نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے اسباب تحریر : اعظم احمد

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی کے اسباب تحریر : اعظم احمد


پاکستان کے نوجوانوں میں فرسٹریشن دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔کیا اس کی وجہ سوشل میڈیا ہے یا کچھ اور وجوہات ہیں۔ ایک حد تک یہ کہا جاسکتا ہے کہ آج کا نوجوان جو انٹرنیٹ کے ذریعے پوری دنیا سے منسلک ہے ،وہ دنیا کی خوشحالی اوراپنی زبوں حالی دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے جس سے اس کی فرسٹریشن میں اضافہ ہوتا ہے لیکن یہ پوراسچ نہیں ہے ۔تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا نے لوگوں کو بہت سے تعمیری راستے بھی دکھائے ہیں جن پر چل کر وہ ان مایوسیوں ناکامیوں اور فرسٹریشن کے گرداب سے باہر نکل کر کوئی مثبت اور تعمیری راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ ایسی ساری باتوں مثبت چیزوں کو نظر انداز کرکے انٹرنیٹ سے منفی چیزوں کو ہی اختیار کریں۔ یعنی اگر وہ اس پرتفریحی مواد دیکھتے ہیں، فلمی گانے سنتے رہتے ہیں یا فضول قسم کی ویڈیو گیمزکھیلتے رہتے ہیں تو یہ ان کی اپنی صوابدید ہے۔ اس کے لیے سوشل میڈیا کو مورودِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔سوشل میڈیاکی مدد سے تو دنیا میں لاکھوں نوجوان گھر بیٹھے لاکھوں بلکہ کروڑوں تک کمارہے ہیں۔ اس کے بیشمار طریقے ہیں جوخود سوشل میڈیا ہی ان کو بتاتا ہے۔ اس کے ہی طریقوں سے تو دنیا کو مفید باتوں کے بارے میں بتانا نئی نئی چیزیں سامنے لانا کاروباری طریقے بتانا اور ایسے بیشمار ذرائع ہیں ۔ جن سے آپ اچھی کمائی کر سکتے ہیں ۔دنیا کی کم و پیش30 فیصد آبادی یعنی لگ بھگ پونے دو ارب لوگ اس وقت انٹرنیٹ کے ذریعے ان ویب سائٹس سے یعنی یوٹیوب فیس بک ٹویٹر انسٹاگرام وغیرہ سے منسلک ہیں تو اس طرح آپ کو ایک بہت بڑی منڈی تک گھر بیٹھے رسائی حاصل ہوجاتی ہے اب اس بات کا انحصار خود آپ پر ہے کہ آپ کیا ایسا نیا، تخلیقی اور انسانیت کے مفاد کیلئے کچھ پیش کرتے ہیں جس کو لوگ پسند کریں اور اس کو اپنائیں۔۔ تو یقینا آپ کو پذیرائی بھی ملے گی مالی مفاد بھی حاصل ہوگا۔اگر آپ کا کوئی کاروبار ہے، آپ کسی قسم کی کوئی چیز تیار کرتے ہیں تو سوشل میڈیا کے ذریعے آپ کو مفت میں ایک بہت بڑی مارکیٹ حاصل ہوجاتی ہے جہاں اگر آپ اچھے طریقے سے اپنی تیار کردہ پروڈکٹ کو پیش کرتے ہیں تو نہ صرف آپ کو بے بہا مالی فائدہ حاصل ہوگا بلکہ اپنی پروڈکٹ کو بہتر کرنے کے لئے بہت سی معلومات بھی حاصل ہونگی۔اگر آپ خود کچھ نہیں بناتے تو آپ یوں بھی کر سکتے ہیں کہ آپ کے علاقے میں آپ کے گرد و پیش میں اگر کوئی اچھی یا انوکھی چیز ہے تو آپ ان سے لے کر خود سوشل میڈیا کے ذریعے آگے لوگوں تک پہنچائیں۔ اس میں بھی آپ کیلئے مالی منفعت کا سامان ہے۔آپ آن لائن ٹیچنگ بھی کر سکتے ہیں جیسا کہ بہت سارے لوگ پوری دنیا میں ایسا کر رہے ہیں۔ اگر آپ اچھی عربی جانتے ہیں، قرآن پڑھانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس سے متعلقہ بہت سارے لوگ مل جائیں گے جو اپنے بچوں کو آپ سے قرآن پڑھانے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ اگر آپ آئی ٹی سے متعلقہ کسی شعبے میں مہارت رکھتے ہیں تو ان چیزوںسے دلچسپی رکھنے والے بہت سارے لوگ آپ کو مل جائیں گے۔ اگر آپ ماہر باورچی ہیں،مختلف کھانے تیار کرنے کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں یا آپ زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی ہنر رکھتے ہیں تو آپ اس کو لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں ۔