موسم برسات کی بیماریاں اور اُن کا علاج ۔تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,374
10,718
1,313
Lahore,Pakistan
موسم برسات کی بیماریاں اور اُن کا علاج ۔
تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ
موسم برسات میں بارشوں اور سیلاب کے بعد مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنے کا زبردست اندیشہ ہوتا ہے جو وبائی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ ان بیماریوں پر قابو پانے کے لیے عمومی نوعیت کی آسان اور حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔


بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں:-1 پانی سے پھیلنے والی بیماریاں، -2 ملیریا، -3 آنکھوں کی بیماریاں ، -4 جلدی بیماریا

پانی سے پھیلنے والی بیماریاں

گندے پانی میں مختلف بیماریوں کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔ جراثیم والا پانی پینے یا استعمال کرنے سے زیادہ تر معدے اور آنتوں کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ مثلاً ہیضہ، میعادی بخار، پیچش، ڈائریا (اسہال) بد ہضمی، پیٹ کے کیڑے وغیرہ۔ان بیماریوں سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔

۔-1 پینے کے لیے صاف پانی استعمال کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو وبا کے دنوں میں پانی کو ابال کر پینے اور کھانا پکانے کے لیے استعمال کریں۔

۔-2گلے سڑے پھل اور کچی سبزیاں کھانے سے پرہیز کریں۔ پھل اور سبزیاں اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔
۔-3کھانے پینے کی اشیاء کو مکھیوں سے بچانے کے لیے اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں۔ کیونکہ مکھیاں مختلف بیماریوں کے جراثیم ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
۔-4کھانا پکانے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح صابن اور صاف پانی سے دھوئیں۔ گندے ہاتھ بیماری کا باعث بنتے ہیں۔
۔-5ڈائریا ہونے کی صورت میں بچوں کو نمکول پلائیں اور دوسری غذا بھی جاری رکھیں۔ نمکول بڑوں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔
۔-6 وبا کے دنوں میں سب کو بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگوانے چاہئیں۔

ملیریا کا علاج

ملیریا بخار ایک جراثیم کے ذریعے ہوتا ہے جو مچھر کے کاٹنے سے صحت مند آدمی کے خون میں داخل ہو کر بیماری کا باعث بنتا ہے۔ بارشوں اور سیلاب کے بعد گندا پانی جوہڑوں اور تالابوں کی شکل میں جمع ہو جاتا ہے۔ ایسی جگہوں میں مچھر آسانی سے پھلتا پھولتا ہے۔ یہی مچھر انسان کو سوتے یا جاگتے میں کاٹ کر ملیریا بخار کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لئے اپنے گردو نواح میں گندے پانی کے جوہڑوں اور تالابوں وغیرہ کو چونا یا مٹی ڈال کر بند کر دیں تاکہ ان جگہوں میں مچھر پرورش نہ پا سکیں۔ رات سوتے وقت مچھر سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں اگر ہو سکے تو مچھر دانی کا استعمال کریں۔ اپنے گھروں میں مچھر مار دوائی کا سپرے کروائیں۔ملیریا بخار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق دوائیوں کا استعمال کریں۔ دوا کا پورا کورس کریں تاکہ جسم سے ملیریا کے جراثیم کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔

آنکھوں کی بیماریاں اور علاج

بارشوں اور سیلاب کے باعث فضا میں نمی اور دھوپ سے پیدا ہونے والے حبس کی وجہ سے آنکھوں کے امراض میں اضافہ کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔ آنکھوں کے دکھنے سے لے کر آنکھوں کا السر ہونے کا بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ آنکھوں کی سوجن، جلن اور ان سے پانی بہنے کی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ ان سب سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔بچوں کو بارش اور جوہڑوں اور تالابوں کے گندے پانی میں نہانے سے سختی کے ساتھ منع کیا جائے۔ آنکھوں کو دن میں کئی مرتبہ صاف پانی سے دھونا چاہیے۔آنکھوں کی تکلیف بڑھنے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

جلدی بیماریاں اور علاج

سیلاب اور بارش زدہ علاقوں میں پھوڑے پھنسیاں اور خارش کے امراض پھیلنے کا زبردست اندیشہ ہے۔
جلدی بیماریوں سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر پر عمل کریں۔ ہر عمر کے لوگ جسم کی صفائی کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ چھوٹے بچوں کو صاف ستھرا رکھا جائے اور صاف پانی سے نہلایا جائے۔ خارش کی بیماری ہونے کی صورت میں گھر میں دوسرے صحت مند افراد کی اشیاء استعمال نہ کی جائیں۔اگر گھر میں کسی ایک فرد کو خارش ہو جائے تو خارش دور کرنے والی دوا گھر کے تمام افراد کو استعمال کرنا چاہیے۔ جسم پر خارش ہونے کی صورت میں خارش کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ خارش سے بننے والے زخموں میں جراثیم منتقل ہو کر پھوڑوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

