قیام پاکستان پر بننے والی فلمیں تحریر : عبدالحفیظ ظفر

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
قیام پاکستان پر بننے والی فلمیں تحریر : عبدالحفیظ ظفر

قیامِ پاکستان کے حوالے سے وطن عزیز میں بڑی معیاری فلمیں بنائی گئیں اور وہ باکس آفس پر کامیاب بھی ہوئیں۔ان فلموں میں قائداعظمؒ اور ان کے رفقاء کی کاوشوں کو دکھایا گیا اور کانگرس اور اس کے رہنماؤں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو بھی بے نقاب کیا گیا۔



بھارت میں بھی تقسیمِ ہند اور قیام پاکستان پر فلمیں بنائیگئیں لیکن یہ فلمیں بغض اور تعصب سے بھرپور تھیں اور ان میں قیام پاکستان کی مخالفت کی گئی۔ کانگرسی رہنماؤں کا وہی پرانا فلسفے کا پرچار کیا جاتا رہا کہ مذہب کے نام پر الگ ملک نہیں حاصل کیا جا سکتا اور یہ کہ ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ ہندی ہیں۔ کہیں یہ نہیں دکھایا گیا کہ مسلمانوں کے حقوق انہیں کیوں نہیں دیئے گئے؟ کیا کسی بھارتی فلم میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا کہ قائداعظمؒ جو ہندو مسلم اتحاد کے زبردست داعی تھے، کانگرس سے بدظن کیوں ہو گئے اور مسلم لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیوں کیا؟ قائداعظمؒ کے نزدیک یہ بات اظہر من الشمس تھی کہ کانگرس سیکولر ازم کے نام پر ہندوستان میں ’’رام راج‘‘ قائم کرنا چاہتی ہے۔ کبھی کسی بھارتی فلم میں یہ نہیں دکھایا گیا کہ قائداعظمؒ محمد علی جناح نے ’’نہرو رپورٹ‘‘ کے جواب میں 1929 میں جو چودہ نکات پیش کیے تھے، کانگرس نے انہیں مسترد کیوں کر دیا؟ ان نکات میں قائداعظمؒ نے مسلمانوں کے جائز حقوق مانگے تھے اور علیحدہ وطن کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ جو کچھ مانگا گیا انڈین یونین کے اندر رہ کر مانگا گیا۔ لیکن ان جائز مطالبات کو مسترد کر دیا گیا۔ آخر کیوں؟ کانگرس کو یہ یقین نہیں تھا کہ مسلمان آگے جا کر بہت طاقت پکڑ لیں گے۔ 1937 میں جب کانگرسی وزارتیں بنیں تو مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ یہیں سے مسلمانوں کے اندر آزادی کی چنگاری بھڑکی جو آہستہ آہستہ شعلہ بن گئی۔ 1946 کے انتخابات میں مسلم لیگ کی فتح نے مستقبل کا نقشہ واضح کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1946 میں ہی کابینہ مشن پلان سامنے آیا ہے کانگرس نے مسترد جبکہ مسلم لیگ نے منظور کر لیا۔

بہرحال 1947 میں قیام پاکستان کے بعد مسلمانوں کا جس طرح قتلِ عام کیا گیا تو وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ہم پہلے بھارتی فلموں کا ذکر کرتے ہیں جن میں تاریخ کو مسخ کیا گیا۔ ان میں گرم ہوا، غدر، بیگم جان، وائسرائے ہاؤس 2017، پارٹیشن‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح کشمیر پر جو بھارتی فلمیں بنائی گئیں ان میں بھی یکطرفہ پروپیگنڈا کیا گیا۔ کسی فلم میں معروضی حقائق نہیں پیش کیے گئے۔

اب ہم اپنے قارئین کو پاکستان میں بننے والی ان فلموں کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے جو قیام پاکستان پر بنائی گئیں۔

۔-1 کرتار سنگھ (1959)

