مودی ۔۔۔’’ڈیوائیڈر اِن چیف ‘‘سے ’’لارڈ آف بلڈ ‘‘ تک تحریر : طیبہ بخاری

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
مودی ۔۔۔’’ڈیوائیڈر اِن چیف ‘‘سے ’’لارڈ آف بلڈ ‘‘ تک تحریر : طیبہ بخاری
115863


٭:خون اپنا ہو یا پرایا نسلِ آدم کا خون ہے آخر ۔۔۔

مودی ڈاکٹرائن جسے ’’خون کی پیاسی ڈائن ‘‘کہنا چاہئے نے 90لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے ،ہے کوئی جواس ’’جیل ‘‘ کا تالہ توڑے
مقبوضہ کشمیر میںجبر کا عملی مظاہرہ کیا جا رہاہے ، مظلوم کشمیری صبر کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں اقوام عالم اور انکے نمائندہ اداروں کو بھی عملی طور پر کچھ کر دکھانا ہو گا

٭:کیا دنیا کا مزاج بدلا ہے یا قوانین اور احساس بھی ۔۔۔



٭:انصاف نہ رہا تو انسان بھی نہ رہیں گے۔۔۔

٭:کیا دنیا سن نہیں پا رہی انسانی بحران کی دستک ۔۔۔

٭:کیا انصاف فراہم کرنیوالے عالمی ادارے اندھے گونگے بہرے ہو چکے ہیں۔۔۔ ؟

٭:صاف نظر آ رہا ہے کہ پتھر سے بھی بدتر کون ہیں ۔۔۔اور انکی چوائس کیا ہے ۔۔۔۔؟

٭:مودی ڈاکٹرائن جسے ’’خون کی پیاسی ڈائن ‘‘کہنا چاہئے نے 90لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے ،ہے کوئی جواس ’’جیل ‘‘ کا تالہ توڑے ۔ ۔۔اپنے ہی گھروں میں قیدکشمیریوں کو رہائی دلوائے۔۔؟ان کے زخموں پر مرہم رکھے ۔۔۔ انہیں اپنے ہی دیس میں آزاد فضائوں میں سانس لینے کا موقع دے ۔۔۔

٭:7دہائیاں بیت جانے ، لاکھوں لاشیں اٹھانے اور سینکڑوں زخم کھانے کے باوجود کشمیریوں کیلئے انصاف کیوں نہیں۔۔۔کیا صرف وعدے اور اظہار مذمت ان کے خون کا نعمل البدل ہیں۔۔۔ ؟

٭:برصغیر میں امن اور انسانوں کی ترقی کی بجائے مودی ڈاکٹرائنپر جنگی جنون سوار ہے ۔۔۔کیاسب واضح نہیں۔۔؟

٭:کون ٹھکانے لگانے جا رہا ہے بھارت کی گنگا جمنا تہذیب کو ۔۔۔؟کون گاندھی اور نہرو کے نظریات کے خاتمے اور سیکولر ازم کو دفن کرنے جا رہا ہے۔۔۔

٭:کون بھارت کا ڈیوائیڈر انچیف بن چکا ہے۔۔۔؟

٭:کون ہے ’’بارڈآف بلڈ ‘‘ کا چاہنے اور پھیلانے والا۔۔ اور کون ہے ’’لارڈ آف بلڈ ‘‘۔۔۔؟ سب واضح ہو چکا ہے ۔۔

٭:دیکھ سکو تو دیکھ لو ۔۔۔خون کو بہنے سے روک سکو تو روک لو ۔ دنیا والو۔۔۔انسانی حقوق کے علمبردارو ۔۔مسئلہ کشمیر صرف پاکستان کا ہی نہیں دنیا کا بھی ہے ۔۔۔

٭:کیا ہو گا سلامتی کونسل کی قراردادوں کا ۔۔۔کون تسلیم کریگا عالمی اداروں کے فیصلے ۔۔۔؟

٭: پورا کشمیر انسانی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔۔۔ 5اگست سے کرفیو ، لاک ڈائون ، گرفتاریوں ، نظر بندیوں،غذا اور دوائوں کی قلت کے بعد قابض بھارتی فورسز اب گھروں میں گھس رہی ہے، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیاگیا ہے ۔۔۔

