1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.

مائی بارہ تالی

Discussion in 'Adab Ka Daricha' started by dr maqsood hasni, Jul 11, 2018.

  1. dr maqsood hasni

    dr maqsood hasni
    Expand Collapse
    Senior Member

    Joined:
    Aug 11, 2008
    Messages:
    938
    Likes Received:
    283
    مائی بارہ تالی

    منسانہ
    فانی مقصو حسنی


    کافی پہلے کی بات ہے یہاں طاعون کی بیماری پڑ گئی۔ گھر کے گھر خالی ہو گئے۔ ہنستا بستا علاقہ ویرانے میں تبدیل ہو گیا۔ سب کچھ پہلے کی طرح موجود تھا لیکن انسان کہیں کہیں نظر آتا تھا۔ ایک گھر جو اچھے خاصے افراد پر مشتمل تھا میں ایک بہو اور اس کا سسر باقی رہ گئے باقی طاعون کی گرفت میں آ کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اچھی خاصی جائیداد والے تھے۔ دور نزدیک کے شریک خوش ہو گئے کہ بابا کب تک باقی رہے گا۔ ساری جائیداد پر قبضہ کر لیں گے۔

    خاتون بڑی سمجھ دار تھی۔ بابا ستر کے پٹے میں تھا۔ خاتون نے متواتر دو سال بابے کی سانبھ کی۔ خوراک میں وہ کچھ دیا جو اسے دوبارہ سے عورت کے قابل بنا دیتا۔ اس کی محنت رنگ لائی۔ یہ سب اس نے چپ چپیتے کیا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ بابے کا رنگ روپ ہی تبدیل ہو گیا۔ بابے کو اس نے شادی پر آمادہ کرنے کا جتن کیا لیکن بابے نے کہا کہ وہ اس عمر میں جنج نہیں چڑھے گا۔ اس پر وہ ایک غریب گھرانے کی لڑکی اس کے ماں باپ کی رضا مندی سے گھر لے آئی۔ صاف ظاہر ہے اس نے اس گھرانے کی مالی مدد کی ہو گی۔ گھر لا کر اس نے بڑی سادگی سے اس لڑکی کا بابے سے نکاح کر دیا۔ اس لڑکی کو گھر میں شہزادیوں کی طرح رکھا لیکن گھر کا سارا کنٹرول اپنے ہی ہاتھ میں رکھا۔

    اللہ کار ساز ہے۔ اللہ نے اوپر تلے اس گھر کو دو بیٹوں سے نوازا۔ بابے کی پوری توجہ سے دیکھ بھال کرتی رہی۔ بڑے بیٹے کو دنوں میں تیار کر لیا۔ قدرت کی کرنی دیکھیے کہ بابے کو اللہ نے لمبی عمر عطا کی اور بابے کے ہوتے کسی شریک کو چوں تک کرنے کی جرآت نہ ہوئی۔ بابا صحت مند اور بڑے ٹہکے والا تھا۔

    بڑا لڑکا عمر میں تیرہ چودہ سال کا ہو گیا لیکن صحت کے حوالہ سے گھبرو جوان ہو گیا۔ اس عورت نے خود کو بھی مین ٹین رکھا ہوا تھا۔ اس نے اس لڑکے سے شادی کر لی۔ سارا شریکہ انگشت بدانداں رہ گیا۔ اللہ کی عنایت دیکھیے اللہ نے اسے ایک چاند سے بیٹے سے نوازا۔ بعد ازاں اس عورت نے اس لڑکے کا نکاح ایک جوان لڑکی سے کر دیا۔ اس کی اس دانش مندی سے علاقہ اس کی عزت اور احترام کرنے لگا اور صد آفرین کے کلمے ہر زبان پر تھے لیکن شریکے نے اسے بارہ تالی کا نام دیا اور وہ شریکہ میں اسی نام سے مشہور ہو گئی۔

    اس بات کو عرصہ ہو گیا ہے۔ کئی نسلیں آ کر چلی گئی ہیں۔ کچھ باقی نہیں رہا ہے۔ شیطان ایڑھی چوٹی کا زور لگا لے۔ اللہ کے کاموں میں کون دخیل ہو سکتا ہے۔ وہ جسے باقی رکھنا چاہتا ہے باقی رکھتا ہے شیطانی طور اپنے کیے کی گرفت میں آ کر ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا ہے۔ مائی صاحبہ بارہ تالی کی اولاد آج بھی سیکڑوں کی تعداد میں موجود ہے۔ ہوس لالچ اور حرص کے مارے مر چکے ہیں۔ آج انہیں کوئی جانتا تک نہیں۔

    انسان کی حیثیت تو یہ ہے کہ جب آتا ہے تو خالی ہاتھ آتا ہے اور خود سے کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ جب جاتا ہے خالی ہاتھ جاتا ہے اور خود سے کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ ہاں اس کا اچھا یا برا کیا اس کے ساتھ ضرور جاتا ہے۔ دادا تو دور کی بات موت کے بعد لوگ باپ تک کو یاد نہیں رکھتے۔ قبر میں اور روز حشر کو جن کے لیے انسان دو نمبری کرتا ہے اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور تو اور اپنے جسم کے اعضاء بھی گواہ بنیں گے کہ ان سے برا اور غلط کام لیا گیا تھا حالاں کہ وہ اچھا کرنے کے لیے تخلیق ہوئے تھے۔
     

Share This Page