مساجد کا گمشدہ شہر

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
مساجد کا گمشدہ شہر




رضوان عطا

برصغیر میں مسلم فنِ تعمیر کا شاہکار ایک شہر صدیوں تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا۔ اس کے بارے میں آگاہی اس وقت ہوئی جب زرعی مقاصد کے لیے زمین کو درختوں اور پودوں سے صاف کیا جانے لگا۔ یوں دو دریاؤں گنگا اور برہماپترا کے سنگم پر پندرہویں صدی میں قائم ہونے والے شہر کے آثار ملے۔ اس کی بنیاد سندربن کے درویش صفت حاکم الغ خان جہان علی نے رکھی ۔ آثار کو دیکھ کر اسے تعمیر کرنے والوں کی اعلیٰ تکنیک اور ہنرمندی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ شہر کی خاص بات اس میں مساجد کی غیر معمولی تعداد ہے۔ اسے مسجدوں کا شہر کہا جاتا ہے اور یہ بنگلہ دیش کے ضلع باگرہاٹ میں واقع ہے۔ اس شہر کو دیکھ کر سلطنت بنگال یا شاہی بنگلہ میں رائج طرزِ تعمیر کا پتا چلتا ہے۔ یہ خودمختار سلطنت چودھویں، پندرہویں اور سولہویں صدی میں قائم رہی۔ شہر کی کل 360 مساجد میں سب سے بڑی ساٹھ گنبدی مسجد ہے جسے برصغیر میں مسلمانوں کی شاندار تعمیر قرار دیا جا سکتا ہے۔ مسجد کو مقامی بنگلہ زبان میں ’’شٹ گومبوج مسجد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے گنبدوں کی تعداد 60 سے زیادہ ہے البتہ پتھر کے 60 ستون ہیں۔یہ مسجد ہر زاویے سے خوبصورت اور پُرکشش لگتی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کا آغاز 1442ء میں ہوا اور اسے 1459ء میں مکمل کیا گیا۔ مسجد میں عبادات کے علاوہ تدریس کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔ ساٹھ گنبدی مسجد کی دیواریں غیرمعمولی طور پر چوڑی ہیں۔ اس کے چار مینار ہیں جن میں سے دو اذان کے لیے وقف ہوا کرتے تھے۔ اسی کے ساتھ سنگیر مسجد ہے۔ یہ چوکور ہے اور اس کا ایک گنبد ہے۔ خان جہان کے مزار کے قریب نو گنبدی مسجد ہے۔ یہاں تعمیر ہونے والی ایک اور مسجد رون وجائے کا گنبد بہت بڑا ہے۔ اس کی چوڑائی 36 فٹ ہے۔ مسجد کے داخلی دروازے پر پھولوں اور پودوں کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں جبکہ اندر سے یہ سادہ ہے۔ چونا کھولا 25 فٹ چوڑی چوکور مسجد ہے جس کی دیواریں سات فٹ چار انچ چوڑی ہیں۔ اس شہر میں سلطنت کے سکّے ڈھالے جاتے تھے۔ جریدہ فوربز نے اسے دنیا کے 15گم شدہ شہروں میں شامل کیا ہے۔ باگراہٹ کا یہ شہر علاقے کے گھنے جنگلات میں گم ہو گیا تھا۔ یہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب درختوں اور پودوں کو کاٹا گیا۔ اس طرح صدیوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل شاہکار سامنے آنے لگے۔ یہ قدیم شہر خلیج بنگال سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور 50 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ شاہی ٹکوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر پندرہویں صدی میں قائم ہوا اور سولہویں صدی میں اسے خلافت آباد کہا جاتا تھا۔ اس دور میں علاقے میں گھنے جنگلات کی موجودگی اور ان میں چیتوں کی کثرت کو دیکھتے ہوئے شہر کا نقشہ اور ڈھانچہ کچھ ایسا بنایا گیا تھا کہ لوگ کو آباد ہونے میں دشواری نہ ہو۔ سلطنت بنگال نے جنوبی بنگال میں سندربن میں الغ خان جہان علی کو گورنر مقرر کیا تھا۔ نام کے ساتھ الغ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ترک النسل تھا۔ درحقیقت اس دور کے حاکموں نے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی اور اسی سبب وہاں مسلم طرزِ تعمیر کو فروغ ملا۔ موجودہ میانمار کا اراکان خطہ بھی سلطنت بنگال کا حصہ تھا۔ مسلمانوں نے سندربن کی آبادی میں اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ اس پر ہندومت کے اثرات بہت کم تھے۔ اسلام کی ترویج میں صوفیاکرام نے اہم کردار ادا کیا۔ علاقے میں مساجد کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے۔ اس شہر کی منصوبہ بندی میں اسلامی طرزِ تعمیر غالب ہے اور اسی میں بنگالی، ایرانی اور عربی طرز کا ملاپ نظر آتا ہے۔ شہر میں تعمیر ہونے والی بیشتر مساجد کا طرز مماثل ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مزار، پل، سڑکیں اور پانی کے ذخائر بنائے گئے۔ عمارتوں میں زیادہ تر پکی اینٹوں کا استعمال ہوا۔ شہر دو حصوں میں ہے۔ بنیادی اور پہلاحصہ ساٹھ گنبدی مسجد کے گرد ہے جبکہ دوسرا حصہ خان جہان کے مزار کے گرد مشرقی جانب ہے۔ دونوں حصوں کو ساڑھے چھ کلومیٹر کا فاصلہ الگ کرتا ہے۔ خان جہان کا مقبرہ ایک تالاب کے قریب ہے ۔ یہ ایک گنبد والی 45 فٹ کی چوکور عمارت ہے جس پر قرآن پاک کی آیات کندہ ہیں۔ اس بے مثال شہر کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرنے والے خان جہان کا انتقال 25 اکتوبر 1459ء کو ہوا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213
ماشاءاللہ
تین سو سال قدیم شہر
360 مساجد
سب سے خوبصورت مسجد 60 مینار مسجد
اہم معلومات فراہم کرنے کا شکریہ​
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?