نکاح فطرت ہے

saviou

Manager
Aug 23, 2009
41,048
24,027
1,313
نکاح


اسلام دین فطرت ہے ، اور اس کا سب سے بڑا امتیاز اعتدال ہے، جو اس کی ہر تعلیم اور ہر حکم میں موجودہے،انسان میںموجودفطری طور پر جو جنسی احساسات وجذبات ہوتے ہیں،اُن کی تسکین کے لیے اسلام نے انتہائی مرتب وجامع نکاح کاجو نظام متعین کیاہے ،یہ بھی اس کے اعتدال پسنددین فطرت ہونے کی واضح دلیل ہے۔

نمبر (۱) نکاح، فطری خواہش پوری کرنے کا آسان راستہ ہے :اسلام نہ تو جنسی تسکین کے لیے مردوعورت کے درمیان کسی بھی طرح کے ناجائز وحرام تعلق کی اجازت دیتاہے ا ورنہ ہی جنسی تسکین کے جذبہ کوسرے سے منع کرتاہے،بلکہ اپنی عفت وپاکدامنی کی حفاظت اور نسلوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے اسلام انسان کوایک درمیانی راہ اپناتے ہوئے اسے نکاح کرنے کا حکم دیتا ہے، تاکہ اس کی عفت وعصمت بھی محفوظ رہے اور نسلوں کاسلسلہ بھی چلتارہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:اس کی(اللہ کی قدرت کی)نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیداکیں،تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو،اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیداکردی۔ [سورۂ روم :۲۱]

نمبر( ۲)نکاح روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں؛ بلکہ روحانی ترقی کاایک ذریعہ ہے:کچھ مذہب والے یہ سمجھتے ہیں کہ نکاح روحانی زندگی کی ترقی میں زبردست رکاوٹ ہے؛ اس لیے وہ عورتوں سے دور رہ کر زندگی گزارتے ہیں،اور اسی میں اپنی آخرت کی کامیابی سمجھتے ہیں، اسلام نے اس خیال کو غلط قرار دیاہے۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ تین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور ﷺ کی عبادت کا حال معلوم کرنے آپﷺ کی ازواج مطہرات کے گھر تشریف لائے، جب ان کوآپﷺ کی عبادت کے متعلق بتایا گیا ،تو اسے ان لوگوں نے بہت کم سمجھا ،اورآپس میں کہنے لگے کہ حضورﷺ کے مقابلہ میں ہماری کیا حیثیت ہے ؟ آپﷺ کے اگلے پچھلے تمام گنا ہ اللہ تعالیٰ نے معاف کررکھے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک نے کہاکہ میں ہمیشہ ساری رات نمازیں پڑھوں گا۔دوسرے نے کہاکہ میں ہمیشہ دن میں روزے رکھاکروں گا اور افطار نہیں کروں گا۔تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے الگ رہوں گااورکبھی نکاح نہیں کروں گا اتنے میں حضورﷺ ان کے پاس تشریف لے آئے ،(آپ کو پوری بات بتائی گئی پھر) آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم ہی لوگوں نے ایسا ایساکہاہے؟ کان کھول کر سن لو! اللہ کی قسم ! میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اورمیں تم سب لوگوں سے زیادہ پرہیزگار ہوں ،(اس کے باوجود)میں روزہ بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتاہوں،نمازبھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نکاح بھی کرتا ہوں۔ سنو! جس نے میرے راستے سے ہٹ کر زندگی گزارنے کا ارادہ کیا، وہ ہم میں سے نہیں۔ [بخاری:۵۰۶۳، عن انس رضی اللہ عنہ]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح تقوٰی وپرہیز گاری، آخرت کی کامیابی اور انسان کی روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں،بلکہ وہ بھی اعلیٰ درجہ کی پرہیز گاری اور آخرت کی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے۔

نمبر(۳) نکاح نگاہ کوپست رکھتاہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتاہے:ایک حدیث میں حضورﷺنے نوجوانوں کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے، اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرلے، اس لیے کہ وہ (نکاح) نگاہ کو پست رکھتاہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتاہے، اور جو شخص نکاح کی طاقت نہ رکھے اس کو چاہیے کہ روزہ رکھے، اس لیے کہ روزہ شہوت کو توڑ دیتا ہے۔[ مسلم :۳۴۶۶ ، عبداللہ رضی اللہ عنہ]

