم مراکز تھیں۔ ایک مشہور مثال 1275ء میں ہوجو سانیٹوکی کی قائم کردہ کانازاوا لائبریری ہے۔ سولہویں صدی کے بعد تعلیم کا دوسرا ذریعہ مسیحی مشنریوں کے قائم کردہ سکول تھے۔ خریدوفروخت:جاپان میں منڈیوں کی نشوونما چودہویںصدی کے بعد ہوئی جن میں قصبوں میں ہفتہ وار یا مہینے میں تین بار تاجروں آتے اور کسان اپنی زائد پیداوار بیچتے۔ اس دور میں زراعت کی تکنیک اور آلات کی ترقی کے ساتھ خوراک کی فراہمی بڑھنے لگی تھی۔ مال کے بدلے مال کا تبادلہ ہوا کرتا تھا، تاہم سکوں کا استعمال بھی بڑھنے لگا تھا۔ انہیں چین سے درآمد کیا جاتا تھا۔ مقامی حکام بھی منڈیوں کو ترویج دیتے کیونکہ ان سے ٹیکس اکٹھا ہوتا۔ مقامی منڈی میں دستیاب اشیا میں برتن، آلے، ڈوئیاں اور گھریلو فرنیچر شامل ہوتے۔ دارالحکومت اور دیگر بڑے شہروں میں تعیش کا سامان بھی مل جاتا جس میں منگ چینی مٹی کے برتن، چینی ریشم، کوریائی کاٹن اور تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے جن سینگ، مسالے، جاپان کے بنے زیورات اور ہتھیار شامل ہوتے۔ کھانا: عہدِ وسطیٰ میں بالائی طبقے کے جاپانی اور راہب دن میں عموماً دو بار کھانا کھاتے تھے۔ ایک دوپہر کے قریب دوسرا شام کے وقت۔ نچلے طبقات دن میں غالباً چار بار کھاتے تھے۔ عام طور پر مرد و عورت الگ الگ کھانا کھاتے تھے۔ کھانے کے بعض آداب تھے مثلاً بیوی نے شوہر کو کھانا پیش کرنا ہے اور بڑی بہو نے گھر کی سربراہ خاتون کو۔ اشرافیہ پر بدھ مت کے اثر کے باعث گوشت خوری کو کم از کم سرِ عام پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ البتہ سمورائی اور نچلے طبقات کے ہاتھ جب بھی گوشت آتا وہ کھا لیتے۔ چاول، سبزیاں، سمندری کائی (Seaweed )، سمندری جاندار اور پھل روزمرہ کی غذا تھے۔ سویابین سوس اور پیسٹ ذائقہ بڑھانے کے لیے شامل کیے جاتے، ان میں ’’وسیبی‘‘ (ایک ایشیائی جڑی بوٹی)، ثمرد (Horseradish) اور ادرک بھی شامل تھے۔ سبز چائے کو عام طور پر کھانے کے بعد پیا جاتا۔ لباس: بالائی طبقے کی عورتیں جاپانی ثقافت کی سب سے مشہور شے ’’کیمونو‘‘ پہنتی تھیں۔ اس کے لفظی معنی ’’پہننے کی چیز‘‘ ہیں۔ کیمونو اون سے بُنی ہوئی پوشاک ہے جسے کمر پر کس دیا جاتا ہے۔ دیگر لباس ریشمی، ڈھیلے ڈھالے اور لمبے ہوا کرتے۔ مرد اور عورت ڈھیلے ڈھالے پاجامے پہنتے تھے۔ عورتیں گھاگرا نما پاجامہ بھی پہنتی تھیں۔ عورتیں کے زیرِ استعمال ایک طویل گھاگھرا بھی ہوتا۔ مرد چھوٹی جیکٹ ’’ہاوری‘‘ اور لمبی جیکٹ ’’اچیک کی‘‘ یا ’’کائیڈرو‘‘ پہنتے تھے۔ ان کا رواج موروماچی دور (1333-1573ئ) میں رہا۔ ازوچی-مومویاما دور (1568/73-1600ئ) کے بعد، بالخصوص سمورائی زیادہ تر بغیر بازو والا گھاگھرا نما لباس اور پاجامہ پہنتے تھے جسے ’’کامیشومو‘‘ کہا جاتا تھا۔ اچھے لباس میں خوبصورت کڑھائی سے پودوں، پھولوں، پرندوں اور قدرتی مناظر کو بنایا جاتا تھا۔ ایڈو دور میں یہ نقش و نگار زیادہ نمایاں ہوئے۔ نچلے طبقات بھی کچھ اسی قسم کے لباس پہنتے تھے لیکن وہ زیادہ متین ہوتے اور انہیں سن کے پودے سے حاصل شدہ دھاگے سے بنایا جاتا تھا۔ موسم گرما میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے بہت مختصر لباس پہنا جاتا تھا۔ چودھویں صدی کے اواخر میں کاٹن کے کپڑے تمام طبقات میں مقبول ہو گئے۔ زیادہ تر سینڈلز (زوری) پہننے کو ترجیح دی جاتی تھی جو لکڑی، رسی یا چمڑے سے بنائے جاتے۔ سب سے مشہور ٹوپی ’’کاسا‘‘ تھی جس کے بہت سے انداز تھے۔ مردوں اور عورتوں میں ہاتھ کا پنکھا (اوچیوا) اور بالخصوص وہ جو تہ ہو سکتا تھا، مقبول تھا۔ عورتیں سر کے بالوں میں بانس، لکڑی، ہاتھی دانت یا کچھوے کے خول سے بنی پِن یا نمائشی کنگھی لگاتی تھیں۔ انہیں سونے یا موتی سے بھی سجایا جاتا تھا۔ عورتیں اور سمورائی اپنے دانتوں کو کالا بھی کرتے تھے۔ عہدِ وسطیٰ کے اس رواج کو ’’اوہاگورو‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اٹھارہویں صدی میں ٹیٹو بنانے کا رواج پڑ گیا لیکن عہدِ وسطیٰ میں مجرموں کو سزا دینے کے لیے انہیں ان کے جسموں پر بنایا جاتا تھا اور اصل جرم چہرے یا بازو پر لکھ دیا جاتا تاکہ سب اسے پڑھ سکیں۔ تفریح: عہدِ وسطیٰ کے جاپان میں تفریح کے لیے سومو کشتی کے مقابلے شِنٹو مقبروں پر ہوا کرتے تھے، پھر ایڈو دور میں یہ کشتی کہیں زیادہ مقبول ہو گئی۔ باز پروری، مچھلی پکڑنا، مرغوں کی لڑائی، فٹ بال کی طرح کا ایک کھیل (کیماری) جس میں دائرے میں کھڑے کھلاڑی بال کو فضا میں اچھالے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہیڈ بال (ٹیماری)، بیڈمنٹن (ہانیٹسوکی) اور مارشل آرٹس (بالخصوص گھڑسواری، تلوار بازی اور تیزاندازی) مقبول تھے۔ عمارتوں کے اندر کھیلے جانے والے کھیلوں میں دو بورڈ گیمز ’’گو‘‘ اور ’’شوگی‘‘ مقبول تھیں۔ ’’گو‘‘ میں دو کھلاڑی ہوتے ہیں اور خانوں والے بورڈ پر اپنے ’’علاقے‘‘ کے کنٹرول کے لیے سفید یا سیاہ پتھروں سے چالیں چلی جاتی ہیں۔ ’’شوگی‘‘ ایک قسم کی شطرنج ہے۔ تاش بھی کھیلی جاتی تھی جو مغرب ممالک سے خاصی مختلف تھی۔ چودہویں صدی کے بعد ’’نوہ‘‘ تھیٹر تفریح کا ایک اور ذریعہ بن گیا تھا جس میں اداکار ماسک پہن کر بلحاظ موسیقی مخصوص انداز میں دیوی دیوتاؤں اور ہیرو اور ہیروئنز کی داستانیں بیان کرتے تھے۔ بچے روایتی کھلونوں جیسا کہ لٹو، گڑیا اور پتنگوں سے کھیلتے تھے۔ سفر: جاپان کے پہاڑی علاقہ ہونے اور اچھی سڑکوں کی کمی کی وجہ سے عہدِ وسطی میں سفر محدودہوا کرتا تھا۔ سفر کرنے والے زیادہ تر یاتری ہوا کرتے، لیکن وہی جو اخراجات برداشت کر سکتے یا جن کے پاس وقت ہوتا۔ ایڈو دور تک سفر عموماً پیدل ہوتا جس میں گھوڑے سامان اٹھاتے یا اسے بیل گاڑی پر لادا جاتا۔ آبی گزرگاہیں انسان اور سامان دونوں کی نقل و حمل کا اہم ذریعہ تھیں۔ اس عہد میں زمینی اور بحری سفر دونوں لٹیروں اور بحری قزاقوں کے باعث خطرناک ہوا کرتے تھے۔ موت: جس طرح آج کل جاپانی دنیا میں سب سے طویل عمر پانے والوں میں شامل ہیں، اسی طرح عہدِ وسطیٰ میں بھی آگے تھے۔ اس عہد میں اوسط عمر 50 برس تھی جبکہ مغربی یورپ میں یہ 40 برس تھی۔ بہرحال قحط، بطور غذا زیادہ چاول کھانے سے وٹامنز کی کمی، بیماریوں اور جنگوں سے موت سروں پر منڈلاتی رہتی تھی۔ اس عہد میں عموماً لاش کو جلا دیا جاتا۔ جب کوئی مرتا تو زیادہ تر جاپانیوں کا خیال ہوتا کہ مرنے والے کی روح ’’تاریک سرزمین‘‘ یا ’’شیگو نو سیکائی‘‘ چلی گئی ہے۔ یہ روح کبھی کبھار زندہ لوگوں کی دنیا کا دورہ کر سکتی ہے۔ بدھ مت کے پیروکاروں کا خیال تھا کہ لوگ جنت یا دوزخ میں جاتے ہیں۔ آباؤاجداد کو نہیں بھلایا جاتا تھا اور جولائی/ اگست میں ہونے والے سالانہ اوبون میلے میں ان کی عزت افزائی کی جاتی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس دوران وہ تین روزہ دورے پر اپنے خاندانوں سے ملنے آتے ہیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?