قدیم چین اور جاپان میں چائے کا رواج

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,607
8,598
1,313
Lahore,Pakistan
قدیم چین اور جاپان میں چائے کا رواج
116967

مارک کارٹ رائٹ
غالباً چائے آج دنیا کا سب سے مقبول مشروب ہے۔ اسے سب سے پہلے چینی بھکشوؤں نے مراقبے میں معاونت کے لیے پینا شروع کیا اور انہوں نے ہی اس کے طبی خواص کی قدر دانی سب سے پہلے کی۔ پھر اس کی مقبولیت بڑھ گئی اور یہ مشرقی ایشیا کی دوسری ثقافتوں، بالخصوص جاپان میں پھیل گئی۔ اس کی تیاری اور اسے پینے کے لیے ایک تقریب ہوا کرتی تھی جس کے ذریعے زندگی کی ایک سادہ سی عیاشی کی قدردانی اور خوبصورتی بیان کی جاتی تھی۔ علاوہ ازیں، چائے نوش اپنے خوش ذائقہ اور دولت مند ہونے کا اظہار کیا کرتے تھے کیونکہ پیش کردہ شے نہ صرف ایک قیمتی جنس ہوا کرتی تھی بلکہ اسے چینی کے اعلیٰ ترین برتنوں میں پیش کیا جاتا تھا۔ جب چائے کے ماہرین نے اسے پینے کے آداب اور لطف پر کتابیں اور تعریف میں نظمیں لکھیں تو چائے نوشی نے ایک فن کی حیثیت اختیار کر لی۔ چائے کی تقریب روزمرہ زندگی کی سختیوں سے کچھ لمحوں کے فرار کا ایک سادہ سا ذریعہ بن گئی۔ آج بھی بہت سے لوگوں کے لیے چائے کا یہی کردار ہے۔ چائے کے بارے دیومالائی کہانی چینی اور جاپانی دونوں روایات میں چائے کی دریافت کا سہرا ہندوستان کے ایک دانا شخص بدھی دھرما (عرف داروما) کے سر باندھا جاتا ہے۔ وہ زین بدھ مت کا بانی تھا۔ اپنے نئے نظریے کے فروغ کے لیے بدھی دھرما نے سفر اختیار کیا اور جنوبی چین میں شاؤلن ٹیمپل کی بنیاد رکھی۔ وہاں ایک دیوار کے سامنے بیٹھ کر اس نے 9 برسوں تک طویل مراقبہ کیا۔ اس عرصے کے آخر میں اس کی ٹانگیں پژمردہ ہو گئیں۔ وہ ’’آگہی‘‘ کے قریب پہنچنے ہی والا تھا کہ اس کی آنکھ لگ گئی۔ یہ آخری مرحلہ کھونے پر وہ اتنا مشتعل ہوا کہ اس نے اپنی آنکھ کے پپوٹے کھینچ کر زمین پر دے مارے۔ اس سے ایک پودا اگا جو چائے کا پودا تھا۔ طبی مشروب اور جنس چائے کے مختلف نام ہیں، چینی اور جاپانی میں اسے ’’چا‘‘ کہتے ہیں، ہندی اور اردو میں یہ ’’چائے‘‘ کہلاتی ہے۔ انگریزی کا نام شاید جنوب مشرقی چین کے صوبے فوجیان کے لہجے سے اخذ ہوا جہاں چائے کو ’’دی؍تھی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ مشروب کامیلیا سینیسس نامی پودے کے نوعمر پتوں، پتوں کے سروں اور کونپلوں کو گرم پانی میں ڈال کر بنایا جاتا ہے۔ یہ مشروب سب سے پہلے بدھ بھکشوؤں نے دوسری صدی قبل مسیح کے لگ بھگ پینا شروع کیا۔ اس کا مقصد مراقبے کو بہتر بنانا اور نیند کو بھگانا تھا۔ چائے کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں طبی خصوصیات ہیں، جن میں سے ایک خمار کو دور کرناہے۔ تانگ سلطنت (618-907ء) کے دوران چائے معبدوں سے باہر پی جانے لگی اور اشرافیہ کا مقبول مشروب بن گئی، کیونکہ وہی اس مہنگے مشروب کو پینے کی مالی استطاعت رکھتے تھے۔ چائے نے معیشت کے ایک اہم جزو کی حیثیت اختیار کر لی۔ ملک کے جنوب مشرق میں وسیع اراضی پر اس پودے کی کاشت ہونے لگی اور اس کی فروخت سے حکومت کو قابل ذکر ٹیکس ملنے لگا۔ چائے کے تاجر، جو اب اسے دوسرے ایشیائی ممالک کو برآمد کرنے لگے تھے، چین کے امیرترین کاروباریوں میں شمار ہونے لگے۔ ثقافت پر اثر چائے پینے کے رجحان نے نفیس ظروف سازی کو ترویج دی۔ انہیں چائے بنانے، ملانے اور پینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ان میں وہ جار بھی شامل ہیں جن میں چائے کی پتی کو محفوظ کیا جاتا تھا۔ چائے کے اعلیٰ ظروف کی پیداوار میں صوبہ جیانگ سو میں یی ژنگ کو خاص مقام حاصل تھا۔ اس خطے کی ثقافت، جس میں دولت کی نمودونمائش کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، چائے کے سادہ لیکن قیمتی برتنوں سے خوشحالی کا اظہار کر دیا جاتا تھا۔ چائے نوشی چینی ثقافت میں اس قدر داخل ہو گئی کہ یہ فن اور ادب میں ظاہر ہونے لگی۔ پھیلاؤ دیگر ثقافتی رواجوں کی طرح چائے نوشی بھی چین سے مشرقی ایشیا کے دوسرے ممالک جیسا کہ کوریا کی سلطنت ’’سِلا‘‘ میں داخل ہوئی لیکن چھٹی اور ساتویں صدی کے بعد جاپان سے زیادہ اسے کہیں مقبولیت نہ ملی ۔ جاپان میں بھی یہ بدھ بھکشو تھے جنہوں نے سب سے پہلے چائے کو پیا۔ 1200ء تک یہ فیشن نہیں بنی تھی۔ چائے کی تقریب اگرچہ چائے پیش کرنے کو تقریب کا رنگ چین میں دیا گیا لیکن یہ تقریب جاپانی ثقافت کی پہچان بن گئی۔ چائے نوشی کی جاپانی تقریب کو ’’چانویو‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں ’’چائے کے لیے گرم پانی‘‘۔ چائے پینے کے لیے پہلا کام درست مقام پر جانا ہے اور جاپانیوں کے لیے یہ ’’چاشٹسو‘‘ یا چائے کا کمرہ ہے۔ اسے ’’شوکیا‘‘ یا ’’ادھورا گھر‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو اس کی طرزتعمیر کی جانب اشارہ ہے۔ اس کی چھتیں بانس اور گھاس پھونس کی ہوتیں، سہارا دینے والے ستون خام شکل میں ہوتے اور دیواریں مٹی کی ہوا کرتیں۔ یہ سادہ سی عمارت اصل گھر سے خاصی الگ ہوتی۔ اس لیے چائے پینے والا یا پینے والے روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے مقام سے الگ ہو جاتے۔ آج بھی چائے کے تین اصل اور قدیم کمرے موجود ہیں جو ’’نیشنل ٹریژر آف جاپان‘‘ کی فہرست میں شامل ہیں۔ چائے کا کمرہ چھوٹا ہوتا اور تین مربع میٹر کا ہوا کرتا۔ پہلے کمرے بڑے تھے لیکن انہیں چھوٹا کرنے کا سہرا ’’ریکیو‘‘ (چائے کا ایک ماہر) کے سر ہے۔ یہاں بہت کم تزئین و آرائش اور سہولیات ہوتیں، ایک ٹوائلٹ اور بیرونی طرف ہاتھ دھونے کے لیے پتھر کا ایک بیسن ’’ٹسوکوبائی‘‘ ہوتا۔ داخل ہونے سے قبل یہاں ہاتھ دھوئے جاتے۔ اس کے بعد ترتیب وار رکھے پتھروں کے ساتھ داخلے کا راستہ ہوتا۔ اس کی ایک اور خصوصیت باہر کی جانب لالٹین کا ہونا تھی۔ چھوٹے سے باغ (’’چا نیوا‘‘) کے بیچ اس کمرے کی موجودگی مثالی سمجھی جاتی تھی۔ اس میں پتھروں پر بنا راستہ (’’ٹوبی ایشی‘‘) ہوتا جو اصل گھر کی طرف جاتا۔ یہاں پھولوں کے بجائے ہمہ وقت شاداب رہنے والے سبزے کو ترجیح دی جاتی، جس میں نرم گھاس شامل ہوتی تاکہ اس پر پاؤں رکھ کر چلنے سے چائے کی تقریب کی ابتدا سے قبل ہی راحت کا احساس ہو۔ چائے کا داخلی دروازہ عموماً چھوٹا ہوتا، یہ صرف تین فٹ کے قریب اونچا ہوتا، اس کا مطلب تھا کہ داخلے کے بعد سب کا مرتبہ ایک جیسا ہے۔ بعض تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ دروازہ چائے کے کمرے میں تلوار لے جانے کو روکنے کے لیے چھوٹا رکھا جاتا تھا، جس کا ایک معنی یہ ہوا کہ چائے پیتے وقت عہدے اور پیشے کو ترک کر دینا ہے۔ کھڑکیوں اور کاغذ کی سکرینوں سے خاصی روشنی اندر آ جایا کرتی۔ چائے پینے کی تقریب کے مطابق اسے پیش کرنے کے آداب ہوتے۔ ان تقریبات کی بہت سی قسمیں تھیں۔ عام طور پر پانی کو لکڑی کے کوئلے پر لوہے کی کیتلی میں بنایا جاتا، چائے تیز، سبز اور کڑوی ہوتی۔ ہر تقریب میں چینی کے سب سے اعلیٰ برتنوں کو استعمال کیا جاتا۔ بعدازاں سولہویں صدی تک چائے اتنے بڑے پیمانے پر پی جانے لگی اور یہ اتنا بڑا کاروبار بن گئی کہ بالآخر یورپی تاجر، بالخصوص پرتگالی اور ولندیزی اس میں دلچسپی لینے لگے۔ یورپ میں چائے 1607ء میں متعارف ہوئی اور انیسویں صدی تک، چائے یورپ میں اتنی مقبول ہو گئی کہ پینے والے چین، ہندوستان اور سری لنکا کی چائے میں سے کسی ایک کو لینے لگے۔ آخری الذکر دو ممالک کی چائے زیادہ تیز تھی اور اسے ترجیح دی جاتی تھی۔ بالخصوص برطانویوں نے اسے ترجیح دی اور نوآبادیاتی ہندوستان میں اس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے باوجود انیسویں صدی کے اوائل تک یورپ درآمد ہونے والی 80 فیصد چائے چینی ہوا کرتی تھی۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)

 
  • Like
Reactions: maria_1

shehr-e-tanhayi

ایسی محبت کیا کرنی جو نیند چرا لے آنکھوں سے
Co Manager
Jul 20, 2015
36,667
11,420
713
thanx for sharing
 
Top
Forgot your password?