نمبر (۴) نکاح میں تاخیر نہ کی جائے :حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرو: (۱) جب نماز کاوقت ہوجائے،تواسے پڑھ لو۔ (۲) جب جنازہ حاضر ہوجائے، یعنی کسی کا انتقال ہوجائے، تو فورًا اس کی تجہیز و تکفین کردو۔ (۳) وہ لڑکی جس کا شوہر نہ ہو(خواہ وہ کنواری ہو یا بیوہ ہو اور شادی کے لائق ہو) جب اس کا جوڑا یعنی مناسب رشتہ مل جائے، تو فوراً اس کانکاح کردو۔ [ترمذی:۱۷۱]

نمبر(۵) نکاح میں دیر کرنے کی وجہ سے اولاد گناہ میں مبتلا ہوگئی ،تو اس کا گناہ باپ پر ہوگا:رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی اولاد ہو، تو چاہیے کہ وہ اس کااچھا نام رکھے اور اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہوجائے، تو اس کا نکاح کردے، اگر اولاد بالغ ہوگئی اور اس کا نکاح نہ کیا ،جس کی وجہ سے وہ گناہ میں مبتلا ہوگئی، تو اس کا گناہ باپ ہی پر ہوگا۔ [شعب الایمان: ۸۶۶۶، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما]
آج جوان لڑکے اور لڑکیوں کی وقت پر شادی نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں گناہوں اور بدکاریوں کا جوایک سیلاب امنڈ پڑا ہے ان دونوں حدیثوں کی روشنی میں ذرا تھوڑی دیر ٹھہر کر سوچیے کہ آخر ان تمام گناہوں اور بدکاریوں کی ذمے داری کس پر ہے، اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

نمبر(۶) اسلام میں چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت ہے:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جوعورتیں تمہیں پسند آئیں تم ان سے نکاح کرلو، دو دو سے، تین تین سے، اورچار چار سے۔ [سورۂ نساء:۳]
یعنی انسان زیادہ سے زیادہ چارشادیاں کرسکتاہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ وہ تمام بیویوں کے درمیان برابری کاسلوک کرے۔ اور اگر بے انصافی کا اندیشہ ہو، تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ایسی صورت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے کومنع فرمایا گیا ہے۔

نمبر(۷) نکاح علی الاعلان مسجد میں کرنا مسنون ہے،اور دو گواہوں کا ہونا واجب ہے:نکاح سے پہلے بہتر ہے کہ لڑکا اور لڑکی یا ان کے گھر والے ایک دوسرے کو دیکھ لیں، تاکہ اس نئے رشتے پر ہر ایک کو اطمینان رہے،نکاح چوری چھپے نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کا اعلان ہونا چاہیے، اسی لیے مسجد میں نکاح کرنا مستحب ہے، تاکہ بستی یا محلے کے زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو جان جائیں۔ ترمذی شریف کی روایت ہے:حضور ﷺ نے فرمایا:اس نکاح کا اعلان کرو اور نکاح مسجد میں کرو۔[ترمذی:۱۰۸۹، عن عائشہ رضی اللہ عنہا]

نکاح سے پہلے خطبہ دینا بھی مسنون ہے،اس کے بعد لڑکا اور لڑکی دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب وقبول کرلیں۔اسی طرح نکاح گواہوں کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے،گواہی کے لیے خواہ دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورتیں اپنا نکاح گواہ کے بغیر چوری چھپے کرلیں وہ زنا کرنے والی ہیں۔ [ترمذی: ۱۱۰۳، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما]

