قدیم لکھنؤ کے شرفا کا رہن سہن

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
قدیم لکھنؤ کے شرفا کا رہن سہن
114861

مرزا جعفر حسین

زوال سے قبل کے لکھنؤ کے شرفا میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن کو ہم کسی طرح بھی خوش حال اور فارغ البال نہیں کہہ سکتے تھے۔ اس لیے ان کا رہن سہن اور ان کی خانگی زندگی انہیں کی حیثیت کے مطابق معصومیت کی حد تک سادہ تھی۔ بچپن میں ان کی مائیں یہ تعلیم دیتی تھیں کہ ’’تھوڑا کھانا، بناؤ سے رہنا۔‘‘ ’’جو کپڑے کوتاہ کرے، کپڑا اس کو شاہ کرے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس تعلیم کا زندگی بھر دماغوں پر اثر رہتا تھا اور بڑی حد تک ان کا طرزِ عمل ویسا ہی ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ یہ لوگ گھروں میں واپس آتے ہی کپڑے بدل ڈالتے تھے تاکہ ان کی صفائی اور پاکیزگی میں فرق نہ آنے پائے اور دوسرے روز بھی بدستور اجلے اور شفاف رہیں۔ گھروں میں حسب حیثیت کپڑے پہنتے تھے۔ خوش حال لوگ ہر وقت کُرتے اور پائجامے پہنے رہتے تھے۔ پیروں میں جوتی اور سر پر ٹوپی رہنا بہرحال ضروری تھا کیوں کہ ننگے پیر اور ننگے سر ہونا شرافت کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ شریف بہو بیٹیاں پائینچوں دار پائجامے یا کلی دار پائجامے پہنتی تھیں۔ گھروں کے اندر پہننے والے پائجاموں کا گھیر بہت کم ہوتا تھا البتہ دوسری جگہ جاتے وقت بڑے بڑے گھیر کے پائجامے استعمال ہوتے تھے۔ کپڑا خواہ سستا ہی کیوں نہ ہو لیکن اس کا خوش رنگ اور خوش وضع ہونا ضروری تھا۔ رنگ اور وضع کی پسندیدگی اپنی اپنی طبیعت اور اپنے اپنے مزاج پر منحصر ہوتی تھی۔ مالی حیثیت کے تناسب سے ہر شریف کے گھر کا اندرونی ماحول اور بندوبست تقریباً یکساں ہوتا تھا۔ ہر گھر کے لیے مہترانی ملازمہ ہوتی تھی جو سویرے ہی مکان کے صحن اور بیرونی حصہ مکان میں جھاڑو دے کر صفائی کر دیتی تھی۔ کمروں، دالانوں اور دوسرے مقامات اقامت و نشست میں جھاڑو دینا اور صفائی کرنا، گھر والوں کے ذمہ رہتا تھا۔ یہ فرض بیگم یا ان کی صاحبزادیوں کو انجام دینا ہوتا تھا۔ کسی چھت یا دیوان کے کونوں میں مکڑی کا جالا لگا رہنا منحوس سمجھا جاتا تھا۔ جس کی نظر اس پر جاتی وہ فی الفور صفائی کرتا تھا۔ گھروں میں کم سے کم ایک ملازمہ ضرور ہوتی تھی جس میں کھانا پکانے کا سلیقہ ہونا لازمی تھا۔ باورچی خانہ اس کے حوالے رہتا تھا۔ وہ صبح کو بہت سویرے جھاڑو دے کر مہترانی کے آنے سے قبل ہی ترکاریوں وغیرہ کے چھلکے اور دوسرے فضلات باہر نکال دیتی اور فوراً چولھا جلا دیتی تھی۔ پہلے ناشتہ اور فوراً بعد میں کھانا پکانے کا کام شروع ہو جاتا تھا۔ یہ ماما خواہ کتنی ہی ہنرمند کیوں نہ ہو لیکن باورچی خانہ کی نگرانی اور کھانا پکانے میں اشتراک و تعاون گھر والی کے لیے ضروری ہوتا تھا۔ اس لیے اور یہ حقیقت بھی ہوتی تھی کہ گھر والی کے ہاتھ لگائے بغیر اتنا خوش ذائقہ، خوش رنگ اور خوشبودار کھانا پک ہی نہیں سکتا تھا جو شرفا لکھنؤ کے مذاقِ سلیم کو آسودگی فراہم کرتا۔ اس زمانے میں لوگ حفظانِ صحت کے رائج الوقت اصولوں سے بہرہ مند نہیں تھے لیکن ان کی نفاست پسند طبیعتیں ان کی صحت مندی اور طوالتِ عمر کی ضامن تھیں۔ بہت کم ایسے مواقع آئے ہوں گے کہ لوگ مسموم اور ناپاک غذاؤں کی پیدا کردہ بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہوں۔ ہر گھر میں تانبے یا پیتل کے لوٹے ہوتے تھے اور پینے کا پانی موسم کے لحاظ سے مٹی کے گھڑوں، جھجریوں اور صراحیوں میں رکھا جاتا تھا۔ لوٹے ہر تیسرے چوتھے روز راکھ سے مانج کر دھلوائے جاتے اور مٹی کے برتنوں کو باری باری چوتھے یا پانچویں روز دھوپ میں سُکھا لیا جاتا تھا۔ گھڑے عموماً گھڑونچیوں پر ڈھکے ہوئے رکھے جاتے اور اس طرح ڈھکے ہوئے لوٹے ہمہ وقت پانی سے بھرے ہوئے گھر کے کسی کونے میں ایک چھوٹے تخت یا چوکی پر رکھے رہتے تھے۔ اسی چوکی پر شیشی میں کوبیدہ منجن اور ایک بیسن دانی میں بیسن رکھا رہتا تھا۔ صابن سے لوگ واقف بھی نہیں تھے۔ متوسط درجہ کے قدیم شرفا کے مکانات چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے جن میں اچھے سے اچھا مکان تین چار کمروں، ملحقہ کوٹھریوں، دو تین دالانوں اور ایک مختصر صحن پر مشتمل ہوتا تھا۔ ایک کمرہ میاں اور بیوی اپنے سونے کے لیے علیحدہ کر لیتے تھے، دوسرا کمرہ بچوں یا دوسرے ساتھ رہنے والے عزیزوں کے لیے مخصوص کر دیا جاتا، ایک کمرے میں اٹھنے بیٹھنے کا انتظام رہتا اور اگر چوتھا کمرہ ہوا تو اس کو مہمان داری کے لیے مختص کر دیا جاتا۔ کوٹھریوں میں سامان اسباب رہتا۔ نشست گاہ میں تخت بچھے رہتے تھے اور بیگم کا پاندان ہر وقت رکھا رہتا تھا۔ دوستوں سے ملاقات کرنے کے لیے گھر کے باہر کمرہ یاسائبان ورنہ ریوڑھی ہی میں ایک تخت پڑا رہتا تھا۔ اسی کے قریب لوہے کی دو یا تین کرسیاں، جن میں لکڑی کی پیڑیاں جڑی ہوتی تھیں، ہوتی تھیں۔ بعض لوگوں کے یہاں ایسی کرسیوں کے بجائے سینٹھے کے مونڈھے ہوتے تھے۔ جن شرفا کے یہاں باہر کا ملازم ہوتا اس کے لیے بھی یہی جگہ قیام گاہ کا کام کردیتی تھی اس کی چارپائی یہیں بچھتی تھی اور جب کوئی مہمان آتا تو کونے میں کھڑی کر دی جاتی تھی۔ کسی کونے میں ملازم کا سامان وغیرہ بھی رہتا تھا۔ ملازم کا اصل فریضہ اس کی ڈیوڑھی میں زیادہ سے زیادہ مدت تک موجودگی تھی۔ اس کے علاوہ ہر ماہ کی ابتدائی تاریخوں میں جنس وغیرہ اکٹھا خرید لانا، دو دن میں ایک یا دو بار روزانہ کی متفرق ضروریات فراہم کر دینا، کسی خاص کام کو کسی خاص موقع پر انجام دینا اور اگر ضرورت ہو تو بچوں کو مکتب تک پہنچانا اور لے آنا، ملازم کے فرائض میں داخل تھا۔ باقی اوقات آرام سے گزرتے تھے۔ شریفوں کے گھروں میں ملازموں کی حیثیت خاندان کے ایک رکن جیسی ہوتی تھی۔ ان کے آرام اور تمام ضروریات زندگی کا پورا پورا خیال رکھا جاتا تھا۔ وہ دورِ تہذیب و شائستگی تھا چنانچہ نوکروں پر خفگی اور ناراضگی میں بھی شستگی اور شائستگی برقرار رہتی تھی۔ ماما پر بیگم کو غصہ آ جاتا تو طنزاً اس کو نیک بخت کہا جاتا۔ کم بخت یا بدبخت جیسے کلمات زبان سے نہیں نکلتے تھے۔ اسی طرح اگر کسی بزرگ کا مزاج اپنے ملازم کی سنگین لغزش پر برہم ہو جاتا تو وہ اس سے نمک فراموش کہہ کر تخاطب کرتے تھے۔ نمک حرام کہنا آدابِ شرفا سے بعید تھا۔ مالکوں کے اس برتاؤ کا فطری طور پر یہ نتیجہ تھا کہ ان کے ملازم بھی خواہ مرد ہوں یا عورتیں اپنے آقاؤں کے ساتھ وفا شعار رہتے اور اپنی جانیں تک نثار کرنے پر آمادہ رہا کرتے تھے۔ وہ صرف خدمت گار ہی نہ تھے بلکہ جس کے ملازم ہوتے اس کی جان اور آبرو کے محافظ بھی رہا کرتے تھے۔ ان کا اپنا کردار بھی اسی ماحول کے سانچے میں ڈھل جاتا تھا جہاں وہ ملازمت کرتے تھے۔ اسی مقام پر یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ شرفا کے گھروں میں آدمیوں کی ملازمت کا سلسلہ نسلاً بعد نسلاً چلا کرتا تھا۔ ایک ہی خاندان میں کئی پشتوں کے نوکر نظر آیا کرتے تھے اور یہ کہا جاتا تھا کہ فلاں فلاں کا فلاں سرکار میں خون مل گیا ہے۔ رہن سہن کے آداب میں یہ بھی داخل تھا کہ کوئی عزیز اپنے کسی ایسے عزیزِ قریب کے گھر میں، جہاں مستورات سامنے ہوتی تھیں، بغیر دستک دیے اور دو تین بار آواز لگائے داخل نہیں ہوتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ تیسری مرتبہ پکارنے پر جواب ضرور مل جاتا تھا۔ اور ’’آئیے‘‘ کی آواز آ جاتی تھی۔ بعض شرفا اپنے گھروں میں بھی داخل ہونے سے قبل پکار کر کہہ لیتے تھے کہ ’’ہم آ رہے ہیں‘‘۔ دوسروں کے گھر میں جا کر خواہ وہ کتنی ہی قربت کیوں نہ رکھتے ہوں، وہاں کے ماحول یا کسی خانگی بندوبست کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا جو نکتہ چینی سمجھی جائے، معیوب تھا۔ اسی کے ساتھ اپنے دوست یا عزیز کے حالات کا اندازہ کر کے اس کو خاطر تواضع کا موقع دیا جاتا تھا۔ مہمان کی خاطرداری کرنا ہر شریف آدمی کا فرض تھا۔ کبھی کبھی مہمانوں کی تواضع اپنی حیثیت سے بڑھ کر کر لی جاتی تھی۔ مہمان پہلے سے اطلاع دے کر آتا تھا تو گھر کی حسب مقدرت آرائش و زیبائش بھی کی جاتی تھی۔ ایسی ضرورت کا کچھ نہ کچھ سامان ہر گھر میں محفوظ رہتا تھا۔ کھانے وغیرہ کی دعوت کرنے میں کبھی کبھی شرفا مقروض بھی ہو جاتے تھے۔ آنے والے بھی اپنے میزبان کی مجبوریوں کا خیال رکھتے تھے۔ واپسی سے قبل ان کے بچوں کو شیرینی کے نام سے کچھ نہ کچھ رقم عطا کر دیتے تھے۔ خوش حال عزیز اور دوست مہمان آتے تو اپنے ہمراہ کچھ نہ کچھ سوغات ضرور لاتے تھے۔ طبقۂ شرفا میں قریب قریب سب ہی اپنے زمانہ کے معیارِ تعلیم کے مطابق پڑھے لکھے تھے۔ اردو عام زبان تھی اور اکثر و بیشتر فارسی میں بھی اچھی خاصی لیاقت رکھتے تھے۔ روسا و عمائدین کی صحبتوں کی بدولت بکثرت شرفا عربی کے بھی گرویدہ ہو گئے تھے اور ان کی زبانوں پر بکثرت عربی فقرے چڑھ گئے تھے۔ ان فقروں اور عربی الفاظ کا اتنا زیادہ جاو بیجا استعمال ہونے لگا تھا کہ بسا اوقات عوام کے دماغ پر ناقابلِ برداشت حد تک بار پڑ جاتا تھا۔ آسمان سے ہلکی ہلکی بارش ہوتی تو کہتے تھے کہ ’’تقاطر امطار ہو رہا ہے‘‘۔ فارسی و عربی کا وقتی بحران ہو یا سلیس و شستہ اردو کا پاکیزہ رواج، لکھنؤ والوں کی گفتگو اورعام بول چال ہمیشہ شیریں اور خوشگوار ہوتی تھی۔ سونے پر سہاگہ ان لوگوں کا مزاج شعرو نغمہ تھاجس کے وہ ہمیشہ خوگر رہتے تھے۔
 

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213
وقت کے ساتھ ساتھ اقدار بھی ختم ہو گئیں علم و ادب کا گہوارہ زوال کا شکار ہو گیا ہے
عمدہ معلومات ہیں
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?