قناعت اور اطمینان۔۔دولت سے بھی بڑی دولت, تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,515
8,454
1,313
Lahore,Pakistan
قناعت اور اطمینان۔۔دولت سے بھی بڑی دولت, تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی
{عن عبداللہ بن عمرؓ وقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد افلح من اسلم ورزق کفافا وقنعہ اللہ بما اتاہ}(رواہ مسلم)’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کامیاب ہوا وہ شخص جسے اسلام نصیب ہوا اور گزارہ کے لیے روزی بھی ملی اور اللہ تعالیٰ نے جتنا اسے دیا اس پر قناعت بھی دی۔‘‘

واقعی جس بندہ کو ایمان کی دولت نصیب ہو اور ساتھ ہی اس دنیا میں گزارے کا سامان بھی اور پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قناعت اور اطمینان کی دولت نصیب فرما دے تو اس کی زندگی بڑی مبارک اور بڑی خوشگوار ہے۔ یہ قناعت اور دل کا اطمینان وہ دولت ہے جس سے ایک فقیر کی زندگی بادشاہ کی زندگی سے زیادہ لذیذ اور پرمسرت بن جاتی ہے۔کسی شخص کے پاس اگر دولت کے ڈھیر ہوں لیکن اس میں اور زیادہ کے لیے طمع اور حرص ہو اور وہ اس میں اضافہ ہی کی فکر اور کوشش میں لگا رہے تو اسے کبھی قلبی سکون نصیب نہیں ہوتا وہ دل کا فقیر ہی رہتاہے لیکن اگر قناعت کی دولت حاصل ہو تو فقر و افلاس کے باوجود وہ دل کا غنی رہے گا۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

{لیس الغنی عن کثرۃ العروض ولکن الغنی غنی النفس}

’’یعنی دولت مندی مال و اسباب سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اصلی دولت مندی دل کی بے نیازی ہے۔‘‘

معجم کبیر للطبرانی میں حضرت ابو ذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ابو ذر کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال زیادہ ہونے کو غنی ہونا کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپ نے فرمایا کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ مال کم ہونے کا نام فقیری ہے میں نے عرض کیا جی ہاں آپ نے تین مرتبہ بات کو دہرایا پھر فرمایا دولت مندی دل کے اندر ہوتی ہے اور فقیری بھی دل میں ہوتی ہے۔‘‘

اسی حرص نے ان کو بخل کرنے کو کہا توانہوں نے بخل اختیار کیا اسی بخل نے ان کو قطع رحمی کو کہا تو انہوں نے رشتہ داروں کے حقوق کو پامال کیا اسی حرص نے ان کو بدکاری کے لیے کہا تو انہوں نے بدکاریاں کیں۔(ابوداؤد)۔سنن ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ’’انسان میں سب سے بری بات کڑھانے والا لالچ اور گھبرا دینے والی بزدلی ہے۔‘‘

درحقیقت جب قناعت نصیب نہ ہو تو انسان ہر وقت اس غم میں گھلتا اور کڑھتا رہتا ہے کہ یہ نہیں ملا، وہ نہیں ملا، فلاں کے پاس یہ ہے اور میرے پاس یہ نہیں، بس یہی فکر بے شمار دولت کے ہوتے ہوئے بھی انسان کو بے سکون بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مال و دولت سے بھی بڑی دولت قناعت نصیب فرمائے۔

مال ودولت کی حرص عام انسانوں کی فطرت میں داخل ہوتی ہے‘ اگر دولت سے انکا گھر تو کیا جنگل کے جنگل اور صحراء بھی بھرے ہوئے ہوں تب بھی اس انسان کادل قناعت نہیں کرتا۔ یہ انسان اس میں اضافہ اور زیادتی چاہتاہے زندگی کے آخری سانس تک اس کی ہوس کا یہی حال رہتا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں۔

{لَوْکَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادیَانِ من مالٍ لا بتَغٰی ثَالِثًا ولا یَمْلائُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلاَّ التُّرَابُ}

’’یعنی اگر آدمی کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو یہ تیسری بھی چاہے گا اور آدمی کا پیٹ کوئی چیز بھی نہیں بھرسکتی مگر قبر کی مٹی۔‘‘

علامہ خازن اپنی تفسیر میں حسن خلق کے اجزاء بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ لوگوں سے محبت کرنا‘ معاملات کی درستگی ، اپنوں اور بیگانوں سے اچھے تعلقات رکھنا‘ سخاوت کرنا، بخل اور حرص سے پرہیز کرنا‘ تکلیف پہنچنے پر صبر کرنا، اور ادب واحترام کے تقاضوں کو پورا کرنا۔ امام غزالی ؒنے حسن خلق کے بارے میں بڑی قیمتی بات کہی فرماتے ہیں۔’’حسن خلق کا ثمرہ الفت ہے اور برے اخلاق کا پھل بیگانگی اور دلوں کی دوری ہے۔‘‘

صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ حاکم بننے کی حرص کرو گے عنقریب قیامت کے دن یہ شرمندگی کا سبب بنے گی پس یہ (حاکم بننے کی حرص) بہترین مرضعہ (دودھ پلانے والی) ہے اور بدترین دودھ چھڑانے والی ہے‘‘ (یعنی امارت کا آغاز نہایت خوشنما اور دل پسند ہوتا ہے لیکن انجام بُرا ہوتا ہے)۔

دولت کی ہوس جہاں انسان کے لیے دنیا کی بربادی کا نشان ہے وہاں آخرت کی ناکامی ہے لیکن یہی دنیا اور اس کی دولت اللہ کے احکام کے مطابق استعمال کی جائے تو وہ عبادت بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواحکامات دولت کے بارے میں عطا فرمائے ہیں ان کا تعلق اعتدال اور میانہ روی سے ہے۔ ارشاد نبویؐ ہے‘ فرمایا مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَد۔جومیانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔ لیکن اگر انسان دولت کو حقوق پورا کرنے میں بھی صرف نہیں کرتا تو اس سے بخل پیدا ہوتا ہے اور ایسے شخص کو بخیل کہاجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لا یَجْتَمعُ الشُحُّ وَالْاِ یْمَانُ فی قَلْبِ عَبْدٍاَبَداً۔فرمایا کہ’’ بخل اور ایمان کسی مومن بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے‘‘۔اور اگر انسان بے جا خرچ کرنا شروع کردے تو اسے اسراف اور فضول خرچی کہتے ہیں جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا۔کلواوا شربوا ولا تسرفوا۔’’کھاؤپیو لیکن فضول خرچی نہ کرو‘‘۔شدید ضرورت کے بغیر ادھار کا لین دین اچھا نہیں لیکن بسا اوقات اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس لیے جہاں تک ہوسکے ہر شخص قناعت اور کفایت شعاری سے زندگی گزارے اور قرض یعنی ادھار لین دین سے بچار ہے۔انسان کے پاس جس قدر آمدنی کے وسائل ہوں ان کے ذریعہ حلال مال کما کر اہل و عیال پر خرچ کرتا رہے لیکن اس خرچ میں بھی اعتدال اور میانہ روی شامل رہے، سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے اوصاف بیان فرماتے ہوئے یہ خوبی بھی بیان فرمائی:

{والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قواما}

’’اور رحمن کے بندے وہ ہیں کہ جب وہ خرچ کریں تو نہ فضول خرچی کریں اور نہ تنگی کریں بلکہ ان کا خرچ اس کے درمیان اعتدال کے ساتھ ہوتاہے۔‘‘اس سے انسان کو ایک طرف تو سکون ملے گا اور دوسری طرف بیوی بچوں کے اندر قناعت پسندی پیدا ہو گی جو آئندہ چل کر اولاد کی تربیت کا حصہ بن جاتی ہے کہ وہ اولاد خود بھی فضول خرچی سے بچتی ہے لہٰذا انسان اپنے اہل و عیال کے لیے رہائش میں خرچ کرے، ان کے کھانے، پینے، لباس کے لیے خرچ کرے اور پھر اللہ توفیق دے تو ان کے لیے آسائش بھی مہیا کرے یعنی گھریلو سہولیات کا انتظام کرے جس سے زندگی آرام و راحت سے گزرے اور اسلام نے جائز حد تک زیب و زینت اختیار کرنے کی بھی اجازت دی ہے اس لیے اہل و عیال پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے آرائش کی مد میںبھی خرچ کر سکتا ہے۔ الغرض انسان اپنے اہل و عیال کی رہائش، آسائش اور آرائش پر تو خرچ کر سکتا ہے لیکن ایک چیز سے اسلام نے قطعی طور پر روکا ہے اور وہ ہے نمائش، دکھاوا۔ دوسروں کے اہل و عیال پر اپنے اہل و عیال کی امارت اور اپنی دولت ظاہر کرنا۔ قرآن و سنت میں اس سے سختی سے منع فرمایا گیا ہے۔حکم ہے کہ ۔۔۔’’الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب‘‘ کیا ماں باپ اولاد سے غافل تو نہیں ہو گئے جس کے نتیجے میں یہ دن دیکھنے کو ملا، جب حضرت رسول اللہ ﷺنے ماں باپ کو اولاد کی تربیت کا ذمہ دار قرار دیا۔ کیا لوگوں کو حرص اور لالچ کے اندھے کنوئیں میں گرنے سے بچانے کے لیے اسلام نے زریں اصول نہیں سکھائے؟

حدیث مبارکہ میں درج ہے،

ترجمہ:’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ میرے دوستوں میں بہت زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مؤمن ہے جو ہلکا پھلکا ہو (دنیا کے سازو سامان اور عیال کے لحاظ سے ہلکا پھلکا) نماز میں اس کا بڑا حصہ ہو اور اپنے رب کی عبادت خوبی کے ساتھ کرتا ہو اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اس کا شعار ہو اور یہ سب کچھ اخفا کے ساتھ خلوت میں کرتا ہو اور وہ چھپا ہوا گمنامی کی حالت میں ہو اور اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کیے جاتے ہوں اور اس کی روزی بھی بس کافی ہونے کے بقدر ہو اور وہ اس پر صابر اور قناعت کرنے والا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے چٹکی بجائی اور فرمایا کہ جلدی سے اسے موت آگئی اس پر رونے والے بھی کم ہوںاور اس کی میراث بھی تھوڑی ہو۔‘‘

حدیث مبارکہ میں درج ہے،

ترجمہ:’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دوستوں میں بہت زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مؤمن ہے جو ہلکا پھلکا ہو (دنیا کے سازو سامان اور عیال کے لحاظ سے ہلکا پھلکا) نماز میں اس کا بڑا حصہ ہو اور اپنے رب کی عبادت خوبی کے ساتھ کرتا ہو اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اس کا شعار ہو اور یہ سب کچھ اخفا کے ساتھ خلوت میں کرتا ہو اور وہ چھپا ہوا گمنامی کی حالت میں ہو اور اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کیے جاتے ہیں اور اس کی روزی بھی بس کافی ہونے کے بقدر ہو اور وہ اس پر صابر اور قناعت کرنے والا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے چٹکی بجائی اور فرمایا کہ جلدی سے اسے موت آگئی اس پر رونے والے بھی کم ہوںاور اس کی میراث بھی تھوڑی ہو۔‘‘

’’الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب‘‘ کیا ماں باپ اولاد سے غافل تو نہیں ہو گئے جس کے نتیجے میں یہ دن دیکھنے کو ملا‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں باپ کو اولاد کی تربیت کا ذمہ دار قرار دیا۔ کیا لوگوں کو حرص اور لالچ کے اندھے کنوئیں میں گرنے سے بچانے کے لیے اسلام نے زریں اصول نہیں سکھائے؟

