چنبل کا شافی، علاج تحریر : حکیم قاضی ایم اے خالد

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,515
8,454
1,313
Lahore,Pakistan
چنبل کا شافی، علاج تحریر : حکیم قاضی ایم اے خالد
پاکستان سمیت دنیا بھر میں125ملین سے زائد افراد سورائسس یعنی چنبل میں مبتلا ہیں۔طب یونانی‘مشرقی ‘اسلامی میں سورائسس اور دیگر جلدی امراض کے علاج کیلئے سو سے زائد تحقیق شدہ جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔ اہل یورپ سورائسس کا زیادہ شکار ہیں۔اس جلدی مرض میں سوزش ہو کر جلد کی سطح کھردری ہو جاتی ہے اورمچھلی کی طرح جلد کے خشک چھلکے اترتے ہیں ۔
117215

آغاز مرض میں چھوٹے چھوٹے سرخ گلابی دانے بنتے ہیں ان پر چھلکوں کی تہہ جم جاتی ہے اور متاثرہ مقام کی جگہ بڑھتی جاتی ہے۔ خارش سے سفید چھلکے اترکر خون بھی خارج ہونے لگتا ہے۔سخت تکلیف دہ یہ مرض ضدی مرض ہے اور جلدی نہیں جاتا ۔اس کا زیادہ زور
کہنیوں بازئوں گھٹنوں ٹانگوں سر اور کمر کے حصوں پر ہوتا ہے ۔گرمیوں کی نسبت سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے۔


طب مغرب(ایلوپیتھک)کے نزدیک اس مرض کا باعث ایک وائرس ہے۔جبکہ طب یونانی‘مشرقی اسلامی کے مطابق اس کا شمار سوداوی امراض میں ہوتا ہے یہ بچوں اور بوڑھوں میں کم ہوتا ہے ۔ البتہ نوجوانوں میں جن کی عمر 20سال سے لے کر چالیس سال کی عمرہوتی ہے میں زیادہ ہوتا ہے۔طب یونانی‘مشرقی‘ اسلامی کے نزدیک یہ خلط سودا کے سبب ہوتا ہے ۔ زہریلا سوداوی بدنی موادجب جسم خارج کرنے میں ناکام رہتا ہے تویہ سوداوی مواد جلد کو متاثر کرتا ہے ۔ اور دانوں و چنبل کی صورت میں نمودار ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ نظام ہضم کی خرابی‘ میلا کچیلا رہنا ‘قبض ‘شراب نوشی ‘جذباتی تناؤ‘ذہنی دباؤ‘ ڈپریشن سے بھی جلد کی سرگرمی بڑھ کر یہ مرض ہو سکتا ہے ۔ایلو پیتھک ماہرین کے مطابق اس مرض کے علاج کے سلسلے میں ابھی تحقیق جاری ہے اور ہنوز اس کا شافی علاج ان کے پاس نہیں ہے ۔لیکن طب یونانی‘مشرقی‘ اسلامی یعنی ہربل سسٹم آف میڈیسن میں سورائسس کا مکمل شافی علاج موجود ہے اور اس سلسلہ میں سو سے زائد جڑی بوٹیوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اسگندناگوری جڑی بوٹی کا اندرونی و بیرونی استعمال صدیوں سے مستعمل ہے۔چنبل اور دیگر جلدی امراض میں اسگند ناگوری کی افادیت جدید تحقیقات نے بھی ثابت کر دی ہے۔ عمائدین طب کے معمول مطب چند نسخے افادہ عوام کیلئے پیش کئے جارہے ہیں جن کے تین ماہ مسلسل استعمال سے لاتعداد افرادسورائسس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔


ہوالشافی :رسو ت‘ چاکسو‘نرکچور‘ کتھ سفید ہر ایک 3 گرام چاروں اجزا ء پیس کر آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر صبح نہار منہ پی لیا جائے ۔ سہ پہر کو قرص رسوت ایک عدد تازہ پانی لے کر کھا لیں اور شربت عشبہ خاص دو چمچے پی لیں ۔


ہوالشافی :گل منڈی10 عددچرائتہ 6 گرام ۔آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر شربت عناب دو چمچے ملا کر صبح نہار منہ پی لیں ۔اس کے علاوہ اجوائن40 گرام پھٹکری سفید10 گرام توتیا ئے سبز 10 گرام ان تمام چیزوں کو لوہے کی کڑاہی میں آگ پر اتنی دیر رکھیں کہ وہ سیا ہ ہو جائے ۔ پھر مثل سرمہ کر کے ویزلین ملا کر مرہم تیا ر کر لیں(بہتر ہے یہ نسخہ صرف ماہر طبیب ہی تیار کرے)گرم پانی سے متاثرہ جلد صاف کریںاور یہ مرہم لگائیں یا روغن بیدانجیراورناریل کا تیل ہم وزن ملا لیں اور اس سے جلد کو چکنا رکھیں۔


ڈاکٹر خالدغزنوی کی تحقیقات کے مطابق سورائسس کے علاج کے حوالے سے زیادہ تر ایلوپیتھک ادویات کینسر پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیںاور اب تک کی ایجاد کردہ بیشتر ادویات اس قدر نقصان دہ ہیں کہ ماں کے پیٹ میں بچے کو بھی مفلوج اور اس کے اعضاء کو متاثر کر سکتی ہیںاس حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک دوا Methotrexateہے جو جگر کے خطرناک امراض سمیت کینسر کا بھی باعث بن سکتی ہے یہ دوا آرتھرائٹس‘جوڑوں کے درد‘اور مختلف قسم کے کینسرز میں بھی عام مستعمل ہے۔


قسط شیریں طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صدیوں سے استعمال ہوتی چلی آ رہی ہے۔قسط شیریں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوزشوں کا علاج قرار دیا ہے۔سورائسس کے حوالہ سے ڈاکٹر خالد غزنوی فیلو مجلس ماہرین امراض جلد لندن نے سفوف قسط شیریں 4سے 5 گرام صبح وشام متعدد مریضوں پر 3 سے4 ماہ استعمال کروائی جس سے چنبل کے پیچیدہ مریض شفایاب ہو گئے۔بعض مریض جن کی جلد زیادہ کھردری تھی انہیں 1سے2 بڑے چمچ روغن زیتون بھی استعمال کروایا گیا۔چنبل کیلئے بیرونی طور پر درج ذیل نسخہ استعمال کروایا گیا۔


ہوالشافی:قسط شیریں80گرام‘حب الرشاد (ہالیوں)20گرام ‘ثناء مکی20گرام‘سرکہ سیب 800 گرام ۔تمام ادویات کو گرائنڈ کرکے پاؤڈر بناکر سرکہ میں شامل کریں اور ہلکی آنچ پر چولہے پر چڑھا دیں ایک دو جوش آنے پر اتار لیںٹھنڈا ہونے پر باریک کپڑے میں چھان لیں اور بوتل میں محفوظ کرلیں ۔یہ لوشن دن میں 2 مرتبہ سورائسس سے متاثرہ جلد پر لگائیں۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?