موسمِ خزاں کے ساتھ تشویش کی آمد

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,431
7,464
1,313
Lahore,Pakistan
موسمِ خزاں کے ساتھ تشویش کی آمد
116707

کیتھے کساٹا

تیز دھوپ اور طویل دنوں کی رخصتی کے ساتھ خزاں وارد ہوتی ہے، اس موقع پر بعض لوگ اپنے آپ کو تشویش میں مبتلا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر کلیئر موریسن کے مطابق بعض افراد میںخزاں کے مہینوں میں تشویش اور بیزاری کا پیدا ہونا خزاں کی تشویش (آٹم اینگزائٹی) کہلاتا ہے۔ ان کے مطابق تشویش کی دوسری اقسام کے برخلاف اس کا بظاہر کوئی خارجی سبب نہیں ہوتا، اور یہ ہر برس عود آتی ہے۔ ان کے مطابق عموماً لوگوں کو یہ احساس نہیں ہو پاتا کہ خزاں کے دنوں میں تشویش کتنی ہے، شاید آپ اسے شناخت نہ کر پائیں۔ البتہ ہر برس ہونے کی صورت میں یہ رجحان نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ موریسن کے مطابق خزاں میں تشویش کی مندرجہ ذیل علامات ہیں: ٭ بیزاری اور یاسیت۔ ٭ بہت زیادہ پریشانی۔ ٭ تنک مزاجی۔ ٭ بے دلی، بے خوابی اور تھکاوٹ۔ ٭ روزمرہ سرگرمیوں میں عدم دلچسپی۔ اس مسئلے کا ایک سبب سورج کی روشنی میں کمی ہے جس سے سیروٹونین کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ یہ اہم ہارمون مزاج، بھوک اور نیند کی باقاعدگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ نیز ہارمون میلاٹونین میں اضافہ ہوتا ہے جس سے غنودگی اور یاسیت کا احساس ہوتا ہے۔ جسم پر سورج کی کم روشنی پڑنے سے کم وٹامن ’’ڈی‘‘ بننابھی اثر ڈالتا ہے۔ دیگر عوامل میں موسم کے ساتھ ہمارے افعال میں ہونے والی تبدیلیاں شامل ہیں۔ موسم میں تبدیلی سے ہم باہر کم نکلنے لگتے ہیں اور کم ورزش کرتے ہیں۔ کوئی دوسرا سبب؟ ماہرنفسیات ڈاکٹر پٹریشیا تھورنٹن اس سے اتفاق کرتی ہیں کہ موسم میں تبدیلی مزاج میں تبدیلیاں لاتی ہیں اور تشویش کا سبب بنتی ہیں، البتہ ان کا خیال ہے کہ خزاں میں تشویش کوئی الگ خلل یا بیماری نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ہم عموماً موسمی اثرات کے خلل یا ایس اے ڈی کی بات کرتے ہیں۔ مذکورہ معاملے میں ہوتا یوں ہے کہ دن چھوٹے ہو جاتے ہیں اور راتیں بڑی، موسم سرد ہونے لگتا ہے۔ سال کے اس عرصے میں تعلیمی یا سماجی سطح پر کامیابی پانے کے لیے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ خزاں میں تشویش ایس اے ڈی میں مبتلا ہونے سے قبل کی حالت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق عبوری عرصے بھی تشویش کا سبب بن سکتے ہیں۔ ’’عبوری دور سے گزرنے والے یا جن کی زندگی کے حالات میں کسی قسم کی تبدیلی ہو رہی ہوتی ہے، تشویش کا شکار ہو سکتے ہیں، جیسا کہ چھٹیوں کے بعد سکول واپس جانا، کیونکہ اب انہیں نیند سے جلد اٹھنا پڑتا ہے۔ اس سے ممکن ہے ان کی نیند کم ہو جائے۔ یوں تشویش پیدا ہو سکتی ہے، بالخصوص نیند کی کمی تشویش پیدا کرتی ہے۔‘‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ او سی ڈی (اوبسیسو کمپلسیو ڈس آرڈر) اور تشویش کے خلل میں مبتلا ان کے بہت سے کلائنٹ سکول اور کام میں باقاعدگی آنے پر بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ تھورنٹن کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی کام نہ ہونے کی صورت میں او سی ڈی اور تشویش اچانک بڑھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی گرما میں بے کار رہا ہو تو وہ سکول جانے کے لیے بے تاب ہوتا ہے کیونکہ وہاں کسی بات پر توجہ مرکوز کرنے اور اپنے خیالات، پریشانیوں اور غوروفکر سے نکلنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ موسمِ خزاں میں منفی احساسات کو ’’سالانہ ردِ عمل‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پرسرد مہینوں کی آمد پر سورج کی روشنی کم ہو جاتی ہے اور (بالخصوص سرد علاقوں میں) سخت سردی یاد آنے لگتی ہے۔ یہ مظہر سالانہ دیکھنے میں آتا ہے۔ کبھی اس کا سبب کوئی صدمہ ہوتا ہے، جیسے اس موسم میں کسی کا انتقال ہوا ہو۔ کیا کیا جا سکتا ہے؟ خزاں میں تشویش کا سبب جو بھی ہو، موریسن اور تھورنٹن نجات کے 6 طریقے بتاتی ہیں۔ زیادہ روشنی: باہر زیادہ وقت نکلیں تاکہ زیادہ دیر سورج کی روشنی میں رہ سکیں۔ موریسن تجویز دیتی ہیں کہ صبح سویرے اٹھ کر سورج کی روشنی میں جائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جلد سونا تھکاوٹ اور دن میں غنودگی سے نپٹنے میں مدد گار ہوتا ہے۔ اس موسم میں بعض اوقات صبح سویرے اندھیرا چھایا ہوتا ہے، اس کے لیے روشن لیمپ کو نظروں کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔ روزانہ ورزش:موریسن کے خیال میں روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش کرنی چاہیے۔ خزاں میں موسم ایسا ہوتا ہے کہ باہر جا کر لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے، لہٰذا طویل چہل قدمی کریں یا سائیکل کی سواری۔ ان کا متبادل نیا کھیل شروع کرنا یا جِم جانا ہو سکتے ہیں۔ تھورنٹن بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں۔ غذا میں تبدیلی:موریسن کا ماننا ہے کہ غذا کے لحاظ سے خزاں شاندار وقت ہوتا ہے۔ تھورنٹن بھی اس سے متفق ہیں اور کہتی ہیں کہ آپ موسمی سوپ اور گرما گرم کھانوں سے لطف اٹھا کر گرما کی محرومیاں دور کر سکتے ہیں۔ کچھ نیا:خزاں ایک نئی ابتدا اور نیاموسم ہے، اس لیے موریسن کے خیال میں گھر اور باغیچے کی صفائی اور ترتیب نو کے بارے میں سوچیں، کوئی نیا شوق پالیں یا کچھ نیا سیکھنے کے لیے کلاسز لیں۔ نیا زاویہ:منفی تجربات سے منسلک ہونے کے بجائے اپنے خیالات کا زاویہ بدلیں۔ انسان نقصان پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے۔ اگر باہر سورج گھٹ رہا ہے تو گھر کے اندر کچھ کرنے کے بارے میں سوچیں۔ اپنے گھر کا ماحول آرام دہ کرنے کی کوشش کریں، گرم کمبلوں کو نکالیں یا خزاں کے رنگ اردگرد نمایاں کریں۔ پیشہ ورانہ معاونت: تشویش اور سینزنل ایفیکٹو ڈس آرڈر (ایس اے ڈی) کے علاج کے لیے کوگنیٹو بیہیورل تھراپی (سی بی ٹی) مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین ادویات بھی تجویز کرتے ہیں۔ اگر طبیعت زیادہ خراب ہو تو ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا) بشکریہ ’’ہیلتھ لائن‘‘
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
3,713
3,788
213
اینگزائٹی کا خارجی سبب کیوں نہیں؟ میری نظر میں پہلا تو موبائل فون کا کثرت سے استعمال ہے کئی بیماریوں کا موجب یہی ہے، دیگر مسائل پر انہوں نے خود کافی بحث کی ہے
عمدہ معلومات
شیئر کرنے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,431
7,464
1,313
Lahore,Pakistan
اینگزائٹی کا خارجی سبب کیوں نہیں؟ میری نظر میں پہلا تو موبائل فون کا کثرت سے استعمال ہے کئی بیماریوں کا موجب یہی ہے، دیگر مسائل پر انہوں نے خود کافی بحث کی ہے
عمدہ معلومات
شیئر کرنے کا شکریہ
اچھا جواب ہے لیکن مزید بحث کرنے کا کیا فائدہ اتنا ہی پڑھ لیں کافی ہے
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?