ورلڈ کپ: ماضی کی یادگار اننگز2

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,663
1,591
1,213
Lahore,Pakistan
ورلڈ کپ: ماضی کی یادگار اننگز2

اروندا ڈی سلوا (1996ء )

1996ء کا ورلڈ کپ سری لنکا کیلئے اس لئے یادگار ہے کہ اس نے یہ کپ جیتا۔ یہ فائنل میچ قذافی سٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوا۔ دوسری ٹیم آسٹریلیا تھا۔ 17 مارچ 1996ء کو ہونے والے اس میچ میں سری لنکا نے پہلے ٹاس جیت کر آسٹریلیا کو کھیلنے کی دعوت دی۔

سری لنکا کے بائولرز نے بڑی عمدہ بائولنگ کی اور آسٹریلیا 241 رنز ہی بنا سکا۔ سری لنکا کے کپتان رانا ٹنگا تھے جبکہ آسٹریلوی ٹیم کی کپتانی مارک ٹیلر کر رہے تھے۔

مارک ٹیلر نے 74 اور رکی پونٹنگ نے 45رنز بنائے۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں سری لنکا کے سپنرز نے بہت عمدہ بائولنگ کی۔ سری لنکا کی طرف سے جے سوریا اور کالووورانا بالترتیب 9 اور 6 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئے لیکن اس کے بعد گوروسنہا اور اروندا ڈی سلوا نے میدان سنبھال لیا۔

ڈی سلوا نے 107 رنز کی باکمال اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ گوروسنہا اور رانا ٹنگا نے بھی بالترتیب 65 اور 47 رنز بنائے۔ اروندا ڈی سلوا کی اس اننگز کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔

سٹیووا (1999ء)

ویسے تو آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کا 1999ء کا سیمی فائنل سب کو یاد ہے اور اسے سب سے بڑا ایک روزہ میچ کہا جاتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ میچ برابر ہو گیا تھا لیکن آسٹریلیا فائنل میں پہنچ گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لیگ میچ میں آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا تھا۔

اس لیگ میچ میں آسٹریلوی کپتان سٹیووا نے 201 رنز کی شاہکار اننگز کھیلی جس کی بنا پر آسٹریلیا نے یہ میچ جیت لیا۔ اس میچ کے دوران سٹیووا کا ایک کیچ ہرشل گبز نے چھوڑ دیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس پر سٹیووا نے گبز سے کہا تھا کہ تم نے میرا کیچ نہیں گرایا بلکہ ورلڈ کپ گرا دیا ہے۔ بہرحال سٹیووا نے دبائو میں یہ اننگز کھیلی تھی کیونکہ آسٹریلیا کے تین کھلاڑی 70 رنز پر آئوٹ ہو چکے تھے جبکہ جنوبی افریقہ نے سات کھلاڑیوں کے نقصان پر 271 رنز بنائے تھے۔ سٹیووا کی یہ اننگز واقعی ناقابل فراموش ہے۔

عبدالرزاق (1999ء)

آسٹریلیا کے خلاف پاکستان نے 1999ء کے ورلڈکپ میں جو لیگ میچ کھیلا وہ بھی ایک ایسا میچ تھا جو لوگوں کے ذہنوں سے ابھی تک محو نہیں ہوا۔ یہ ایک بڑا سخت میچ تھا جس میں پاکستان نے 10 رنز سے آسٹریلیا کو ہرایا۔ 1999ء کا ورلڈ کپ عبدالرزاق کا پہلا ورلڈکپ تھا اور وہ تیسرے نمبر پر بلے بازی کرنے آئے تھے۔

اس میچ میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 276 رنز بنائے جس میں انضمام الحق نے 81، عبدالرزاق نے 60، محمد یوسف نے 12 گیندوں پر 29 اور معین خان نے 12 گیندوں پر 31 رنز بنائے۔

ان سب نے آسٹریلوی بائولرز کی خوب پٹائی کی جن میں گلین میگرا اور شین وارن بھی شامل تھے۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ جس نے متاثر کن اننگز کھیلی اس نوجوان بلے باز کا نام تھا عبدالرزاق۔

یہ عبدالرزاق کی جارحانہ بلے بازی کا شاخسانہ تھا کہ آسٹریلوی تبصرہ نگار بھی داد دینے پر مجبور ہو گئے۔ مشہور تبصرہ نگار ٹونی گریگ نے کہا کہ ابتدائی تین کھلاڑیوں کے جلد آئوٹ ہونے کے باوجود وہ آسٹریلوی بائولروں کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔ عبدالرزاق کی یہ جرات مندانہ اننگز ان کی زندگی کی بہترین اننگز میں سے ایک ہے۔

سچن ٹنڈولکر (ء 2003)

اس ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ بہت اہمیت اختیار کر گیا تھا کیونکہ پاکستان کو اس میچ کے جیتنے کی بہت ضرورت تھی۔ وجہ یہ تھی کہ پاکستان ورلڈ کپ کے میچوں میں بھارت کو شکست نہیں دے سکا تھا۔ ویسے تو بعد کے ورلڈ کپ میچوں میں بھی پاکستان بھارت کو زیر نہیں کر سکا اور 2019ء کے ورلڈ کپ میچ میں بھی بھارت جیت گیا۔

بہرحال 2003ء کے ورلڈ کپ میچ میں پاکستان نے 273 رنز بنائے۔ یہ اچھا خاصا سکور تھا اور سعید انور نے دلکش بلے بازی کرتے ہوئے سنچری بنائی تھی لیکن جواب میں بھارت نے پاکستان سے بھی اچھی بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ میچ جیت لیا۔

اس میں سچن ٹنڈولکر کی زبردست بلے بازی کا بڑا ہاتھ تھا۔ انہوں نے وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کی بائولنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور چھ وکٹوں سے فتح اپنے نام کی۔

بھارت کے سہواگ اور گنگولی 21 اور صفر پر آئوٹ ہو چکے تھے لیکن ٹنڈولکر نے 81 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ بعد میں محمد کیف نے 35، ڈریوڈ نے 44 اور یووراج سنگھ نے 50 رنز بنا کر فتح کو آسان بنا دیا۔ سچن ٹنڈولکر کی اس اننگز کو بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔

ایم ایس دھونی (2011ء)

1983ء کے ورلڈ کپ کے بعد بھارت نے 2011ء کا ورلڈ کپ بھی اپنے نام کیا۔ اس ورلڈ کپ میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان فائنل کھیلا گیا۔ اس میچ میں سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے 6 وکٹوں پر 277 رنز بنائے جس میں جے وردھنے نے شاندار سنچری بنائی۔

جواب میں بھارت نے چار وکٹیں کھو کر 277 رنز بنا کر یہ فائنل جیت لیا۔ اگرچہ افتتاحی بلے باز وریندر سہواگ صفر اور سچن ٹنڈولکر 18 رنز پر آئوٹ ہو چکے تھے لیکن بعد میں گوتم گھمبیر نے 97 رنز بنا کر ٹیم کو سنبھالا دیا لیکن ایم ایس دھونی نے صحیح معنوں میں ٹیم کو جیت کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے 91 رنز بنائے۔

اس وقت ان کی طرف سے ایسی اننگز کھیلنا بہت ضروری تھا کیونکہ بھارت کی پوزیشن اس وقت کچھ اتنی اچھی نہیں تھی۔ دھونی کی یہ اننگز بھی ورلڈکپ میچوں کی بہترین اننگز میں شامل ہے جس کی تحسین کی جانی چاہیے۔
 
Top
Forgot your password?