موسم برسات میں گرمی کی شدت اور بچائو

جولائی اور اگست کے مہینوں میں گرمی کی شدت اور سورج کی تمازت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اتنی گرمی پڑتی ہے کہ ہر کوئی الامان والحفیظ چلا اٹھتا ہے۔ گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہو جاتا ہے۔ قدرت نے جسم کو اس طریقہ سے بنایا ہے کہ جب بہت زیادہ گرمی ہو جائے تو انسانی جلد ایک ایئر کنڈیشنڈ کا کام کرتی ہے اور پسینہ آنے سے آدمی کو کچھ نہ کچھ سکون اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔ بہت زیادہ گرمی اور دھوپ کی شدت میں باہر نکلنے سے سن سٹروک یا ہیٹ سٹروک ہو سکتا ہے جس کا اگر فوری علاج نہ کیا جائے تو موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ سن سٹروک میں بہت زیادہ گرمی کی وجہ سے بندہ دھوپ لگنے سے بالکل ادھ موا ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں پسینہ بالکل نہیں آتا۔ درجہ حرارت 106 ڈگری فارن ہائیٹ تک ہو جاتا ہے، جلد بالکل خشک ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں مریض کو فوری طور پر کسی ٹھنڈی جگہ لے جا کر ٹھنڈی پٹیوں کے ساتھ بازو اور ٹانگوں پر مساج بھی کرنا چاہیے اور مریض کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانا چاہیے۔ سن سٹروک کے علاوہ زیادہ گرمی میں بہت زیادہ پسینہ آنے سے جسم میں پانی اور نمک کی شدید کمی ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں پیٹ اور ٹانگوں میں شدید درد ہوتا ہے اور بہت کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اگر جسم سے پسینہ اور نمکیات بہت زیادہ خارج ہو جائیں تو پھر بندہ اس حالت میں بالکل ادھ موا ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں بھی فوری میڈیکل ایڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں فوری طور پر ڈرپ کے ذریعے پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کیا جاتا ہے۔

گرمی سے بچائو

گرمی کی شدت میں دھوپ لگنے اور سن سڑوک کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کریں:
۔-1زیادہ گرمی میں بلا ضرورت عموماً اور دن کے وقت خصوصاً باہر نہ نکلیں۔
۔-2باہر نکلتے وقت سر پہ کوئی کپڑا یا تولیہ ضرور رکھیں۔ وقتاً فوقتاً کپڑے کو گیلا کر کے سر پہ رکھیں۔

۔-3باہر جانے سے پہلے اور گھر آتے وقت پانی اور نمکیات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

۔-4گرمی کے دنوں میں کولڈ مشروبات پیاس بجھانے میں کوئی خاص مدد نہیں کرتے۔ گھر میں بنائے گئے دیسی مشروبات مثلاً لسی، ستو، شربتِ تخم ملنگاں، گوند کتیرا کا شربت اور دوسرے سستے گھریلو مشروبات مثلاً فالسہ کے شربت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

۔-5گرمی کے دنوں میں پانی اور پینے والی دوسری چیزوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ ان دنوں میں زیادہ ثقیل غذائوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

۔-6گرمی کے دنوں میں ڈائریا کا مرض بہت عام ہوتا ہے۔ جب دن میں دو یا تین سے زیادہ پتلے پاخانے آئیں تو اسے اسہال یا ڈائریاکہتے ہیں۔ ہر سال بہت سے بچے ڈائریا کے نتیجے میں جسم میں پانی اور نمکیاں کے ساتھ ساتھ غذائیت کی کمی سے مر جاتے ہیں۔

