مسلمانوں کی علم سے محبت تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,879
1,313
Lahore,Pakistan
مسلمانوں کی علم سے محبت تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری
114304


حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’مومن کو علم سے سیری حاصل نہیں ہوتی یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے‘‘ ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ علم کب تک حاصل کرنا چاہئے ؟ فرمایا: ’’جب تک زندگی ہے‘‘۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک حدیث کے لیے کئی دن اور کئی رات سفر کرتا تھا۔ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ’’اگر کو ئی شخص ملک شام کے آخر سے چل کر یمن کے آخر تک محض اس لیے سفر کرے کہ علم کی ایک بات سنے تو میرے نزدیک اس کا سفر ضائع نہیں ہوا۔‘‘ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: ’’جوکوئی طلب علم کے سفر کو جہاد نہیں سمجھتا اس کی عقل میں نقص ہے۔‘‘ ابن ابی غسان ؒکا مقولہ ہے: ’’آدمی اس وقت تک عالم ہے جب تک طالب علم ہے۔ جب طالب علمی کو خیر باد کہہ دے تو جاہل ہے۔‘‘

ابو اسامہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالیٰ کے متعلق لکھتے ہیں،ترجمہ:میں نے عبداللہ بن مبارک سے زیادہ ملک در ملک گھوم کر طلب علم کرنے والا نہیں دیکھا۔

امام ذہبی رحمہ اللہ جب پہلی مرتبہ طلب علم کے لیے نکلے، تو سات سال تک سفر ہی میں رہے۔ بحرین سے مصر پھر رملہ وہاں سے طرطوس کا سفر پیدل کیا۔ اس وقت ان کی عمر بیس سال کی تھی۔ ابن المقری فرماتے ہیں کہ میں نے صرف ایک نسخہ کی خاطر ستر منزل کا سفر کیا۔ ان بزرگوں کے دل میں شوق علم کی ایسی بے تابی تھی جو ان کو کسی شہر یا ملک میں قرار نہیں لینے دیتی تھی۔ ایک سمندر سے دوسرے سمندر اور ایک بر اعظم سے دوسرے بر اعظم کا سفر تحصیل علم کے لیے کرتے تھے۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حالات زندگی میں لکھا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو ان کی والدہ نے کسب معاش کے لیے بھیجا۔ یہ حصول رزق کے لیے مختلف کام کرتے رہے۔ والدہ کا مشورہ تھا کہ اگر کپڑے دھونے کا فن سیکھ لیں تو کچھ گزر اوقات کا بندو بست ہو جائے۔ ایک مرتبہ امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے درس میں شریک ہوئے، تو انہیں علم حاصل کرنے کا شوق پید ا ہوا۔ والدہ صاحبہ کی طرف سے اصرار تھا کہ محنت مزدوری کرکے پیسہ کمائیں اوران کا دل چاہتا تھا کہ علم حاصل کرکے عالم بنوں، انہوں نے سارا حال امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے گوش گزار کر دیا۔ امام صاحب نے شاگرد رشید میں سعادت کے آثار دیکھے، تو فرمایا کہ آپ درس میں با قاعدگی سے آتے رہیں، ہم آپ کو کچھ ماہانہ وظیفہ دے دیا کریں گے، وہ آپ

اپنی والدہ کو دے دیا کریں۔ چنانچہ امام ابویوسف رحمہ اللہ سارا مہینہ امام صاحب کی مجلس درس میں شریک رہتے اور امام صاحب رحمہ اللہ اپنی گرہ سے کچھ وظیفہ کے طور پر پیسے دیدیتے جو امام ابویوسف رحمہ اللہ اپنی والدہ کے سپر د کر دیتے، کافی عرصہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ ایک دن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی والدہ کو پتہ چلا کہ بیٹا محنت مزدوری کے بجائے تحصیل علم میںمشغول ہے تو وہ برافروختہ ہو ئیں۔

بیٹے کو سمجھایا کہ تمھارے والد فوت ہوگئے ہیں، گھر میں کوئی دوسرا مرد نہیں جو کماسکے۔ لہٰذا تم اگر کوئی کام کاج کرتے تو اچھا ہوتا۔ بہتر تھا کہ کوئی فن سیکھ لیتے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے یہ ماجرا امام صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا۔ امام صاحب رحمہ اللہ نے کہا کہ اپنی والدہ سے کہنا کہ کسی وقت آکر میری بات سنیں۔ چنانچہ امام ابویوسف رحمہ اللہ اپنی والدہ کو لے کر حاضر خدمت ہوئے۔