نمبر(۸) ولیمہ کی دعوت مسنون ہے:کسی انسان کو مناسب رشتہ مل جانا اور نکاح کا ہوجانا یقیناً اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت اور خوشی کی بات ہے،اس لیے اس نعمت پر اللہ کا شکر اور اپنی خوشی کا اظہار ہونا چاہیے، اسی مقصد سے ولیمہ کو سنت قرار دیا گیا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم یا کپڑے) پر (زعفران ) کا زرد نشان دیکھا، تو ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کرلی ہے اور کھجور کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کو اس کا مہر قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا: اللہ تمھیں مبارک کرے، ولیمہ کی دعوت کرو، اگرچہ ایک بکری ہی ذبح کر کے سہی! ۔
د عوت ولیمہ میں صرف مال دار لوگوں کو ہی بلانا اور ان ہی کو دعوت دینا بہت برا ہے، بلکہ اس دعوت میں غریب لوگوں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔بخاری شریف کی ایک روایت ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ولیمہ کا کھانا بہت برا ہے جس میں صرف امیروں کو بلایا جائے اور ضرورت مند غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔ [بخاری:۵۱۷۷،عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]

نمبر(۹) نکاح میں فضول رسموں اور فضول خرچی سے بچو:حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم سے کم ہو۔ [مسند احمد:۲۴۵۲۹]

دعوت ولیمہ کرنا بے شک مسنون ہے، مگر اس میں فضول خرچی کرنا بالکل غلط ہے،شادی کو اسلام نے اتنا آسان بنایا ہے کہ ایک غریب آدمی بھی اس فریضے کو پوری سہولت کے ساتھ ادا کرسکتا ہے، مگر ہم لوگوں نے اپنے معاشرے میں غلط رسموں کو رواج دے کر شادی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے، اس میں اتنی فضول خرچی ہوتی ہے کہ شاید کسی اور موقع پر اتنی فضول خرچی ہوتی ہو۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ جو لوگ ان رسوم کو ادا کرنے کے لیے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے وہ اکثر قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اورعام طور پر لوگ بڑی دعوتوں کا انتظام اپنی شان اور بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ فلاں شخص نے دعوت ولیمہ میں اتنا خرچ کیا تھا تو ہم اس سے بڑھ کر خرچ کریں گے، حدیث میں ایسے لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
سنن ابو داؤد کی ایک حدیث ہے: حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے جو (کھانا کھلانے میں) ایک دوسرے سے بڑھنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ [ابوداؤد:۳۷۵۴]

دوسری بات یہ ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکے کی طرف سے ولیمہ کی شکل میں دعوت کا انتظام کرنا مسنون ہے ، مگر آج کل ہمارے معاشرے میں ‘‘بارات’’ کی شکل میں جو ایک رسم چل پڑی ہے، جس کے بغیر نکاح کو نامکمل سمجھا جاتا ہے، اس میں لڑکے والے، لڑکی والوں کے یہاں مہمانوں کی ایک بھیڑ جمع کردیتے ہیں اور خواہ مخواہ لڑکی والوں پر بوجھ بن جاتے ہیں، یہ سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے جس کی اصلاح ضروری ہے، جیسا کہ ا بھی اوپر یہ حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک مال دار صحابی تھے، مگر جب انھوں نے شادی کی تو کسی طرح کی بھیڑ جمع کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا، حتیٰ کہ حضورﷺ کو بھی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں سمجھی، اسلام نے نکاح کے معاملے کو کتنا آسان بنایا ہے۔

نمبر(۱۰) نکاح میں سب سے بدترین رسم جہیز کا لین دین ہے: نکاح میں سب سے بدترین رسم جہیز کا لین دین ہے، علماء نے لکھا ہے کہ نکاح کے موقعہ پر لڑکے یا لڑکی والے کی طرف سے مہر کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ کرنا اور اس کا لینا دینا رشوت ہے اور رشوت شریعت میں حرام ہے۔ [شامی۲؍۵۰۳ باب المہر]