سیف الدین سیف کی یہ پنجابی فلم کسی شاہکار سے کم نہیں۔ اس فلم کو اب تک پنجابی فلموں کی سرتاج فلم کہا جاتا ہے۔ یہ بلیک اینڈ وائٹ فلم تھی جس میں علاؤ الدین نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ باقی کاسٹ میں سدھیر، مسرت نذیر، ظریف، اجمل، بہار، فضل حق اور عنایت حسین بھٹی شامل تھے۔ فلم کے گیت وارث لدھیانوی اور سیف الدین سیف نے تحریر کیے تھے۔ تمام اداکاروں کی کارکردگی انتہائی قابل تحسین تھی۔ خاص طور پر علاؤ الدین کا فن اس فلم میں اوجِ کمال کو پہنچ گیا تھا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ علاؤ الدین چونکہ راولپنڈی سے تعلق رکھتے تھے جہاں سکھوں کی خاصی تعداد آباد تھی۔ علاؤ الدین کا بھی ان میں اٹھنا بیٹھنا تھا اس لیے وہ ان کے طرزِ حیات اور زبان سے اچھی طرح واقف تھے۔ بہرحال انہوں نے کرتار سنگھ کے کردار کو امر کر دیا۔ عنایت حسین بھٹی نے مختصر کردار ادا کیا لیکن اپنے فن کے نقوش چھوڑ گئے۔ ظریف نے ایک ہندو حکیم کا کردار ادا کیا اور یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا کردار تھا۔

فلم کی کہانی مشرقی پنجاب کے ایک گاؤں کے متعلق ہے جہاں ہندو مسلمان اور سکھ اکٹھے رہتے ہیں۔ ان کا بھائی چارہ مثالی ہوتا ہے۔ صرف کرتار سنگھ ایک واحد نوجوان ہے جو بظاہر تو مسلمان کو برا نہیں سمجھتا لیکن اس کے دل میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کا زہر بھرا ہوتا ہے۔ گاؤں کا غیرت مند نوجوان عمر دین (سدھیر) اُس کا دوست ہے لیکن اس کے ساتھ بھی بعض معاملات پر اس کی تلخ کلامی ہوتی رہتی ہے۔ کرتار سنگھ اچھے کردار کا مالک بھی نہیں۔ بحرحال معاملات چلتے رہتے ہیں۔ پھر قیام پاکستان کا اعلان ہو جاتا ہے اور ہر طرف نفرت کی آندھی چل پڑتی ہے۔ یہ آندھی اس گاؤں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ کرتار سنگھ شاید اس موقع کی تلاش میں ہوتا ہے۔ وید جی (حکیم) کی بھرپور کوششوں کے باوجود اس کے دل سے تعصب نہیں نکلتا اور وہ عمر دین کے چھوٹے بھائی کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔ اسی اثنا میں عمر دین قافلے کے ساتھ پاکستان پہنچ جاتا ہے۔ اس کی بہن لیلیٰ اور دوسرا چھوٹا بھائی اُسی گاؤں میں رہ جاتے ہیں۔ لیلیٰ کو ایک بزرگ سکھ کرنیل سنگھ (اجمل) اپنے گھر میں پناہ دے دیتا ہے جہاں اس کا نوجوان بیٹا لیلیٰ کی آبروریزی کی کوشش کرتا ہے جس پر کرنیل سنگھ اپنے بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے اور پھر کسی طریقے سے لیلیٰ کو اس کے بھائی عمر دین کے پاس بھجوا دیتا ہے۔ ادھر وید جی (ظریف) اپنی بیٹی (بہار) اور عمر دین کے دوسرے بھائی کو ساتھ لے کر گاؤں چھوڑ کر جانے کی تیاریوں میں ہے کہ اچانک کرتار سنگھ آن ٹپکتا ہے۔ اسے دیکھ کر وید جی پریشان ہو جاتا ہے لیکن کرتار سنگھ اسے بتاتا ہے کہ اب وہ پہلے جیسا کرتار سنگھ نہیں رہا۔ وہ بالکل بدل چکا ہے اور اس کا ضمیر جاگ اٹھا ہے۔ وہ وید جی سے کہتا ہے کہ وہ عمر دین کا چھوٹا بھائی اس کے حوالے کر دے تا کہ وہ اسے اس کے بڑے بھائی عمر دین کے پاس چھوڑ آئے۔ لیکن وید جی اس پر اعتماد نہیں کرتا اور اسے جھوٹا قرار دیتا ہے۔ وید جی یہ سمجھتا ہے کہ کرتار سنگھ عمر دین کے دوسرے بھائی کی جان بھی لینا چاہتا ہے لیکن کرتار سنگھ بڑی مشکل سے اسے یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ وہ ایک نیا کرتار سنگھ ہے اور اس کے ماضی کو فراموش کر دیا جائے۔