یقینی طور پر آپ کو فائدہ حاصل ہوگا یعنی یہ سب وہ راستے ہیں جن پر چل کر سوشل میڈیا آپ کے لئے بہت سی نئی راہیں کھول سکتا ہے جن سے معاشی فائدے بھی حاصل ہوںگے اور آپ کو دنیا میں مشہور ہونے کے مواقع بھی ملیں گے۔آپ اگر یوٹیوب کھولیں تو وہاں پر آپ کو بے شمار ایسے نوجوان بچے بوڑھے،مردو خواتین۔۔ہر عمر کے لوگ ملیں گے جومختلف شعبوں میں لوگوں کو گائیڈ کرتے ہیں اور ان کا یہ عمل ان کے لیے بہترین مالی منفعت اور شہرت کا باعث بن رہا ہے۔اکثریت ان میں کم عمر طالب علموں کی ہے۔بہت سے نوجوان لوگوں کو نئی اور جدید ایجادات کے بارے میں بتاتے ہیں، جولوگ ایسی باتوں سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ ان چینلز کو فالو کرتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ بہت سے لوگ یوٹیوب پر کوکنگ کرتے ہوئے ویڈیو بناتے ہیں اور لوگوں کو مختلف چیزیں بنانا سکھاتے ہیں، ان کے لاکھوں فالورز ہیں اور وہ اپنے چینلز سے لاکھوں روپیہ کما رہے ہیں،ایسے لوگوں کی اکثریت بہت کم پڑھی لکھی ہے سادہ سے لوگ ہیں نہ ان کے پاس بہت زیادہ تعلیم ہے نہ ان کے پاس کوئی بہت ہائی فائی سٹوڈیو ہے۔ وہ سادگی سے اپنے گھروں میں، اپنے کچن میں وہ چیزیں بناتے ہیں۔ بہت سے لوگ موٹیویشنل سپیکرز ہیں، ان کے چینل بھی بہت سے لوگ دیکھتے ہیں وہاں سے نت نئے آئیڈیاز،موٹیویشن لے کر عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔الغرض صرف یو ٹیوب پر آپ کو لاکھوں طرح کے چینلز مل سکتے ہیں جن میں سے آپ اپنے رجحان کے مطابق کوئی بھی شعبہ اختیار کرکے اپنے لیے ایک راستہ، ایک کیریئر چن سکتے ہیں۔پہلے ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ہنر یا نسخہ ہوتا تھا تو وہ اسے صرف اپنے تک محدود رکھتا تھا،اسے اور لوگوں تک نہیں پہنچاتا تھا اس کے پیچھے انسان کی فطرتی تنگ نظری اور یہ سوچ کار فرما ہوتی تھی کہ اگر اس نے اپنی مہارت یا اپنا کاروباری راز کسی کو بتا دیا تو اسکی کمائی میں اور لوگ بھی شریک ہو جائیں گے اور اسکی اہمیت کم پر بھروسہ نہ ہونے کی بات تھی ورنہ ہر خیر کی بات کو آگے بڑھانے کی ہی ضرورت ہے۔اب انٹرنیٹ کی مدد سے خیر کی بات بھی آگے بڑھانے کا موقع مل رہاہے تو ہمیں اسے مثبت استعمال کرنا چاہیے۔نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ انٹریٹ کو فضول اور بے کار کاموں میں استعما ل کرنے کی بجائے یورپ اور امریکہ کی طرح اس کا مثبت استعمال کریں ۔اس سے جہاں مایوسی اور بے چینی کم ہو گی وہیں یہ رشتے ناتے مضبوط کرنے کے کام بھی آ سکتا ہے۔میں نے بہت سے خاندانوںمیں یہ بات سنی ہے کہ نیٹ نے ان کی فیملی پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔لوگوں نے ایک دوسرے سے ملنا جلناچھوڑ دیا ہے، وہ ہر وقت اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں لیکن ہمیں اس کے الٹ بھی مثالیں ملتی ہیں اگر ہم چاہیں تو اس سے راطے بڑھا بھی سکتے ہیں اور خاندانوں کو دور کرنے کی بجائے یہ افراد کو قریب بھی لا سکتا ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہزاروں میل دور بیٹھے ہوئوں سے ہم کوئی بھی خرچ کئے بغیر مفت میں ہی باتیں کر سکتے ہیں اس سے دنیا ایک کوزے میں بند ہو گئی ہے لہٰذااس نئی نیٹ کی دنیا کو منفی استعمال کرنے کی بجائے اس کا بہترین استعمال کر کے اسے اپنی خوشحالی اور خاندانوں کی مضبوطی میں استعمال کریں اسی میں ہماری ترقی کا راز بھی مضمر ہے۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?