والدہ نے امام صاحب کی خدمت میں وہی صورت حال پیش کی جو آپ پہلے سن چکے تھے۔ آپ نے ارشادفرمایا کہ میں آپ کے بیٹے کو ایک فن سکھا رہا ہوں کہ جس سے یہ پستہ کا بنا ہوا فالودہ کھایا کرے گا۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ کی والدہ سمجھیں کہ شاید امام صاحب رحمہ اللہ خوش طبعی فرما رہے ہیں تاہم خاموش ہو گئیں۔ کیونکہ گھر کا خرچ تو وظیفہ کی وجہ سے چل رہا تھا۔

جب امام ابویوسف رحمہ اللہ نے تکمیل علم سے فراغت حاصل کر لی اور ابو یوسف رحمہ اللہ امام بن گئے، تو ان کے علم کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا۔ حکومت وقت نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو قاضی القضاۃ کا عہدہ پیش کیا،تو انہوں نے علمی مشغولیت کی وجہ سے معذرت کر دی۔ البتہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو فرمایا کہ وہ یہ عہدہ قبول کر لیں۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ وقت کے چیف جسٹس (قاضی القضاۃ) بن گئے۔ پورے ملک میں ان کی قبولیت عام ہو گئی۔ حکومت وقت نے یہ ذمہ لیا کہ کام کے دوران کھانے کا بندو بست حکومت کی طرف سے ہوگا۔

ایک دفعہ خلیفہ ٔوقت ان کو ملنے کے لیے آیا اور اپنے ہمراہ پیالے میں فالودہ لایا۔ جب امام ابویوسف رحمہ اللہ کو پیش کیا تو کہا، حضرت ! یہ قبول فرمائیں، یہ وہ نعمت ہے جو ہمیں کبھی کبھی ملتی ہے مگر آپ کو روزانہ ملا کرے گی۔ آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ خلیفہ نے کہا یہ پستہ کا بناہوا فالودہ ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ حیران ہوئے کہ استاد مکرم کے منہ سے نکلی ہوئی بات مِن و عَنْ پوری ہوگئی۔

علم کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے‘ آج کے اس عہد میں تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ زندگی کے لیے سانس کی آمدروفت۔ ایک بچہ کے لیے ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے۔ ایک نومولود جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل معصوم اور فرشتے کی طرح ہر گناہ سے پاک ہوتا ہے۔ تمام دنیاوی امور اور مسائل سے آزاد ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنی طفلانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے‘ ہر شیٔ لاشعوری طور پر اس کے سامنے آتی ہے۔ بچہ جب اپنی ماں کی گود سے اترتا ہے تو وہ اپنے گھر کی زمین پر قدم رکھتا ہے گویا اسے یہیں احساس ہو جاتا ہے کہ اس کے اطراف کا ماحول کیا ہے۔ وہ اپنے اطراف کے ماحول سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے اور ان چیزوں کو قبول کرتا ہے جو اس کے اردگرد پھیلی ہوئی ہیں۔صحابہ کرام ؓ،تابعین ، بزرگانِ دین ، مجاہدین اسلا م وغیرہ کی مائوں نے گھر کی چاردیواری میں رہ کر ہی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام کیا ۔ مولانا محمد علی جوہرؒ کی امی جان کی نصیحت تاقیامت ہر دور میںگونجتی رہے گی:’’ بولیں اماں محمد علی کی ، جان بیٹا خلافت پردے دو۔‘‘

سماجی نقطۂ نظر سے ایک بچہ کا سماج اس کا گھر ہوتا ہے اور بچہ اپنے اس ماحول کے تمام طور طریقوں سے مطابقت کرنا سیکھتا ہے یا والدین اسے سکھاتے ہیں۔ اس میں مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے‘ اس لیے کہ باپ تو تلاش معاش میں گھر سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ماں تعلیم یافتہ ہے تو سب سے پہلے بچے کو لکھنا پڑھنا سکھاتی ہے‘ لیکن ماں اگر ان پڑھ ہے تو وہ اس کی چنداں فکر نہیں کرتی لہٰذا بچہ اس سے آزاد اور کھیل کود میں مگن رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس میں وہ دلچسپی یا رغبت مفقود ہوتی ہے جو تعلیم یافتہ ماحول سے آنے والے بچوں میں ہوتی ہے۔

