ورلڈکپ: انگلینڈ آسٹریلیا کو ہرا کر چوتھی مرتبہ فائنل میں پہنچ گیا

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,822
1,735
1,313
Lahore,Pakistan
ورلڈکپ: انگلینڈ آسٹریلیا کو ہرا کر چوتھی مرتبہ فائنل میں پہنچ گی


برمنگھم: (ویب ڈیسک) آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو ہرا کر میگا ایونٹ کے فائنل میں چوتھی مرتبہ رسائی حاصل کر لی۔ 224 رنز کا ہدف مورگن الیون نے با آسانی 33 ویں اوورز میں حاصل کر لیا۔ جیسن روئے نے 85 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ اس سے قبل آسٹریلیا کی ٹیم 223 رنز بنا سکی۔ سمتھ 85 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ دیگر 7 کھلاڑی ڈبل فیگر نہ کراس نہ کر سکے۔ ووکس اور عادل راشد نے 3.3 وکٹیں حاصل کیں۔ انگلینڈ اس سے قبل 1979، 1987، 1992 کے فائنل کھیل چکا ہے تاہم ہر بار فیصلہ کن مرحلے میں ناکام رہا۔ کیویز اور کرکٹ کے بانی ملک کی ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹائٹل کے حصول کیلئے 14 جولائی کو ٹکرائیں گی۔

انگلینڈ کی اننگز۔۔۔۔
ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی طرف سے اننگز کا آغاز جیسن روئے اور جونی بیرسٹو نے کیا، دونوں جارحانہ بلے بازوں نے شروع میں محتاط انداز میں بیٹنگ کی تاہم بعد میں سکور کو تیزی سے آگے بڑھانا شروع کیا۔ اس دوران جیسن روئے نے کینگروز باؤلرز کی خوب دھنائی کی۔

انگلینڈ کی پہلی وکٹ 124 رنز پر گری، جونی بیرسٹو 34 سکور بنا کر فاسٹ باؤلر مچل سٹارک کی گیند پر ایل بی ڈبییو ہو گئے۔ دوسرا نقصان جیسن روئے کی صورت میں اٹھانا پڑا جب بیٹسمین جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 65 گیندوں پر 85 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ان کی اس اننگز میں 9 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔



جوئے روٹ نے 49 سکور کی باری کھیلی، مورگن نے 40 رنز بنائے۔ سٹارک اور کمنز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ انگلینڈ اس سے قبل 1979، 1987، 1992 کے فائنل کھیل چکا ہے تاہم ہر بار فیصلہ کن مرحلے میں ناکام رہا۔ کیویز اور کرکٹ کے بانی ملک کی ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹائٹل کے حصول کیلئے 14 جولائی کو ٹکرائیں گی۔

آسٹریلیا کی اننگز۔۔۔۔۔۔
اس سے قبل کینگروز کی طرف سے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو اننگز کا آغاز ارون فنچ اور ڈیوڈ وارنر کیا، تاہم دونوں اوپنر اس بار بڑی پارٹنر شپ بنانے میں ناکام رہے، دوسرے اوور کی پہلی ہی گیند پر کپتان فنچ جوفرا آرچر کی ان سوئنگ بال پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ بیٹسمین نے امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو لیا جو ضائع گیا۔

تیسرے اوور کی چوتھی گیند پر ڈیوڈ وارنر کرس ووکس کا نشانہ بن گئے، لیفٹ ہینڈ بیٹسمین نے 11 گیندوں پر 9 رنز بنائے۔ 14 کے مجموعی سکور پر ووکس نے ایک مرتبہ پھر شاندار گیند کرتے ہوئے پیٹر ہینڈز کومب کو بولڈ کر دیا۔ بیٹسمین صرف 4 رنز کی باری کھیل سکے۔

سمتھ اور وکٹ کیپر الیکس کیری نے سکور کو محتاط انداز میں آگے بڑھایا اور شاندار 103 رنز کی پارٹنر شپ بنائی، اس دوران وکٹ کیپر بیٹسمین کا آرچر کی گیند پر جبڑا ٹوٹ گیا تاہم پلیئر نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹوٹے ہوئے جبڑے کے ساتھ بیٹنگ کی۔ سمتھ اور کیری کی شراکت داری کا اختتام عادل رشید نے کیا۔ بیٹسمین جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈیپ وکٹ پر جیمز وینس کو کیچ دے بیٹھے۔

اسی اوور میں سپنر نے آل راؤنڈر مارکس سٹونز کو ایل بی ڈیبیو کر دیا۔ گلین میکسیویل نے اننگز کے دوران جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش کی اور دو چوکے اور ایک چھکا لگایا تاہم آرچر نے زبردست گیند کرتے ہوئے وکٹ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ کمنز بھی 6 رنز بنا کر سپنر عادل رشید کو وکٹ دے بیٹھے۔ سٹیو سمتھ نے زبردست بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ 119 گیندوں پر 85 رنز کی باری کھیلی اور بٹلر کی تھرو پر رن آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے فاسٹ باؤلر مچل سٹارک کے ساتھ مل کر 51 رنزکی پارٹنر پش بنائی۔

نویں وکٹ مچل سٹارک کی گری جو کرس ووکس کی گیند پر وکٹ کیپر جوز بٹلر کو کیچ دے بیٹھے۔ انہوں نے 36 گیندوں پر 29 سکور بنائے۔ آخری آؤٹ ہونے والے بیٹسمین بہرنڈروف تھے جنہوں نے 1 رن بنایا۔ ووڈ نے ان کی وکٹ حاصل کی۔ آسٹریلیا کی پوری ٹیم 223 رنز بنا سکی۔ عادل راشد اور کرس ووکس نے تین تین شکار کیے، آرچر کے حصے میں دو وکٹیں آئی۔
مچل سٹارک کا اعزاز
آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل سٹارک نےتاریخ رقم کی۔

برمنگھم میں مچل اسٹارک نے انگلش اوپنر جونی بیرسٹو کو 18 ویں اوور میں پویلین کی راہ دکھائی، جو اس ورلڈ کپ میں سٹارک کی مجموعی طورپر 27 ویں وکٹ تھی، یوں وہ میگا ایونٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے ہیں۔

اس سے پہلے یہ ریکارڈ آسٹریلیا ہی کے گلین میک گرا کے پاس تھا، انہوں نے 2007ء کے ورلڈ کپ میں 26وکٹیں حاصل کی تھیں۔
 
  • Like
Reactions: Shiraz-Khan
Top
Forgot your password?