قدیم لکھنؤ میں کبوتر پالنے کا شوق

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
قدیم لکھنؤ میں کبوتر پالنے کا شوق
115464


مرزا جعفر حسین

کبوتر تمام طائروں میں سب سے زیادہ معصوم صفت، بھولا اور شریف پرند ہے۔ اس کی نوع و نسل کے اعتبار سے بے شمار قسمیں ہیں۔ قدیم لکھنؤ میں انہیں میں ایک ’’یاہو‘‘ کہلاتی تھی۔ یہ کبوتر غٹرغوں کے بجائے ’’یاہو‘‘ کے نعرے لگاتا تھا۔ اسی صفت کی وجہ سے پاک باز لوگوں میں اس کی بڑی قدر ہوتی تھی۔ یوں بھی ہر کبوتر یہاں تک کہ جنگلی کبوتروں تک کے لیے دانہ اور پانی کا بندوبست کرنا برکت اور فراخیِ رزق کا باعث سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا تھا کہ کبوتروں کا گھر میں پالنا دفع بلیات کا موجب ہوتا ہے۔ ثوابِ اُخروی اور فلاحِ دینوی کا وسیلہ جان کر قدیم لکھنؤ میں کبوتر پالنے کا گھر گھر رواج تھا۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں کبوتر نہ پلے ہوں۔ لیکن معصومیت فطرت میں داخل ہوتے ہوئے بھی کبوتر آپس میں لڑتے ہیں۔ یہ تماشا اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب کسی کبوتر کے خانے میں کوئی غیرکبوتر داخل ہو جائے یا داخل کر دیا جائے۔ ایسی لڑائی کبوتری تو کم لڑ پاتی ہے لیکن نر کبوتر بہت زوروشور سے لڑتے ہیں۔ غالباً نر کبوتر کی اسی فطرت کو دیکھ کر لکھنؤ والوں نے کبوتر لڑانے کی ایجاد بھی کی تھی۔ دورِ شاہی میں جہاں درندوں اور چوپایوں کے علاوہ پرندوں کی لڑائی کا چلن رائج ہوا تھا انہیں پرندوں میں کبوتر بھی شامل کر لیا گیا تھا۔ سنا جاتا ہے کہ جس طرح بٹیر تیار کر کے پالی میں اتارے جاتے تھے اسی طرح کبوتروں کو بھی لڑائی کے لیے تعلیم دی جاتی تھی لیکن چونکہ یہ حرکت کبوتروں کی فطرت سے بعید تھی اس لیے یہ مشغلہ فنا ہو گیا اور کبوتر صرف پالنے اور اڑانے کے لیے مخصوص ہو گئے۔ کبوتر بازی ایک علیٰحدہ فن ہے لیکن کبوتر پالنا قدیم لکھنؤ میں عام بات تھی۔ جو لوگ کبوتر باز نہیں تھے اور صرف پالنے کے دلدادہ تھے ان کی پسندیدہ اقسام کے بھی بے شمار کبوتر مل جاتے تھے۔ ایسے کبوتر اونچے نہیں اڑتے تھے اور زیادہ تر زمین ہی پر رہتے تھے۔ رؤسا و عمائدین کے یہاں عموماً اسی نوع کے کبوتر پلے رہتے تھے۔ پسندیدہ اقسام میں شیرازی، چپ، لوٹن، خرقہ بند، مکھی، نیلے، لقے، بھولے، خوردنوکے، چوپاچندن اور محترم والے شمار ہوتے تھے۔ آخرالذکر قسم ایک خواجہ سرا محترم کے نام سے منسوب تھی۔ یہ تمام نام ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں ہر ایک کے پسِ پشت کوئی نہ کوئی وجہ تسمیہ تھی۔ یہ وجہ جو کچھ بھی رہی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے بعض اپنے حسن و جمال میں، بعض نزاکت و لطافت میں، بعض اعضا و جوارح کی ساخت کے اعتبار سے، بعض رنگینی اور شوخی کے اعتبار سے اور بعض اپنے قدوقامت میں تناسب کی خوبیوں کے باعث بے حد خوبصورت، دلکش اور جاذبِ نظر تھے۔ آخرالذکر صفت میں شیرازی کبوتر اپنا جواب نہیں رکھتا۔ پالنے والے کبوتروں کی فہرست متذکرہ بالا ناموں پر ختم نہیں ہوتی۔ ان کی اقسام گنوانا موجودہ دور میں ناممکن ہے کیونکہ بہت سی نسلیں ختم ہو چکی ہیں یا کم سے کم نظر آتی ہیں۔ قدیم لکھنؤ کے امرا و رؤسا اتنے زیادہ تعیشِ دماغی میں گرفتار تھے کہ وہ ہر شوق کو فن کے درجہ تک پہنچا کے دم لیتے تھے چنانچہ کبوتر پالنے میں بھی کمالات کے مظاہرے کر دیے تھے۔ ہر رئیس کے یہاں بڑی تعداد میں کبوتر رہتے تھے جن کے لیے صاف اور شفاف کمروں میں لکڑی کے خانہ دار بکس رکھے رہتے تھے۔ ایک ایک بکس میں کم سے کم اوپر اونچے تین تین خانے ہوتے تھے۔ ہر خانہ میں کبوتروں کا ایک جوڑا بند کیا جاتا تھا۔ ایک ملازم ان سب کی دیکھ بھال کے لیے مقرر رہتا تھا۔ وہ علی الصبح سب خانے کھول دیتا۔ دانہ اور پانی باہر متعدد ظروف میں فراہم رہتا تھا۔ کبوتر اپنے اپنے خانوں سے باہر آتے اور دانہ پانی کھا پی کر کھلی ہوئی جگہ پر تازی ہوا میں گھوما کرتے تھے۔ ایک خاکروب ان کے کمرے اور بکسوں و خانوں کی صفائی کے لیے ملازم رہتا جو کبوتروں کے باہر آ جانے کے بعد پوری طرح غلاظت دور کر دیتا۔ کبوتروں کے مخصوص ملازم کا کام اپنے جانوروں کی نگہبانی کرنا بھی تھا۔ خانوں میں صفائی کے بعد خس و خاشاک رکھ دیا جاتا تھا تاکہ کبوتریاں اسی پر انڈے دیں اور ان کو سی کر بچے نکالیں۔ اس تمام صفائی اور فراہمی خوراک کے علاوہ کبوتروں کو سنوارنے کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے نقری چھلے کبوتریوں کے پیروں میں اور انگوٹھی نما گھیرے شیرازی کبوتروں کی ٹانگوں میں پہنائے جاتے تھے۔ بعض رئیسوں کے یہاں کبوتروں کو مختلف رنگوں میں رنگنے کا بھی دستور تھا۔ بعض رئیس سادگی پسند تھے۔ ان کے یہاں بہت سے کبوتر ہوتے ہوئے بھی صرف ایک یا دو قسم کے پرند رہا کرتے تھے۔ مرزا بہادر مرزا محمد صادق علی خاں کے یہاں صرف سفید رنگ کے کبوتر تھے۔ یعنی یہ کہ ہر رئیس کے یہاں اسی کے ذوق و مذاق کے تحت کبوتروں کا اسٹاک رہا کرتا تھا۔ اڑنے والے کبوتروں کی بھی کئی قسمیں تھیں لیکن کبوتر بازوں کی گرہ باز اور گولے پالنے پر ساری توجہ تھی۔ ان اقسام کے اچھے سے اچھے کبوتر اب بھی دستیاب ہو جاتے ہیں لیکن ان پر اب وہ ریاض ہو ہی نہیں سکتا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ بڑی محنت سے پالے جاتے تھے، ان کی خدمت کے لیے ملازم رہا کرتے تھے، صحت و توانائی پر نظر رکھی جاتی تھی، صحت مندی میں بہتر غذائیں اور بیماریوں میں اچھی دوائیں فراہم کی جاتی تھیں، مختصر یہ کہ جس طرح آدمیوں کے لیے حفظانِ صحت اور بقا کے لیے تدابیر ضروری ہیں وہی اسلوب کبوتروں کے ساتھ بھی سختی سے برتا جاتا تھا۔ یوں تو گولے اور گرہ باز دونوں اڑنے والے کبوتر ہیں لیکن پھر بھی دونوں کے اطوار میں نمایاں فرق ہے، گولے اڑانے سے اڑتے، بلانے سے اتر آتے ہیں لیکن گرہ باز اڑانے سے اڑ جاتے ہیں مگر اپنی مرضی سے واپس آتے ہیں۔ وہ آسمان پر اپنے گھر کے اوپر بہت بلند ہو کر چکر لگاتے رہتے ہیں اور علی الصبح کے اڑائے ہوئے دوپہر کو بلکہ کبھی کبھی شام کو اترتے ہیں۔ کبوتر سے زیادہ کسی طائر کو اپنے گھر سے انس نہیں ہوتا۔ اس کے لیے شام تک اپنے خانہ میں واپس چلا جانا اس کی فطرت میں داخل ہے۔ اڑایا ہوا کبوتر اگر واپس نہ آیا تو یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ یا تو کسی شکاری جانور نے اسے ختم کر دیا ہے یا کسی غیر نے پکڑ لیا ہے۔ پھر بھی ایسی مثالیں بکثرت ملتی تھیں کہ پکڑا ہوا کبوتر موقع پا کر پھر اپنے گھر آ جاتا تھا۔ یہ واپسی کبھی کبھی مدتوں کے بعد ہوتی تھی۔ پرانے لکھنؤ میں بہترین گرہ باز جھوائی ٹولہ کے شبیر حسین خاں اور کٹرہ ابوتراب خاں کے نواب محمد حسین خاں کے یہاں پلے تھے اور بہترین گولے شہنشاہ دولھا اور سرائے معالی خاں کے دو بھائیوں بدھن صاحب اور منے صاحب کے پاس تھے۔ یہ دونوں بھائی بادشاہ اودھ محمد علی شاہ کے اخلاف میں تھے۔ ہر رئیس کے یہاں بڑی تعداد میں کبوتر رہتے تھے اور اچھے اچھے فنکار ان کی خبر گیری کے لیے ملازم تھے۔ کبوتر بازی کی اصطلاح کا اطلاق انہیں لوگوں پر ہوتا تھا جو شرط یا مقابلہ پر کبوتر اڑاتے تھے۔ بعض شرفا اور عوام نقد یا جنس میں شرطیں لگاتے تھے لیکن رؤسا و عمائدین کے یہاں مقابلے ہوتے تھے چنانچہ مشہور تھا کہ ایک زمانہ میں ایک رئیس نے بیک وقت نو سو کبوتریاں اڑائی تھیں تو ان کے مقابلے پر دوسرے رئیس نے اسی تعداد میں نر کبوتر اڑا کر مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ وہ دور انیسویں صدی ہی میں ختم ہو گیا تھا اسی کے پس ماندہ حالات بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک برقرار تھے۔ چنانچہ اس دور میں بھی ہر محلہ میں صبح کے وقت کبوتر بازوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں۔ یہی وقت کبوتر اڑانے کا ہوتا ہے۔ کبوتروں کے رہنے کی جگہ کے قریب لکڑی یا بانسوں کا ایک بلند راکٹ نما اڈہ رہتا ہے جو کبوتروں کا بلندی پر بیٹھنے کا مقام ہوتا ہے۔ گرہ باز کبوتروں کے لیے یہی اڈہ بسا اوقات نیچے اترنے یا اونچا اڑنے کے لیے زینہ کا کام دیتا ہے۔ کبھی کبھی گرہ باز کبوتروں کے لیے مکان کی چھت یا کارنس پر ان کے بیٹھنے کا ٹھکانا مقرر ہو جاتا ہے۔ اس کو انٹیا کہا کرتے تھے۔ گرہ باز کبوتروں کو صرف ایک ڈھیلا پھینک کر اڑا دینا کافی ہوتا تھا البتہ کبوتر باز جب تک وہ اونچے نہ ہو جائیں للکارا کرتے تھے۔ گولے کبوتر چھیپی کے اشارے سے اڑائے جاتے تھے۔ ایک لکڑی میں مرچھل کی طرح کڑا بندھا رہتا تھا۔ کبوتر باز آواز لگاتے اور چھیپی ہلا ہلا کے کبوتر اڑاتے تھے۔ اسی طرح ان کو آواز دے کر نیچے بلاتے بھی تھے۔ دوپہر تک عموماً یہ مشغلہ جاری رہتا تھا۔ اصل بازیاں گرہ بازوں کی اڑان پر لگائی جاتی تھیں۔ یہ میچ شرطیں لگا کر پہلے بھی ہوتے تھے اور اب بھی ہوتے ہیں۔ ٹکڑی میں ایک ایک اور دو دو یا چار چار کرکے کبوتر اترتے ہیں۔ جس کا کبوتر سب سے آخر میں اترتا وہی کبوتر باز میچ جیت جاتا تھا۔ ہر ہر گھر میں جہاں سے کبوتر اڑائے جاتے میچ کے دن ایک جج بیٹھا رہتا تھا۔
 
Top
Forgot your password?