معاوضہ

nizamuddin

Senior Member
بڑے سالوں کی بات ہے ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔ ’’دعا کریں مجھے کام مل جائے۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’تم یقین سے کہتے ہو تمہیں کام کی تلاش ہے؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’حد کرتے ہو، پچھلے دو سال سے بیکار ہوں، اگر مجھے کام کی تلاش نہ ہوگی تو کسے ہوگی؟‘‘

میں نے کہا۔ ’’اچھا اگر تمہیں کام مل جائے اور اگر معاوضہ نہ ملے تو پھر؟‘‘

وہ حیران ہوکر میری طرف دیکھنے لگا تو میں نے کہا۔ ’’اچھا اگر تمہیں کام مل جائے اور کام کرنے کی تنخواہ نہ ملے پھر؟‘‘

گھبرا کر کہنے لگا۔ ’’مجھے ایسا کام نہیں چاہئے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو، مجھے نوکری والا کام چاہئے، ایسا کام جس کے دام ملیں۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’اچھا! اگر تم کو تنخواہ ملتی رہے اور کام نہ کرنا پڑے پھر؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’سبحان اللہ، ایسا ہوجائے تو اور کیا چاہئے۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’پھر تمہیں کام کی تلاش نہیں، تنخواہ اور معاوضے کی تلاش ہے۔‘‘

اسی طرح ہم خدا کے ساتھ کرتے ہیں، بظاہر عبادت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باطن کسی اور شے کا طلب گار ہوتا ہے۔

(اشفاق احمد از ’’بابا صاحبا‘‘ سے اقتباس)​
 
Top