غلاموں کا بیوپار

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
غلاموں کا بیوپار
115454

تھامس لوئس

سولہویں سے انیسویں صدی کے دوران بحرِ اوقیانوس پار کرتے ہوئے ایک کروڑ سے ایک کروڑ 20 لاکھ کے درمیان افریقیوں کو غلام بنا کر براعظم امریکا لایا گیا۔ 1480ء تک پرتگالی بحری جہاز افریقی غلاموں کو مشرقی بحرِ اوقیانوس کے جزائر کیپ وردی اور میڈیرا میں گنے کی کاشت کے لیے لانا شروع ہو گئے تھے۔ 1502ء کے بعد ہسپانوی فاتحین اور مہم جُو افریقی غلاموں کو کیربین لانے لگے، البتہ پرتگالی تاجروں نے بحرِ اوقیانوس کے آرپار غلاموں کی تجارت پر آئندہ ڈیڑھ صدی تک اپنا غلبہ برقرار رکھا۔ وہ افریقہ کے مغربی ساحل کے ساتھ کانگو اور انگولا کے علاقوں میں قائم اپنے اڈوں سے کارروائیاں کرتے رہے۔ 1600ء کی دہائی میں کچھ عرصہ ولندیزی غلاموں کے سب سے بڑے تاجر بنے رہے۔ اس کے بعد کی صدی میں انگریز اور فرانسیسی تاجروں نے بحرِ اوقیانوس کے آرپار غلاموں کی تجارت کے نصف حصے پر قبضہ جما لیا۔ وہ دریائے سینیگال و نائیجر کے درمیان مغربی افریقہ کے علاقے سے اپنے انسان بردار جہاز بھر کر لایا کرتے۔ 1600ء سے قبل غالباً چند سو افریقیوں کو براعظم امریکا لایا گیا۔ البتہ سترہویں صدی میں کیربین میں گنے اور شمالی امریکا کے چیسوپیک علاقے میں تمباکو کی کاشت کے بڑھنے پر غلاموں کی محنت کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اٹھارہویں صدی میں غلاموں کی بہت بڑی تعدادکو براعظم امریکا لایا گیا۔ غلاموں کی تجارت کے افریقہ پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ جنگجو سرداروں اور قبائل کو معاشی ترغیب دے کر غلاموں کی تجارت میں شامل کرنے سے لاقانونیت اور تشدد کی فضا قائم ہوئی۔ آبادی میں کمی اور پکڑے جانے کے خوف سے پورے مغربی افریقہ میں معاشی اور زرعی ترقی کم و بیش ناممکن ہو گئی۔ پکڑے جانے والوں میں ایک بڑی تعداد ان عورتوں کی تھی جو چھوٹے بچے پال رہی تھیں، یا وہ نوجوان تھے جنہوں نے ابھی اپنے خاندان کا آغاز کیا تھا۔ تاریخ دانوں نے غلاموں کو پکڑنے میں یورپیوں اور افریقیوں کے کردار کی نوعیت پر بحث کی ہے۔ غلاموں کی بحرِاوقیانوس کے آرپار تجارت کے شروع میں دراصل پرتگالیوں نے قبائلی جنگوں میں غلام بنائے جانے والے افریقیوں کو خریدا۔ غلاموں کی طلب بڑھنے پر پرتگالیوں نے افریقہ کے اندرونی علاقوں میں جا کر زبردستی غلام بنانا شروع کر دیے۔ غلاموں کی تجارت میں شامل ہونے والی دوسری یورپی اقوام عموماً اندرون سے پکڑے گئے غلاموں کو افریقیوں سے ساحلی علاقوں پر خریدتیں۔ پکڑے جانے والے افریقیوں کو ساحل کی جانب 485 کلومیٹر تک کا سفر کرنا پڑ سکتا تھا۔ عموماً دو افراد کو ٹخنے پر زنجیر سے باندھا جاتا اور اسیروں کی قطاروں کو گردن کے گرد رسیاں باندھ کر لایا جاتا۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی 10 سے 15 فیصد تعداد ساحل تک پہنچنے پہنچتے مر جاتی۔ بحرِاوقیانوس کے سفر کے دوران غلاموں کے بحری جہازوں میں حفظانِ صحت کے منافی ماحول ہوتا، آٹھ ہزار کلومیٹر کے سفر میں سیکڑوں افریقیوں کو جہاز کے عرشے کے نیچے مختلف پرتوں پر مضبوطی سے باندھ دیا جاتا۔ چھتوں کے نیچا ہونے کے سبب وہ سیدھا نہیں بیٹھ پاتے تھے۔ گرمی ناقابلِ برداشت ہوتی اور آکسیجن کی سطح اتنی کم ہو جاتی کہ موم بتی تک نہ جل پاتی۔ چونکہ عملے کو سرکشی کا خوف ہوتا اس لیے افریقیوں کو عرشے کے اوپر روزانہ چند ہی گھنٹوں کے لیے جانے کی اجازت دی جاتی۔ تاریخ دانوں کے تخمینوں کے مطابق براعظم امریکا لائے جانے والے افریقی غلاموں میں سے 15 سے 25 فیصد دورانِ سفر بحری جہازوں میں مر جاتے۔ مغربی افریقی اولاوڈے ایکویانو نے 1789ء میں اپنی آپ بیتی کے جو حالات بیان کیے وہ بحرِاوقیانوس کے سفر کی اندوہناک تصویرکشی کرتے ہیں۔ غلاموں کی قیمت میں کمی کے خدشے کے باوجود ان کے ساتھ بے رحمی اور زیادتی عام تھی۔ ایسا ہی ایک بدنام واقعہ بحری جہاز ’’زانگ‘‘ میں 1781ء میں پیش آیا جب افریقی اور عملے کے افراد ایک وبائی مرض سے مرنا شروع ہوئے۔ اس امید پر کہ مرض رک جائے گا، کیپٹن لوک کولنگ وُڈ نے 130 افریقیوں کو پانی میں پھینکنے کا حکم دے دیا۔ کبھی کبھار افریقی اسیران کامیاب بغاوت کر کے بحری جہاز پر قابو پا لیتے۔ سب سے مشہور واقعہ 1839ء میں پیش آیاجب جوزف سینک نامی غلام نے 53 غلاموں کی سرکشی کی قیادت کرتے ہوئے ہسپانوی بحری جہاز ’’امیسٹاڈ‘‘ کے کیپٹن اور عملے کے دو افراد کو مار ڈالا۔ اس پر ریاست ہائے متحدہ امریکا کی عدالت نے آخرکار افریقیوں کو واپسی کا حکم نامہ جاری کردیا۔ امریکی انقلاب (1775–83ء) کے دوران، شمالی امریکا کی نوآبادیوں میں غلاموں کی درآمد کی ممانعت کی حمایت عام تھی۔ البتہ انقلاب کے بعد جنوبی ریاستوں کے اصرار پر دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد غلاموں کی درآمد کو غیرقانونی قرار دیا۔ 1808ء میں جب کانگریس نے ایسا کیا تو اس قانون کی بہت کم مخالفت ہوئی۔ اس کے باوجود کیربین کے سمگلر مسلسل اس کی خلاف ورزی کرتے رہے تاوقتیکہ امریکی خانہ جنگی کے دوران 1861ء میں ’’شمال‘‘ نے ’’جنوب‘‘ کی ناکہ بندی کر کے اس پر عمل درآمد نہیں کروا لیا۔ 1833ء میں برطانیہ نے اپنی ساری سلطنت میں غلامی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ برازیل نے 1850ء میں غلاموں کی تجارت کو غیرقانونی قرار دیا لیکن 1888ء میں غلاموں کے خاتمے کے قانون کی تشکیل تک غلاموں کی سمگلنگ نہ رک پائی۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?