میرے بھائیو! جہیز ہی وہ لعنت ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ایک بوجھ سمجھا جانے لگا ہے، جہیز کا سامان نہ ہونے کی بنا پر غریب بچیوں کی شادی نہیں ہو پارہی ہے، اور وہ سسک سسک کر زندگی گزار رہی ہیں، لڑکے والے صرف امید ہی نہیں رکھتے؛ بلکہ پوچھتے بھی ہیں کہ جہیز کتنا ملے گا؟ ورنہ ہم رشتہ نہیں لیں گے۔ اسی معاشرتی بگاڑ کا نتیجہ ہے کہ غریب والدین کے لیے بچیوں کا نکاح کرنا وبال جان بن گیا ہے، پھر اس کی وجہ سے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے اور ہورہا ہے، ان سے ہم سب واقف ہیں۔ آج ضرورت ہے کہ جہیز کے اس رواج کو بلکہ شادی کے تمام رسم ورواج کو ختم کرنے کے لیے ہم سبھی لوگ آگے آئیں اور پوری قوت سے انھیں ختم کریں، اور شادی کے اسلامی طریقے کو رواج دیں جس میں ہر شخص کے لیے آسانی ہی آسانی ہے۔ الغرض! نکاح اسلامی طریقہ کے مطابق کیا جائے، مناسب رشتہ ملنے کے بعد نکاح میں بالکل تاخیر نہ کی جائے، فضول خرچی اور دوسرے ر سم ورواج سے بالکل گریز کیا جائے ،خاص طور پر جہیز جیسی لعنت سے بچا جائے ۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں دیے گئے خطبے کا خلاصہ: آج کے اس خطبے سے پہلی بات ہمیں یہ معلوم ہوئی کہ نکاح، فطری خواہش پوری کرنے کا آسان راستہ ہے۔ دوسرا اہم سبق ہم کو یہ ملا کہ نکاح روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں؛ بلکہ روحانی ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نکاح نگاہ کو پست رکھتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے۔ چوتھا سبق یہ ملا کہ نکاح میں تاخیر نہ کی جائے ۔ پانچویں بات یہ معلوم ہوئی کہ نکاح میں دیر کرنے کی وجہ سے اولاد گناہ میں مبتلا ہوگئی، تو اس کا گناہ باپ پر ہوگا۔ چھٹی بات یہ معلوم ہوئی کہ اسلام میں چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ساتواں پیغام یہ ملا کہ نکاح علی الاعلان مسجد میں کرنا مسنون ہے، اور دو گواہوں کا ہونا واجب ہے۔ آٹھویں بات یہ معلوم ہوئی کہ ولیمہ کی دعوت مسنون ہے۔ نواں سبق یہ ملا کہ ہم کونکاح میں فضول رسموں اور فضول خرچی سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ دسویں نہایت اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ نکاح میں سب سے بد ترین رسم جہیز کا لین دین ہے۔ لہٰذا آج کے اس خطبے میں نکاح اور اس کے رسم و رواج کے متعلق جو باتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں، ہم ان کو اپنے سامنے رکھیں اور ہمیشہ ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری خدمات کو قبول فرمائے۔ (آمین)
 

saviou

Manager
Aug 23, 2009
41,048
24,027
1,313
@Don @saviou @Shiraz-Khan @shehr-e-tanhayi @Hoorain @RedRose64
@Aaylaaaaa @minaahil @Umm-e-ahmad @H@!der @khalid_khan @Untamed-Heart
@duaabatool @Armaghankhan @zaryaab-irtiza @DiLkash @Seemab_khan @Mahen @Masha
@Cyra @Kavi @rooja @Aaidah @BeautyRose @Gaggan @hasandawar @AnadiL @Prince-Farry
@Hasii @Masha @Bird-Of-Paradise @Besharam @shzd @hinakhan0 @zehar @bilal_ishaq_786
@Belahadi @Manahi007 @BeautyRose @ujalaa @*Sonu* @Guriyaa_Ranee @illusionist
@sonu-unique @shahijutt @ujalaa @Layla @Fantasy @Babar-Azam @AM_ @Princess_Nisa
@Shanzykhan @sweet bhoot @NXXXS @IceCream @zahra1234 @AnadiL @Basitkikhushi
@Pari @whiteros @namaal @Abid Mahmood @Iceage-TM @Toobi @i love sahabah
@NamaL @Fa!th @MSC @yoursks @thefire1 @nighatnaseem21 @Fanii @naazii @Miss_Tittli
@junaid_ak47 @Guriya_Rani @Azeyy @Gul-e-lala @maryamtaqdeesmo @HorrorReturns
@shzd @p3arl @Atif-adi @Lost Passenger @marzish @Pakhtoon @candy @Asma_tufail
@Rubi @Tariq Saeed @Mas00m-DeVil @Wafa_Khan @amazingcreator @marib @Raat ki Rani
@Ghazal_Ka_Chiragh @Binte_Hawwa @sweet_c_kuri @sabha_khan40 @Masoom_girl @hariya
@Aayat @italianVirus @Ziddi_anGel @sabeha @attiya @Princess_E @Asheer @aira_roy
@shailina @maanu115 @Dua001 @pyaridua @xortica_ @DesiGirl @huny @AshirFrhan
@Rahath @Shireen @zonii @Noor_Afridi @sweet bhoot @Lightman @Noorjee @hafaz
@Bela @LuViSh @aribak @BabyDoll @Silent_tear_hurt @gulfishan @Manxil
@errorsss @diya. @isma33 @hashmi_jan @smarty_dollie @Era_Emaan
@saimaaaaaaa @Nighaat @crystal_eyez @Mantasha_Zawaar @zaatzarra @reality
@Hudx @Stunning_beauty @Zia_Hayderi @Fadiii @Aqsh_Arch @St0rm @ROHAAN @Learn-Fast @Pakhtun @Adeeha_
 

