پانی کی کمی کا شکار زرعی ملک تحریر : عبدالماجد قریشی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,519
8,486
1,313
Lahore,Pakistan
پانی کی کمی کا شکار زرعی ملک تحریر : عبدالماجد قریشی

پاکستان پانی کے سنگین بحران کا شکار ہے ۔ہمارے دریا خشک ہورہے ہیں ۔ ڈیمز کی کمی سے سیلاب کا29ایم اے ایف اور دریائوں کا اضافی پانی ضائع ہو جاتا ہے ۔بحران کا ایک اور سبب آبادی اور اربنائزیشن میں اضافہ ہے۔ پانی کی ناقص منصوبہ بندی بحران سے نبٹنے میں ، سیاسی ارادوں کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیاں بھی اس کے دوسرے عوامل ہیں۔چند برس قبل سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں بھی کراچی کے 91فیصد پانی کو غیر محفوظ قرار دیا گیا تھا۔ جبکہ غریب ترین علاقوں کے رہائشیوں کو 50لیٹر کی یومیہ ضرورت کے مقابلے میں 10لیٹر پانی ملتا ہے۔

کالا باغ ڈیم نہ بننے کا زیادہ نقصان جنوبی پنجاب اور بلوچستان کوہوگا

آزادی کے وقت پاکستان میں ایک فرد کو سالانہ 5600کیوبک فٹ پانی میسر تھا جو آج کم ہوکر 1017کیوبک فٹ سالانہ رہ گیا ہے۔ آج پاکستان میں1.60 کروڑ پاکستانی غیر محفوظ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ہم دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہیں جہاں کے زیادہ تر لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ہر تین میں سے ایک سکول میں پینے کے لئے پانی میسر نہیں۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق 40 فیصد سے زیادہ بیماریاں پانی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔اس صورتحال میں ہماری حکومت نے وعدہ کیا ہے۔ 2030 اپنے تمام شہریوں کو صاف پانی اور سینٹیشن کی سہولت فراہم کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے صاف سرسبز پاکستان مہم شروع کی ہے ۔اس کے بہتر نتائج سامنے آ ئیںگے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کو پانی کی اشد ضرورت ہے مگر یہاں ہر سال دریاؤں کا قیمتی پانی سمندر کی نظر ہوجاتا ہے۔ گذشتہ کئی عشروں سے ڈیموں کی تعمیر کا شور تو ڈالا گیا مگر انہیں متنازعہ بھی بنا دیا گیا۔ تربیلا ڈیم سے قبل کالاباغ ڈیم کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مگر نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر اس کی تعمیر مؤخر کر دی گئی۔ اس عرصہ میں کئی نئے ڈیم بن سکتے تھے مگر ہر حکومت نے معیشت کے اس اہم پہلو پر سامنے رکھنے کی بجائے اس پر توجہ بھی نہ دی۔ سستی آبی بجلی پیدا کرنے کی بجائے کوئلہ اور تھرمل سے مہنگی بجلی کے پلانٹ لگائے گئے جس سے ماحول بھی آلودہ ہوتا ہے اور عوام کو بجلی کے بھاری بل بھی دینے پڑتے ہیں۔

بھارت کی آبی جارحیت ایک طرف ، کیا ہمیں اس سے ہٹ کر بھی خیال آیا کہ ہم پانی کی ضروریات کیسے پوری کر سکتے ہیں۔ کیا ہم اپنے دستیاب پانی پر ڈیمز نہیں بنا سکتے تھے۔ کالا باغ ڈیم اگر وقت پر بن گیا ہوتا تو نہ صرف پانی بلکہ بجلی کا مسئلہ بھی کافی حد تک سنور گیا ہوتا اور اب تک ڈیم کی عمر بھی 30 سے 35 سال ہو چکی ہوتی۔ اس کے بعد مہمند ڈیم، بھاشا ڈیم ، داسو ڈیم یہ وہ بڑے ڈیمز تھے جو اپنے وقت پر تعمیر ہو گئے ہوتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ مگر افسوس صد افسوس خود ہم پر کہ ہم نے اپنے ہی پاؤں پر کلھاڑی ماری اور ڈیمز نہ بنائے۔

