موسمیاتی تبدیلی: کون سی بیماریاں واپس آسکتی ہیں؟

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
موسمیاتی تبدیلی: کون سی بیماریاں واپس آسکتی ہیں؟
1564608205048.jpeg


اخذ و ترجمہ: رضوان عطا

اب موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کو ایک حقیقت مانا جانے لگا ہے۔ ان کے اثرات دنیا بھر میں نمودار ہو رہے ہیں۔ موسموں میں شدت آنے سے سمندروں کے پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ یہ عمل ان ممالک کو صفحۂ ہستی سے مٹا سکتا ہے جو جزائر پر مشتمل ہیں اور سطح سمندر سے زیادہ بلند نہیں جیسا کہ مالدیپ۔ عالمی حدت میں اضافہ کرنے والی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اب دنیا بھر کے ممالک بحث و مباحثہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان کوششوں کو ناکافی سمجھا جاتا ہے لیکن ان کا جاری رہنا اہم ہے کیونکہ عالمی حدت کرۂ ارض پر انسانی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جغرافیائی طور پر عالمی حدت کا سب سے بڑا اثر قطبین میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ عالمی شرح سے دگنی رفتار سے گرم ہو رہے ہیں۔ اسی لیے وہاں پر جمی ہوئی برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے۔ گرین لینڈ آئس شیلڈ بھی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ غالباً سب سے تشویش ناک تبدیلی زیر زمین ’’پرمافراسٹ‘‘ یا خاکِ منجمد میں ہو رہی ہے۔ یہ زمین کی ایک جمی ہوئی تہ ہے جو شمالی کرہ کے 25 فیصد سے زائد کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ 1980ء کی دہائی سے نرم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں موجود بہت عرصے سے چھپے مائیکروب، انفیکشن پیدا کرنے والے عامل، قدیم وائرس اور تخمک (Spores ) دھیرے دھیرے بیدار ہو رہے ہیں اور قریبی پانیوں، زمین اور خوراک کی فراہمی کے نظام میں شامل ہو رہے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ اس عمل سے کون سی بیماریاں واپس آ سکتی ہیں۔ اینتھریکس بیسویں صدی کے اوائل میں دس لاکھ سے زیادہ قطبی ہرن (رینڈیئر) ’’سربیائی طاعون‘‘ کا شکار ہوئے۔ مغربی دنیا میں اسے اینتھریکس کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف مشرقی سائبیریا میں قطبی ہرنوں کے تقریباً 285 ’’قبرستان‘‘ ہیں تاہم ان میں سے صرف 77 کے مقام کے بارے میں پوری آگاہی ہو پائی۔ بعض محققین کے مطابق قطبین کی مستقلاً جمی رہنے والی خاکِ منجمد بہت سے مائیکروبز اور وائرسز سے ہمیں بچائے ہوئے ہے۔ یہ اندھیری، سرد اور آکسیجن کے بغیر ہے۔ اس میں اینتھریکس سے لاتعداد متاثرہ قطبی ہرنوں کے جسم دفن ہیں اور اس مرض کے جراثیم سو برس سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ 2016ء میں تب یہ بیماری پھوٹ پڑی تھی جب 75 سالہ برفانی ہرن برف کے نرم ہونے سے نمودار ہوا اور پانی، زمین اور غذائی نظام کو اپنی بیماری سے متاثر کر گیا۔ مرض پھیلنے سے 300 سے زائد قطبی ہرن ہلاک ہو گئے جب کہ 72 گلہ بان بشمول 41 بچے ہسپتال میں داخل ہوئے۔ 12 برس کا ایک لڑکا ہلاک ہو گیا۔ سائنس دانوں کو ڈر ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ایسے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔ گلٹی دار طاعون خاکِ منجمد کے پگھلنے سے صرف اینتھریکس کا خطرہ نہیں بڑھا۔ 2011ء کی ایک تحقیق میں گلٹی دار طاعون (bubonic plague) کے ڈی این اے کی نشاندہی ہوئی۔ یہ وہ بیماری ہے جس نے عہد وسطیٰ میں تقریباً دو کروڑ انسانوں کی جان لی۔ اس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے یہ جراثیم پگھلتی سطحوں سے واپس آ جائیں گے، خاص طور پر ان علاقوں سے جہاں ان سے متاثر ہونے والے دفن ہیں۔ گلٹی دار طاعون کی وبائیں اب دنیا کے 35 ممالک میں کبھی کبھار پھیل جاتی ہیں۔ منگولیا میں طاعون سے ہر سال تقریباً ایک فرد ہلاک ہو جاتا ہے۔ 2016ء میں دس سالہ لڑکا اپنے دادا کے ساتھ سائبیریا کی الٹائی پہاڑیوں میں شکار کر رہا تھا۔ وہ گلٹی دار طاعون کا شکار ہو گیا۔ اس علاقے میں موجود 15 ہزار افراد کے لیے فوراً ویکسین روانہ کی گئی تاکہ اس وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اگرچہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ گلٹی دار طاعون اور موسمیاتی تبدیلی میں تعلق کے بارے میں پوری طرح آگاہ نہیں لیکن ایسے واقعات میں اضافہ عندیہ دیتا ہے کہ زمین اور پانی میں جراثیم کی موجودگی مسئلے کا سبب ہے اور یہ اضافہ منجمد علاقوں کے پگھلنے سے ہوا ہے۔ مثلاً جب ان علاقوں میں چوہے بل کھودتے ہیں تو انہیں جراثیم چپک جاتے ہیں اور وہ انہیں دور تک لے جاتے ہیں۔ ہسپانوی فلو ہسپانوی فلو نے 1917ء اور 1918ء میں پانچ کروڑ افراد کو مار ڈالا۔ اس نے دنیا کی آبادی کو خاصا کم کر دیا۔ اس وائرس کے نمونے لینے کے لیے سان فرانسسکو کا ایک سائنس دان جوہان ہلٹن 1997ء میں الاسکا گیا اور ہسپانوی فلو کے شکار افراد کے قبرستان میں کھدائی کر کے نمونے لے آیا۔ ڈاکٹر جیفرے ٹاؤبن برگر کی مدد سے اس نے وائرس کے سارے ڈی این اے کو ڈی کوڈ کیا اور اس کی مدد سے وائرس کی دوبارہ نشوونما کی۔ اس تجربے سے معلوم ہوا کہ اس وائرس سے متاثرہ اجسام میں وائرس دراصل ایک طرح کی خوابیدہ حالت میں ہے اور طویل عرصہ ایسی حالت ہی میں رہتا ہے۔ اسے ’’جگایا‘‘ جا سکتا ہے۔ بعض سائنس دانوں کے مطابق اگر زیادہ نہیں تو ہسپانوی فلو سے ہم اتنے ضرور متاثر ہو سکتے ہیں جتنے پہلے ہوئے تھے۔ دنیا کی آبادی اب بہت بڑھ چکی ہے اور شہر زیادہ گنجان آباد ہیں۔ ایسا وائرس جو اپنے جینز میں تبدیلی لا سکتا ہے اور ’’میوٹیٹ‘‘ کر سکتا ہے، وبائی صورت اختیار کرنے کے قابل ہے۔ یہ خطرہ موجود ہے کہ اس سے قلیل مدت میں 20 سے 40 کروڑ افراد ہلاک ہو جائیں۔ چیچک 1890ء کی دہائی میں سائبیریا میں چیچک کی وبا بڑے پیمانے پر پھیلی۔ متاثرہ افراد کی سیکڑوں لاشوں کو خاکِ منجمد کے اوپر دفن کیا گیا جو کولیما دریا کے پاس ہے۔ سو برس سے زائد عرصہ سے دریا کا پانی اس منجمد زمین کو پگھلا اور ہٹا رہا ہے۔ اب دفن ہونے والے ڈھانچے نمودار ہونے لگے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر محققین کی ایک ٹیم نے سترہویں صدی کے ایک متاثرہ بچے کے جسم سے ڈی این اے حاصل کیا اور تصدیق کی کہ چیچک کا خاتمہ زمین کے اوپر ہوا ہے، زمین کے نیچے نہیں۔ 1980ء میں جب اس بیماری سے آخری فرد ہلاک ہوا، چند ماہ بعد عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ چیچک کے وائرس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ آج چیچک کے وائرس ’’سرکاری سطح‘‘ پر دو مقامات پر موجود ہیں۔ ایک یو ایس سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن (سی ڈی سی) ہے جو اٹلانٹا، امریکا میں ہے۔ دوسرا ویکٹر ہے جو روس میں نووسی بیرسک کے مقام پر ہے۔ اس کے باوجود 2014ء میں انہیں میری لینڈ کے ایک مقامات پر زندہ حالت میں پایا گیا جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ محفوظ مقامات سے یہ نکل گیا ہے۔ یہ وائرس حیاتیاتی دہشت گردی کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے، اس لیے یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے گزشتہ برس اس کے علاج کی دوا کی منظور دی۔ اس دوا کا تجربہ انسانوں پر نہیں کیا گیا تاہم متاثرہ جانوروں میں اس کی کامیابی کی شرح 90 فیصد رہی۔ جذام اور ٹی بی جذام اور ٹی بی (ٹیوبرکلوسس) پہلی صدی عیسوی میں بہت عام تھے۔ اگرچہ یہ دونوں بیماریاں آج بھی ختم نہیں ہوئیں، لیکن بہت کم ضرور ہو گئی ہیں۔ ان پر تحقیق اور تدارک کی مہمات میں کمی کے نتیجے میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا سے ان کا خاتمہ دور ہے۔ ٹی بی اور جذام کا سبب مائیکو بیکٹیریا ہوتے ہیں، جو بہت سخت جان اور آہستہ سے نمو پاتے ہیں۔ یہ ہر طرح کے ماحول میں رہ لیتے ہیں۔ ان کے ڈی این اے عہدوسطیٰ کے یورپی قبرستانوں سے ملتے ہیں۔ تاہم حال ہی میں ٹی بی کے مائیکو بیکٹیریا ایک ارنا بھینسا کے جسم سے ملے ہیں۔ یہ زیرزمین منجمد سطح میں 17 ہزار برسوں سے موجود تھا۔ ایسے متاثرہ جسم و خلیے اپنے مقام پر رہتے ہیں، اس لیے یہ دنیا کی آبادی اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔ مرکری عالمی ادارہ صحت مرکری (پارہ) کو دنیا کے دس خطرناک ترین کیمیکلز میں شمار کرتا ہے۔ مرکری کی قربت صحت کے بہت سے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ قابل ذکر زہریلے اثرات جلد، خون، آنکھوں، پھیپھڑوں، نظام انہضام اور اعصابی و مدافعتی نظام پر پڑتے ہیں۔ مرکری قدرتی طور پر خام معدنیات اور فاسل فیول میں پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں مچھلی اور شیل فش اور اس کے قدرتی شکاریوں میں اس کی مقدار خطرناک حد تک پائی گئی ہے۔ اس کی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ آج دس فیصد امریکیوں میں مرکری کی سطح نارمل سے زیادہ ہے۔ آج کل ماحول دوست ذرائع توانائی کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ صنعت مضر اجزا کے اخراج کا ذریعہ ہے۔ دوسری جانب سائنس دانوں نے کچھ ہی عرصہ قبل معلوم کیا ہے کہ خاکِ منجمد میں مرکری کی مقدار اس سے دس گنا زیادہ ہے جتنی ہم نے گزشتہ تین دہائیوں میں باہر چھوڑ چکے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ گیلن ایسی ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے باہر آ سکتی ہے اور اس سے ماحول پر بہت برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو انسان ساحلوں سمیت بہت سے مقامات پر جانے اور تفریح کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ بوٹولزم بوٹولزم کبھی کبھار سامنے آنے والی بیماری ہے۔ یہ بوٹولینم زہروں سے ہوتی ہے جو انسانوں کے لیے مہلک ترین چیزوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ زہر اعضا کو مفلوج کرتے ہیں اور بولنے اور نگلنے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ اس کے بعد پورا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ علاج کے باوجود اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاتی کہ مریض بچ جائے گا۔ بیماری میں ہلاکتوں کی شرح 50 فیصد ہے۔ اینتھریکس بیکٹیریا کی طرح بوٹولینم بھی ایک صدی سے زیادہ عرصہ زیرزمین منجمد سطح میں رہ سکتے ہیں۔ اس لیے ان کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ یہ زمین، دھول اور تازہ پانی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں مبتلا مردہ جسموں کو مختلف جاندار کھا سکتے ہیں جن میں پانی کے جاندار شامل ہیں، یہ تازہ پانی کے نظام حیات میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان علاقوں میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں پہلے نہیں پہنچے تھے۔ 1998ء میں جھیل اری میں ہر سال بوٹولزم پھیلتا ہے اور اب دوسری جھیلوں میں بھی عام ہونے لگا ہے۔ قدیم بیکٹیریا امریکی خلائی ادارے ناسا میں نہ صرف انجینئروں اور خلابازوں کو بھرتی کیا جاتا ہے بلکہ ایسٹرو بیالوجسٹس بھی شامل کیے جاتے ہیں جو مریخ پر زندگی کی موجودگی اور یخ بستہ حالت میں خلا میں جانداروں کو رکھنے کے تجربات کرتے ہیں۔ انہوں نے خاکِ منجمد پر ہونے والی ایک تحقیق میں ’’سائیکروفائلز‘‘ کو شامل کیا۔ یہ اجسام بہت کم درجہ حرارت پر پائے جاتے ہیں۔ ناسا کے ایسٹروبیالوجسٹ ڈاکٹر رچرڈ ہوور نے دریافت کیا کہ یہ بیکٹیریا 32 ہزار برسوں سے بھی منجمد ہیں۔ انہیں اس حالت سے نکالنے کے بعد ان میں حیات دوبارہ دوڑنے لگی۔ ایسا لگا جیسے یہ کبھی جامد ہوئے ہی نہ تھے۔ ناسا نے اعلان کیا کہ اس نے زندگی کی ایک نئی قسم دریافت کر لی ہے۔ دو برس قبل سائنس دانوں نے میکسیکو کی ایک کان میں یہ بیکٹیریا دریافت کیے جو بہت زیادہ قدیم تھے۔ وہ پانی کے قید ہونے والے ٹکڑوں میں رہ گئے تھے۔ ٹیسٹ کرنے پر سائنس دان حیران رہ گئے۔ ان میں 18 قسموں کی اینٹی بائیوٹکس کی مزاحمت کی استعداد تھی۔ نیز وہ اپنے نصف فیصد حصے کو خوابیدہ کر سکتے ہیں۔ جسیم وائرس 2013 اور 2014ء میں سائبیریا کی زیرزمین منجمد سطح پر دو جسیم وائرس دریافت کیے گئے۔ یہ پیتھووائرس سبریکم اور مولی وائرس سبریکم تھے۔ یہ وائرس اتنے بڑے ہیں کہ عام خوردبین سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ فوراً انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد سائبیریا کے رہنے والوں کو پریشانی ہوئی کہ قدیم باشندوں میں پایا جانے والا وائرس، جو منجمد حالت میں تھا، دوبارہ سرگرم ہو سکتا ہے۔ نامعلوم قدیم بیماریاں خوف صرف ان بیماریوں اور جرثوموں کے بارے میں نہیں جنہیں ہم جانتے ہیں۔ نیڈرتھل اور ڈینی سووانز موجودہ انسانوں سے ملتی جلتی انواع تھیں۔ ان کی آبادی سائبیریا میں بھی تھی اور ان میں بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ ان کے جسم وہیں دفن ہیں۔ اگر برف پگھلتی ہے تو وہ بیماریاں جن کے بارے میں ہم جانتے نہیں پھیل سکتی ہیں۔ ان بیماریوں سے ہمارا مدافعتی نظام ناواقف ہے۔
 

