Ikhlaqiat موتیوں کا ہار

WHITEPEARL

Active Member
Jul 10, 2019
425
183
43
116097
موتیوں کا ہار

قاضی ابو بکر محمد بن عبدالباقی انصاری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں:
میں مکہ مکرمہ میں مقیم تھا ۔
ایک دن مجھے سخت بھوک لگی، مجھے کوئی ایسی چیز نہ مل سکی جس سے اپنی شدید بھوک مٹا سکوں ۔ اس دوران مجھے ریشم کی ایک تھیلی گری ہوئی ملی۔ اس کا منہ بھی ریشمی دھاگے سے سلا ہوا تھا ۔میں نے تھیلی لی اور سیدھا اپنے گھر آیا ۔جب تھیلی کھولی تو اس کے اندر موتیوں کا ایک نہایت خوبصورت ہار تھا۔
اس سے پہلے میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا خوبصورت ہار نہیں دیکھا تھا ۔تھیلی کو گھر میں رکھا اور باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی پانچ سو دینار ہاتھوں میں لیے اعلان کر رہا تھا: میری ریشمی تھیلی گم ہو گئی ہے جس میں موتیوں کا ہار ہے، جو شخص اسے واپس دے گا، یہ پانچ سو دینار اسے بطور انعام دوں گا ۔
میں نے اس کا اعلان سن کر دل میں کہا:
میں اسکا ضرورت مند ہوں ۔ فاقہ کشی ہے ۔ مگر یہ ہار میرا نہیں ہے ۔ نہ ہی اس پر میرا کوئی حق ہے ۔
مجھے ہر حالت میں اسے واپس کر دینا چاہیے ۔
اچانک دل میں خیال آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے:
"جس نے اللہ کے لیے کوئی چیز چھوڑی اللہ تعالی اس کو اس سے بہتر عطا فرمائیں گے ۔"
اس حدیث کو یاد کرنے کے بعد میں نے اپنے عزم کو اور پختہ کیا اور گھر جا کر وہ تھیلی لایا ۔
بوڑھے نے مجھے تھیلی کی علامت، اس کے پھندنے کی علامت اور تھیلی میں موجود ہار میں موتیوں کی لڑیوں کی تعداد بتا دی، نیز جس دھاگے سے تھیلی بندھی ہوئی تھی، اسکی علامت بھی بتا دی۔
میں نے تھیلی بوڑھے کے سپرد کر دی ۔
بوڑھے نے اپنی تھیلی پا کر مجھے پانچ سو دینار دینے کی کوشش کی لیکن میں نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا : اس تھیلی کو اس کے حق تک پہنچانا مجھ پر واجب تھا، اس لئے میں اسکا بدلہ نہیں لے سکتا ۔
بوڑھے نے کہا: نہیں، تمہیں یہ ضرور لینا ہوگا۔پھر اس نے بار بار اصرار کیا لیکن میں نے جب لینے سے انکار کردیا تو وہ مجھے چھوڑ کر چلتا بنا ۔
میرے پاس کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں تھا جس سے میں اپنی زندگی گزارتا ، میں نے ذریعہ معاش کی تلاش میں مکہ مکرمہ سے رخصت سفر باندھا اور سمندر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ اتفاق سے میری کشتی ٹوٹ گئی اور لوگ غرقاب ہو گئے ۔ کشتی میں جو کچھ سازو سامان تھا،وہ سب سمندر کی نذر ہو گیا ۔اتفاق سے کشتی کا ایک تختہ میرے ہاتھ لگ گیا، میں اس پر بیٹھ گیا، نہ جانے کب تک سمندر کے تھپیڑوں سے دوچار ہوتا رہا، مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں اور میری منزل کدھر ہے؟
