پرانے لوگ ❤

Siyaah_Posh

Active Member
بچپن میں جب امی بھائ کو دہی یا نہاری وغیرہ لینے بھیجتی تھیں تو ساتھ اسٹیل کا چھوٹا ڈول دیا کرتی تھیں
کہتی تھیں کہ ایک تو شاپنگ بیگ کے جراثیم نہیں لگتے
دوسرا کھانے پینے کی چیزیں اسطرح نمائش کرکے نہیں لاتے
پردہ رکھتے ہیں ۔
روٹی لینے بھیجتیں تو ساتھ دسترخوان دیا کرتی تھیں
وجہ پھر وہی کہ اخبار یا کاغذ کے جراثیم نہ لگیں اور پردہ بھی رہے
وہ کہتی تھیں یوں شاپر میں روٹی لانے سے روٹی کی
بےادبی ہوتی یے اور روٹی کا پردہ بھی نہیں رہتا۔
گھر کا سودا سلف لانے کے لئے کپڑے کے تھیلے سئیے جاتے تھے تاکہ سودا سلف عزت سے گھر لایا جا سکے
محلہ داروں کے گھر حتی کہ ایک ہی گھر کے مختلف پورشنز میں رہنے افراد ایک دوسرے کو کھانا بھیجتے تھے تو خوان کو خوان پوش سے ڈھک دیا کرتے تھے۔اب نام لو تو پہلے خوان پوش کا ہی مطلب سمجھانا پڑے گا ۔
یہی پردہ شیشیہ پر بھی ڈالا جاتا تھا ۔
امی کا کہنا یہ تھا کہ آتے جاتے آئینہ پر نظر نہیں پڑنی چاہیے
اس سے خود پسندی پیدا ہوتی ہے
کہیں سے آتے یا جاتے تھے تو پاپا گلی میں شور نہیں مچانے دیتے تھے خاص طور پر رات کو گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی تاکید کر دی جاتی تھی کہ گاڑی کا دروازہ بالکل آرام سے بند کرنا
اس میں دو لاجکس بیان کی جاتی تھیں کہ ایک تو کسی کی نیند خراب نہ ہو دوسرا ہر طرح کی نظر سے محفوظ رہیں ۔کیونکہ فیملی اکھٹا باہر نکلتی یے تو سو طرح کی نظر پڑتی یے ۔آج یہ بات کرو تو سب ہنستے ہیں ہم پر ۔

مزید ذکر کروں تو جب نانی کے گھر جاتے تھے تو انکے دروازے پر پردہ ڈلا ہوا ہوتا تھا
میں نانی سے کہتی کہ اس سے اچھے بھلے دروازے کی شو خراب ہوتی یے تو وہ کہتی تھیں اس سے گھر کا پردہ ہو جاتا یے ورنہ دروازہ کھولتے ہی باہر والے کی صحن میں بیٹھے افراد پر نظر پڑ جاتی ہے
حتی کہ نانی کا ٹی وی بھی دروازے والا تھا اور وہ ٹی وی بند کرتے ہی دروازے بند کرنے کا حکم دیتی تھیِں کہ اسکو بھی ڈھک کر رکھو
اب یہ پردہ کیا تھا
یہ وضع داری کا پردہ تھا
مروت کا پردہ تھا
یہ پردہ وہ تھا جو بے حیا ہونے سے بچاتا تھا
رزق کی اہمیت بڑھاتا تھا
رزق کی عزت کرنا سکھاتا تھا
اور اب یہ پردہ کہاں یے۔
اب یہ ہم سب کی عقلوں پر پڑ گیا یے۔ہمیں برائ، برائ نہیں لگتی
بے حیائ آہستہ آہستہ ہمارے گھروں میں جگہ بنا رہی یے
ہم اپنے باپ سے انتہائ بے تکلف تھے تب بھی ایک پردہ تھا
کیونکہ امی کہتی تھیں
باپ بیٹی میں
بہن بھائ میں بھی پردہ ہوتا ہے
تو قائم رہنا چاہیے
آج کسی کو کہو تو وہ طعنہ ہی مار دیتا ہے کہ جی آپ کے ابو آپکو پیار ہی نہیں کرتے ہونگے
بہرحال اپنی ذات تک تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ امی کی دی ہوئ سیکھ کو اپنے گھر میں ہمیشہ لاگو کر سکوں ۔
اسکے باوجود میں کپڑے کے تھیلہ میں سودا نہیں منگوا سکتی کہ یہ میرے بچوں کو منظور نہیں
اور زمانے کے ساتھ چلنا بھی ضروری یے تو اپنی بہت سے قیمتی روایات ہم لوگ اب کھو چکے ہیں
افسوس ۔
دعا یہی ہے کہ رشتوں کے جو بھرم اور پردے ہمارے مذہب نے بنائے ہیں ۔
ہم خود بھی ان پر عمل کر سکیں اور اپنی اولادوں کو بھی عمل کرنا سکھا سکیں
آمین
.
.
منقول
 