٭:سوال ہے اقوام عالم سے اب اور کتنا ظلم ۔۔۔؟اور کتنا جبر۔۔؟اور کتنا صبر ۔۔۔؟

٭:اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر پراپنی قراردادوں کو بچا نہیں سکتی تو کم از کم کشمیریوں کی زندگیاں تو بچا سکتی ہے ، صرف بیانات اور اظہار مذمت سے کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔

٭:بھارت جبر کا عملی مظاہرہ کر رہا ہے ، مظلوم کشمیری صبر کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں ۔۔۔تو اقوام عالم اور انکے نمائندہ اداروں کو بھی عملی طور پر کچھ کر دکھانا ہو گا۔۔۔

1970بار ایل او سی کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میںفوجیوں کی خودکشیاں

کیوں کہا جا رہا ہے مودی کو ’’لارڈ آف بلڈ ‘‘ ۔۔۔اس کی تازہ مثال مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی سیکیورٹی فورس کے کمانڈر کی خودکشی ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق سینٹرل ریزرو پیراملٹری فورس کے ایک اسسٹنٹ کمانڈر نے اپنے ہی پستول سے خود کو گولی مار لی۔33 سالہ ایم اروِندجن کا تعلق سی آر پی ایف کی 40ویں بٹالین سے تھا اور تامل ناڈو کا رہنے والا تھا 2014 ء میں براہ راست بھرتی ہو اور اسی ماہ دوبارہ جوائن کیا تھا۔بھارتی حکام سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر چلنے والی خبروں کی تردیدکر رہے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سی آر پی کمانڈر نے نامناسب حالات اور ناکافی سہولیات سے تنگ آکر خود کشی کی ۔

یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ صرف مقبوضہ کشمیر میں 12 برس کے دوران بھارتی فورسز کے 440 اہلکار خودکشی کرچکے ہیں پورے بھارت میںیہ اعدادوشمار کہیں زیادہ ہیں ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1989ء سے 2018 تک 94،644 کشمیری قتل کئے گئے ، ہزاروںخواتین کی آبروریزی کی گئی اور ہزاروں جوانوں کو بینائی سے محروم کیا گیا، انسانی تاریخ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی سے بڑھ کر بربریت کی کوئی مثال نہیں۔۔۔ کیا یہ اعدادو شمار نہیں بتا رہے کہ کون ہے ’’لارڈ آف بلڈ ‘‘۔۔۔؟ کس نے پاک ، بھارت سرحد کو بنا رکھا ہے ’’بارڈر آف بلڈ ‘‘۔۔۔؟ یقین نہ کرنیوالوں کیلئے حقائق اور تازہ ترین اعدادوشمار حاضر ہیں کہ مودی ڈاکٹرائن 2 سال میں 1970 بار ایل او سی کی خلاف ورزی کر چکی ہے۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی جنگ بندی کی خلاف ورزی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے، بھارتی خلاف ورزیوں سے تزویراتی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔پاکستان کی جانب سے بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ 2003ء کی جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرے جنگ بندی پر مکمل عملدر آمد کرے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھے لیکن مودی ڈاکٹرائن کچھ سننے کو تیار نہیں اس نے ایل او سی پر رہنے والوںکی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں بچے ، بوڑھے جوان بنکروں کو گھر تصور کرنے لگے ہیں سرحدوں کے قریب بسنے والوں کازندگی بارے نظریہ تبدیل ہو چکا ہے۔ہر وقت جنگ اور خطرے سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے شہریوں کا کہناہے کہہماری زندگی جہنم بن چکی ہے بھارتی فوج کسی بھی وقت گولہ باری کردیتی ہے اوریہ صورتحال ایک بڑے انسانی المیے کا منظر پیش کررہی ہے۔

دوسری جانب برصغیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ انسانوں کے خون کی پیاسی مودی ڈاکٹرائن نے پاکستان کیخلاف جنگ کیلئے سازش تیار کر لی ہے۔ مقبوضہ یا آزاد کشمیر میں جلد دہشتگردی کی بڑی وارادت کر کے اس کا آغاز کریگا،خطے کو ایٹمی جنگ سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے وگرنہ جنگ سے دنیا کے دیگر ملک بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ۔ امریکہ کو آگے بڑھ کر سلامتی کونسل کے ساتھ مل کر کشمیری عوام پر جاری بھارتی ظلم روکنے کیلئے قدم اٹھانا ہوگا،اس وقت جو صورتحال ہے وہ انسانیت کو شرمانے کیلئے کافی ہے۔