وید جی دل پر پتھر رکھ کر عمر دین کے چھوٹے بھائی کو کرتار سنگھ کے حوالے کر دیتا ہے جو اسے گھوڑے پر بٹھا کر پاکستان کی سرحد کی طرف گامزن ہو جاتا ہے جہاں عمر دین رینجرز کے سپاہی کے فرائض سرانجام دے رہا ہوتا ہے یہاں پس پردہ موسیقی بڑی شاندار ہے اور سلیم اقبال نے کمال کر دکھایا۔ جب عمر دین ایک گھڑ سوار کو سرحد کی جانب آتے دیکھتا ہے تو وہ اسے دور سے گولی مار دیتا ہے۔ کرتار سنگھ کے پیچھے بیٹھا ہوا عمر دین کا بھائی بھی کرتار سنگھ کے ساتھ زمین پر گرتا ہے تو عمر دین کو علم ہوتا ہے کہ کرتار سنگھ تو اس کے بھائی کو لے کر آ رہا تھا۔ بہرحال موت سے پہلے کرتار سنگھ نے جو مکالمے بولے ان کا کوئی جواب نہیں۔ آخر وہ عمر دین کی بانہوں میں جان دے دیتا ہے۔ اس فلم کو مشرقی پنجاب بھی بھیجا گیا اور فلم دیکھ کر سکھوں نے علاؤ الدین کو مسلمان ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ سکھ اداکار ہے اور آپ لوگ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ علاؤ الدین نے کس پائے کی اداکاری کی تھی۔ نئے اداکاروں کو یہ فلم بار بار دیکھنی چاہیے۔

۔-2 پہلی نظر (1977)

اسلم ڈار کی یہ فلم بھی قابلِ تحسین تھی اور اس کے نغمات بھی بڑے شاندار تھے۔ قتیل شفائی کے گیتوں کو ماسٹر عنایت حسین نے اپنی دلکش دھنوں سے امر کر دیا۔ خاص طور پر یہ گیت ’’دنیا کب چپ رہتی ہے‘‘ بہت مشہور ہوا۔ اس فلم میں بابرہ شریف، ندیم، آسیہ اور محمد علی نے کام کیا تھا اور کسی نے مایوس نہیں کیا۔ ہندوستان کے ہی ایک علاقے میں قیام پاکستان کے وقت فسادات پھوٹ پڑتے ہیں۔ اس سے پہلے ہی علاقے میں ماحول میں خاصی تلخی آ جاتی ہے۔ ان سب کے بیچ بابرہ شریف اور ندیم کی لو سٹوری بھی چلتی رہتی ہے۔ محمد علی علاقے کا نامی گرامی بدمعاش ہے لیکن وہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔ آسیہ ایک کوٹھے پر گاتی ہے اور محمد علی اس کا گانا سننے اکثر جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اسی اثنا میں پاکستان کے نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ ہندو غنڈے مسلمانوں پر حملوں کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں محمد علی بڑی بہادری سے ان کا مقابلہ کرتا ہے اور بلوائیوں کو شکست دیتا ہے۔ باقی مسلمانوں کا خون بھی جوش مارتا ہے اور وہ نعرئہ تکبیر کے ساتھ بلوائیوں پر پل پڑتے ہیں۔ اس فلم میں بھی یہ دکھایا گیا کہ پاکستان ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا گیا۔ بہت جانوں کی قربانیاں دی گئیں تب کہیں یہ مملکتِ خداداد وجود میں آئی۔