Aaylaaaaa

priNcess
TM Star
Sep 25, 2014
4,155
2,501
713
kohkaaf
نکاح


اسلام دین فطرت ہے ، اور اس کا سب سے بڑا امتیاز اعتدال ہے، جو اس کی ہر تعلیم اور ہر حکم میں موجودہے،انسان میںموجودفطری طور پر جو جنسی احساسات وجذبات ہوتے ہیں،اُن کی تسکین کے لیے اسلام نے انتہائی مرتب وجامع نکاح کاجو نظام متعین کیاہے ،یہ بھی اس کے اعتدال پسنددین فطرت ہونے کی واضح دلیل ہے۔

نمبر (۱) نکاح، فطری خواہش پوری کرنے کا آسان راستہ ہے :اسلام نہ تو جنسی تسکین کے لیے مردوعورت کے درمیان کسی بھی طرح کے ناجائز وحرام تعلق کی اجازت دیتاہے ا ورنہ ہی جنسی تسکین کے جذبہ کوسرے سے منع کرتاہے،بلکہ اپنی عفت وپاکدامنی کی حفاظت اور نسلوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے اسلام انسان کوایک درمیانی راہ اپناتے ہوئے اسے نکاح کرنے کا حکم دیتا ہے، تاکہ اس کی عفت وعصمت بھی محفوظ رہے اور نسلوں کاسلسلہ بھی چلتارہے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:اس کی(اللہ کی قدرت کی)نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیداکیں،تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو،اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیداکردی۔ [سورۂ روم :۲۱]

نمبر( ۲)نکاح روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں؛ بلکہ روحانی ترقی کاایک ذریعہ ہے:کچھ مذہب والے یہ سمجھتے ہیں کہ نکاح روحانی زندگی کی ترقی میں زبردست رکاوٹ ہے؛ اس لیے وہ عورتوں سے دور رہ کر زندگی گزارتے ہیں،اور اسی میں اپنی آخرت کی کامیابی سمجھتے ہیں، اسلام نے اس خیال کو غلط قرار دیاہے۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ تین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم حضور ﷺ کی عبادت کا حال معلوم کرنے آپﷺ کی ازواج مطہرات کے گھر تشریف لائے، جب ان کوآپﷺ کی عبادت کے متعلق بتایا گیا ،تو اسے ان لوگوں نے بہت کم سمجھا ،اورآپس میں کہنے لگے کہ حضورﷺ کے مقابلہ میں ہماری کیا حیثیت ہے ؟ آپﷺ کے اگلے پچھلے تمام گنا ہ اللہ تعالیٰ نے معاف کررکھے ہیں۔ پھر ان میں سے ایک نے کہاکہ میں ہمیشہ ساری رات نمازیں پڑھوں گا۔دوسرے نے کہاکہ میں ہمیشہ دن میں روزے رکھاکروں گا اور افطار نہیں کروں گا۔تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے الگ رہوں گااورکبھی نکاح نہیں کروں گا اتنے میں حضورﷺ ان کے پاس تشریف لے آئے ،(آپ کو پوری بات بتائی گئی پھر) آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم ہی لوگوں نے ایسا ایساکہاہے؟ کان کھول کر سن لو! اللہ کی قسم ! میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اورمیں تم سب لوگوں سے زیادہ پرہیزگار ہوں ،(اس کے باوجود)میں روزہ بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتاہوں،نمازبھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نکاح بھی کرتا ہوں۔ سنو! جس نے میرے راستے سے ہٹ کر زندگی گزارنے کا ارادہ کیا، وہ ہم میں سے نہیں۔ [بخاری:۵۰۶۳، عن انس رضی اللہ عنہ]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح تقوٰی وپرہیز گاری، آخرت کی کامیابی اور انسان کی روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں،بلکہ وہ بھی اعلیٰ درجہ کی پرہیز گاری اور آخرت کی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے۔