آزاد کشمیر اور پاکستانی سرحدوں پر منڈلاتے انہی خدشات اور خطرات کے پیش نظر پاکستان کی سینیٹ داخلہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت پر خط لکھا ہے اور مطالبہ کیاہے کہ ہائی کمیشن مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا نوٹس لے اور بھارتی مظالم پر تحقیقات کروانے کیلئے مختلف ممالک سے پارلیمنٹرینز پرمشتمل کمیشن تشکیل دے۔ چیئرمین داخلہ کمیٹی نے لکھا کہ ا قوام متحدہ امن مشن مقبوضہ کشمیربھیج دے، بھارتی فوج کشمیریوں کے قتل، ریپ، اغواء ا ور اندھا کرنے سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہے، مسلسل کرفیو کیوجہ سے مقبوضہ کشمیر میں ادویات ا ور اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت ہے، فوجی محاصرے کیوجہ سے نوزائیدہ بچوں کو دودھ اور خوراک میسر نہیں، مریض اور بچے مر رہے ہیں مودی حکومت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کیخلاف کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی،وقت ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لے، کئی ممالک کے پارلیمنٹرینز نے مقبوضہ کشمیر جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اقوام متحدہ کا ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق اپنی نگرانی میں بین الاقوامی پارلیمنٹرینز پر مشتمل کمیشن تشکیل دے، بین الاقوامی پارلیمنٹرینز کمیشن کو مقبوضہ کشمیر جانے کی رسائی دی جائے، کمیشن کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا جائزہ لیکر رپورٹ مرتب کرے،اقوام متحدہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر میں اپنا امن مشن و امن افواج بھیج دے۔

سورہ ’’ غزہ‘‘ بن گیا۔۔۔

نسل کشی کا خطرہ

بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر حملے کو جتنا آسان سمجھ رہا تھا دراصل ایسا ہوا نہیں ، کرفیو سمیت تمام تر سخت پابندیاں کشمیریوں کو جھکانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں ۔۔۔۔ایسا الفاظ کی حد تک محدود نہیں ہے کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد میں کس حد تک آگے جا چکے ہیں اسکا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سرینگر کے علاقے سورہ میں قابض بھارتی فورسز کے داخلے کو روکنے کیلئے خندقیں کھودد ی گئی ہیں ، بیریئرز اور رکاوٹیں لگادی گئی ہیں اور اب یہ علاقہ بھارت کیلئے ’’کشمیر کا غزہ‘ ‘ بن چکا ہے۔ محاصرے میں گھرے علاقہ مکینوں نے ٹین کی ٹوٹی پھوٹی شیٹوں ، لکڑی کے بڑے بڑے ٹکڑوں ، آئل کے ڈبوں اور کنکریٹ پلرز سے فصیلیں بنادی ہیں اور علاقے میں داخلے کے واحد راستے پر باقاعدہپہرہ دیا جا رہا ہے۔ رات کے وقت پہرہ دینے والے مقامی شہری مفید نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ قابض فورسز صرف ہماری لاشوں پر سورہ میں آسکتی ہیں ،ہم اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی بھارت کو نہیں دیں گے ، جس طرح غزہ میں اسرائیل کیخلاف مزاحمت ہے اس طرح ہم بھی اپنے مادر وطن کیلئے پوری طاقت سے لڑیں گے۔ فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق بھارت کے متنازع فیصلے اور لاکھوں مزید فوجی مقبوضہ کشمیر میں بھیجنے کے بعد مظاہرے ہوئے تاہم لوئر مڈل کلاس افراد سے تعلق رکھنے والا علاقہ سورہ سب سے آگے ہے۔2ہزار گھروں پر مشتمل علاقے کو قابض فورسز نے 3 اطراف سے گھیرا ہوا ہے اور مقامی معروف مسجد جیناب صاحب ہزاروں مظاہرین کیلئے اسمبلی پوائنٹ بن چکی ہے۔ ہر رات علاقہ مکین مشعلیں تھامے مارچ کرتے ہیں اور کشمیر کی آزادی اور’’ گو انڈیا گو بیک‘‘کے نعرے لگاتے ہیں۔ قابض فورسز نے ہیلی کاپٹرزاور ڈرونز کی مدد سے علاقے میں 3 بار گھسنے کی کوشش کی تاہم پتھروں ، نیزوں اور کلہاڑیوں سے لیس نوجوانوں نے فورسز کو پیچھے دھکیل دیا۔۔۔سورہ کے کشمیریوں نے سر پر کفن باندھ لئے ہیں اگر عالمی برادری نے نوٹس نہ لیا تو یہاں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے نقصان کا خطرہ ہے۔