کہا جاتا رہا ہے کہ بھاشا، منڈا، کالا باغ، اکوڑی اور کریم تنگی سمیت سب ڈیم بنیں گے وہ پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جائیں گے۔ بلاشبہ آبی ذخائر کی تعمیر بارے اہم منصوبوں اور سفارشات کی پروا نہ کر کے مجرمانہ چشم پوشی کی گئی ہے اور نتیجتاً اب صاف نظر آرہا ہے کہ اگر آج ہمیں پانی کی کمی کا سامنا ہیتو اس کی ؓری وجہ کالا باغ ڈیم کی عدم تعمیر ہے یہ ڈیم7 سال میں مکمل ہو سکتا ہے۔سالانہ 6.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرکے 3600 میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم نہ بننے سے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کو سب سے زیادہ نقصان ہے۔

اس کے علاوہ اس سے پیدا ہونے والی بجلی سندھ اور خیبر پختونخواہ میں بھی استعمال کی جائے گی۔ ڈیم پر سندھ اور خیبر پختونخواہ کے اعتراضات بے بنیاد ہیں ۔ ان علاقوں کے کچھ سیاستدان ہمسایہ دشمن ملک کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں۔ دشمنوں سے مالی امداد لے کر وہ پاکستان کو بنجر بنانا چاہتے ہیں۔ اسی پیسے کے بل بوتے پر وہ عوام کو کالا باغ ڈیم کی مخالفت پر اکساتے ہیں۔ یہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے تاکہ ملک مکمل طورعالمی مالیاتی اداروںپر انحصارکرے۔ بھارت سندھ طاس معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ بھی کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر حل نہ کروانا اسی سازش کا حصہ ہے کیونکہ دریائے جہلم، چناب،نیلم، وولر جھیل اور دریائے سندھ کا پانی کشمیر سے ہی آرہا ہے۔ اسی لئے قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔

نجانے سندھ کو کالا باغ ڈیم بننے پر کیوں اعتراض ہے۔ کچھ سندھی لیڈر اس مخالفت میں پیش پیش ہیں جن کے پاس اس کی مخالفت کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں۔ جب منگلا اور تربیلا ڈیم بن رہے تھے تو یہی لوگ اس وقت بھی واویلا مچا رہے تھے مگر دونوں ڈیم بن جانے کے بعد سندھ کو ملنے والا پانی دگنا ہوا اور کالا باغ ڈیم بننے کے بعد سندھ کو ملنے والے پانی میںمزید اضافہ ہی ہوگااور دریائے سندھ کا بہاؤ بھی جاری رہیگا ۔ ڈیم بننے سے مون سون کی بارشوں کا پانی ڈیم میں سما جائے گا جہاں ا س سے چھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور یوں وطن عزیز کو لوڈ شیڈنگ سے بھی نجات مل جائے گی۔ کالاباغ ڈیم نہ بنا تو یہ معاشی خود کشی کے مترادف ہوگا۔ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوگی۔

اگر ڈیم نہ بنے تو ہماری زراعت تباہ ہو جائے گی۔ یہ پاکستان کا نقصان ہے کیونکہ اگر سندھ کی زراعت ختم ہوگئی تو لوگ بھوکے مریں گے۔ واپڈا کے حکام کا کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری میں اپنے تجربہ کو بھی بروئے کار لائیں گے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد سے بعض ایسے افراد بھی ساڑھے بارہ ایکڑ زرعی اراضی کے مالک بن جائیں گے جن کے پاس اس وقت ایک یا نصف ایکڑ کے لگ بھگ اراضی ہے۔

ان لوگوں کو جو اراضی ملے گی وہ نہری نظام سے منسلک ہوگی۔ متاثرین کالاباغ ڈیم کو ان کو موجودہ رہائش کے قریب ہی جدید طرز کے دیہات میں آباد کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر 47 گاؤں آباد کئے جائیں گے جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو رہائشی پلاٹ فراہم کئے جائیں گے۔ گاؤں کی آبادی کیلئے ضروری سہولتیں اور ذرائع روزگار بھی حکومت فراہم کرے گی۔ لوگوں کو فنی تربیت کی سہولتیں بچوں کیلئے تعلیم اور علاج معالجہ کا بھی انتظام ہوگا اور صاف پینے کا پانی اور گندے پانی کے نکاس کا بھی بندوبست ہوگا۔ یہ تیکنیکی معاملہ ہے اسے سیاسی نہ بنائیں۔ اسے ماہرین پر چھوڑ دیا جائے۔ ملک بھر کے انجینئر اور ڈیموں کے ماہرین اس سلسلہ میں جو بھی فیصلہ کریں گے اس کے قبول کر لیا جائے۔ ڈیمز کی تعمیر بہت ضروری ہے کیونکہ سیلاب کا جو تجربہ قوم کو ہوا ہے اب دوبارہ ایسا تجربہ برادشت کرنے کی سکت نہیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?