چقندر کے طبی فوائد

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
چقندر کے طبی فوائد
117469

سعدیہ قمر
چقندر شلجم سے مشابہ ایک سبزی ہے، جو گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ اس کا رنگ اتنا تیز ہوتا ہے کہ جب اسے پکایا جاتا ہے تو ساری ہنڈیا سرخ ہو جاتی ہے۔ گہرے سرخ رنگ کی یہ سبزی نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے، بلکہ کئی امراض دور کرنے میں بھی مفید ہے۔ ایران میں اس کا رس شوق سے پیا جاتا ہے۔ آئرلینڈ کے لوگ اس کے پتے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ وہاں ڈنٹھل سمیت پکا کر کھانے کا رواج ہے۔ یہ صحت بخش سبزی کئی امراض سے چھٹکارا دلانے میں مدد دیتی ہے۔ قبض چقندر کھانے سے آنتوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث اجابت آسانی سے ہو جاتی ہے۔ اسے سلاد کی طرح یا روزانہ پکا کر کھایا جائے تو قبض سے نجات مل جاتی ہے۔ جن لوگوں کو دائمی قبض کی شکایت ہو، انہیں چاہیے کہ وہ روزانہ رات کو سوتے وقت آدھا گلاس چقندر کا سوپ پئیں۔ جو افراد خون کی کمی کا شکار ہوں، وہ روزانہ چقندر کا رس پئیں،ا نہیں بہت فائدہ ہو گا۔ سردرد بعض لوگوں کے سر میں درد کی مسلسل شکایت رہتی ہے۔ سر بوجھل رہتا ہے۔ جکڑن سی محسوس ہوتی ہے۔ کام کاج میں دل نہیں لگتا۔ ایسی صورت حال میں ایک عدد چقندر پتوں سمیت کاٹ کر ایک درمیانی پتیلی میں ڈال کر دو گلاس پانی شامل کر کے جوش دیں، لیکن زیادہ نہ پکائیں۔ ذائقہ بہتر کرنے کے لیے اس میں تھوڑی سی چینی ملا دیں۔ سات سے آٹھ دن تک یہ پانی پینے اور چقندر کے ٹکڑے کھانے سے سر کا درد اور بوجھل پن دور ہو جاتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو ناشتے میں صرف یہی پانی پئیں اور ٹکڑے کھائیں۔ اس کے بعد ایک گھنٹے تک چائے نہ پئیں۔ ہاضمے کی خرابی اگر یرقان کی وجہ سے متلی اور قے کی شکایت ہو یا اسہال یا پیچش ہو جائے تو اس میں بھی چقندر بہت کام آتا ہے۔ اس کے رس میں ایک چمچہ لیموں کا رس ملا کر پینے سے ہاضمے کی خرابی دور ہو جاتی ہے۔ نہار منہ چقندر کے رس میں شہد ملا کر پینے سے معدے کے زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کا رس صحت کے لیے مفید ہے۔ جوڑوں کا درد تِلوں کے ڈیڑھ لیٹر تیل میں چقندر اور ارنڈ کا رس ملا کر درمیانی آنچ پر پکائیں۔ پتیلی بڑی ہونی چاہیے، تاکہ تیل نیچے نہ گرے۔ جب پانی خشک ہو کر تیل اور رس کی مقدار کم ہو جائے تو اسے اتار کر کپڑے سے چھان لیں، اس سے جوڑوں پر مالش کروائیں۔ اس سے ورم رفتہ رفتہ ختم ہو جاتا ہے۔ پسلی میں درد کی صورت میں بھی اس تیل کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ داغ اور جھائیاں چقندر کا رس چہرے کے داغ دھبے اور جھائیاں دور کرتا ہے۔ ایک چقندر کاٹ کر پانی میں ابال کر رکھ لیں۔ یہ پانی روئی کی مدد سے داغ دھبوں اور جھائیوں پر اچھی طرح لگائیں اور پانچ سے ساتھ منٹ بعد منہ دھو لیں۔ اسکے بعد چہرے پر گلاب کا عرق لگا لیں۔ چند روز میں داغ دھبے اور جھائیاں کم ہو جائیں گی۔ اگر جلد پر خارش ہو تو آپ تین حصے چقندر کے رس میں ایک حصہ پھولوں کا سرکہ ملا کر اس میں لگا سکتے ہیں۔ جلد زیادہ خراب ہو تو آپ انہیں پتوں سمیت ابال لیں اور اس پانی سے جلد کو دن میں دو بار دھوئیں، فائدہ ہو گا۔ کیل مہاسوں اور پھنسیوں کے خاتمے کے لیے بھی چقندر مفید ہے۔ ہائی بلڈ پریشر چقندر کا رس ہائی بلڈپریشر، شریانوں کی بندش اور دل کی تکالیف کو کم کرتا ہے۔ یہ پھولی ہوئی رگوں کو درست کرتا ہے۔ جن افراد کو بلڈ پریشر کی شکایت ہو وہ اس کا رس پئیں، 24 گھنٹوں میں ہی بہتری محسوس کریں گے۔ سر کی خشکی اگر سر کے بالوں میں خشکی زیادہ ہو تو ایک چقندر کا رس نکال کر اس میں ایک بڑا چمچ پھلوں کا سرکہ ملا لیں اور بالوں کی جڑوں میں لگا کر پندرہ بیس منٹ بعد سر دھو لیں۔ اگر بال خورے (ایک مرض میں جگہ جگہ سے بال اڑ جاتے ہیں) کی شکایت ہو تو اس کے نرم پتوں کا رس دن میں تین سے چار بار لگانے سے افاقہ ہوتا ہے۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?