دوسری جانب عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ نے نسل کشی کا الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل عام کا خطرہ ہے ،عالمی برادری مسلمانوں کی نسل کشی روکے ، بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے ،تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات عام ہیں ، وادی میں مسلمانوں کو دہشتگرد اور علیٰحدگی پسند بنادیا گیا ہے۔ جینو سائیڈ واچ نے کشمیریوں کی نسل کشی پر 10 مراحل کی نشاندہی کی ہے اورکہاہے کہ بھارتی فوج نے 2016 ء سے اب تک 70 ہزار کشمیری شہید کیے، کشمیر میں جرم کے بغیر 2سال تک قید کے واقعات عام ہیں، مسلمان حریت رہنمائوں کو گرفتار یا نظر بند کر دیا گیا ہے ، کشمیریوں کے مد مقابل ہندو اور سکھوں پر مشتمل بھارتی فوج ہے، مقبوضہ وادی میں 1990 ء تک ہندوپنڈت معاشی طور پرحاوی تھے، بی جے پی نے ہندوئوں کو مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ مضبوط کیا۔ مقبوضہ کشمیر پر جدید اسلحہ سے لیس 6 لاکھ فوجی اور پولیس قابض ہے، مودی اور بی جے پی نے مسلم مخالف نفرت کو ہوا دی، مودی اور بی جے پی نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا، بی جے پی رہنمائوں نے فوجی قبضے کو مسئلہ کشمیر کا حتمی حل قرار دیا۔جینوسائیڈ واچ نے خبر دار کیا ہے کہ مقبو ضہ کشمیر میں حا لات بدستور خراب رہے تو وا دی میں بڑے پیمانے پر قتل عام شروع ہوسکتا ہے۔ مسلمان رہنمائوں کو جلا وطن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ مواصلاتی نظام بھی معطل ہے۔وادی میں کئی لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور مسلمان اکثریت پر اقلیت ہندو فوج کی حکمرانی ہے ۔۔

جینو سائیڈ واچ کے الرٹ کے بعد پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میںکہا مقبوضہ کشمیر پر دنیا کو اپنی خاموشی توڑنی ہوگی۔ کشمیرمیں مسئلہ زندگیوں اورانسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ہے، خواتین کواغواء کر کے عصمت دری کی جا رہی ہے ،نسل کشی شرو ع کی جا رہی ہے، دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ اب مقبوضہ کشمیرمیں بات مشاہدے سے آگے جا چکی ہے ۔ پہلے بھی اقوام متحدہ سے خط میں انکوائری کا مطالبہ کیا ہے، ہمارے پاس جو ممکنہ راستے ہیں وہ اختیارکر رہے ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے ہمراہ ہفتہ وار پریس بریفنگ کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل عام کی جانب بڑھ رہا ہے، دنیا کو اسے روکنا ہو گا بھارت عوامی مزاحمت کی کال کو ناکام بنانے کیلئے قتل عام کے منصوبے بنا رہا ہے۔ جینو سائیڈ واچ نے الرٹ بہت سوچ سمجھ کر جاری کیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں صورتحال بہت بگڑ چکی ہے مقبوضہ وادی کے لوگ مجبوراً حالات اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کیاان حقائق سے واضح نہیںہو چکا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظالم کون ہے اور مظلوم کون ۔۔۔؟کاش دنیا سمجھ سکے اور دیکھ سکے پتھر سے بدتر کون ہیں۔۔؟اورمودی ڈاکٹرائن کی چوائس کیا ہے ۔۔۔؟



 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?