نمبر(۳) نکاح نگاہ کوپست رکھتاہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتاہے:ایک حدیث میں حضورﷺنے نوجوانوں کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھے، اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرلے، اس لیے کہ وہ (نکاح) نگاہ کو پست رکھتاہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتاہے، اور جو شخص نکاح کی طاقت نہ رکھے اس کو چاہیے کہ روزہ رکھے، اس لیے کہ روزہ شہوت کو توڑ دیتا ہے۔[ مسلم :۳۴۶۶ ، عبداللہ رضی اللہ عنہ]

نمبر (۴) نکاح میں تاخیر نہ کی جائے :حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرو: (۱) جب نماز کاوقت ہوجائے،تواسے پڑھ لو۔ (۲) جب جنازہ حاضر ہوجائے، یعنی کسی کا انتقال ہوجائے، تو فورًا اس کی تجہیز و تکفین کردو۔ (۳) وہ لڑکی جس کا شوہر نہ ہو(خواہ وہ کنواری ہو یا بیوہ ہو اور شادی کے لائق ہو) جب اس کا جوڑا یعنی مناسب رشتہ مل جائے، تو فوراً اس کانکاح کردو۔ [ترمذی:۱۷۱]

نمبر(۵) نکاح میں دیر کرنے کی وجہ سے اولاد گناہ میں مبتلا ہوگئی ،تو اس کا گناہ باپ پر ہوگا:رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی اولاد ہو، تو چاہیے کہ وہ اس کااچھا نام رکھے اور اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہوجائے، تو اس کا نکاح کردے، اگر اولاد بالغ ہوگئی اور اس کا نکاح نہ کیا ،جس کی وجہ سے وہ گناہ میں مبتلا ہوگئی، تو اس کا گناہ باپ ہی پر ہوگا۔ [شعب الایمان: ۸۶۶۶، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما]
آج جوان لڑکے اور لڑکیوں کی وقت پر شادی نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں گناہوں اور بدکاریوں کا جوایک سیلاب امنڈ پڑا ہے ان دونوں حدیثوں کی روشنی میں ذرا تھوڑی دیر ٹھہر کر سوچیے کہ آخر ان تمام گناہوں اور بدکاریوں کی ذمے داری کس پر ہے، اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

نمبر(۶) اسلام میں چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت ہے:قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جوعورتیں تمہیں پسند آئیں تم ان سے نکاح کرلو، دو دو سے، تین تین سے، اورچار چار سے۔ [سورۂ نساء:۳]
یعنی انسان زیادہ سے زیادہ چارشادیاں کرسکتاہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ وہ تمام بیویوں کے درمیان برابری کاسلوک کرے۔ اور اگر بے انصافی کا اندیشہ ہو، تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ایسی صورت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے کومنع فرمایا گیا ہے۔

نمبر(۷) نکاح علی الاعلان مسجد میں کرنا مسنون ہے،اور دو گواہوں کا ہونا واجب ہے:نکاح سے پہلے بہتر ہے کہ لڑکا اور لڑکی یا ان کے گھر والے ایک دوسرے کو دیکھ لیں، تاکہ اس نئے رشتے پر ہر ایک کو اطمینان رہے،نکاح چوری چھپے نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کا اعلان ہونا چاہیے، اسی لیے مسجد میں نکاح کرنا مستحب ہے، تاکہ بستی یا محلے کے زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو جان جائیں۔ ترمذی شریف کی روایت ہے:حضور ﷺ نے فرمایا:اس نکاح کا اعلان کرو اور نکاح مسجد میں کرو۔[ترمذی:۱۰۸۹، عن عائشہ رضی اللہ عنہا]

