قربانی کاگوشت ضرور کھائیں۔ مگر احتیاط سے تحریر : ڈاکٹر آصف محمود

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,805
1,313
Lahore,Pakistan
قربانی کاگوشت ضرور کھائیں۔ مگر احتیاط سے تحریر : ڈاکٹر آصف محمود
عید الاضحی کا تہوار مسلمانوں کے لیے بڑا اہم ہے۔ استطاعت رکھنے والے مسلمان حج کے لیے جاتے ہیں ۔ حج پہ نہ جانے والے مسلمان اللہ کی راہ میں جانوروں کی قربانی کر کے اس بات کا عزم کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے حکم پر اس کی راہ میں کوئی بھی قربانی کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔


زیادہ کلیجی کھانے سے پیٹ میں اپھارہ، بد ہضمی، تیزابیت اور قبض ہوسکتا ہے


قربانی کا گوشت عید الاضحی کا تحفہ ہے۔ سنت ابراہیمیؑ کی پیروی میں اللہ کے حکم پر قربانی کی جاتی ہے۔





عید الاضحی کے دنوں میں ہر امیر غریب کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ قر بانی کا گوشت سیر ہو کر کھائے۔ امیروں کے فریج اورڈیپ فریزرقربانی کے گوشت سے اوپر سے نیچے تک بھر جاتے ہیں جبکہ غریب گوشت کے لیے ترستے ہیں اور گوشت حاصل کرنے کے لیے گھر گھر دستک دیتے ہیں۔ عیدکے دنوں میں ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کا بھی رش ہوتا ہے۔ زیادہ تر مریض زیادہ گوشت کھانے کی وجہ سے بد ہضمی، تیزابیت، معدے میں جلن، پیٹ میں اپھارہ، قبض یا ڈائریاکا شکار ہو کر ڈاکٹروں کے پاس آتے ہیں ۔ پچھلے وقتوں میں قربانی ہونے کے ساتھ ہی گھروں میں کلیجی پکائی جاتی تھی۔ رشتہ داروں اور دوستوں کو اس کو کھانے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ قربانی کی کلیجی بہت لذیذ ہوتی ہے۔ مگر اس کو کھاتے وقت احتیاط لازم ہے۔


ایک تو کلیجی بڑے اچھے طریقے سے پکی ہونی چاہیے۔ کلیجی کھاتے وقت احتیاط لازم ہے۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ کلیجی سو فیصد کولیسٹرول اور چربی پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس لیے دل اور بلڈ پریشر کے مریض تو کلیجی کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔ تاہم ایک دو بوٹیاں لینے میں کوئی حرج نہیں۔آج کل گرمی بھی ہے۔ حبس بھی ہے اس لیے قر بانی کا گوشت یا قربانی کی کلیجی کھانے کے بعد لیموں کا پانی ضرور لیں۔ اس سے کلیجی ہضم ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔ زیادہ کلیجی کھانے سے پیٹ میں اپھارہ، بد ہضمی، تیزابیت اور قبض ہوسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قربانی کی کلیجی کم سے کم کھائیں۔ دل کی بیماریوں میں مبتلا لوگ، ہائی بلڈ پریشرکے مریض یا جن مریضوں کی ماضی قریب میں انجیوپلاسٹی ہوئی ہے یا دل کا بائی پاس آپریشن ہوا ہے وہ تو کلیجی کو ہاتھ تک نہ لگائیں۔ قربانی کا جانور دیکھ بھال کے لینا چاہیے۔


قربانی کے مسائل کے مطابق اور قربانی کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین اور صحت مند جانور قربانی کے لیے لیا جائے۔ اچھی طرح تسلی کر لیں کہ جانور کے جسم پر کوئی زخم تو نہیں۔ جانوروں میں کا نگووائرس انسانوں میں منتقل ہو کر جاں لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ قربانی کے گوشت کا صحیح استعمال ضروری ہے۔ قربانی کا فریضہ ادا کرنے والے لوگ ایک حصہ اپنے لیے رکھ سکتے ہیں مگر یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اچھا اچھا گوشت خود رکھ لیا جائے یا اپنے قریبی عزیزوں کو بھیج دیا جائے اور غریبوں کے لیے صرف چربی والا گوشت یا چھیچھڑے رہ جائیں۔ فریج یا فریزر میں زیادہ دیر تک گوشت رکھنے سے اس کی غذائی افادیت ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں بیکٹیریا پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔


قربانی کے جانور ذبح کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ جانور کو صاف جگہ پر لٹکایا جائے اور اس دوران صاف پانی استعمال کیا جائے۔ گوشت کاٹتے وقت بھی صفائی کا اہتمام ضروری ہے۔ گندے پانی کے استعمال سے گوشت میں گندے پانی سے ہونے والی بیماریوں ٹائیفائیڈ، ہیضہ، ڈائریا کے جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں قربانی کا گوشت کھاتے ہوئے مندرجہ ذیل احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھ کر آپ بہت سی تکالیف سے بچ سکتے ہیں ۔


۔.1 قربانی کا گوشت پکاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ گوشت اچھی طرح صاف ہو اور صحیح طور پر پکایا جائے۔ اگر گوشت گل نہ رہا ہو تو اس کے لیے سالن میں پپیتاڈال لیں۔ پپیتا میں اللہ نے صلاحیت رکھی ہے کہ اس سے گوشت گل بھی جائے جاتا ہے اور لذیذ بھی بنے گا۔


۔.2 صحت مند رہنے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا کھائیں۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ کھانا کھاتے وقت پیٹ کے تین حصے کر لیں۔ ایک کھانے کے لیے ایک پانی کے لیے اور تیسرا سانس کے لیے یا معدے کی حرکات کے لیے۔ اگر اس بات پر عمل کیا جائے تو بندہ کبھی پیٹ کے امراض مثلاََ اپھارہ پن، السر، تیزابیت وغیرہ کا شکار نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ قربانی کا گوشت کھائیںضرور مگر احتیاط سے اور اعتدال کے ساتھ مناسب مقدار میں گوشت کھانے سے معدے پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔


۔.3 گوشت کھاتے ہوئے مختلف قسم کے کولااور دوسرے سوفٹ ڈرنکس سے اجتناب کریں۔ کھانے کے 15 منٹ بعد لیموں پانی استعمال کریں۔ اور اس کے علاوہ نمکین لسی بھی لے سکتے ہیں۔ اس سے گوشت ہضم ہونے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ ترکی کے سفر کے دوران دیکھا کہ وہ گوشت خوب کھاتے ہیں مگر اس دوران سلاد، دھنیا، پودینہ، ٹماٹر، ہری مرچ اور پیاز کا خوب استعمال کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لسی کا بھی دور چلتاہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گوشت کھاتے وقت سلاد اور لسی کا استعمال ضرور کریں۔ اس سے بدہضمی کا خدشہ نہیں رہتا


۔.4 اعتدال کے ساتھ گوشت کھانے کے بعد 15 منٹ یا آدھ گھنٹہ بعد سونف، پودینہ، دار چینی اور الائچی ڈال کر قہوہ بنا کرپی لیں۔ اس سے گوشت ہضم ہونے میں آسانی ہوگی۔ پیٹ میں اپھارہ بھی نہیں ہوگا۔


۔.5 گوشت کے سالن کے ساتھ تھوڑا سا اچار سلاد کے ساتھ لے لیا جائے تو اس سے کھانا آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔


۔.6 گوشت کھانے کے فوراََ بعد پیٹ درد، متلی قے آنے کی صورت میں فوراََ ڈاکٹر یا قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔ زیادہ الٹیاں آنے کے صورت میں ORS کا استعمال کریں اور ساتھ ساتھ لیموں پانی بھی دیتے جائیں ۔


۔.7 قربانی کا گوشت اگر صحیح طور پر پکا ہوا نہ ہو تواسے بالکل استعمال نہ کریں۔ اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔


۔.8 قربانی کا گوشت کھاتے وقت اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ گوشت اعتدال کے ساتھ کھایا جائے تاکہ کسی قسم کی بد ہضمی نہ ہو۔


۔.9 جتنا زیادہ گوشت آپ غریبوں کو دیں گے اتنا ہی آپ کی قربانی بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگی۔


۔.10 قربانی کا گوشت کھانے سے اگر قبض ہو جائے تو اس کے لیے اسپغول کا چھلکا اور دہی استعمال کریں۔ گوشت کے سالن میں دو چمچ Olive Oilملانے سے قبض کا خطرہ نہیں رہتا۔ اگر قبض ہو جائے تو صبح سویرے دو چمچ Olive Oil استعمال کریں۔ زیادہ قبض کی صورت میں چار دانے تازہ انجیر رات ایک گلاس پانی میں بھگو کر رکھیں۔ اور صبح سویرے ان کو کھا لیں اور ساتھ وہی پانی پی لیں۔ انشاء اللہ قبض سے نجات مل جائیگی۔ اللہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون میں شفا رکھی ہے۔ ان کا باقاعدہ استعمال آدمی کو بہت سی بیماریوں سے بچا تا ہے۔





 

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,771
1,753
213
ڈاکٹر صاحب نے عید الضحٰی کی فضیلت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ خوبصورت طبی مشوروں سے بھی نوازا ہے
عمدہ انتخاب
شیئر کرنے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?