سمندر کے تھپیڑوں نے مجھے ایک ایسے جزیرہ میں لا ڈالا جہاں کچھ لوگ آباد تھے ۔میں جزیرے کے اندر داخل ہوا اور وہاں ایک مسجد میں بیٹھ کر قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا ۔ جزیرے کے لوگوں نے میری قرات سنی تو بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے: ہمیں اور ہمارے بچوں کو بھی قرآن پڑھنا سکھلاو ۔چنانچہ میں ان لوگوں کو قرآن کریم کی تعلیم دینے لگا ۔انہوں نے میری کافی خاطر مدارات کی ۔
ایک دن میری نگاہ مسجد کے اندر قرآن کریم کے چند اوراق پر پڑی، تو میں انہیں لے کر لکھنے لگ گیا : لوگوں نے پوچھا : کیا تمھیں اچھی طرح لکھنا بھی آتا ہے؟
میں نے جواب دیا:
ہاں ۔ ان لوگوں نے مجھ سے درخواست کی : ہمارے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاو ۔
اور میں نے انہیں لکھنے پڑھنے کی تعلیم دینے لگا ۔ اسکی وجہ سے مجھے بہت سا مال بھی حاصل ہو گیا، اور گاوں میں میری خاص اہمیت بھی ہو گئی ۔
چند دنوں کے بعد ان لوگوں نے مجھ سے کہا: ہمارے ہاں ایک یتیم لڑکی ہے، نیک سیرت اور خوبصورت ہے ۔ اسکے پاس ورثے میں کچھ دولت بھی آئی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ اس سے تمھاری شادی کر دیں ۔لیکن میں نے شادی کرنے سے انکار کر دیا ۔ان لوگوں نے کہا:
نہیں نہیں! ہم تمھاری شادی کرکے چھوڑیں گے، پھر انہوں نے مجبور کردیا ۔ میں نے کچھ پس و پیش کے بعد ہاں کردی۔
شادی کے بعد جب بیوی سامنے آئی تو میں نے دیکھا کہ بلکل وہی موتیوں کا ہار اسکے گلے کی زینت بنا ہوا ہے جس کو میں نے مکہ مکرمہ میں پایا تھا ۔ میں ٹکٹکی باندھ کر ہار کی جانب دیکھنے لگا۔ لوگوں نے مجھ سے کہا: بھائی! تم اس یتیم لڑکی کی طرف سے نگاہ پھیر کر اسکے ہار کی طرف دیکھ رہے ہو، تم نے تو اس یتیم کا دل توڑ دیا! میں نے ان لوگوں کو اس ہار کا قصہ تفصیل سے بتایا ۔
ان لوگوں نے میری بات سن کر بلند آواز سے
"لا آلہ اللہ و اللہ و اکبر"
کا نعرہ لگایا ۔ میں نے پوچھا: بات کیا ہے؟
انہوں نے بتایا کہ وہ بوڑھا شخص جس کا ہار تمہیں ملا تھا، اسی یتیم لڑکی کا باپ تھا ۔ وہ بسا اوقات کہا کرتا تھا
میں نے پوری دنیا میں صرف ایک ہی کامل مسلمان دیکھا ہے اور وہی ہے ، جس نے موتیوں کا ہار پا کر میرے حوالے کر دیا ۔ نیز وہ برابر اپنی دعا میں کہا کرتا تھا:
اے اللہ !!!
مجھے اور اس آدمی کو ایک ساتھ اکٹھا کردے تاکہ میں اپنی صاحبزادی کی اس سے شادی کردوں۔
اور اب یقینا اللہ تعالی نے اس کی مراد پوری کردی اور تم خود بخود یہاں آن پہنچے
قاضی ابوبکر کا بیان ہے :
پھر میں اس لڑکی کے ساتھ جواب اب میری بیوی تھی ایک زمانے تک زندگی کا سفر طے کیا۔۔۔اس سے دو بچے پیدا ہوئے پھر اس نیک و صالح بیوی کئ وفات ہوگئی وہ ہار مجھے اور بچوں کو وراثت میں ملا پھر کچھ دنوں بعد میرے یہ دونوں بیٹے بھی باری باری اللہ کو پیارے ہوگئے اور یہ ہار میری وراثت میں اگیا ۔
میں نے بعد میں یہ ہار ایک لاکھ دینار میں فروخت کردیا ،یہ جو دولت تم میرے پاس دیکھ رہے ہو `یہ اسی ہار کی بدولت ہے۔
ماخوذ: سنہرے اوراق
 
  • Like
Reactions: ROHAAN
Top
Forgot your password?