اچانک ہونے والا ڈائریا تو چند دنوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ڈائریا روکنے والی مختلف دواؤں اور اینٹی بائیوٹکس لینے کا بالکل کوئی فائدہ نہیں۔ تحقیق سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈائریا میں دواؤں کا استعمال بالکل غیر ضروری ہے۔ بلکہ ڈائریا روکنے والی ایک مشہور دوائی سے کئی بچوں کی اموات بھی واقع ہوئیں۔ اس صورت میں دوائیں استعمال کرنے سے پیسے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ مریض کو نقصان پہنچنے کا بھی امکان ہے۔ اس کے علاوہ اگر کسی انفیکشن کی وجہ سے ڈائریا ہو تو پھر اس انفیکشن کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اچانک ہونے والے ڈائریا کے زیادہ تر مریضوں کو کافی مقدار میں جوس، نمکول ، پانی اور سوپ وغیرہ دینا فائدہ مند ہے۔ صرف چند مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو پانی اور نمکیات کی شدت کی کمی اور نہ رُکنے والی بہت زیادہ قے آنے کی صورت میں ہسپتال داخل کرانے کی ضرورت ہوتی ہے، جہاں ان کے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو ڈرپ کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ جب آپ کے بچے کو ڈائریا ہو جائے تو اسے پینے والی چیزیں زیادہ دیں۔ دودھ پلانا جاری رکھیں اور اسے ابلا ہوا پانی، نمکول اور ہلکی غذا دیں۔ ڈائریا کے ذریعہ جو پانی خارج ہو رہا ہے اس سے زیادہ بچے کو منہ کے ذریعے دینا چاہیے۔ اگر پانی اور نمکیات کی کمی پوری ہوتی رہے تو پھر ڈائریا سے کسی قسم کے فوری نقصان کا خطرہ نہیں رہ جاتا۔

ڈائریا اور ڈائی سینٹیری

موسم برسات میں گندا، آلودہ پانی استعمال سے ڈائریا یا ڈائی سینٹیری ہونے کا خدشہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے۔ بندہ بالکل آدھ موا ہو جاتا ہے۔ فوری علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈائریا میں باربار پانی جیسے پتلے پاخانے آتے ہیں جبکہ Dysentery جو کسی بیکٹیریا یا امیبا (Amoeba) کی وجہ سے ہوتی ہے، اس میں پاخانوں میں خون اور لیس دار رطوبت بھی خارج ہوتی ہے۔ ڈائریا اور ڈائی سینٹیری کی بیماری زیادہ تر ایسی جگہوں میں پھیلتی ہے جہاں صفائی کے حالات بہت مخدوش ہوں اور گندے پانی کے نکاس کا صحیح انتظام نہ ہو۔ مریض کے پاخانے پر بیٹھنے والی مکھیاں کھانے پر بیٹھ کر صحت مند آدمی تک بیماری پہنچاتی ہیں۔
Dysentery ہونے کی صورت میں سب سے پہلے تو پیٹ میں درد ہوتا ہے جس کے ساتھ خونی ڈائریا ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بخار بھی ہو سکتا ہے۔ جسم بہت کمزور ہو جاتا ہے اور یوں لگتا ہے جسم میں بالکل جان نہیں۔ Amoeba سے ہونے والی ڈائی سینٹیری میں پیٹ میں درد ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بخار بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس میں پاخانے بہت زیادہ آتے ہیں۔ دن میں تیس سے زیادہ دفعہ بیت الخلاء جانا پڑ سکتا ہے۔ جس سے جسم میں پانی کی بہت کمی ہو جاتی ہے اور جسم میں بالکل جان نہیں رہتی۔ بعض حالتوں میں تو بستر سے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بیماری پرانی ہو جائے تو کبھی ڈائریا رہتا ہے اور کچھ دنوں بعد قبض ہو جاتی ہے۔ ڈائریا اور ڈائی سینٹیری کے علاج اور اس سے بچائو کے لیے مندرجہ ذیل باتیں یاد رکھیں۔

۔-1صفائی نصف ایمان ہے۔ جسم اور اردگرد کے ماحول کی صفائی سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ ہمیشہ اچھی طرح دھولیں اور اس وقت انہیں خشک نہ کریں۔ کھانے کے بعد انہیں دھو کر تولیے وغیرہ سے خشک کرلیں۔ اس بات میں کتنی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ پہلی دفعہ ہاتھ خشک یا صاف کرنے سے اس لیے منع فرمایا کہ کہیں کپڑے وغیرہ میں شامل جراثیم ہاتھوں پر لگ کر کھانے میں نہ شامل ہو جائیں۔ اصل میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تعلیمات اور ان کے نورانی طریقوں میں دونوں جہان کی کامیابی ہے۔
۔-2بیماری کے دنوں میں بہتر ہے کہ پانی ابال کر استعمال کیا جائے۔
۔-3کھانے پینے کی تمام اشیاء کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھیں اور بچوں کو باہرسے کٹے ہوئے پھل وغیرہ کھانے سے منع کریں۔
۔-4سبزی وغیرہ کو پکانے سے پہلے اچھی طرح دھولیں اور پکاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں کوئی سبزی کچی نہ رہ جائے۔
۔-5جو لوگ بیماری سے متاثر ہوں ان کے زیر استعمال اشیاء دوسرے صحت مند لوگ استعمال نہ کریں۔