نکاح سے پہلے خطبہ دینا بھی مسنون ہے،اس کے بعد لڑکا اور لڑکی دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب وقبول کرلیں۔اسی طرح نکاح گواہوں کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے،گواہی کے لیے خواہ دو مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عورتیں اپنا نکاح گواہ کے بغیر چوری چھپے کرلیں وہ زنا کرنے والی ہیں۔ [ترمذی: ۱۱۰۳، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما]

نمبر(۸) ولیمہ کی دعوت مسنون ہے:کسی انسان کو مناسب رشتہ مل جانا اور نکاح کا ہوجانا یقیناً اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت اور خوشی کی بات ہے،اس لیے اس نعمت پر اللہ کا شکر اور اپنی خوشی کا اظہار ہونا چاہیے، اسی مقصد سے ولیمہ کو سنت قرار دیا گیا ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم یا کپڑے) پر (زعفران ) کا زرد نشان دیکھا، تو ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کرلی ہے اور کھجور کی ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کو اس کا مہر قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا: اللہ تمھیں مبارک کرے، ولیمہ کی دعوت کرو، اگرچہ ایک بکری ہی ذبح کر کے سہی! ۔
د عوت ولیمہ میں صرف مال دار لوگوں کو ہی بلانا اور ان ہی کو دعوت دینا بہت برا ہے، بلکہ اس دعوت میں غریب لوگوں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔بخاری شریف کی ایک روایت ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ولیمہ کا کھانا بہت برا ہے جس میں صرف امیروں کو بلایا جائے اور ضرورت مند غریبوں کو چھوڑ دیا جائے۔ [بخاری:۵۱۷۷،عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ]

نمبر(۹) نکاح میں فضول رسموں اور فضول خرچی سے بچو:حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ کم سے کم ہو۔ [مسند احمد:۲۴۵۲۹]

دعوت ولیمہ کرنا بے شک مسنون ہے، مگر اس میں فضول خرچی کرنا بالکل غلط ہے،شادی کو اسلام نے اتنا آسان بنایا ہے کہ ایک غریب آدمی بھی اس فریضے کو پوری سہولت کے ساتھ ادا کرسکتا ہے، مگر ہم لوگوں نے اپنے معاشرے میں غلط رسموں کو رواج دے کر شادی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے، اس میں اتنی فضول خرچی ہوتی ہے کہ شاید کسی اور موقع پر اتنی فضول خرچی ہوتی ہو۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ جو لوگ ان رسوم کو ادا کرنے کے لیے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے وہ اکثر قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اورعام طور پر لوگ بڑی دعوتوں کا انتظام اپنی شان اور بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ فلاں شخص نے دعوت ولیمہ میں اتنا خرچ کیا تھا تو ہم اس سے بڑھ کر خرچ کریں گے، حدیث میں ایسے لوگوں کی دعوت قبول کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
سنن ابو داؤد کی ایک حدیث ہے: حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کا کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے جو (کھانا کھلانے میں) ایک دوسرے سے بڑھنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ [ابوداؤد:۳۷۵۴]

دوسری بات یہ ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکے کی طرف سے ولیمہ کی شکل میں دعوت کا انتظام کرنا مسنون ہے ، مگر آج کل ہمارے معاشرے میں ‘‘بارات’’ کی شکل میں جو ایک رسم چل پڑی ہے، جس کے بغیر نکاح کو نامکمل سمجھا جاتا ہے، اس میں لڑکے والے، لڑکی والوں کے یہاں مہمانوں کی ایک بھیڑ جمع کردیتے ہیں اور خواہ مخواہ لڑکی والوں پر بوجھ بن جاتے ہیں، یہ سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے جس کی اصلاح ضروری ہے، جیسا کہ ا بھی اوپر یہ حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک مال دار صحابی تھے، مگر جب انھوں نے شادی کی تو کسی طرح کی بھیڑ جمع کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا، حتیٰ کہ حضورﷺ کو بھی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں سمجھی، اسلام نے نکاح کے معاملے کو کتنا آسان بنایا ہے۔