۔-3خاک اور خون (1979)

یہ فلم نیف ڈیک نے ٹی وی اداکاروں کو لے کر بنائی۔ اس میں مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جہدِ مسلسل دکھائی گئی اور یہ بھی دکھایا گیا کہ پاکستان کے لیے جدوجہد کرنے والے کتنے ایثار کیش اور مخلص تھے۔ پھر فسادات کے حوالے سے بھی اس فلم کے ذریعے بہت کچھ علم ہوتا ہے۔ اس فلم کے ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ اور یہ نسیم حجازی کے ناول ’’خاک اور خون‘‘ سے ماخوذ تھی۔ اس فلم کو دیکھ کر انتہا پسند ہندوؤں کی ذہنیت کا بھی علم ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی قربانیاں اس فلم کا اصل موضوع تھا۔ اس فلم میں نوین تاجک، فراز، محبوب عالم، عابد علی، شجاعت ہاشمی اور دوسروں نے اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شجاعت ہاشمی کہتے ہیں کہ فراز کاکردار پہلے وہ کر رہے تھے۔ بہرحال فراز کا اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلا۔ اس فلم کی موسیقی نثار بزمی نے مرتب کی تھی اور گیت قتیل شفائی کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ میڈم نور جہاں، مہدی حسن اور رجب علی نے یہ نغمات گائے تھے۔ بہرحال یہ ایک بہت اچھی کاوش تھی۔

۔-4جناح (1998)

اس فلم کو جمیل دہلوی نے بنایا اور یہ ایک بہت خوبصورت فلم تھی۔ اس کی کاسٹ میں کروسٹو فرلی، ششی کپور، جیمز فوکس ماریا ایتکسن، رچرڈ لنٹن، شیریں شاہ، اندرا ورما، طلعت حسین اور شکیل شامل تھے۔ کرسٹو فرلی نے قائداعظم محمد علی جناح کا کردار ادا کیا جبکہ شیریں شاہ محترمہ فاطمہ جناح کے روپ میں سامنے آئیں۔ رچرڈ لنٹن نوجوان محمد علی جناح بنے جبکہ اندرا ورما نے رتنا بائی کا کردار نبھایا۔ وینزہ احمد کو دینا جناح کا کردار دیا گیا۔ شکیل لیاقت علی خان بنے جبکہ طلعت حسین مہاجر کے روپ میں سامنے آئے۔ مارک زبیر نے علامہ اقبال کا کردار ادا کیا۔ ششی کپور کا کردار بڑا عجیب تھا وہ کہانی سنانے والے ہیں ایمانداری کی بات یہ ہے کہ تمام اداکاروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس حوالے سے جمیل دہلوی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس فلم کی شوٹنگ پاکستان اور انگلینڈ میں ہوئی۔ کرسٹو فرلی پر کچھ حلقوں نے اعتراض کیا کہ جو شخص ڈریکولا کا کردار ادا کر چکا ہے وہ قائداعظمؒ کا کردار کیوں ادا کر رہا ہے۔ لیکن کرسٹو فرلی بالکل ایک نئے روپ میں سامنے آئے۔ فلم دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے قائداعظمؒ کی شخصیت کا بھرپور مطالعہ کیا تھا۔ اس فلم میں بنیادی طور پر قائداعظمؒ کی جدوجہد کو موضوع بنایا گیا۔ پاکستان بنانے کے لیے وہ کن جاں گسل مراحل سے گزرے، وہ یہ فلم دیکھ کر علم ہوتا ہے۔ انگریزوں اور ہندوؤں کے ساتھ ساتھ انہیں اپنوں کی ریشہ دوانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے پامردی اور مستقل مزاجی سے اپنے مشن پر کام کیا اور بالآخر ایک قومی ریاست وجود میں آ گئی۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?