قیادت کے ستون

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
قیادت کے ستون
114939




رضوان عطا

قیادت کے کردار کی ادائیگی مخصوص صفات، رویوں اور قابلیتوں کی متقاضی ہوتی ہے۔ یوں تو یہ عام لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن قائد یا رہنما میں یہ زیادہ اور مناسب توازن کے ساتھ ہوتی ہیں اور اسی کے بل بوتے پر وہ قیادت کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کچھ افراد پیدائشی رہنما ہوتے ہیں۔ یہ ممکن ہے، البتہ اس امر کو مانتے ہوئے زیادہ اہم پہلو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ قیادت کے لیے ضروری قابلتیں اور ہنر سیکھے جا سکتے ہیں۔ ان سے عدم واقفیت کا قصور وار ہمارا نظامِ تعلیم بھی ہے۔ مثال کے طور پر اگر چند برس ریاضی کو سکول میں نہ پڑھایا جائے تو آبادی کا بڑا حصہ اس شعبے میں کوئی کارنامہ انجام دینے کے قابل نہیں رہے گا۔ یہ سلسلہ زیادہ عرصہ جاری رہے تو آبادی ابتدائی ریاضی کی واقفیت سے بھی ہاتھ دھو سکتی ہے۔ حقیقی لیڈر شپ کے بارے علم نظامِ تعلیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ کچھ افراد اتفاقیہ لیڈر بن جاتے ہیں اور کچھ محض اپنی کرشماتی شخصیت کی بنا پر۔ عام طور پر قائدین کی بیرونی خصوصیات قابل غور سمجھی جاتی ہیں جیسے وہ اپنے آپ کو کیسے پیش کرتے ہیں، ان کی ’’باڈی لینگوئج‘‘ کیسی ہے، وہ کیسے بات کرتے ہیں، ان کا سٹائل، لباس اور تاثر کیا ہے۔ تاہم حقیقی قائد کے لیے داخلی مضبوطی کہیں اہم ہوتی ہے اور اسے پانا بہت ضروری ہے۔ یہ جن ستونوں پر استوار ہوتی ہے انہیں ذیل میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ویژن اور خوداحتسابی صورتِ حال کیا رخ اختیار کرے گی اور اسے کیسے وہ رخ دیا جا سکتا ہے جو کامیابی کی طرف جاتا ہے، کسی بھی رہنما میں یہ صلاحیت ہونا لازم ہے۔ ویژن جاندار اور دلیرانہ ہونا چاہیے لیکن صرف ویژن کا ہونا کافی نہیں۔ رہنما کو اس ویژن کو حقیقت کا روپ دینا ہوتا ہے۔ رہنما اس کی تکمیل کے لیے جماعت، ادارے یا تنظیم میں یکسانیت اور ربط پیدا کرتا ہے، حکمتِ عملی بناتا ہے، ضروری ڈھانچے تعمیر کرتا ہے اور احکامات و ہدایات کی تعمیل اور تکمیل کو یقینی بناتا ہے۔ سچا قائد یا رہنما سمجھتا ہے کہ کامیابی کا حصول اس کی ذمہ داری ہے۔ تاہم ایسا اچھی ٹیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اچھی ٹیم کا انتخاب بھی رہنما کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس کے بعد رہنما نتائج کی ذمہ داری لیتا ہے اور احتساب کے لیے خود کو پیش کرتا ہے۔ وہ دوسروں پر الزام لگا کر بری الذمہ ہونے کی کوشش نہیں کرتا۔وہ نئی راہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے بجائے اس کے کہ تاویلات پیش کرتا رہے۔ عزت و احترام قیادت کوئی عہدہ، خطاب یا خصوصی طاقت نہیں۔ حقیقی رہنما کی پیمائش اس کے اثر سے کی جا سکتی ہے۔ اس کا اثر جتنا بڑھتا ہے، پیروکار یا ماتحت ضروری تبدیلیوں کے لیے اتنے رضامند ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اسے حقیقی عزت و احترام حاصل کرنا ہوتا ہے۔ قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے والا فرد ہی اپنی ٹیم میں باہنر اور باصلاحیت افراد کو شامل کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی رہنمائی کرے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ رہنما اور مقصد اس قابل ہوں۔ کس کا احترام کتنا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب دوسروں سے کہا جائے تو وہ اپنے آپ کو بدلنے کے لیے راضی ہو جائیں۔ ذاتی نمو کی ذمہ داری آپ وہ نہیں دے سکتے جو آپ کے پاس ہے نہیں۔ تیز رفتار تبدیلیاں تقاضوں کو بدل دیتی ہیں اور اسی لیے رہنماؤں اور ان کی تنظیموں کو بھی بدلنا ہوتا ہے۔ لہٰذا رہنماکو اپنے اوپر بھی مسلسل سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً کسی بھی بڑے ادارے میں وہ فرد رہنمائی کے قابل نہیں ہو سکتا جو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ابجد سے ناواقف ہو۔ لوگ کسی بھی قائد کی رضاکارانہ پیروی کرنے سے قبل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جس پر وہ اعتبار کر رہے ہیں وہ کتنا باعلم اور باصلاحیت ہے۔ اور کیا وہ فرد ان کی مدد کر سکتا ہے۔ اگر آپ ایسا کوئی کردار ادا کر رہے ہیں تو اپنی استعداد کو بڑھانے کے لیے کتابیں پڑھیں، کانفرنسوں میں جائے، زیادہ جان کاری رکھنے والوں سے ملیں یا جو مناسب لگے، کریں۔ اپنی بہتری کی ذمہ داری خود لیں، کسی دوسرے کو بڑھ کر بتانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ ان پہلوؤں کی نشان دہی کریں جن میں بہتری کی گنجائش ہے۔ اپنے کردار کو بہتر بنانے پر بھی محنت کریں۔ راست بازی حقیقی اور مؤثر رہنما کو اخلاقی لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے۔ اسے کسی کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہیں پہنچانی چاہیے۔ تعریف بہت سے انسانوں کی کمزوری ہوا کرتی ہے، اور اعلیٰ عہدوں پر براجمان افراد کے حصے میں ’’تعریف‘‘ کہیں زیادہ آتی ہے۔ اس بارے میں احتیاط لازم ہے۔ خوشامد کی بنیاد پر کسی کی تائید قائد کے شایانِ شان نہیں۔ رہنما اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرتا، بالخصوص ان افراد کے خلاف جو کمزور ہوں اور اپنا دفاع نہ کر سکتے ہوں۔ وہ انفرادی کے بجائے اجتماعی ترقی پر توجہ مرکوز رکھتا ہے اور اس کے کردار اور افعال میں تضادات نہیں ہوتے۔ جذباتی ذہانت ہمارے ہاں سبق کو جلد یاد کرنے اور امتحان میں زیادہ نمبر لینے کو ذہانت سمجھ لیا جاتا ہے جبکہ ان کا بیشتر انحصار ذہانت کے ایک حصے یعنی حافظے پر ہوتا ہے۔ جس پہلو کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ جذباتی ذہانت ہے۔ یہ اپنے جذبات کو سمجھنے، انہیں کنٹرول کرنے اور گفت و شنید میں دوسروں کے احساسات تک پہنچنے کا نام ہے۔ جذباتی ذہانت رکھنے والے افراد دوسروں کے احساسات کو سمجھنے اور اسی مناسبت سے ردعمل ظاہر کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اچھے قائد انتہائی مؤثر انداز میں گفتگو اور ابلاغ کرتے ہیں اور اسے جذباتی ذہانت کے بل پر حاصل کیا جاتا ہے۔ ہم عام طور پر ادراکی یاکوگنیٹو ذہانت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن جذباتی ذہانت کے بغیر رہنما کی صلاحیتیں ادھوری ہوتی ہیں۔ سوچ، خیالات اور معلومات پہنچانے کے لیے دوسروں کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا ہم ہدایات، حکمتِ عملی اور تصورات اسی طرح دوسروں تک پہنچاتے ہیں جس طرح ہم خود سمجھ رہے ہوتے ہیں؟ متعدد مرتبہ ایسا نہیں ہوتا کیونکہ انسان روبوٹ یا کمپیوٹر نہیں کہ ایک نے جو کہا دوسرے نے اسے اسی طرح جان لیا۔ افراد کی ذاتی صفات، احساسات اور عقائد کسی ایک جملے کو مختلف طریقوں سے سمجھنے کی راہ کھول دیتے ہیں۔ رہنما اس حقیقت کو سمجھتا ہے اور دوسروں کی جذباتی سطح کے ساتھ ربط پیدا کرتا ہے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?