مصروبابل میں سائنس کی نمو

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
مصروبابل میں سائنس کی نمو
115015


کلیم اللہ

سائنس کی ابتدا کب ہوئی، اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ جب انسان حجری دور سے گزر رہا تھا، اس نے پتھروں، لکڑیوں اور ہڈیوں وغیرہ سے اوزار بنانا سیکھ لیا تھا اور انہیں بہتر سے بہتر بنا رہا تھا۔ ان کی مدد سے وہ اپنی غذا کے لیے شکار کرتا، موذی جانوروں کو ہلاک کرتا اور توڑنے پھوڑنے کے لیے ان اوزاروں سے کام لیتا تھا۔ ابتدا میں یہ اوزار بہت بھدے ہوتے تھے۔ رفتہ رفتہ ان کی بہتر قسمیں تیار کرنے کے لیے وہ اپنے ذہن میں خاکے بنانے اور ان خاکوں کے مطابق اپنے اوزار اور ہتھیار تیار کرنے لگا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خام شکل میں سائنس کا یہی نقطۂ نظر آغاز تھا۔ جب انسان نے آج سے کوئی 13 ہزار برس پیشتر اپنی غذا حاصل کرنے کے لیے کاشتکاری سیکھ لی تو اس کو نہ صرف بہتر اوزار بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی بلکہ کاشت کے لیے موزوں موسم کا انتخاب جیسے مسئلوں سے بھی نپٹنا پڑا۔ یوں علم زراعت کی بنیاد پڑی۔ فن زراعت کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی میں ایک انقلاب رونما ہوا۔ اب انسان اپنی غذائی تلاش کے لیے جنگلوں میں گھومنے پھرنے کے بجائے موزوں جگہ پر مستقل سکونت اختیار کرنے کا عادی ہوتا گیا۔ اس طرح انسانی آبادیاں ظہور میں آئیں اور معاشرتی زندگی کا آغاز ہوا۔ اس معاشرتی زندگی نے کئی ایک سائنسی علوم کو جنم دیا۔ قدیم تمدنوں کے مراکز چین، برِصغیر، میسوپوٹامیا (جدید عراق) اور مصر تھے۔ سائنسی علوم کی نشوونما کے اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ میسوپوٹامیا کے بابلی اور مصری تمدن تھے کیونکہ قدیم ترین نوشتوں سے پتا چلتا ہے کہ یہاں کے ماہرین علوم و فنون دونوں نے سب سے پہلے قدرتی مظاہر کا باقاعدہ مشاہدہ کیا اور علم و فن میں بہت سے مدارج طے کر لیے۔ شواہد عندیہ دیتے ہیں کہ بابل کے ماہرین نے جنتری ایجاد کی، پیمائش کی اکائیاں مقرر کیں، 10 پر مبنی گنتی کا نظام رائج کیا اور اس کے ساتھ ساتھ 60 پر مبنی گنتی کا نظام رائج کیا۔ علمِ ہندسہ اور الجبرا کی ابتدائی نشوونما اہل بابل کے ہاں ہوئی۔ قدیم زمانہ میں مصر، میسوپوٹامیا اور کریٹ (بحیرہ روم کا ایک جزیرہ) میں دھات کا کام ہوا کرتا تھا۔ میسوپوٹامیا کے قدیم باشندے جو سمیری کہلاتے تھے مصر کے اولین لوگوں کے مماثل ترقی یافتہ تمدن کے حامل تھے اور سونے چاندی اور تانبا کے کام کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مصر کے لوگ زمانہ قدیم میں لوہے، چاندی اور سیسہ سے اچھی طرح واقف ہو چکے تھے۔ دھات سازی کے ساتھ ساتھ مصریوں اور میسوپوٹامیا کے باشندوں نے روغنی ظروف سازی کے فن کو بھی بڑی ترقی دی تھی۔ اس سے ملتی جلتی چیزوں اور شیشہ سازی میں بھی انہوں نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔ مصر کے کمہار مٹی کو مختلف شکلیں دینے کے لیے کمہار کے پہیے سے کام لینا سیکھ گئے تھے۔ اہل بابل فلکیات اور نجوم کے بھی موجدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے موسموں کی تبدیلی کا بغور مشاہدہ کیا۔ چاند، سورج، سیاروں اور ستاروں کی حرکت کا بھی انہوں نے بغور مشاہدہ کیا۔ ان مشاہدات کی مدد سے انہوں نے وقت کی پیمائش کے طریقے معلوم کیے۔ وقت کو انہوں نے پہلے تو برسوں میں تقسیم کیا اور پھر برس کو مہینوں میں۔ انہوں نے ستاروں کے مختلف مجموعوں یا تارا منڈلوں کے نام رکھے۔ ان کے جدید نام جیسا کہ حمل (Aries) اور جوزا (Gemini) بابل کے ماہرین فلکیات کے دیے ہوئے ناموں سے ماخوذ ہیں۔ اہل بابل کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ اجرام فلکی انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ قدیم زمانہ کے مصری علم ہندسہ اور فلکیات میں اس قدر ترقی یافتہ نہیں تھے جتنے کہ اہل بابل تھے۔ البتہ علم طب میں انہوں نے زیادہ ترقی کر لی تھی۔ علم طب پر قدیم مصریوں کی جوکتابیں دستیاب ہوئی ہیں، جو پیپرس پر لکھی گئی تھیں، ان میں دواؤں کا ذکر موجود ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ علم وفن طب میں وہ اپنے زمانے کے اعتبار سے کافی آگے تھے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213
ستارہ شناسی اور علم طب دونوں موضوعات پر مصر اور بابل کا کافی اثر نفوذ ہے
 
Top
Forgot your password?