minaahil

Queen of dreams
Super Star
Nice sharing
بچپن میں جب امی بھائ کو دہی یا نہاری وغیرہ لینے بھیجتی تھیں تو ساتھ اسٹیل کا چھوٹا ڈول دیا کرتی تھیں
کہتی تھیں کہ ایک تو شاپنگ بیگ کے جراثیم نہیں لگتے
دوسرا کھانے پینے کی چیزیں اسطرح نمائش کرکے نہیں لاتے
پردہ رکھتے ہیں ۔
روٹی لینے بھیجتیں تو ساتھ دسترخوان دیا کرتی تھیں
وجہ پھر وہی کہ اخبار یا کاغذ کے جراثیم نہ لگیں اور پردہ بھی رہے
وہ کہتی تھیں یوں شاپر میں روٹی لانے سے روٹی کی
بےادبی ہوتی یے اور روٹی کا پردہ بھی نہیں رہتا۔
گھر کا سودا سلف لانے کے لئے کپڑے کے تھیلے سئیے جاتے تھے تاکہ سودا سلف عزت سے گھر لایا جا سکے
محلہ داروں کے گھر حتی کہ ایک ہی گھر کے مختلف پورشنز میں رہنے افراد ایک دوسرے کو کھانا بھیجتے تھے تو خوان کو خوان پوش سے ڈھک دیا کرتے تھے۔اب نام لو تو پہلے خوان پوش کا ہی مطلب سمجھانا پڑے گا ۔
یہی پردہ شیشیہ پر بھی ڈالا جاتا تھا ۔
امی کا کہنا یہ تھا کہ آتے جاتے آئینہ پر نظر نہیں پڑنی چاہیے
اس سے خود پسندی پیدا ہوتی ہے
کہیں سے آتے یا جاتے تھے تو پاپا گلی میں شور نہیں مچانے دیتے تھے خاص طور پر رات کو گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی تاکید کر دی جاتی تھی کہ گاڑی کا دروازہ بالکل آرام سے بند کرنا
اس میں دو لاجکس بیان کی جاتی تھیں کہ ایک تو کسی کی نیند خراب نہ ہو دوسرا ہر طرح کی نظر سے محفوظ رہیں ۔کیونکہ فیملی اکھٹا باہر نکلتی یے تو سو طرح کی نظر پڑتی یے ۔آج یہ بات کرو تو سب ہنستے ہیں ہم پر ۔

مزید ذکر کروں تو جب نانی کے گھر جاتے تھے تو انکے دروازے پر پردہ ڈلا ہوا ہوتا تھا
میں نانی سے کہتی کہ اس سے اچھے بھلے دروازے کی شو خراب ہوتی یے تو وہ کہتی تھیں اس سے گھر کا پردہ ہو جاتا یے ورنہ دروازہ کھولتے ہی باہر والے کی صحن میں بیٹھے افراد پر نظر پڑ جاتی ہے
حتی کہ نانی کا ٹی وی بھی دروازے والا تھا اور وہ ٹی وی بند کرتے ہی دروازے بند کرنے کا حکم دیتی تھیِں کہ اسکو بھی ڈھک کر رکھو
اب یہ پردہ کیا تھا
یہ وضع داری کا پردہ تھا
مروت کا پردہ تھا
یہ پردہ وہ تھا جو بے حیا ہونے سے بچاتا تھا
رزق کی اہمیت بڑھاتا تھا
رزق کی عزت کرنا سکھاتا تھا
اور اب یہ پردہ کہاں یے۔
اب یہ ہم سب کی عقلوں پر پڑ گیا یے۔ہمیں برائ، برائ نہیں لگتی
بے حیائ آہستہ آہستہ ہمارے گھروں میں جگہ بنا رہی یے
ہم اپنے باپ سے انتہائ بے تکلف تھے تب بھی ایک پردہ تھا
کیونکہ امی کہتی تھیں
باپ بیٹی میں
بہن بھائ میں بھی پردہ ہوتا ہے
تو قائم رہنا چاہیے
آج کسی کو کہو تو وہ طعنہ ہی مار دیتا ہے کہ جی آپ کے ابو آپکو پیار ہی نہیں کرتے ہونگے
بہرحال اپنی ذات تک تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ امی کی دی ہوئ سیکھ کو اپنے گھر میں ہمیشہ لاگو کر سکوں ۔
اسکے باوجود میں کپڑے کے تھیلہ میں سودا نہیں منگوا سکتی کہ یہ میرے بچوں کو منظور نہیں
اور زمانے کے ساتھ چلنا بھی ضروری یے تو اپنی بہت سے قیمتی روایات ہم لوگ اب کھو چکے ہیں
افسوس ۔
دعا یہی ہے کہ رشتوں کے جو بھرم اور پردے ہمارے مذہب نے بنائے ہیں ۔
ہم خود بھی ان پر عمل کر سکیں اور اپنی اولادوں کو بھی عمل کرنا سکھا سکیں
آمین
.
.
منقول
 

