History فرعون کی بیٹی

ROHAAN

LOVE IS LIFE
TM Star
Aug 14, 2016
3,023
2,110
513
116130

حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم شب معراج میں بیت المقدس کی طرف جاتے ہوئے مصر کے قریب ایک مقام سے گزرے تو انہیں نہایت ہی اعلیٰ اور زبردست خوشبو آنے لگی ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے ؟
جواب ملا کہ ..
"فرعون کی بیٹی کی باندی مشاطہ اور اس کی اولاد کی قبر سے آرہی ہے.."
پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اس کا قصہ بیان کیا کہ ...!

"مشاطہ فرعون کی بیٹی کی خادمہ تھی اور وہ خفیہ طور پر اسلام لا چکی تھی ایک دن فرعون کی لڑکی کو کنگھی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اتفاقاًً کنگھی گر پڑی ۔ وہ اٹھانے لگی تو اس کی زبان سے بے ساختہ بسم اللہ نکل گیا۔ اس پر شہزادی نے کہا کہ تو نے آج عجیب کلمہ بولا رب تو میرے باپ فرعون ہی ہیں تو پھر تم نے یہ کس کا نام لیا ہے؟اس نے جواب دیا:" فرعوں رب نہیں بلکہ رب وہ الله ہے جو مجھے اور تجھے اور خود فرعون کو روزی دیتا ہے ۔
"شہزادی نے کہا اچھا تو میرے باپ کے سوا کسی اورکو اپنا رب مانتی ہے ؟
اس نے جواب دیا:
" ہاں ہاں میرا تیرا اور تیرے باپ ،سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔
"شہزادی نے اپنے باپ سے کہلوایا ۔وہ سخت غضبناک ہوا اور اسی وقت اسے برسر دربار بلوا بھیجا اور کہا،کیا تو میرے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے ؟
اس نے کہاکہ.." میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بلندیوں اور بزرگی والا ہے ۔
فرعون نے اسی وقت حکم دیا کہ تانبے کی جو گائے بنی ہوئی ہے ،اس کو خوب تپایا جائے اور جب بالکل آگ جیسی ہوجائے تو اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس میں ڈال دیا جائے ۔
آخر میں خود اسے بھی اسی میں ڈال دیا جائے ...
چناچہ وہ گرم کی گئی ۔
جب آگ جیسی ہو گئی تو حکم دیا کہ اس کے بچے کو ایک ایک کر کے اس میں ڈالنا شروع کرو ۔
اس نے کہا:
" بادشاہ ایک درخواست میری منظور کروہ یہ کہ میری اور میرے ان بچوں کی ہڈیاں ایک ہی جگہ ڈال دینا ۔"
اس نے کہا:
" اچھا تیرے کچھ حقوق ہمارے ذمہ ہیں ۔اس لئے یہ منظور ہے-"
اسکی دونوں بچیاں اسکی آنکھوں کے سامنے اس میں ڈال دئیے گئے اور وہ فورا" جل کر راکھ ہو گئے پھر سب سے چھوٹے کی باری آئی جو ماں کی چھاتی سے لگا ہوا دودھ پی رہا تھا...فرعون کے سپاہیوں نے اسے گھسیٹا تو اس نیک بندی کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا..اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو اسی وقت زبان دے دی اور اس نے با آواز بلند کہا:
" اماں جان ! افسوس نہ کر ،اماں جان ذرا بھی پس و پیش نہ کرو ۔حق پر جان دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے.،چنانچہ انہیں صبر آگیا ۔اس بچے کو بھی آگ میں ڈال دیا گیا ۔ اور آخر میں ان کی ماں کو بھی اسی آگ میں جلا کر مار دیا...
""یہ خوشبو کی مہکیں اسی کے جنتی محل سے آرہی ہیں ۔"سبحان الله
مسند احمد(1/309۔310)
صحیح (5/31)
(شعب الاايمان)
 
Top
Forgot your password?