پاکستان کے خوبصورت ترین ریلوے سٹیشن یہ تمام سٹیشن برطانوی راج میں قائم ہوئے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
پاکستان کے خوبصورت ترین ریلوے سٹیشن یہ تمام سٹیشن برطانوی راج میں قائم ہوئے
115545

عبد الحفیظ ظفر

ویسے تو دنیا بھر میں ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت اور پر شکوہ ریلوے سٹیشن ہیں جن کی ہر حال میں تعریف کرنا پڑتی ہے لیکن اپنے ملک پاکستان میں بھی ایسے ریلوے سٹیشن ہین جن کی دلکشی اور خوبصورتی دیکھ کر کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پہلے اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ سب سٹیشن برطانوی راج میں قائم کئے گئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر انگریز حکمران کو یہاں ریل کی پٹری بچھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انگریز کراچی کو برصغیر کا اہم ساحلی علاقہ بنانا چاہتے تھے تاکہ یہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے تجارتی اشیاء باہر بھجوائی جاسکیں۔ جو ریل کی پٹری بچھائی گئی وہ ملک کے دیگر شہروں کو کراچی سے ملاتی ہے ۔ ریل کی پٹری بچھانے کا نظریہ 1847 میںپیش کیا گیا جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت تھی ۔ 1861میں عوام کے لئے ریل کے نظام کا افتتاح کردیا گیا۔ اس وقت مکمل طور پر ہندوستان پر برطانوی راج قائم ہوچکا تھا ۔ آخری مغل بادشاہ رنگون میں قید تھے اور 1862میں ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ ذیل میں پاکستان کے ان ریلوے سٹیشنز کا تذکرہ کیا جارہا ہے جنہیں ماہر تعمیرات نے اس خوبصورت طریقے سے بنایا کہ آج بھی ان کے فن کو داد دینے کو جی چاہتا ہے ۔ کوئٹہ ریلوے سٹیشن یہ خوبصورت ریلوے سٹیشن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہے اور اسے انگریزوں نے1887 میں تعمیر کیا تھا۔ یہ روہڑی چمن ریلوے لائن پر واقع ہے ۔ بہت سی ایکسپریس اور دوسری مسافر ریل گاڑیاں کوئٹہ سے بلوچستان کے مختلف شہروں کو جاتی ہیں ۔ برطانیہ کو خطرہ تھا کہ کہیں روس افغانستان کے راستے کوئٹہ میں داخل نہ ہوجائے ۔ اس طرح جنوبی ایشیا میں اس کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔1857 میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ درہ بولان کے ذریعے ریلوے لائن بچھا دی جائے ۔ 18ستمبر 1879 کو اس پر کام شروع کردیا گیا اور چار مہینے بعد رک سے لے کر سبی تک 215کلومیٹر لمبی ریل کی پٹری بچھادی گئی۔مارچ 1887 میں بہت مشکلات کے بعد ریلوے لائن کوئٹہ تک پہنچی ۔ اٹک ریلو ے سٹیشن یہ ایک تاریخی ریلوے سٹیشن ہے ۔ ضلع اٹک پنجاب میں واقع ہے اور اسے دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر تعمیر کیا گیا ۔ اسے 1883میں برطانوی حکومت نے بنایا۔ ایک طرف یہ کراچی تا پشاور ریلوے لائن پر واقع ہے اور دوسری طرف کوٹری سے اٹک ریلوے لائن بھی موجود ہے ۔ یہ جنکشن ہے اور یہاں سے دوسرے شہروں کو ریل گاڑیاں جاتی ہیں ۔ گولڑہ شریف ریلوے سٹیشن گولڑہ شریف ریلوے سٹیشن اور ریلوے میوزیم اسلام آباد میں واقع ہے ۔ یہ سٹیشن1882 میں تعمیر کیا گیا۔ 1912میں اسے جنکشن کا درجہ دے دیا گیا۔ یہ گولڑہ روڈ اسلام آباد میں واقع ہے اور کراچی پشاور ریلوے سٹیشن لائن پر ہے ۔ گولڑہ شریف ریلوے سٹیشن میں ایک شاندار عجائب گھر بھی ہے ۔ یہ عجائب گھر 2003میں قائم کیا گیا۔ لاہور ریلو ے سٹیشن یہ پاکستان کا سب سے بڑا ریلو ے سٹیشن مانا جاتا ہے اور جنکشن ہے ۔ اس سٹیشن کی عمارت پاکستان ریلوے کی ملکیت ہے ۔ یہ شاندار ریلوے سٹیشن 1859-60میں قائم کیا گیا۔ یہ برطانوی راج کے طرز تعمیر کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے ۔ اس سٹیشن پر مسافروں کے لئے بہت سی سہولتیں ہیں ۔ تقسیم ہند کے وقت جو فسادات ہوئے اس سے لاہور ریلوے سٹیشن کی عمارت کو خاصا نقصان پہنچا ۔ اسے میاں محمد سلطان چغتائی نے تعمیر کیا جو پہلے مغلیہ سلطنت کے اہلکار تھے ۔ رک ریلوے سٹیشن یہ خوبصورت اور دلکش ریلو ے سٹیشن سکھر اور شکار پور کے درمیان واقع ہے ۔ اسے انیسویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔ اس ریلوے سٹیشن کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ قندھار تک پہنچاجائے اور پھر ہرات تک کا راستہ ہموار کیا جائے تاکہ وسط ایشیا تک پہنچا جائے ۔ بہت کم لوگوں کو رک ریلوے سٹیشن کی تاریخی اہمیت کا علم ہے ۔ لنڈی کوتل ریلوے سٹیشن یہ ایشیا کا سب سے اونچا ریلوے سٹیشن ہے ۔ یہ فاٹامیں ہے جو اب خیبر پختونخوا میں ضم ہوچکا ہے ۔ اسے 1925میں برطانوی دور میں تعمیر کیا گیا۔ پہاڑوں میں گھرا ہوا یہ ریلوے سٹیشن دلفریب منظر پیش کرتا ہے ۔ اپنی دلکشی کے باعث یہ پاکستان کے دیگر ریلوے سٹیشنز کے مقابلے میں منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ اب بات ہوجائے کچھ جدید طرز تعمیر والے سٹیشنز کی ان میں نارووال اور اوکاڑہ کے ریلوے سٹیشن اپنی مثال آپ ہیں ۔ یہ حال ہی میں تعمیر کئے گئے ہیں ان دونوں ریلوے سٹیشنز کا نقشہ ایک جیسا ہی ہے ۔ خوبصورت طرز تعمیر کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہیں ۔ نارووال کے ریلوے سٹیشن کی تعمیر نیسپاک کے انجینئرز نے کی ہے ۔ اس پر 539 ملین روپے خرچ کئے گئے ۔ سٹیشن کی پرانی عمارت برطانوی راج میں بنائی گئی تھی۔ ریلوے لائن کے اوپر مسافروں کے گزرنے کیلئے پل برطانوی دور کا تھا جو کہ اب تک اتنا مضبوط تھا کہ اس کا کچھ حصہ دوبارہ کارآمد بنایا گیا ہے ۔ ریلوے سٹیشن کا رقبہ 59046 مربع فٹ ہے ۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?