ورلڈ کپ: ماضی کی یادگار اننگز

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,466
1,313
Lahore,Pakistan
ورلڈ کپ: ماضی کی یادگار اننگز
ورلڈ کپ: ماضی کی یادگار اننگز


لاہور: (دنیا میگزین) 1975ء کے ورلڈ کپ سے لے کر 2015ء کے ورلڈ کپ تک کئی کھلاڑیوں نے یادگار اننگز کھیلیں جو کرکٹ کی تاریخ میں درج ہو چکی ہیں۔

آج ہم اپنے قارئین کو ورلڈ کپ کی ان اننگز کے بارے میں بتائیں گے جو ناقابل فراموش ہیں اور وہ سب بلے باز شائقین کرکٹ کو اب تک یاد ہیں۔

ڈیرک مرے (ویسٹ انڈیز)

1975ء کے ورلڈ کپ کا سب سے یادگار میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ہوا۔ اس میچ میں پاکستان کے جیتنے کے امکانات 99 فیصد تھے لیکن ویسٹ انڈیز کے وکٹ کیپر بلے باز ڈیرک مرے اور فاسٹ باؤلر رابرٹس نے جس طرح شکست کے جبڑے سے فتح چھینی وہ اب تک ناقابل یقین ہے۔ اس زمانے میں 60 اوورز کا میچ ہوتا تھا۔

پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 7 وکٹوں پر 266 رنز بنائے جو کہ اس دور کے لحاظ سے اچھا خاصا سکور تھا۔ ویسٹ انڈیز والے ہمیشہ پاکستان کو مضبوط حریف سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے اپنی ٹیم میں روہن کنہانی کو بھی شامل کر لیا تھا جو ریٹائر ہو چکے تھے لیکن پاکستان باؤلرز نے اتنی عمدہ باؤلنگ کی کہ ویسٹ انڈیز کے چھکے چھوٹ گئے۔ پاکستان کی طرف سے ماجد خان نے 60، مشتاق محمد نے 55 اور وسیم راجہ نے 58 رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز نے پہلی چار وکٹیں بہت تھوڑے رنز پر گنوا دیں۔

سرفراز نواز نے چار اور نصیر ملک نے دو وکٹیں اڑائیں جبکہ پرویز میر نے ویون رچرڈز کو 13رنز پرآئوٹ کیا۔ اب کپتان کلائیو لائیڈ پر بھاری ذمہ داری آن پڑی کہ وہ اپنی ٹیم کو شکست سے کیسے بچائیں۔

انہوں نے بڑی ذمہ داری سے بلے بازی کی لیکن وہ بھی 53 رنز بنا کر جاوید میاں داد کے ہاتھوں آئوٹ ہو گئے۔ اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے بائولر جولین نے مزاحمت کی لیکن وہ بھی 18 رنز بنا کر پیولین لوٹ گئے۔

اب کریز پر ویسٹ انڈیز کے وکٹ کیپر بلے باز ڈیرک مرے اور فاسٹ بائولر اینڈی رابرٹس رہ گئے۔ ویسٹ انڈیز کے نو کھلاڑی آئوٹ ہو چکے تھے اور انہیں فتح کے لئے 63 رنز درکار تھے جبکہ ایک وکٹ باقی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب کلائیو لائیڈ گرائونڈ چھوڑ کر چلے گئے تھے کیونکہ انہیں اپنی ٹیم کی شکست کا مکمل یقین ہو چکا تھا اس موقع پر ڈیرک مرے نے تاریخی اننگز کھیلی اور اینڈی رابرٹس نے ان کا مکمل ساتھ دیا۔

ڈیرک مرے نے 61 رنز بنائے اور ناٹ آئوٹ رہے۔ یوں ویسٹ انڈیز نے ایک ہارا ہوا میچ جیت لیا۔ کرکٹ کے پنڈت اب تک یہ کہتے ہیں کہ پاکستان نے یہ میچ غلط کپتانی کی وجہ سے ہارا۔ بہرحال ڈیرک مرے نے یادگار اننگز کھیلی۔

ظہیر عباس (1979ء)

1979ء کے ورلڈ کپ میں پاکستان کا ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیمی فائنل تھا۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے کھیلتے ہوئے 293 رنز بنائے۔ گورڈن گرینج نے 73، ڈیسمنڈ ہینز نے 65 اور رچرڈز نے 42 رنز بنائے۔

پاکستان کی طرف سے کپتان آصف اقبال نے چار کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔ پاکستان نے بلے بازی شروع کی تو ابتدا میں ہی صادق محمد دو رنز بنا کر آئوٹ ہو گئے۔

اس کے بعد ماجد خان اور ظہیر عباس نے زبردست بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ ویسٹ انڈیز کے پاس کرافٹ، گارنر، رابرٹس اور ہولڈنگ جیسے خطرناک بائولرز تھے لیکن ماجد خان اور ظہیر عباس نے اتنی شاندار بلے بازی کی کہ ویسٹ انڈیز کے تیز رفتار بائولرز کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔

