1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.

ولیمے کا وقت

Discussion in 'Islam' started by Sudes, Mar 29, 2018.

  1. Sudes

    Sudes
    Expand Collapse
    Newbie

    Joined:
    Mar 9, 2018
    Messages:
    18
    Likes Received:
    0
    سوال: کیا شادی کے بعد میاں بیوی کے اکٹھے ہونے (شبِ زفاف گزارنے) سے پہلے ولیمہ کرنا ثابت ہے؟ [حافظ طارق مجاہد یزمانی]

    الجواب: سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (اپنی ) ایک زوجہ کے ساتھ شبِ زفاف گزاری پھر مجھے بھیجا تو میں نے لوگوں کو (ولیمے کے) کھانے پر بلایا۔ (صحیح بخاری: ۵۱۷۰)امام بیہقی نے اس حدیث پر‘‘باب وقت الولیمۃ’’ کا باب باندھ کر یہ اشارہ کیا ہے کہ میاں بیوی کے اکٹھے ہونے اور شبِ زفاف گزارنے کے بعد ولیمہ کرنا چاہیئے۔ ایک دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی زوجہ مبارکہ صفیہ ؓ کے ساتھ شبِ زفاف کی تین راتیں گزاریں اور سیدنا انس ؓ نے لوگوں کو ولیمے کے لئے بلایا۔(دیکھئے صحیح بخاری: ۵۱۵۹) لہٰذا مسنون یہی ہے کہ رخصتی اور شبِ زفاف گزارنے کے بعد (تین دنوں کے اندر اندر) ولیمہ کیا جائے۔ (۲۷دسمبر ۲۰۰۶ء)


    یہ مضمون توحید ڈاٹ کام سے لیا گیا ہے۔

     

Share This Page