قول و فعل کا تضاد *

arzi_zeest

خاک
TM Star
Jul 2, 2018
1,114
679
113
* قول و فعل کا تضاد *
معمولی فساد اس وقت بہت بڑے فتنے اور تباہی کی شکل اختیار کرلیتا ہے جب اس کا ارتکاب کرنے والے خود وہ لوگ ہوں جو دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتے ہوں لیکن جب ان کے عمل سے پردہ اُٹھے تو معلوم ہو کہ گناہوں کے سب سے بڑے مریض یہی ہیں ۔
انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قول و فعل کا تضاد اور خلوت و جلوت کا فرق دنیا و آخرت دونوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے ، دنیا میں تو یہ اس قدر نقصان دہ ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی کے متعلق یہ تضاد ثابت ہوجائے تو لوگ زندگی بھر اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتے بلکہ ایسوں کے عمل کو دیکھ کر
نا جانے کتنے لوگ ہمیشہ کیلئے دین ہی سے متنفر ہوجاتے ہیں ، اور آخرت میں ا س کا نقصان کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ اس روایت اور حکایت سے خود ہی لگا لیجئے .
چنانچہ :
* حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے : *
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :
" قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے ، اس کے محلات اور اس میں اہل جنت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے گی :
" انہیں جنت سے لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں۔ (یہ ندا سن کر) وہ ایسی حسرت کے ساتھ لوٹیں گے کہ اس جیسی حسرت کے ساتھ ان سے پہلے لوگ نہ لوٹیں ہوں گے ."
پھر وہ عرض کریں گے :
" یارب عَزَّوَجَلَّ !
اگر تو اپنا ثواب اور اپنے اولیاء کے لئے تیار کردہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا ۔
* اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا *
" میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے (اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ ) جب تم تنہائی میں ہوتے تو بڑے بڑے گناہ کر کے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں سے ملتے تو عاجزی و انکساری کے ساتھ ملتے تھے، تم لوگوں کو اپنی وہ حالت دکھاتے تھے جو تمہارے دلوں میں میرے لئے نہیں ہوتی تھی ، تم لوگوں سے ڈرتے اور مجھ سے نہیں ڈرتے تھے، تم لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے تھے،تم لوگوں کی وجہ سے برا کام کرنا چھوڑ دیتے لیکن میری وجہ سے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذاب کا مزہ بھی چکھاؤں گا ۔"
*(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/۱۳۵-۱۳۶، الحدیث: ۵۴۷۸)*
اورحضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
میں موت اور( مرنے کے بعد ہڈیوں کی ) بوسیدگی کو یاد کرنے کے لئے کثرت سے قبرستان میں آتا جاتا تھا ، ایک رات میں قبرستان میں تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سو گیا تو میں نے خواب میں ایک کھلی ہوئی قبر دیکھی اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :
" یہ زنجیر پکڑو اور اس کے منہ میں داخل کر کے اس کی شرمگاہ سے نکالو۔"
تو وہ مردہ کہنے لگا:
یا رب عَزَّوَجَلَّ !
کیا میں نے قرآن نہیں پڑھا ؟
کیا میں نے تیرے حرمت والے گھر کاحج نہیں کیا؟
پھر وہ اسی طرح ایک کے بعد دوسری نیکی گنوانے لگا تو اس نے سنا :
" تو لوگوں کے سامنے یہ اعمال کیا کرتا تھا لیکن جب تو تنہائی میں ہوتا تو نافرمانیوں کے ذریعے مجھ سے مقابلہ کرتا اور تم نے میرا کچھ خیال نہ کیا ۔"
*(الزواجر عن اقتراف الکبائر، خاتمۃ فی التحذیر من جملۃ المعاصی۔۔۔ الخ، ۱/۳۱ )*?
 