ماں کی گود کے بعد اور اسکول میں داخلے سے پہلے ایک بچے کا جو مکتب ثانی ہوتا ہے وہ اس کا گھر اور آس پاس کا ماحول ہوتا ہے۔ گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا کہ اندر کا۔ عموماً بچے گھر کے باہر نازیبا کلمات اور گالی گلوچ سیکھتے ہیں اور اس کا ردعمل کم یا زیادہ گھر میں بھی نظر آتا ہے۔ بھائی بہن کی لڑائی میں ان کی زبان سے یہ کلمات نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوتے ہیں۔ یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیرونی ماحول سے اپنے ہم عمر بچوں سے سننے والی باتیں وہ جلد قبول کرتے ہیں۔ مشترکہ خاندانوں میں بچے زیادہ نفسیاتی اور حساس ہوتے ہیں۔

مشترکہ خاندان میں افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے سبب تو تو میں میں عام بات ہوتی ہے اور دو افراد کے بیچ ردعمل کو جب دیکھتے ہیں تو اس کا اثر قبول کر لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اکثر بچے گھر کے باہر لڑائی جھگڑے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اگر مشترکہ خاندان میں بچوں کے سامنے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو بچے اسی رو میں بہنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں آگے چل کر خاندان کے دوسرے افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں کا ذہن و دماغ ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے‘ بچپن میں جو باتیں یا عادتیں انہیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کے دماغ میں ثبت ہو جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ بھی ہو جاتی ہیں۔ہمیں اپنے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے اس قول کو اہمیت دے کر ایک بچے کو آنے والے کل کا ایک بہترین انسان بنانا ہو گا تاکہ وہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان بن سکے۔ جس طرح ایک سمجھدار انسان ایک چھوٹے سے بچے سے بہت ساری باتیں سیکھتا ہے بعینہٖ ایک بچہ بھی اپنے بڑے بزرگوں سے بہت ساری نہیں بلکہ تمام باتیں سیکھتا اور قبول کرتا ہے۔

بچے فطرتاً نقال ہوتے ہیں۔ اس لیے گھر کے افراد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو بھی حرکات و سکنات ان سے سر زد ہوں گی بچہ اسے فوراً قبول کر لے گا‘ اس لیے بچوں کے سامنے لغویات اور فضولیات سے پرہیز کرنا‘ والدین اور دیگر بڑوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ان بچوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انہیں ایک صالح‘ صاف ستھرے ماحول کی تشکیل کے لیے فضاء سازگار کرتے ہیں۔بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ اس لیے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ان کی پرورش کے لیے گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند رکھیں۔ کیونکہ ایک بچہ اپنے گھر میں والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بھی وقت گزارتا ہے۔ ایک نیک اور صالح بچہ جب گھر کے باہر قدم رکھتا ہے تو سماج میں مختلف لوگوں سے اس کا سابقہ پڑتا ہے۔ متعلقہ افراد بچے کے عادت و اطوار اور کردار و گفتار سے یہ اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس بچے کے گھر کا ماحول کس طرح کا ہے۔ماحول دینی ہو تو اس کا اثر بچے کے ذہن کو متاثر ضرور کرتا ہے ورنہ عموماً نئی نسل اپنے مذہب اور دین سے کوسوں دور نظر آ رہی ہے۔ اس کمی کے لیے بھی والدین اور گھر کے افراد ہی ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔ بچے قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور ان کی اس معصومیت میں آنے والے کل کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے۔ بالخصوص ایک ماں کی گود میں بچے کی تقدیر پلتی ہے جو کہ اس مصرعے کی غَمَّاز ہے:

تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم

قرآن کریم انسان کو سیدھے راستہ اور اعتدال پر قائم رکھتاہے اور افراط وتفریط سے محفوظ رکھتا ہے، او ر صراط ِ مستقیم کی حضرت رسول اللہﷺ نے ایک مثال پیش فرمائی’’ کہ ایک لمبا خط کھینچا ، اس کے دائیں اور بائیں طرف سارے خطوط کھینچے اور فرمایا یہ سب کے سب گمراہی اور شیطان کے راستے ہیں جو ان میں پڑے گا گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا، اور جوان سے بچے گا وہ سیدھے راستہ پر قائم رہے گا اور جولمبا خط کھینچا ہے اس کے بارے میں فرمایا یہ صراط مستقیم ہے اسی پر تمہیں قائم رہنا ہے‘‘ اور بعض روایات میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ صراط مستقیم وہی ہے جو قرآن وحدیث کے مطابق ہے اسی پر حضرات صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدینؓ ، ائمہ مجتہد ین ثابت قدمی سے چلے آرہے ہیں اور اسی کی بقاء اور اسی کی تبلیغ کے لیے مدارس اسلامیہ کا قیام ہوا ہے او را ن مدارس کے اندر قرآن وحدیث اور فقہ کی جو تعلیم دی جاتی ہے وہ صراطِ مستقیم کے مطابق ہے ۔

