پھول نگر (بھائی پھیرو)

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,578
1,481
1,213
Lahore,Pakistan
پھول نگر (بھائی پھیرو)

اسد سلیم شیخ

ضلع قصور کا قصبہ، لاہور ملتان روڈ پر لب شاہراہ پتوکی سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قصبہ بنیادی طور پر دوآبادیوں سے مل کر بنا۔ ایک آبادی ’’میاں کی‘‘ یا میاں کا موڑ نامی تھی۔ اسے موڑ سنگھ ایک سکھ نے آباد کیا تھا۔ بعد میں اس کی اولاد مسلمان ہوگئی اور اس کا نام ’میاں کا موڑ‘ رکھ دیا گیا۔ اسی دور ان سکھوں کے معروف رہنما سنگت یہاں آئے، جن کو گرو بھائی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ سکھ روایات کے مطابق اس زمانے میں یہاں ایک گھی کا تاجر سنگتیا رہا کرتا تھا۔ اس کا کاروبار خاصا وسیع تھا اور مال دُور دُور تک جاتا تھا۔ ایک بار اسے کچھ گھی کرتار پور بھجوانا تھا اور اس مقصد کے لیے اس نے یہ گھی مشکیزوں میں ڈال رکھا تھا کہ سکھوں کے ساتویں گورُو، گورُوہررائے کے ایک مُرید خاص نے اچانک وہاں پہنچ کر یہ سارا گھی خریدنے کی پیشکش کردی، سنگتیا کو کاروباری لحاظ سے یہ سودا سُودمند نظر آیا۔ چنانچہ اس نے گھی اس گاہک کے حوالے کر دیا اور اپنے مشکیزے خالی کر کے دکان میں لٹکا دئیے۔ اگلے روز سنگتیا اپنی دُکان پرپہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے مشکیزے پہلے کی طرح بھرے ہوئے ہیں۔ سنگتیا اسی اُلجھن میں گورو ہررائے کے پاس پہنچا اور اس بات کی تصدیق کے بعد کہ یہ سب ان ہی کی نظرِ کرم کا نتیجہ ہے وہ ان کا چیلا بن گیا۔ گوروہررائے نے اسے سکھ مذہب میں داخل کرلیا اور اس کا نیا نام ’’بھائی پھیرو‘‘ رکھا۔ بعد میں بھائی پھیرو نکّے میں محصولات جمع کرنے کے کام پر مامور ہوا۔ ابھی اس تقرری پر کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ محصولات کے کام میں بعض بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔ تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ تمام محصلوں میں سے صرف بھائی پھیرو کا حساب ہی ہر سقم سے پاک تھا جبکہ دیگر محصلین کسی نہ کسی شکل میں بے قاعدگی کے مرتکب ہوئے تھے۔ گوروہررائے بھائی پھیروکی دیانتداری سے بہت خوش ہوئے اور اسے ’’سچی داڑھی‘‘ کے خطاب اور ڈھیروں دُعائوں سے نوازا۔ بھائی پھیرو کا انتقال یہیں ہوا اور یہیں اس کا سمادھ بنا۔ بعد میں یہاں ایک گوردوارہ تعمیر کردیا گیا جو گوردوارہ سنگت صاحب کہلاتا ہے۔ اسی بھائی پھیرو کے نام پر بستی کا نام بھائی پھیرو مشہور ہو گیا۔ البتہ رفتہ رفتہ مذکورہ دونوں بستیاں باہم جڑ گئیں۔ کچھ برس قبل بھائی پھیرو کا نام تبدیل کر کے مقامی سیاستدان ’’رانا پھول محمد‘‘ کے نام سے پھولنگر رکھا گیا ہے۔ لیکن اب تک بھائی پھیرو ہی لوگوںکی زبان پر چڑھا ہوا ہے۔ بھائی پھیرو کے گوردوارے کو1922ء میں شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ 1924ء میں اس مسئلے پر دوبارہ جھگڑا پیدا ہوا تو درجنوں اکالی گرفتا کر لئے گئے۔ پھر روزانہ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ بالاآخر ایک عدالتی فیصلہ کے نتیجے میں ۱۹۳۱ء میں یہ گوردوارہ پر بندھک کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔ یہ گوردوارہ آج کل بھائی پھیروکے انارکلی بازار میں واقع ہے۔ یہ گوردوارہ تین مختلف ادوار میں تعمیر ہونے والی تین عمارتوں یعنی گوردوارے ، بھائی پھیرو کی سمادھ اور ایک چھوٹی سی الگ تھلگ سی عمارت میں منقسم ہے۔ یہ گوردوارہ اب شکستہ حالت میں ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے یہاں اروڑہ قوم کی اکثریت تھی اور قصبہ کے اندر ایک مندر بھی تھا۔ قیامِ پاکستان تک یہاں ہندوئوں کا میلہ لگتا تھا۔1947ء میں قیامِ پاکستان کے وقت یہاں کی تمام ہندو اور سکھ آبادی نقل مکانی کر کے بھارت چلی گئی اور ان کی جگہ مسلمان مہاجرین آکر آباد ہوگئے جو زیادہ تر راجپوت ہیں۔ یہاں کا تھانہ اور ڈاکخانہ1881ء سے پہلے قائم ہوچکے تھے۔ 1877ء میں اس کی آبادی1838نفوس پر مشتمل تھی اور یہاں445 گھر موجود تھے۔ یہاں طلبا و طالبات کے کالجز، ہائی سکول، تھانہ، ہسپتال، ڈاکخانہ دفتر بلدیہ وغیرہ موجود ہیں۔ مین بازار، غلہ منڈی، سبزی منڈی، ملتان روڈ، کوٹ رادھاکشن روڈ اور لمبے جاگیر یہاں کے اہم تجارتی مراکز جبکہ محلہ ڈاکخانہ بازار، رسولپورہ، میاں کی موڑ، کوٹ نذیر شاہ، کوٹ فضل شاہ، کوٹ دلیل سنگھ، کوٹ کھڑک سنگھ، محلہ جوٹیاں والا، عیدگاہ روڈ، جدہ ٹائون، خضر حیات ٹائون اور گلشن اقبال ٹائون وغیرہ اہم رہائشی علاقے ہیں۔

 
Top
Forgot your password?