مالدیپ کی دریافت

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,607
8,598
1,313
Lahore,Pakistan
مالدیپ کی دریافت
117156

محمد یونس
قدرت نے بحرہند کی وسیع و عریض ردائے نیلگون کے ایک گوشے کو لُولُو و مرجان کے جگمگاتے ہوئے جزیروں کے ایک پھیلے ہوئے جھومر سے آراستہ کر رکھا ہے۔ یہی مالدیپ ہے۔یہ ایک ننھی سی آزاد ریاست ہے جو تہذیب نو کے فتنہ پرور جھمیلوں سے دور صدیوں سے اپنی رعنائیوں کو سمیٹے ہوئے الگ تھلگ کنج امن میں آباد ہے۔ مالدیپ کے مجمع الجزائر کو بہت سے نامور علما، جغرافیہ دانوں، تاریخ نگاروں اور سیاحوں نے بہ چشم خود دیکھا، یا معتبر ذرائع سے مالدیپ کے بارے میں قابل قدر معلومات جمع کیں۔ خوش قسمتی سے مالدیپ کے مجمع الجزائر کا ذکر قدیم کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے قدیم مصدر معلومات ہندوستان کا ایک بڑا حکیم پاتنجلی فراہم کرتا ہے جو دوسری صدی قبل مسیح میں بمقام گونڈا پیدا ہوا۔ یہ مقام اودھ سے 20 میل شمال مغرب میں ہے۔ پاتنجلی نے مالدیپ کے بارے میں نہایت معتمد اور صحیح معلومات مہیا کی ہیں، جو ابو الریحان البیرونی نے اپنی مشہور تالیف کتاب فی تحقیق ماللہند میں درج کر دی ہیں۔ مالدیپ سے متعلق وہ تفصیلات جو پاتنجلی کے حوالے سے ہم تک پہنچی ہیں نہایت درست ہیں اور واقعیت پر مبنی ہیں۔ چنانچہ اس کی بیان کردہ کیفیت ان جزیروں میں اب تک پائی جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاتنجلی کے یہ بیانات اس کے چشم دید مشاہدات کی روشنی میں مرتب کیے گئے۔ ابوالریحان البیرونی نے بھی تحقیق کا حق ادا کرتے ہوئے صرف ثقہ اور معتبر معلومات ہی کو جمع کیا ہے اور پاتنجلی کے بیان کو اپنے لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ البیرونی کی فراہم کردہ معلومات کی تائید و تصدیق بعد کے آنے والے سیاح اور مؤرخ اپنے عینی مشاہدات کی بنا پر کرتے رہے ہیں۔ البیرونی نے ان جزیروں کو ’’دیحات‘‘ کہا ہے۔ پاتنجلی کے ہم عصر ایک مشہور یونانی جغرافیہ دان بطلیموس (Ptolemy) نے، جو 170ء میں مرا، اپنی معرکہ آرا کتاب ’’جغرافیہ‘‘ میں Taprobane یعنی لنکا کا ذکر کیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کیا کہ لنکا کے سامنے دور سمندر میں بے شمار جزیروں کا ایک جھرمٹ ہے۔ ان جزیروں کی تعداد 1378 بتائی جاتی ہے۔ بطلیموس نے آگے چل کر Maniola کا بھی ذکر کیا ہے۔ شاید ان سے بھی مالدیپ ہی کے جزیرے مقصود ہیں، اور ان جزائر کے بارے میں ایک نئی اور دلچسپ تفصیل بیان کی ہے کہ یہاں سنگ مقناطیس کی پہاڑی بھی ہے جو کشش مقناطیسی سے کشتیوں میں لگی ہوئی لوہے کی میخوں کو اپنی طرف بڑی طاقت سے کھینچ لیتی ہے اور کشتیاں تیزی سے کھینچ کر ساحل سے ٹکرائی ہیں اور پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ مگر ایسی ایک مشہور پہاڑی بحیرہ احمر کے دہانے پر افریقی ساحل کے ساتھ خلیج باب المندب (Gate of Tears) میں واقع ہے۔ بظاہر بطلیموس نے مالدیپ کے مجمع الجزائر کو باب المندب سے خلط ملط کر دیا ہے۔ اگرچہ بطلیموس کو سمندر کے اس خطے میں خود جانے کا موقع نہیں ملا، مگر اس نے یہ تمام معلومات سکندراعظم کے ساتھ آنے والے معتبر مؤرخین اور ان کے بعد بحرہند (مشرق) سے بحیرہ قلزم کے راستے مصر کو آنے جانے والے تاجروں اور سیاحوں سے سن سن کر جمع کی ہیں۔ بعدازاں سکندریہ (مصر) کے ایک نسطوری عیسائی کوسماس کے مشاہدات سامنے آتے ہیں۔ کوسماس جسے Indicopleustes یعنی بحرہند کا جہاز ران کہا جاتا ہے، ایک تاجر، سیاح اور جغرافیہ دان تھا۔ اس نے 535ء میں اپنی مشہور کتاب طوبو غرافیا (12 جلدوں میں) تصنیف کی۔ وہ مالدیپ کے جزائر سے واقف تھا۔ اس نے لکھا ہے کہ Sielediba (سیلادیبہ) یعنی سیلون (لنکا) کے آس پاس بے شمار جزیروں کے مجموعے ہیں جو مل کر الگ الگ وحدت کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ ان جزائر میں ناریل کے درخت بکثرت پیدا ہوتے ہیں اور یہاں تازہ پانی بھی دستیاب ہے۔ کوسماس نے ان جزائر کا نام نہیں بتایا۔ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس دور کے تاجروں اور سیاحوں کو سمندری سفر کی سہولت فراہم کرنے کیلئے جزیرہ نما عرب اور خلیج عربی کے مسلمان جہاز رانوں کی خدمات میسر تھیں۔ یہ جہاز ران اور ملاح علم الہیت اور علم النجوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ دراصل یہی مہم جُو جہاز ران جب کبھی لمبے لمبے بحری سفروں سے واپس آتے تو اپنی داستان سفر سے لوگوں کو محظوظ کرتے تھے، اور عجائبات عالم بیان کر کر کے سامعین سے داد سخن پاتے تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے کی لکھی ہوئی مشہور عالم الف لیلہ و لیلہ میں سند باد الجہازی کے قصے، چین کی شہزادیوں کے افسانے حقیقت میں انہی جہاز رانوں اور بحری تاجروں کی داستانوں سے اخذ کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر قدرت اللہ فاطمی نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں امام البخاری کی التاریخ الکبیر اور ابن الاثیر کی اللباب فی تہذیب الانساب کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ خلیفہ ابوجعفر المنصور نے چین کے شہنشاہ سو تسانگ (Sui Tsang) کو اس کی درخواست پر مدد کے لیے بہت بڑا جنگی بیٹرا بھیجا تھا تاکہ باغی اَن لو شان کی سرکوبی کی جائے۔ یہ بحری بیڑا لنکا اور مالدیپ کے درمیان سے ہو کر چین تک گیا تھا۔ اس دور کے ایک یونانی ملاح بلاذیوس (Palladius) کو بھی مالدیپ کے مجمع الجزائر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہ بیان کرتا ہے کہ ان جزیروں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ 851ء میں ایک گمنام مصنف نے سلیمان التاجر السیرافی اور ابوزید البحری کے سفر نامے مرتب کیے، جنہیں Langles نے سلسلہ التواریخ کے عنوان سے شائع کیا۔ وہ ابو جیش الحکم السواح کے حوالے سے لکھتا ہے کہ بحرثالث میں ایک مجمع الجزائر ہے جو ’’دیبجات‘‘ کہلاتا ہے۔ یہاں ایک ملکہ راج کرتی ہے۔ ان جزیروں میں ناریل کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر جزیرہ ایک دوسرے سے ایک آدھ فرسخ کے فاصلے پر واقع ہے … یہاں کپڑا بُننے کی مقامی صنعت ہے اور سلی ہوئی قمیصیں فروخت ہوتی ہیں۔ سلیمان التاجر السیرافی کا بھی یہاں سے گزر ہوا تھا۔ 1343ء میں مشہور عالم اور سیاح ابن بطوطہ مالدیپ میں وارد ہوا اور اس مجمع الجزائر میں وہ ایک ڈیڑھ سال تک مقیم رہا۔ اس نے مالدیپ کے حالات و کوائف بڑی تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ ابن بطوطہ نے ایک معزز شہری بن کر وہاں کے معاشرے کے مشاغل اور سرگرمیاں دیکھیں اور ان میں بھرپور حصہ لیا۔ تقریباً اسی دور میں ایک سیاح جان (John of Montecorvino) جو غالباً 1328ء میں وفات پا گیا، مالدیپ میں آیا۔ اس طرح فرانس کا جہاز راں ہنری ثانی کا 1555ء میں ان جزائر سے گزر ہوا۔

 
Top
Forgot your password?