shehr-e-tanhayi

Super Magic Jori
Super Moderator
Jul 20, 2015
34,567
9,741
513
@Don @saviou @Shiraz-Khan @shehr-e-tanhayi @Hoorain @RedRose64
@Aaylaaaaa @minaahil @Umm-e-ahmad @H@!der @khalid_khan @Untamed-Heart
@duaabatool @Armaghankhan @zaryaab-irtiza @DiLkash @Seemab_khan @Mahen @Masha
@Cyra @Kavi @rooja @Aaidah @BeautyRose @Gaggan @hasandawar @AnadiL @Prince-Farry
@Hasii @Masha @Bird-Of-Paradise @Besharam @shzd @hinakhan0 @zehar @bilal_ishaq_786
@Belahadi @Manahi007 @BeautyRose @ujalaa @*Sonu* @Guriyaa_Ranee @illusionist
@sonu-unique @shahijutt @ujalaa @Layla @Fantasy @Babar-Azam @AM_ @Princess_Nisa
@Shanzykhan @sweet bhoot @NXXXS @IceCream @zahra1234 @AnadiL @Basitkikhushi
@Pari @whiteros @namaal @Abid Mahmood @Iceage-TM @Toobi @i love sahabah
@NamaL @Fa!th @MSC @yoursks @thefire1 @nighatnaseem21 @Fanii @naazii @Miss_Tittli
@junaid_ak47 @Guriya_Rani @Azeyy @Gul-e-lala @maryamtaqdeesmo @HorrorReturns
@shzd @p3arl @Atif-adi @Lost Passenger @marzish @Pakhtoon @candy @Asma_tufail
@Rubi @Tariq Saeed @Mas00m-DeVil @Wafa_Khan @amazingcreator @marib @Raat ki Rani
@Ghazal_Ka_Chiragh @Binte_Hawwa @sweet_c_kuri @sabha_khan40 @Masoom_girl @hariya
@Aayat @italianVirus @Ziddi_anGel @sabeha @attiya @Princess_E @Asheer @aira_roy
@shailina @maanu115 @Dua001 @pyaridua @xortica_ @DesiGirl @huny @AshirFrhan
@Rahath @Shireen @zonii @Noor_Afridi @sweet bhoot @Lightman @Noorjee @hafaz
@Bela @LuViSh @aribak @BabyDoll @Silent_tear_hurt @gulfishan @Manxil
@errorsss @diya. @isma33 @hashmi_jan @smarty_dollie @Era_Emaan
@saimaaaaaaa @Nighaat @crystal_eyez @Mantasha_Zawaar @zaatzarra @reality
@Hudx @Stunning_beauty @Zia_Hayderi @Fadiii @Aqsh_Arch @St0rm @ROHAAN
 
  • Like
Reactions: arzi_zeest

Armaghankhan

Likhy Nhi Ja Sakty Dukhi Dil K Afsaany
Super Star
Sep 13, 2012
10,053
5,433
1,113
KARACHI
* قول و فعل کا تضاد *
معمولی فساد اس وقت بہت بڑے فتنے اور تباہی کی شکل اختیار کرلیتا ہے جب اس کا ارتکاب کرنے والے خود وہ لوگ ہوں جو دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتے ہوں لیکن جب ان کے عمل سے پردہ اُٹھے تو معلوم ہو کہ گناہوں کے سب سے بڑے مریض یہی ہیں ۔
انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قول و فعل کا تضاد اور خلوت و جلوت کا فرق دنیا و آخرت دونوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے ، دنیا میں تو یہ اس قدر نقصان دہ ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی کے متعلق یہ تضاد ثابت ہوجائے تو لوگ زندگی بھر اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتے بلکہ ایسوں کے عمل کو دیکھ کر
نا جانے کتنے لوگ ہمیشہ کیلئے دین ہی سے متنفر ہوجاتے ہیں ، اور آخرت میں ا س کا نقصان کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ اس روایت اور حکایت سے خود ہی لگا لیجئے .
چنانچہ :
* حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے : *
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :
" قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے ، اس کے محلات اور اس میں اہل جنت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے گی :
" انہیں جنت سے لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں۔ (یہ ندا سن کر) وہ ایسی حسرت کے ساتھ لوٹیں گے کہ اس جیسی حسرت کے ساتھ ان سے پہلے لوگ نہ لوٹیں ہوں گے ."
پھر وہ عرض کریں گے :
" یارب عَزَّوَجَلَّ !
اگر تو اپنا ثواب اور اپنے اولیاء کے لئے تیار کردہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا ۔
* اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا *
" میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے (اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ ) جب تم تنہائی میں ہوتے تو بڑے بڑے گناہ کر کے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں سے ملتے تو عاجزی و انکساری کے ساتھ ملتے تھے، تم لوگوں کو اپنی وہ حالت دکھاتے تھے جو تمہارے دلوں میں میرے لئے نہیں ہوتی تھی ، تم لوگوں سے ڈرتے اور مجھ سے نہیں ڈرتے تھے، تم لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے تھے،تم لوگوں کی وجہ سے برا کام کرنا چھوڑ دیتے لیکن میری وجہ سے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذاب کا مزہ بھی چکھاؤں گا ۔"
*(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/۱۳۵-۱۳۶، الحدیث: ۵۴۷۸)*
اورحضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
میں موت اور( مرنے کے بعد ہڈیوں کی ) بوسیدگی کو یاد کرنے کے لئے کثرت سے قبرستان میں آتا جاتا تھا ، ایک رات میں قبرستان میں تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سو گیا تو میں نے خواب میں ایک کھلی ہوئی قبر دیکھی اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :
" یہ زنجیر پکڑو اور اس کے منہ میں داخل کر کے اس کی شرمگاہ سے نکالو۔"
تو وہ مردہ کہنے لگا:
یا رب عَزَّوَجَلَّ !
کیا میں نے قرآن نہیں پڑھا ؟
کیا میں نے تیرے حرمت والے گھر کاحج نہیں کیا؟
پھر وہ اسی طرح ایک کے بعد دوسری نیکی گنوانے لگا تو اس نے سنا :
" تو لوگوں کے سامنے یہ اعمال کیا کرتا تھا لیکن جب تو تنہائی میں ہوتا تو نافرمانیوں کے ذریعے مجھ سے مقابلہ کرتا اور تم نے میرا کچھ خیال نہ کیا ۔"
*(الزواجر عن اقتراف الکبائر، خاتمۃ فی التحذیر من جملۃ المعاصی۔۔۔ الخ، ۱/۳۱ )*?
Jazak Allah
 