قابل رشک بندہ کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی کہ نماز کی عبادت سے بھی خوب حصہ ملا ہو۔ یعنی نماز میں مصروفیت زیادہ ہو۔ مزید یہ کہ وہ اللہ کی عبادت و اطاعت چھپا کر کرتا ہو۔ اتنا نیک ہونے کے باوجود یہ قابل رشک مومن اتنا غیرمعروف اور گمنام ہو کہ آتے جاتے کوئی ان کی طرف انگلی اٹھا کر نہیں کہتا کہ یہ فلاں بزرگ یا فلاں صاحب ہیں اس بندے کو اللہ نے روزی بھی بس اتنی دی جو کہ اسے کافی ہو جائے اور اس پر صبر کرتا ہے۔ اور قناعت اختیار کرتا ہے۔ پھر جب موت کا وقت آیا تو ایک دم رخصت ، اپنے پیچھے نہ مال و دولت چھوڑا نہ جائیداد اور نہ دکانیں نہ مکانات کی تقسیم کے جھگڑے، اور ان کے مرنے پر ان پر رونے والے بھی کم۔مال ودولت کی حرص عام انسانوں کی فطرت میں داخل ہوتی ہے‘ اگر دولت سے انکا گھر تو کیا جنگل کے جنگل اور صحراء بھی بھرے ہوئے ہوں تب بھی اس انسان کادل قناعت نہیں کرتا۔ یہ انسان اس میں اضافہ اور زیادتی چاہتاہے زندگی کے آخری سانس تک ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں۔

{لَوْکَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادیَانِ من مالٍ لا بتَغٰی ثَالِثًا ولا یَمْلائُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ اِلاَّ التُّرَابُ}

’’یعنی اگر آدمی کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو یہ تیسری بھی چاہے گا اور آدمی کا پیٹ کوئی چیز بھی نہیں بھرسکتی مگر قبر کی مٹی۔‘‘

دولت کی ہوس جہاں انسان کے لیے دنیا کی بربادی کا نشان ہے وہاں آخرت کی ناکامی ہے لیکن یہی دنیا اور اس کی دولت اللہ کے احکام کے مطابق استعمال کی جائے تو وہ عبادت بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواحکامات دولت کے بارے میں فرمائے ہیں ان کا تعلق اعتدال اور میانہ روی سے ہے ارشاد نبویؐ ہے‘ فرمایا مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَد۔جومیانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔ لیکن اگر انسان دولت کو حقوق پورا کرنے میں بھی صرف نہیں کرتا تو اس سے بخل پیدا ہوتا ہے اور ایسے شخص کو بخیل کہاجاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔لا یَجْتَمعُ الشُحُّ وَالْاِ یْمَانُ فی قَلْبِ عَبْدٍاَبَداً۔فرمایا کہ بخل اور ایمان کسی مومن بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔اور اگر انسان بے جا خرچ کرنا شروع کردے تو اسے اسراف اور فضول خرچی کہتے ہیں جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا۔

اس اعلیٰ ترین قائدانہ دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علاقائی، نسلی، لسانی اور جغرافیائی تعصبات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ نہ دنیاوی مفادات کا کسی کو لالچ دیا بلکہ آپ نے مادہ پرست قیادت کے ان طریقوں کو جڑ سے ختم فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو بیدار فرمایا تو اللہ کی بندگی کی دعوت کے ذریعہ، عالمگیر انسانی اخوت اور بھائی چارے کے رشتوں میں جوڑ کر، عدل و انصاف کو عام کر کے خوف خدا اور خوف آخرت دلوں میں پیوستہ کر کے بہترین امت کے لیے بہترین قائدانہ خوبیا ں فراہم کیں
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?