وزیر آباد: اسلحہ سازی کاقدیم مرکز یہاں توپیں تک بنتی تھیں، فوجی چھاؤنی بھی بنائی گئی تھی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,862
8,957
1,313
Lahore,Pakistan

وزیر آباد: اسلحہ سازی کاقدیم مرکز یہاں توپیں تک بنتی تھیں، فوجی چھاؤنی بھی بنائی گئی تھی
116614

اسد سلیم شیخ
ضلع گوجرانوالہ کا تاریخی شہر اور تحصیل وزیر آباد، لاہور سے 93 کلومیٹر اور گوجرانوالہ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ پر دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ اس کے پڑوسی شہر ہیں۔ وزیرآباد کی بنیاد نواب وزیر خاں نے رکھی تھی جو عہد شاہجہاں میں لاہور کا صوبے دار تھا۔ اس نے اسے آباد کر کے اپنے نام پر اس کا نام وزیر آباد رکھا اور ایک جامع مسجد عالیشان لاہور میں تعمیر کرائی جو مسجد وزیر خاں کے نام سے مشہور ہے۔ وزیر خاں چنیوٹ کا رہنے والا تھا اور اصل نام علیم الدین تھا۔ طبیب اور حاذق تھا۔ جہانگیر کی ملکہ نورجہاں کا کامیاب علاج کر کے دربار شاہی میں مقام حاصل کیا تھا۔ اپنی آبادی سے لے کر آج تک یہ شہر ویران نہیں ہوا۔ البتہ اس پر بہت سی آفتیں وارد ہوتی رہیں جب افغان حملہ آور پنجاب پر حملہ کرتے تو لاہور سے پہلے اس شہر کو لوٹا جاتا۔ 1651ء میںشدید بارشوں کے باعث پورا پنجاب سیلاب کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ بادشاہ شاہجہاں کشمیر جا رہا تھا جب اُس نے صورتِ حال دیکھی تو اپنے وزیر اعظم سعداللہ خاں کو معاملات کی درستگی کے لیے وزیر آباد میں چھوڑا۔ نواب سعداللہ خاں نے یہاں کچھ ماہ قیام کر کے کسانوںکے نقصان کی تحقیق کی۔ ان کا ازالہ کرنے کی پوری سعی کی اور مالیہ کے معاملات کو درست کیا۔ رنجیت سنگھ تین بار اس شہر پر حملہ آورہوا ۔ فقیر عزیزالدین ایک بڑی فوج لے کر رنجیت سنگھ کے حکم سے اس پر حملہ آور ہوا۔ سردار مغلوب ہوئے اوراس شہر پر رنجیت سنگھ کی عملداری ہو گئی۔ نواب وزیر خاں نے اس شہر کے گرد ایک فصیل بنوائی تھی جس کے مختلف دروازے تھے۔ گجراتی دروازہ، رسولنگری دروازہ اور لاہوری دروازہ وغیرہ۔ رنجیت سنگھ کے ایک مقرب دیوان حکمت رائے نے وزیر آباد میں ایک شیش محل بنوایا تھا جس پر اس دور میں 80 لاکھ کے لگ بھگ خرچ آیا تھا۔ اس عمارت کے لیے شیشے باہر سے منگوائے گئے تھے۔ اس کے ساتھ پائیں باغ اور بارہ دریاں بھی تھیں۔ آج اس عظیم الشان باغ کے محض آثار دکھائی دیتے ہیں۔ فرانسیسی جنرل ابوطویلہ نے اس کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اُس نے چوپڑ کا بازار اور شہر پناہ تیار کروائی۔ پلکھو نالہ کے کنارے ثمن برج نامی رہائش تعمیر کی۔ اس کے پاس ایک باغ اور بارہ دری بھی تعمیر ہوئی۔ رنجیت سنگھ کے زمانے میں کئی اور اہم لوگوں نے بھی وزیر آباد کے نواح میں شاندار باغات بنوائے۔ اس سلسلے میں دیوان کرپارام، جمعدار خوشحال سنگھ اور اُتم سنگھ کے باغات کا خاص طور پر ذکر کیا جاتا ہے جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان دنوں یہ شہر اسلحہ سازی کا مرکز بن چکا تھا اور یہاں توپیں تک بنتی تھیں۔ حالات میں تبدیلی کے سبب آہستہ آہستہ یہ صنعت بالکل ختم ہو گئی۔ انگریزوں کے قبضے کے بعد یہاں مسٹر جان انگلسن نے ایک سرائے اور چاہ بنوایا۔ برطانوی عہدِ حکومت کے ابتدائی دور میں وزیر آباد میں ایک بہت بڑی فوجی چھائونی بھی قائم کی گئی تھی۔ اس کا ثبوت وزیر آباد میں یورپی باشندوں کے دو قبرستانوں سے ملتا ہے جو آج بھی موجود ہیں۔ دریائے چناب پر لوہے کا پل بنایا گیا جس پر سے ریل گزرتی ہے۔ انگلستان کے ولی عہد نے خود یہاں آ کر اس پُل پر چاندی کی ایک میخ گاڑی تھی۔ 1904ء میںیہاں شفاخانہ، ڈاک خانہ، سرائے اور پادریوں کا مدرسہ تھے۔ ایک اسلامیہ سکول تھا جسے قاضیوں کا مدرسہ کہتے تھے۔ شروع شروع میں وزیرآباد ضلع مقام قرار پایا تھا پھر 1851ء میں سیالکوٹ مقرر ہوا اور یہ قصبہ اس کی ایک تحصیل مقرر ہوا۔ پھر 1852ء میں یہ تحصیل ضلع گوجرانوالہ میں شامل کر دی گئی۔ سانحہ جلیانوالہ باغ امرتسر کے بعد جب 1919ء میں پورے پنجاب میں ہنگامے ہوئے تو وزیر آباد میں بھی لوگوں نے ہڑتال کی اور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ریل کی پٹڑی کو نقصان پہنچایا اور انگریز پادری بیلی رام کے گھر پر دھاوا بول کر اس کے علمی خزانے کو جلا ڈالا۔ نتیجتاً گرفتاریاں ہوئیں۔ ڈاکٹر دولت رام اور سردار جمعیت سنگھ بھی گرفتار ہوئے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے وزیرآباد میں کوہستانی لکڑی کی بہت بڑی منڈی تھی۔ 1881ء میں اس شہر کی آبادی16464 افراد پر مشتمل تھی۔ جبکہ1931ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 27079 نفوس تھی۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق تحصیل وزیرآباد کی آبادی 830,396 افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں کے بنے ہوئے چاقو، چھریاں، کٹلری کا سامان مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ امریکہ اور یورپ برآمد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں پریشر کُکر بنانے کا آغاز اسی شہر سے ہوا۔ چاول چھڑنے کا ایک بڑا کارخانہ وزیر آباد ہی میں ہے۔ ایک ربڑ فیکٹری بھی اہم ہے جس کا تیار کردہ ربڑ کا سامان ملک او ربیرون ملک اپنے معیار کی وجہ سے معروف ہے۔ پاکستان آرمی کے نئے ٹینک ’’الخالد‘‘ میں ربڑ کے تمام سپیئر پارٹس اسی فیکٹری کے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں کا تھانہ 1851ء میںبنا تھا۔ 1935ء میں یہ دوحصوں یعنی تھانہ صدر اور تھانہ سٹی میں تقسیم ہو گئے۔ یہاں کی تاریخی عمارات میں ثمن برج، شیش محل، بشر شاہ کی چوکی، بائولی اور گورو دا کوٹھا قابلِ ذکر ہیں۔ ثمن بُرج کی عمارت فرانسیسی جرنیل ابوطویلہ نے اپنی رہائش کے لیے نالہ پلکھو کے کنارے تعمیر کی تھی۔ اس عمارت کے گرد ایک وسیع باغ تھا جسے طرح طرح کے درختوںاور پھولدار پودوں کے ساتھ ساتھ خوبصورت رَوشوں اور ان کے بیچوں بیچ دن رات جلترنگ بجاتے ہوئے فواروں سے سجایا گیا تھا لیکن رنجیت سنگھ کی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی اس عمارت کی یہ حیثیت ختم ہو گئی۔ ان دنوں یہ عمارت پانچ حویلیوں اور چھ ایکڑ باغ پر مشتمل تھی جو راجہ رحیم اللہ کے چھوٹے بھائی راجہ فقیر اللہ نے 1855ء میں چھ ہزار روپے میں خریدی تھی۔ نسل در نسل تقسیم نے اس کی صورت بگاڑ کر رکھ دی ہے البتہ کچھ عمارتوں کا ڈھانچہ ابھی تک اصل شکل میں موجود ہے۔ وہ کمرہ جو رنجیت سنگھ کے قیام کے لیے مخصوص تھا ایک اسٹور کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس کی دیواروں پر سِکھ مصوّری کے بعض خوبصورت نمونے آج بھی موجود ہیں۔ شیش محل نامی عمارت رنجیت سنگھ کے ایک درباری دیوان حکمت رائے نے اپنی رہائش کے لیے تعمیر کی تھی۔ اب یہ خستہ حال ہو چکی ہے۔ تقسیمِ ملک کے وقت مہاجرین اس محل کے مختلف حصوںپر قابض ہو گئے انہوں نے اس کا حُلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ گورو دے کوٹھے کا علاقہ محکمہ اوقاف کی ملکیت ہے تاہم اس کی تقدیس اور شان و شوکت قِصّہ پارینہ بن چکی ہے۔ ملک کی کئی نامور سیاسی، سماجی، علمی اور اَدبی شخصیات کا تعلق وزیر آبادسے رہا ہے۔ خود اس شہر کے بانی نواب وزیر خاں ایک بڑے طبیب او رعالم فاضل تھے۔ سیّد احمد شہید کی تحریک کے آخری امیر مولوی فضل الٰہی، تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنما اور نامور صحافی مولانا ظفر علی خاں، مولانا حامد علی خاں، جسٹس ایس اے رحمن، کرشن چندر،مولوی محمد عابد وزیر آبادی، پنجابی شاعر نذر مولا، محمد رمضان وزیر آبادی، ناول نگار رضیہ بٹ، قائد اعظمؒ کے پولیٹکل سیکرٹری محمد شریف طُوسی، جسٹس جواد ایس خواجہ، منو بھائی اور سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ کا تعلق سرزمین وزیر آباد سے ہے۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?