Asheer

ஜÇatch-me'ıf U-caŋஜ
Super Star
Feb 10, 2013
12,492
5,597
1,113
Karachi
* قول و فعل کا تضاد *
معمولی فساد اس وقت بہت بڑے فتنے اور تباہی کی شکل اختیار کرلیتا ہے جب اس کا ارتکاب کرنے والے خود وہ لوگ ہوں جو دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتے ہوں لیکن جب ان کے عمل سے پردہ اُٹھے تو معلوم ہو کہ گناہوں کے سب سے بڑے مریض یہی ہیں ۔
انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قول و فعل کا تضاد اور خلوت و جلوت کا فرق دنیا و آخرت دونوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے ، دنیا میں تو یہ اس قدر نقصان دہ ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی کے متعلق یہ تضاد ثابت ہوجائے تو لوگ زندگی بھر اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتے بلکہ ایسوں کے عمل کو دیکھ کر
نا جانے کتنے لوگ ہمیشہ کیلئے دین ہی سے متنفر ہوجاتے ہیں ، اور آخرت میں ا س کا نقصان کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ اس روایت اور حکایت سے خود ہی لگا لیجئے .
چنانچہ :
* حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے : *
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :
" قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے ، اس کے محلات اور اس میں اہل جنت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے گی :
" انہیں جنت سے لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں۔ (یہ ندا سن کر) وہ ایسی حسرت کے ساتھ لوٹیں گے کہ اس جیسی حسرت کے ساتھ ان سے پہلے لوگ نہ لوٹیں ہوں گے ."
پھر وہ عرض کریں گے :
" یارب عَزَّوَجَلَّ !
اگر تو اپنا ثواب اور اپنے اولیاء کے لئے تیار کردہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا ۔
* اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا *
" میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے (اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ ) جب تم تنہائی میں ہوتے تو بڑے بڑے گناہ کر کے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں سے ملتے تو عاجزی و انکساری کے ساتھ ملتے تھے، تم لوگوں کو اپنی وہ حالت دکھاتے تھے جو تمہارے دلوں میں میرے لئے نہیں ہوتی تھی ، تم لوگوں سے ڈرتے اور مجھ سے نہیں ڈرتے تھے، تم لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے تھے،تم لوگوں کی وجہ سے برا کام کرنا چھوڑ دیتے لیکن میری وجہ سے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذاب کا مزہ بھی چکھاؤں گا ۔"
*(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/۱۳۵-۱۳۶، الحدیث: ۵۴۷۸)*
اورحضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
میں موت اور( مرنے کے بعد ہڈیوں کی ) بوسیدگی کو یاد کرنے کے لئے کثرت سے قبرستان میں آتا جاتا تھا ، ایک رات میں قبرستان میں تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سو گیا تو میں نے خواب میں ایک کھلی ہوئی قبر دیکھی اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :
" یہ زنجیر پکڑو اور اس کے منہ میں داخل کر کے اس کی شرمگاہ سے نکالو۔"
تو وہ مردہ کہنے لگا:
یا رب عَزَّوَجَلَّ !
کیا میں نے قرآن نہیں پڑھا ؟
کیا میں نے تیرے حرمت والے گھر کاحج نہیں کیا؟
پھر وہ اسی طرح ایک کے بعد دوسری نیکی گنوانے لگا تو اس نے سنا :
" تو لوگوں کے سامنے یہ اعمال کیا کرتا تھا لیکن جب تو تنہائی میں ہوتا تو نافرمانیوں کے ذریعے مجھ سے مقابلہ کرتا اور تم نے میرا کچھ خیال نہ کیا ۔"
*(الزواجر عن اقتراف الکبائر، خاتمۃ فی التحذیر من جملۃ المعاصی۔۔۔ الخ، ۱/۳۱ )*?
جزاک اللہ خیر
ہمارے ظاہر کی طرح ہمارا باطن بھی پاک ہوجائے تو کایا پلٹ جائے۔۔۔
 