انہوں نے دلکش سٹروک پلے کا مظاہرہ کیا اور سکور کو 10 سے 197 تک لے گئے۔ اس موقع پر لگ رہا تھا کہ اب یہ میچ پاکستان کے ہاتھ آ گیا ہے لیکن جونہی ماجد خان اور ظہیر عباس بالترتیب 84 اور 93 رنز بنا کر آئوٹ ہوئے۔ میچ کا پانسہ ہی پلٹ گیا۔ ٹیم کے باقی آٹھ کھلاڑی صرف 53 رنز بنا سکے۔ کرافٹ نے تین اور رابرٹس نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ویوین رچرڈز نے تین کھلاڑیوں کو آئوٹ کر دیا۔

عمران خان (1983ء)

1983ء کے ورلڈ کپ میں عمران خان زخمی ہونے کے باعث بائولنگ نہ کرا سکے لیکن انہوں نے کپتانی کے فرائض سرانجام دئیے اور اس کے علاوہ بلے بازی بھی بہت اچھی کی۔

سری لنکا کے خلاف میچ میں انہوں نے سنچری بنائی۔ پاکستان کی پوزیشن خراب تھی لیکن انہوں نے شاہد محبوب کے ساتھ مل کر کمال کی بلے بازی کی۔

یہ میچ لیڈز میں کھیلا گیا۔ پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 7 وکٹوں پر 235 رنز بنائے۔ پاکستان کی طرف سے محسن خان 3، منصور اختر 6، ظہیر عباس 15 اور جاوید میاں داد صرف 7 رنز بنا کر پیولین لوٹ گئے۔

اس موقع پر عمران خان نے میدان سنبھال لیا۔ انہوں نے فاسٹ بائولرز شاہد محبوب کے ساتھ مل کر یادگار اننگز کھیلی۔ انہوں نے صحیح معنوں میں کیپٹن اننگز کھیلی اور 102 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے۔

شاہد محبوب نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا اور 77رنز بنائے۔ سری لنکا کی طرف سے ڈی میل نے 5 وکٹیں حاص لکیں۔ سری لنکا نے بلے بازی شروع کی تو پوری ٹیم 224 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔ عبدالقادر نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ عمران خان کی اننگز ورلڈکپ میچوں کی بہترین اننگز میں شمار ہوتی ہے۔


کپل دیو(1983ء )

1983ء کے ورلڈکپ میچ میں بھارت نے زمبابوے کے خلاف پہلے بلے بازی کرتے ہوئے آٹھ وکٹوں پر 266 رنز بنائے لیکن ان 266 رنز میں کپیل دیو کے 175 رنز شامل تھے۔

کپل دیو کی یہ اننگز بڑی زبردست تھی۔ سنیل گواسکر، سری کانت، امرناتھ، سندیپ پائل اور شرما بالکل معمولی سکور پر آئوٹ ہو چکے تھے اور لگ رہا تھا کہ بھارت شائد 100 رنز بھی نہ بنا پائے گا لیکن پھر بھارتی ٹیم کے کپتان کپل دیو آئے اور انہوں نے آتے ساتھ ہی مار دھاڑ شروع کر دی۔

انہوں نے ناقابل یقین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کا سکور 266 تک پہنچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ جواب میں زمبابوے کی ٹیم نے بھی مقابلہ کیا اور 235 رنز بنا ڈالے۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر کپل دیو 175 رنز نہ بناتے تو بھارت کی اس میچ میں شکست یقینی تھی۔

انضمام الحق (1992ء)

انضمام الحق نے نیوزی لینڈ کی خلاف سیمی فائنل میں جس پامردی سے بلے بازی کی وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ پاکستان اس سے پہلے نیوزی لینڈ کو لیگ میچ میں ہرا چکا تھا لیکن سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ نے شاندار کھیل پیش کیا۔

ویسے بھی اس ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کے سوا ہر ٹیم کو شکست سے ہمکنار کیا تھا لیکن یہ پاکستان تھا جس نے نیوزی لینڈ کو لیگ میچ میں آٹھ وکٹوں سے شکست دی اور پھر سیمی فائنل میں پہنچ گیا۔

یہ سیمی فائنل آک لینڈ میں ہوا۔ نیوزی لینڈ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 262 رنز بنائے۔ کپتان مارٹن کرو اور ردر فورڈ نے اعلیٰ درجے کا کھیل پیش کیا اور بالترتیب 91 اور 50 رنز بنائے۔

انضمام الحق نے تاریخی اننگز کھیلی اور 37 گیندوں پر 60 رنز بنائے۔ جاوید میاں داد نے 57 رنز بنائے۔ وہ انضمام کی رہنمائی کرتے رہے۔ بہرحال پاکستان یہ سیمی فائنل جیت کر فائنل میں پہنچ گیا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?