نمبر(۱۰) نکاح میں سب سے بدترین رسم جہیز کا لین دین ہے: نکاح میں سب سے بدترین رسم جہیز کا لین دین ہے، علماء نے لکھا ہے کہ نکاح کے موقعہ پر لڑکے یا لڑکی والے کی طرف سے مہر کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ کرنا اور اس کا لینا دینا رشوت ہے اور رشوت شریعت میں حرام ہے۔ [شامی۲؍۵۰۳ باب المہر]

میرے بھائیو! جہیز ہی وہ لعنت ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ایک بوجھ سمجھا جانے لگا ہے، جہیز کا سامان نہ ہونے کی بنا پر غریب بچیوں کی شادی نہیں ہو پارہی ہے، اور وہ سسک سسک کر زندگی گزار رہی ہیں، لڑکے والے صرف امید ہی نہیں رکھتے؛ بلکہ پوچھتے بھی ہیں کہ جہیز کتنا ملے گا؟ ورنہ ہم رشتہ نہیں لیں گے۔ اسی معاشرتی بگاڑ کا نتیجہ ہے کہ غریب والدین کے لیے بچیوں کا نکاح کرنا وبال جان بن گیا ہے، پھر اس کی وجہ سے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے اور ہورہا ہے، ان سے ہم سب واقف ہیں۔ آج ضرورت ہے کہ جہیز کے اس رواج کو بلکہ شادی کے تمام رسم ورواج کو ختم کرنے کے لیے ہم سبھی لوگ آگے آئیں اور پوری قوت سے انھیں ختم کریں، اور شادی کے اسلامی طریقے کو رواج دیں جس میں ہر شخص کے لیے آسانی ہی آسانی ہے۔ الغرض! نکاح اسلامی طریقہ کے مطابق کیا جائے، مناسب رشتہ ملنے کے بعد نکاح میں بالکل تاخیر نہ کی جائے، فضول خرچی اور دوسرے ر سم ورواج سے بالکل گریز کیا جائے ،خاص طور پر جہیز جیسی لعنت سے بچا جائے ۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں دیے گئے خطبے کا خلاصہ: آج کے اس خطبے سے پہلی بات ہمیں یہ معلوم ہوئی کہ نکاح، فطری خواہش پوری کرنے کا آسان راستہ ہے۔ دوسرا اہم سبق ہم کو یہ ملا کہ نکاح روحانی ترقی میں رکاوٹ نہیں؛ بلکہ روحانی ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نکاح نگاہ کو پست رکھتا ہے اور شرم گاہ کی حفاظت کرتا ہے۔ چوتھا سبق یہ ملا کہ نکاح میں تاخیر نہ کی جائے ۔ پانچویں بات یہ معلوم ہوئی کہ نکاح میں دیر کرنے کی وجہ سے اولاد گناہ میں مبتلا ہوگئی، تو اس کا گناہ باپ پر ہوگا۔ چھٹی بات یہ معلوم ہوئی کہ اسلام میں چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ساتواں پیغام یہ ملا کہ نکاح علی الاعلان مسجد میں کرنا مسنون ہے، اور دو گواہوں کا ہونا واجب ہے۔ آٹھویں بات یہ معلوم ہوئی کہ ولیمہ کی دعوت مسنون ہے۔ نواں سبق یہ ملا کہ ہم کونکاح میں فضول رسموں اور فضول خرچی سے بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ دسویں نہایت اہم بات یہ معلوم ہوئی کہ نکاح میں سب سے بد ترین رسم جہیز کا لین دین ہے۔ لہٰذا آج کے اس خطبے میں نکاح اور اس کے رسم و رواج کے متعلق جو باتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں، ہم ان کو اپنے سامنے رکھیں اور ہمیشہ ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری خدمات کو قبول فرمائے۔ (آمین)
Ameen
Bht khoob
Bht kuch maloom hua
 

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,163
850
263
آمیـــــــــــــن ثم آمیـــــــــــــــن يا رب العالمـــــــــین
❤ماشااللہ .... جزاک اللہ❤
 
Top
Forgot your password?