۔-6دوا ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورہ سے استعمال کریں۔

۔-7بعض لوگوں کو خواہ مخواہ انگلی یا قلم منہ میں ڈالنے کی عادت ہوتی ہے۔ اس سے انجانے میں مرض کے جراثیم جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ صحت مند رہنے کے لیے اس عادت سے چھٹکارہ حاصل کریں۔
بدہضمی، جلن اور تیزابیت:برسات کے دنوں میں بدہضمی اور معدے میں جلن اور تیزابیت کی شکایات عام ہوتی ہے۔ ان دنوں میں بدہضمی، معدہ کی گیس اور جلن وغیرہ کی تکالیف کی شکایت کے ساتھ بہت سے مریض آتے ہیں۔ برسات کے دنوں میں آلودہ پانی پینے اور کھانے میں بداحتیاطی سے بدہضمی اور معدے میں جلن اور تیزابیت ہو جاتی ہے۔ تقریباً 30 فیصد سے زیادہ مریض بدہضمی کا رونا روتے ہیں اور اس کے مداوے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔بدہضمی، معدے میں جلن یا تیزابیت اور پیٹ درد وغیرہ کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں پیٹ کی بیماریاں مثلاً معدہ کا السر، پتے میں پتھری، معدے کا کینسر، پیٹ کی کوئی دوسری بیماری وغیرہ ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ نفسیاتی الجھنوں، ذہنی پریشانیوں، اعصابی تنائو یا پھر سٹریس اور ڈیپریشن وغیرہ کی صورت میں بھی بندے کو بھوک بالکل نہیں لگتی یا پھر کھایا پیا ہضم نہیں ہوتا اور پیٹ میں بھاری پن اور گیس محسوس ہوتی ہے۔

علاج اور بچائو:

بدہضمی وغیرہ کے علاج کے لیے مندرجہ ذیل باتوں کو ذہن نشین رکھیں۔

۔-1 50فیصد سے زیادہ بدہضمی کی شکایات ذہنی پریشانیوں کی صورت میں ہوتی ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تفکرات سے نجات حاصل کی جائے۔ جو کوئی بھی اس طرح کے مسائل کا شکار ہے اسے چاہیے، اللہ پہ یقین رکھے۔ اپنا کام دل جمعی اور ایمانداری سے کرے اور نتائج اللہ پر چھوڑے۔ انشاء اللہ سب مسائل حل ہو جائیں گے۔ اگر ذہنی پریشانی دور ہو جائے تو پھر بدہضمی جیسے مسائل سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔

۔-2اس صورت میں ضروری ہے کہ کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ آپ کے چپک اپ اور تشخیصی ٹیسٹوں سے اس کی صحیح وجہ کا پتہ چل جائے اور اس کے مطابق علاج ہو۔

۔-3بدہضمی سے نجات کے لیے ضروری ہے کہ ہمیشہ بھوک رکھ کر کھائیں۔ مرغن اور ثقیل غذائوں سے پرہیز کریں اور کھانے کے اوقات مقرر کر کے ان کے مطابق وقت مقررہ پر کھانا کھائیں اس کے علاوہ کھانے پینے کی ایسی اشیاء جن سے پیٹ خراب ہونے کا اندیشہ ہو، ان کو اپنی خوراک سے نکال دیں۔ پیٹ خراب ہونے کی صورت میں اسپغول کا چھلکا اور دہی کا استعمال کریں۔

۔-4کھانے میں فروٹ اور تازہ سبزیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

۔-5شام کے وقت زیادہ ثقیل کھانا نہ لیں۔ ہر وقت منہ مارنے سے پرہیز کریں۔ چٹ پٹی اشیاء، چکنائی، نمک مرچ کم سے کم استعمال کریں۔











 
Last edited:

Asheer

ஜÇatch-me'ıf U-caŋஜ
Super Star
Feb 10, 2013
12,987
6,217
1,113
Karachi
مطالعہ سے کافی افاقہ ہوتا ہے سرابوں سے جان چھوٹنے لگتی ہے
فراغت کے زمانے میں یہ شوق بھی رہا ہے مگر افاقہ نہیں ہوا :joy
 
Top
Forgot your password?