Seemab_khan

ღ ƮɨƮŁɨɨɨ ღ
Moderator
Dec 7, 2012
7,597
5,431
1,113
✮hმΓἶρυΓ, ρმκἶჰནმῆ✮
موسمیاتی تبدیلی: کون سی بیماریاں واپس آسکتی ہیں؟
View attachment 114892

اخذ و ترجمہ: رضوان عطا

اب موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کو ایک حقیقت مانا جانے لگا ہے۔ ان کے اثرات دنیا بھر میں نمودار ہو رہے ہیں۔ موسموں میں شدت آنے سے سمندروں کے پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ یہ عمل ان ممالک کو صفحۂ ہستی سے مٹا سکتا ہے جو جزائر پر مشتمل ہیں اور سطح سمندر سے زیادہ بلند نہیں جیسا کہ مالدیپ۔ عالمی حدت میں اضافہ کرنے والی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اب دنیا بھر کے ممالک بحث و مباحثہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان کوششوں کو ناکافی سمجھا جاتا ہے لیکن ان کا جاری رہنا اہم ہے کیونکہ عالمی حدت کرۂ ارض پر انسانی زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جغرافیائی طور پر عالمی حدت کا سب سے بڑا اثر قطبین میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ عالمی شرح سے دگنی رفتار سے گرم ہو رہے ہیں۔ اسی لیے وہاں پر جمی ہوئی برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے۔ گرین لینڈ آئس شیلڈ بھی غیر مستحکم ہو چکی ہے۔ غالباً سب سے تشویش ناک تبدیلی زیر زمین ’’پرمافراسٹ‘‘ یا خاکِ منجمد میں ہو رہی ہے۔ یہ زمین کی ایک جمی ہوئی تہ ہے جو شمالی کرہ کے 25 فیصد سے زائد کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہ 1980ء کی دہائی سے نرم ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں موجود بہت عرصے سے چھپے مائیکروب، انفیکشن پیدا کرنے والے عامل، قدیم وائرس اور تخمک (Spores ) دھیرے دھیرے بیدار ہو رہے ہیں اور قریبی پانیوں، زمین اور خوراک کی فراہمی کے نظام میں شامل ہو رہے ہیں۔ آئیے دیکھیں کہ اس عمل سے کون سی بیماریاں واپس آ سکتی ہیں۔ اینتھریکس بیسویں صدی کے اوائل میں دس لاکھ سے زیادہ قطبی ہرن (رینڈیئر) ’’سربیائی طاعون‘‘ کا شکار ہوئے۔ مغربی دنیا میں اسے اینتھریکس کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف مشرقی سائبیریا میں قطبی ہرنوں کے تقریباً 285 ’’قبرستان‘‘ ہیں تاہم ان میں سے صرف 77 کے مقام کے بارے میں پوری آگاہی ہو پائی۔ بعض محققین کے مطابق قطبین کی مستقلاً جمی رہنے والی خاکِ منجمد بہت سے مائیکروبز اور وائرسز سے ہمیں بچائے ہوئے ہے۔ یہ اندھیری، سرد اور آکسیجن کے بغیر ہے۔ اس میں اینتھریکس سے لاتعداد متاثرہ قطبی ہرنوں کے جسم دفن ہیں اور اس مرض کے جراثیم سو برس سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ 2016ء میں تب یہ بیماری پھوٹ پڑی تھی جب 75 سالہ برفانی ہرن برف کے نرم ہونے سے نمودار ہوا اور پانی، زمین اور غذائی نظام کو اپنی بیماری سے متاثر کر گیا۔ مرض پھیلنے سے 300 سے زائد قطبی ہرن ہلاک ہو گئے جب کہ 72 گلہ بان بشمول 41 بچے ہسپتال میں داخل ہوئے۔ 12 برس کا ایک لڑکا ہلاک ہو گیا۔ سائنس دانوں کو ڈر ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ایسے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔ گلٹی دار طاعون خاکِ منجمد کے پگھلنے سے صرف اینتھریکس کا خطرہ نہیں بڑھا۔ 