محبت کی دو یادگاریں

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
محبت کی دو یادگاریں
117360

غضنفر ناطق
کچھ عمارتیں شہروں کو شناخت عطا کرتی ہیں اور اِن عمارتوں سے شہر پہچانے جاتے ہیں۔ یہ عمارتیں وہاں بسنے والوں کو الگ پہچان بھی دیتی ہیں اور فخر بھی… سنگ و خشت سے بننے والی یہ عمارتیںانسانوں کونہ صرف متاثر کرتی ہیں بلکہ اپنے اندر اِک انجانی کشش بھی رکھتی ہیں۔ اِسی لیے تو لوگ اِن کی جانب دوردراز سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ وسطی پنجاب میں واقع شہر چنیوٹ اپنے فرنیچر، حویلیوں اور مساجد کے باعث شہرت رکھتا ہے۔ پنجاب کے اس چھوٹے سے شہرمیں ایسی ہی ایک عمارت موجود ہے، جس پہ محل کا گمان گزرتا ہے۔ اِس پُرشکوہ عمارت سے مرعوب ہوئے باسی اِسے چنیوٹ کا تاج محل کہتے ہیں۔ عمرحیات کا یہ محل جو اُس کے فرزند گلزار محمد کے نام کی مناسبت سے گلزار محل بھی پکارا جاتا ہے۔ بھلے گلزار محل، تاج محل کی طرح نہ تو وسیع رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے اور نہ اُس جیسا حسین… مگر دونوں عمارتوں میں کچھ باتیں مماثلت ضرور رکھتی ہیں۔ یہ دونوں عمارتیں دریا کے قرب میں واقع ہیں۔ تاج محل دریائے جمنا کے کنارے اور گلزار محل دریائے چناب کے قرب میں…آگرہ کے تاج محل میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کی محبوب بیگم ارجمند بانو (جو کہ اپنے لقب ممتاز محل کے نام سے جانی جاتی ہے) مدفون ہے اور گلزار محل میں اِس محل کو تعمیر کرنے والے کی بیوہ اور گلزار دفن ہیں۔ چناب کی شوریدہ لہروں کے کنارے آباد چنیوٹ میں آج سے کوئی 100 سال پہلے عمر حیات نامی شخص صاحبِ ثروت بھی تھا اور صاحبِ دل بھی… دولت کی حفاظت سے کہیں مشکل ، دل کو بچانا ہوتا ہے۔ وہی ہوا عمرحیات کی یہیں چنیوٹ کی ایک دوشیزہ سے آنکھیں چار ہوئیںاور پھر دل دے بیٹھا۔ جلد ہی یہ دل لگی محبت اور گہری محبت میں بدل گئی اور پھر دونوں نے شادی کر لی۔ ہمارے ہاں محبت اور پھر محبت کی شادی کوآج بھی قبولیت نہیں ملتی تو 1920ء میں اِس کی کہاں گنجائش ہو سکتی تھی۔ چنیوٹ کی تنگ بل کھاتی گلیوں میںجہاں عمر حیات اور اُس کی محبت نے کھل کر سانس لیا، جہاں اُن کا پیار پَلااور محبت پروان چڑھی۔ وہ گلیاں ، وہ نگر، وہ شہر اِن دونوں کو چھوڑنا پڑا۔ جیسے اُس شہر کی فضا محبت کے لیے موزوں نہ ہو، دونوں کلکتہ چلے گئے۔ کوئی تین برس کلکتہ قیام پذیر رہنے کے بعد عمر حیات اور اُس کی محبوب بیگم چنیوٹ واپس آ گئے۔ اب کی بار یہ دو نہیں بلکہ تین تھے اور اُن کے ساتھ اُن کا بچہ گلزار محمد بھی تھا۔ جیسے نئی خبروں تلے پرانی خبریں دب جاتی ہیں، اِس طرح کچھ واقعات پرانے ہو کر قابلِ اعتنا نہیں رہتے اور چنیوٹ والے جیسے دونوں کی پسند کی شادی کو قبول کر چکے تھے۔ 1923ء میں عمر حیات نے اپنے لیے اِک محل نما گھر بنانا شروع کیا، جس کی تعمیر میں چودہ سال لگے مگر اِسے شومئی قسمت کہیے کہ کچھ اورگلزار محل کی تعمیر مکمل ہونے سے دو ماہ قبل ہی عمر حیات کا انتقال ہو گیا۔ 1938ء میں اِس شاندار عمارت میں عمر حیات کی بیوہ اور اُس کا بیٹا گلزار رہنے لگے۔ اِس پُرشکوہ عمارت کی درودیوار سے عمرحیات کی بیوہ کو اُداسی تیرتی ہوئی محسوس ہوئی، شاید یہ شوہر کی ابدی جدائی کا اثر تھا۔ اُس نے اپنے بیٹے گلزار کی شادی کا فیصلہ کیا۔ محل والوں کی شادی میںصرف چائو ہی نہیں خرچہ بھی خوب ہوا کرتاہے، یہ شادی نہایت تزک وا حتشام سے کی گئی۔ شادی کی اوّلین شب تازہ پھولوں کی خوشبو سے مہکتے کمرہ عروسی میں گلزار مسکراتا ہوا داخل ہو ا تھا، مگر جب صبح ہوئی گلزار کا چہرہ سپاٹ تھا، وہ بے حس و حرکت پڑا تھا۔ جلد ہی شہر بھر میںخبر پھیل گئی گلزار فوت ہو چکا ہے۔ بیٹے کی یوں اچانک موت غم کا کوہِ گراں تھی، کل تک سہرے کی سنہری لڑیوں سے چھپا چہرہ اب کفن کی سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھااور اک دن پہلے تک محل پہ ملن کی شہنائیاں بج رہی تھیںاور جدائی کے بین تھے، عمرحیات کی بیوہ بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر سکی اور کچھ دِنوں کے بعد وہ جہانِ فانی سے کوچ کر گئی ۔ اس محل کے احاطے میں ماں اور بیٹا دفن کیے گئے۔ اِس کے بعد عمرحیات کے خاندان کے کسی فرد نے یہاں رہائش نہ رکھی مگر یہ محل جو کہ حوادثِ زمانہ کا شکار رہا آج بھی پُرشکوہ ہے۔ جہاں دور دراز سے لوگ آتے ہیں۔ گزرے دِنوں کے شاہکار دیکھتے ہیں۔ اِک عجب سوگواری بھی یہاں رہتی ہے اور کچھ یہاں آ کر خالی دامن دل گرفتہ بھی ہو جاتے ہیںکہ جن کی محبت سینوں میں سلگتی رہے گی اور بس…وہ اپنی محبت کو یادگار بنانے کے لیے کوئی عمارت نہ بنا سکیں گے۔ یوں گلزار محل کی فضاء میںبیک وقت،ستائش ، حیرت ، حسرت اور آہیں محسوس کی جا سکتی ہیں۔

 
  • Like
Reactions: Angela and maria_1
Top
Forgot your password?