Fantasy

Hot Shot
بچپن میں جب امی بھائ کو دہی یا نہاری وغیرہ لینے بھیجتی تھیں تو ساتھ اسٹیل کا چھوٹا ڈول دیا کرتی تھیں
کہتی تھیں کہ ایک تو شاپنگ بیگ کے جراثیم نہیں لگتے
دوسرا کھانے پینے کی چیزیں اسطرح نمائش کرکے نہیں لاتے
پردہ رکھتے ہیں ۔
روٹی لینے بھیجتیں تو ساتھ دسترخوان دیا کرتی تھیں
وجہ پھر وہی کہ اخبار یا کاغذ کے جراثیم نہ لگیں اور پردہ بھی رہے
وہ کہتی تھیں یوں شاپر میں روٹی لانے سے روٹی کی
بےادبی ہوتی یے اور روٹی کا پردہ بھی نہیں رہتا۔
گھر کا سودا سلف لانے کے لئے کپڑے کے تھیلے سئیے جاتے تھے تاکہ سودا سلف عزت سے گھر لایا جا سکے
محلہ داروں کے گھر حتی کہ ایک ہی گھر کے مختلف پورشنز میں رہنے افراد ایک دوسرے کو کھانا بھیجتے تھے تو خوان کو خوان پوش سے ڈھک دیا کرتے تھے۔اب نام لو تو پہلے خوان پوش کا ہی مطلب سمجھانا پڑے گا ۔
یہی پردہ شیشیہ پر بھی ڈالا جاتا تھا ۔
امی کا کہنا یہ تھا کہ آتے جاتے آئینہ پر نظر نہیں پڑنی چاہیے
اس سے خود پسندی پیدا ہوتی ہے
کہیں سے آتے یا جاتے تھے تو پاپا گلی میں شور نہیں مچانے دیتے تھے خاص طور پر رات کو گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی تاکید کر دی جاتی تھی کہ گاڑی کا دروازہ بالکل آرام سے بند کرنا
اس میں دو لاجکس بیان کی جاتی تھیں کہ ایک تو کسی کی نیند خراب نہ ہو دوسرا ہر طرح کی نظر سے محفوظ رہیں ۔کیونکہ فیملی اکھٹا باہر نکلتی یے تو سو طرح کی نظر پڑتی یے ۔آج یہ بات کرو تو سب ہنستے ہیں ہم پر ۔

مزید ذکر کروں تو جب نانی کے گھر جاتے تھے تو انکے دروازے پر پردہ ڈلا ہوا ہوتا تھا
میں نانی سے کہتی کہ اس سے اچھے بھلے دروازے کی شو خراب ہوتی یے تو وہ کہتی تھیں اس سے گھر کا پردہ ہو جاتا یے ورنہ دروازہ کھولتے ہی باہر والے کی صحن میں بیٹھے افراد پر نظر پڑ جاتی ہے
حتی کہ نانی کا ٹی وی بھی دروازے والا تھا اور وہ ٹی وی بند کرتے ہی دروازے بند کرنے کا حکم دیتی تھیِں کہ اسکو بھی ڈھک کر رکھو
اب یہ پردہ کیا تھا
یہ وضع داری کا پردہ تھا
مروت کا پردہ تھا
یہ پردہ وہ تھا جو بے حیا ہونے سے بچاتا تھا
رزق کی اہمیت بڑھاتا تھا
رزق کی عزت کرنا سکھاتا تھا
اور اب یہ پردہ کہاں یے۔
اب یہ ہم سب کی عقلوں پر پڑ گیا یے۔ہمیں برائ، برائ نہیں لگتی
بے حیائ آہستہ آہستہ ہمارے گھروں میں جگہ بنا رہی یے
ہم اپنے باپ سے انتہائ بے تکلف تھے تب بھی ایک پردہ تھا
کیونکہ امی کہتی تھیں
باپ بیٹی میں
بہن بھائ میں بھی پردہ ہوتا ہے
تو قائم رہنا چاہیے
آج کسی کو کہو تو وہ طعنہ ہی مار دیتا ہے کہ جی آپ کے ابو آپکو پیار ہی نہیں کرتے ہونگے
بہرحال اپنی ذات تک تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ امی کی دی ہوئ سیکھ کو اپنے گھر میں ہمیشہ لاگو کر سکوں ۔
اسکے باوجود میں کپڑے کے تھیلہ میں سودا نہیں منگوا سکتی کہ یہ میرے بچوں کو منظور نہیں
اور زمانے کے ساتھ چلنا بھی ضروری یے تو اپنی بہت سے قیمتی روایات ہم لوگ اب کھو چکے ہیں
افسوس ۔
دعا یہی ہے کہ رشتوں کے جو بھرم اور پردے ہمارے مذہب نے بنائے ہیں ۔
ہم خود بھی ان پر عمل کر سکیں اور اپنی اولادوں کو بھی عمل کرنا سکھا سکیں
آمین
.
.
منقول
Beautiful :-bd
 
Top