  • Like
Reactions: arzi_zeest

Mahen

PaGli
VIP
Jun 9, 2012
22,040
17,118
1,313
laнore
* قول و فعل کا تضاد *
معمولی فساد اس وقت بہت بڑے فتنے اور تباہی کی شکل اختیار کرلیتا ہے جب اس کا ارتکاب کرنے والے خود وہ لوگ ہوں جو دوسروں کو تو بھلائی کا حکم دیتے ہوں لیکن جب ان کے عمل سے پردہ اُٹھے تو معلوم ہو کہ گناہوں کے سب سے بڑے مریض یہی ہیں ۔
انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قول و فعل کا تضاد اور خلوت و جلوت کا فرق دنیا و آخرت دونوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے ، دنیا میں تو یہ اس قدر نقصان دہ ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی کے متعلق یہ تضاد ثابت ہوجائے تو لوگ زندگی بھر اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتے بلکہ ایسوں کے عمل کو دیکھ کر
نا جانے کتنے لوگ ہمیشہ کیلئے دین ہی سے متنفر ہوجاتے ہیں ، اور آخرت میں ا س کا نقصان کتنا زیادہ ہے اس کا اندازہ اس روایت اور حکایت سے خود ہی لگا لیجئے .
چنانچہ :
* حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے : *
حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :
" قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے ، اس کے محلات اور اس میں اہل جنت کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے گی :
" انہیں جنت سے لوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں۔ (یہ ندا سن کر) وہ ایسی حسرت کے ساتھ لوٹیں گے کہ اس جیسی حسرت کے ساتھ ان سے پہلے لوگ نہ لوٹیں ہوں گے ."
پھر وہ عرض کریں گے :
" یارب عَزَّوَجَلَّ !
اگر تو اپنا ثواب اور اپنے اولیاء کے لئے تیار کردہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا ۔
* اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا *
" میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے (اور ا س کی وجہ یہ ہے کہ ) جب تم تنہائی میں ہوتے تو بڑے بڑے گناہ کر کے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں سے ملتے تو عاجزی و انکساری کے ساتھ ملتے تھے، تم لوگوں کو اپنی وہ حالت دکھاتے تھے جو تمہارے دلوں میں میرے لئے نہیں ہوتی تھی ، تم لوگوں سے ڈرتے اور مجھ سے نہیں ڈرتے تھے، تم لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے تھے،تم لوگوں کی وجہ سے برا کام کرنا چھوڑ دیتے لیکن میری وجہ سے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذاب کا مزہ بھی چکھاؤں گا ۔"
*(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، ۴/۱۳۵-۱۳۶، الحدیث: ۵۴۷۸)*
اورحضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
میں موت اور( مرنے کے بعد ہڈیوں کی ) بوسیدگی کو یاد کرنے کے لئے کثرت سے قبرستان میں آتا جاتا تھا ، ایک رات میں قبرستان میں تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور میں سو گیا تو میں نے خواب میں ایک کھلی ہوئی قبر دیکھی اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا :
" یہ زنجیر پکڑو اور اس کے منہ میں داخل کر کے اس کی شرمگاہ سے نکالو۔"
تو وہ مردہ کہنے لگا:
یا رب عَزَّوَجَلَّ !
کیا میں نے قرآن نہیں پڑھا ؟
کیا میں نے تیرے حرمت والے گھر کاحج نہیں کیا؟
پھر وہ اسی طرح ایک کے بعد دوسری نیکی گنوانے لگا تو اس نے سنا :
" تو لوگوں کے سامنے یہ اعمال کیا کرتا تھا لیکن جب تو تنہائی میں ہوتا تو نافرمانیوں کے ذریعے مجھ سے مقابلہ کرتا اور تم نے میرا کچھ خیال نہ کیا ۔"
*(الزواجر عن اقتراف الکبائر، خاتمۃ فی التحذیر من جملۃ المعاصی۔۔۔ الخ، ۱/۳۱ )*?
Jazak Allah dear.. waqi kuch log deen ko mazaq bana lety hain.. jo logo ko kehty hain woh kud us py amal nahi karty...!
 
  • Like
Reactions: arzi_zeest
Top
Forgot your password?