2011ء کی ایک تحقیق میں گلٹی دار طاعون (bubonic plague) کے ڈی این اے کی نشاندہی ہوئی۔ یہ وہ بیماری ہے جس نے عہد وسطیٰ میں تقریباً دو کروڑ انسانوں کی جان لی۔ اس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے یہ جراثیم پگھلتی سطحوں سے واپس آ جائیں گے، خاص طور پر ان علاقوں سے جہاں ان سے متاثر ہونے والے دفن ہیں۔ گلٹی دار طاعون کی وبائیں اب دنیا کے 35 ممالک میں کبھی کبھار پھیل جاتی ہیں۔ منگولیا میں طاعون سے ہر سال تقریباً ایک فرد ہلاک ہو جاتا ہے۔ 2016ء میں دس سالہ لڑکا اپنے دادا کے ساتھ سائبیریا کی الٹائی پہاڑیوں میں شکار کر رہا تھا۔ وہ گلٹی دار طاعون کا شکار ہو گیا۔ اس علاقے میں موجود 15 ہزار افراد کے لیے فوراً ویکسین روانہ کی گئی تاکہ اس وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اگرچہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ گلٹی دار طاعون اور موسمیاتی تبدیلی میں تعلق کے بارے میں پوری طرح آگاہ نہیں لیکن ایسے واقعات میں اضافہ عندیہ دیتا ہے کہ زمین اور پانی میں جراثیم کی موجودگی مسئلے کا سبب ہے اور یہ اضافہ منجمد علاقوں کے پگھلنے سے ہوا ہے۔ مثلاً جب ان علاقوں میں چوہے بل کھودتے ہیں تو انہیں جراثیم چپک جاتے ہیں اور وہ انہیں دور تک لے جاتے ہیں۔ ہسپانوی فلو ہسپانوی فلو نے 1917ء اور 1918ء میں پانچ کروڑ افراد کو مار ڈالا۔ اس نے دنیا کی آبادی کو خاصا کم کر دیا۔ اس وائرس کے نمونے لینے کے لیے سان فرانسسکو کا ایک سائنس دان جوہان ہلٹن 1997ء میں الاسکا گیا اور ہسپانوی فلو کے شکار افراد کے قبرستان میں کھدائی کر کے نمونے لے آیا۔ ڈاکٹر جیفرے ٹاؤبن برگر کی مدد سے اس نے وائرس کے سارے ڈی این اے کو ڈی کوڈ کیا اور اس کی مدد سے وائرس کی دوبارہ نشوونما کی۔ اس تجربے سے معلوم ہوا کہ اس وائرس سے متاثرہ اجسام میں وائرس دراصل ایک طرح کی خوابیدہ حالت میں ہے اور طویل عرصہ ایسی حالت ہی میں رہتا ہے۔ اسے ’’جگایا‘‘ جا سکتا ہے۔ بعض سائنس دانوں کے مطابق اگر زیادہ نہیں تو ہسپانوی فلو سے ہم اتنے ضرور متاثر ہو سکتے ہیں جتنے پہلے ہوئے تھے۔ دنیا کی آبادی اب بہت بڑھ چکی ہے اور شہر زیادہ گنجان آباد ہیں۔ ایسا وائرس جو اپنے جینز میں تبدیلی لا سکتا ہے اور ’’میوٹیٹ‘‘ کر سکتا ہے، وبائی صورت اختیار کرنے کے قابل ہے۔ یہ خطرہ موجود ہے کہ اس سے قلیل مدت میں 20 سے 40 کروڑ افراد ہلاک ہو جائیں۔ چیچک 1890ء کی دہائی میں سائبیریا میں چیچک کی وبا بڑے پیمانے پر پھیلی۔ متاثرہ افراد کی سیکڑوں لاشوں کو خاکِ منجمد کے اوپر دفن کیا گیا جو کولیما دریا کے پاس ہے۔ سو برس سے زائد عرصہ سے دریا کا پانی اس منجمد زمین کو پگھلا اور ہٹا رہا ہے۔ اب دفن ہونے والے ڈھانچے نمودار ہونے لگے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر محققین کی ایک ٹیم نے سترہویں صدی کے ایک متاثرہ بچے کے جسم سے ڈی این اے حاصل کیا اور تصدیق کی کہ چیچک کا خاتمہ زمین کے اوپر ہوا ہے، زمین کے نیچے نہیں۔ 1980ء میں جب اس بیماری سے آخری فرد ہلاک ہوا، چند ماہ بعد عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا کہ چیچک کے وائرس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ آج چیچک کے وائرس ’’سرکاری سطح‘‘ پر دو مقامات پر موجود ہیں۔ ایک یو ایس سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن (سی ڈی سی) ہے جو اٹلانٹا، امریکا میں ہے۔ دوسرا ویکٹر ہے جو روس میں نووسی بیرسک کے مقام پر ہے۔ اس کے باوجود 2014ء میں انہیں میری لینڈ کے ایک مقامات پر زندہ حالت میں پایا گیا جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جانے لگا کہ محفوظ مقامات سے یہ نکل گیا ہے۔ یہ وائرس حیاتیاتی دہشت گردی کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے، اس لیے یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے گزشتہ برس اس کے علاج کی دوا کی منظور دی۔ اس دوا کا تجربہ انسانوں پر نہیں کیا گیا تاہم متاثرہ جانوروں میں اس کی کامیابی کی شرح 90 فیصد رہی۔ جذام اور ٹی بی جذام اور ٹی بی (ٹیوبرکلوسس) پہلی صدی عیسوی میں بہت عام تھے۔ اگرچہ یہ دونوں بیماریاں آج بھی ختم نہیں ہوئیں، لیکن بہت کم ضرور ہو گئی ہیں۔ ان پر تحقیق اور تدارک کی مہمات میں کمی کے نتیجے میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اب عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا سے ان کا خاتمہ دور ہے۔ ٹی بی اور جذام کا سبب مائیکو بیکٹیریا ہوتے ہیں، جو بہت سخت جان اور آہستہ سے نمو پاتے ہیں۔ یہ ہر طرح کے ماحول میں رہ لیتے ہیں۔ ان کے ڈی این اے عہدوسطیٰ کے یورپی قبرستانوں سے ملتے ہیں۔ تاہم حال ہی میں ٹی بی کے مائیکو بیکٹیریا ایک ارنا بھینسا کے جسم سے ملے ہیں۔ یہ زیرزمین منجمد سطح میں 17 ہزار برسوں سے موجود تھا۔ ایسے متاثرہ جسم و خلیے اپنے مقام پر رہتے ہیں، اس لیے یہ دنیا کی آبادی اور معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔ مرکری عالمی ادارہ صحت مرکری (پارہ) کو دنیا کے دس خطرناک ترین کیمیکلز میں شمار کرتا ہے۔ مرکری کی قربت صحت کے بہت سے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ قابل ذکر زہریلے اثرات جلد، خون، آنکھوں، پھیپھڑوں، نظام انہضام اور اعصابی و مدافعتی نظام پر پڑتے ہیں۔ مرکری قدرتی طور پر خام معدنیات اور فاسل فیول میں پائی جاتی ہے۔ حال ہی میں مچھلی اور شیل فش اور اس کے قدرتی شکاریوں میں اس کی مقدار خطرناک حد تک پائی گئی ہے۔ اس کی وجہ انسانی سرگرمیاں ہیں۔ آج دس فیصد امریکیوں میں مرکری کی سطح نارمل سے زیادہ ہے۔ آج کل ماحول دوست ذرائع توانائی کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ صنعت مضر اجزا کے اخراج کا ذریعہ ہے۔ دوسری جانب سائنس دانوں نے کچھ ہی عرصہ قبل معلوم کیا ہے کہ خاکِ منجمد میں مرکری کی مقدار اس سے دس گنا زیادہ ہے جتنی ہم نے گزشتہ تین دہائیوں میں باہر چھوڑ چکے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ گیلن ایسی ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے باہر آ سکتی ہے اور اس سے ماحول پر بہت برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو انسان ساحلوں سمیت بہت سے مقامات پر جانے اور تفریح کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ بوٹولزم بوٹولزم کبھی کبھار سامنے آنے والی بیماری ہے۔ یہ بوٹولینم زہروں سے ہوتی ہے جو انسانوں کے لیے مہلک ترین چیزوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ زہر اعضا کو مفلوج کرتے ہیں اور بولنے اور نگلنے میں دشواری ہونے لگتی ہے۔ اس کے بعد پورا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ علاج کے باوجود اس بات کی گارنٹی نہیں دی جاتی کہ مریض بچ جائے گا۔ بیماری میں ہلاکتوں کی شرح 50 فیصد ہے۔ اینتھریکس بیکٹیریا کی طرح بوٹولینم بھی ایک صدی سے زیادہ عرصہ زیرزمین منجمد سطح میں رہ سکتے ہیں۔ اس لیے ان کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ یہ زمین، دھول اور تازہ پانی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان میں مبتلا مردہ جسموں کو مختلف جاندار کھا سکتے ہیں جن میں پانی کے جاندار شامل ہیں، یہ تازہ پانی کے نظام حیات میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان علاقوں میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں پہلے نہیں پہنچے تھے۔ 1998ء میں جھیل اری میں ہر سال بوٹولزم پھیلتا ہے اور اب دوسری جھیلوں میں بھی عام ہونے لگا ہے۔ قدیم بیکٹیریا امریکی خلائی ادارے ناسا میں نہ صرف انجینئروں اور خلابازوں کو بھرتی کیا جاتا ہے بلکہ ایسٹرو بیالوجسٹس بھی شامل کیے جاتے ہیں جو مریخ پر زندگی کی موجودگی اور یخ بستہ حالت میں خلا میں جانداروں کو رکھنے کے تجربات کرتے ہیں۔ انہوں نے خاکِ منجمد پر ہونے والی ایک تحقیق میں ’’سائیکروفائلز‘‘ کو شامل کیا۔ یہ اجسام بہت کم درجہ حرارت پر پائے جاتے ہیں۔ ناسا کے ایسٹروبیالوجسٹ ڈاکٹر رچرڈ ہوور نے دریافت کیا کہ یہ بیکٹیریا 32 ہزار برسوں سے بھی منجمد ہیں۔ انہیں اس حالت سے نکالنے کے بعد ان میں حیات دوبارہ دوڑنے لگی۔ ایسا لگا جیسے یہ کبھی جامد ہوئے ہی نہ تھے۔ ناسا نے اعلان کیا کہ اس نے زندگی کی ایک نئی قسم دریافت کر لی ہے۔ دو برس قبل سائنس دانوں نے میکسیکو کی ایک کان میں یہ بیکٹیریا دریافت کیے جو بہت زیادہ قدیم تھے۔ وہ پانی کے قید ہونے والے ٹکڑوں میں رہ گئے تھے۔ ٹیسٹ کرنے پر سائنس دان حیران رہ گئے۔ ان میں 18 قسموں کی اینٹی بائیوٹکس کی مزاحمت کی استعداد تھی۔ نیز وہ اپنے نصف فیصد حصے کو خوابیدہ کر سکتے ہیں۔ جسیم وائرس 2013 اور 2014ء میں سائبیریا کی زیرزمین منجمد سطح پر دو جسیم وائرس دریافت کیے گئے۔ یہ پیتھووائرس سبریکم اور مولی وائرس سبریکم تھے۔ یہ وائرس اتنے بڑے ہیں کہ عام خوردبین سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ فوراً انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔ اس کے بعد سائبیریا کے رہنے والوں کو پریشانی ہوئی کہ قدیم باشندوں میں پایا جانے والا وائرس، جو منجمد حالت میں تھا، دوبارہ سرگرم ہو سکتا ہے۔ نامعلوم قدیم بیماریاں خوف صرف ان بیماریوں اور جرثوموں کے بارے میں نہیں جنہیں ہم جانتے ہیں۔ نیڈرتھل اور ڈینی سووانز موجودہ انسانوں سے ملتی جلتی انواع تھیں۔ ان کی آبادی سائبیریا میں بھی تھی اور ان میں بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ ان کے جسم وہیں دفن ہیں۔ اگر برف پگھلتی ہے تو وہ بیماریاں جن کے بارے میں ہم جانتے نہیں پھیل سکتی ہیں۔ ان بیماریوں سے ہمارا مدافعتی نظام ناواقف ہے۔
bgher beemari k mosam tabdeel nhi hu sktaa??
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?