قرآن کریم کے علوم سے کبھی ختم نہیں ہوتے ۔ قرآن کریم میںجتنا غور کرتے جائو اس کے اسرار ورموز بڑھتے جاتے ہیں تو ان کی تشنگی بھی بڑھتی جاتی ہے ، وہ کبھی آسودہ نہیں ہوتے ۔ آج پندرہ سوسال سے علماء قرآن کریم کے اسرار ورموز پر اور اس کے مطالب کی گہرائی پر غور کرتے رہے اور ہزاروں اور لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں کتابیں لکھی جاچکی ہیں مگر قرآن کے علوم اور اس کے اسرار ورموز کے ہزارویں حصہ تک بھی رسائی نہ کرسکے اور نہ ہی رسائی ہوسکتی ہے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,879
1,313
Lahore,Pakistan
فساد بد اعمالیوں کا نتیجہ



ترجمہ’’خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آ جائیں۔‘‘

تشریح:خشکی سے مراد انسانی آبادیاں اور تری سے مراد سمندر‘ سمندری راستے اور ساحلی آبادیاں ہیں۔ فساد سے مراد ہر وہ بگاڑ ہے جس سے انسانوں کے معاشرے اور آبادیوں میں امن و سکون تہ و بالا اور ان کے عیش و آرام میں خلل واقع ہو۔ اس لیے اس کا اطلاق معاصی و سیئات پر بھی صحیح ہے کہ انسان ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں‘ اللہ کی حدوں کو پامال اور اخلاقی ضابطوں کو توڑ رہے ہیں اور قتل و خونریزی عام ہو گئی ہے‘ اور ان ارضی و سماوی آفات پر بھی اس کا اطلاق صحیح ہے جو اللہ کی طرف سے بطور سزا و تنبیہ نازل ہوتی ہیں۔ جیسے قحط‘ کثرت موت‘ خوف اور سیلاب وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اللہ کی نافرمانی کو اپنا وطیرہ بنا لیں تو پھر مکافات عمل کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے اعمال و کردار کا رخ برائیوںکی طرف پھر جاتا ہے اور زمین فساد سے بھر جاتی ہے۔ امن و سکون ختم ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ خوف و دہشت‘ سلب و نہب اور قتل و غارت گری عام ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض دفعہ آفات ارضی و سماوی کا بھی نزول ہوتا ہے۔ مقصد اس سے یہی ہوتا ہے کہ اس عام بگاڑ یا آفات الٰہیہ کو دیکھ کر شاید لوگ گناہوں سے باز آجائیں‘ توبہ کر لیں اور ان کا رجوع اللہ کی طرف ہو جائے۔اس کے برعکس جس معاشرے کا نظام اطاعت الٰہی پر قائم ہو اور اللہ کی حدیں نافذ ہوں‘ ظلم کی جگہ عدل کا دور دورہ ہو۔ وہاں امن و سکون اور اللہ کی طرف سے خیر و برکت کا نزول ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: ’’زمین میں اللہ کی ایک حد کا قائم کرنا‘ وہاں کے انسانوں کے لیے چالیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔‘‘ (النسائی‘ کتاب قطع ید السارق‘ باب الترغیب فی اقامۃ الحد‘ ابن ماجہ)

اسی طرح یہ حدیث ہے کہ ’’جب ایک بدکار (فاجر) آدمی فوت ہو جاتا ہے تو بندے ہی اس سے راحت محسوس نہیں کرتے بلکہ شہر بھی‘ درخت اور جانور بھی آرام پاتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری‘ کتاب الرقاق‘ باب سکرات الموت‘ مسلم‘ کتاب جنائز باب ماجاء فی مستریح و مستراح منہ بحوالہ تفسیر مسجد نبوی ص ۱۱۳۵ م)
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?