History چنگیز خان کا عذاب جب نازل ہوا

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,922
1,586
363


چنگیز خان کا عذاب جب نازل ہوا !!! تاریخ اسلامی کا ایک تاریک باب

اس فتنہ عظیم کا سبب اور محرّک‘ خوار زم شاہ (فرماںروائے وسط ایشیا وخراسان) کی ایک سیاسی غلطی اور سفارتی آداب کے منافی بے تدبیری بلکہ کہنا چاہیے صریحاً زیادتی تھی۔ ہوا یوں کہ ۰۴۲۱ءمیں چنگیز خان نے اپنے بعض سوداگروں کو خوارزم شاہ کے ملک میں سامانِ تجارت خریدنے کے لیے بھیجا۔ خوارزم شاہ کے نائب نے بادشاہ کو اطلاع دی کہ اس تجارتی قافلے میں بہت دولت ہے۔ اس نے حُکم دیا کہ ان کو قتل کر کے ان کا مال ضبطِ کر لیا جائے۔ چنگیز خان نے اس کی اطلاع پا کر خوار زم شاہ کو سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ جواب میں کسی معذرت یا تلافی کے بجائے خوارزم شاہ نے تاتاری سفیر کو بھی قتل کرا دیا۔
اس پر تاتاری خاقان چنگیز خان نے برافروختہ ہو کر خوارزم شاہی سلطنت اور پھر پورے عالمِ اسلام پر حملہ کر دیا۔ لیکن قرآن مجید میں اعمال واخلاق کے جو نتائج اور اقوام وملل کے عروج وزوال کا جوابدی اور عالم گیر قانون بتایا گیا ہے‘ اس کی روشنی میں اس فتنہ¿ عالم آشوب اور اس وقت کی دنیائے اسلام کی قیامتِ صغریٰ کا حقیقی سبب صرف اتنا نہیں معلوم ہوتا کہ ایک بادشاہ نے کوتاہ نظری اور عاقبت نااندیشی سے کام لیا اور اچانک یہ سیلابِ بلا عالمِ اسلام پر امنڈ آیا اور ایک فرد کی غلطی سے ساری ملتِ اسلامیہ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس کے لیے وہ نہ تیار تھی‘ نہ اس کی مستحق ۔
اگر تحقیقی نگاہ سے اس وقت کے مسلمانوں کی اخلاقی‘ دینی‘ تمدنی اور سیاسی حالت کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ یہ منحوس واقعہ اچانک پیش نہیں آگیا تھا۔ اس کے اسباب اس سے کہیں زیادہ وسیع‘ گہرے اور ٹھوس ہیں جتنے سمجھے اور بیان کئے گئے ہیں۔ اس کے لیے کئی سال پیچھے جا کر اپنا کام شروع کرنا ہو گا اور اس وقت کی اسلامی سلطنتوں‘ اہم تمدنی مراکز اور اجتماعی معاشرے پر اِجمالی نگاہ ڈالنی ہو گی۔
زوال کیوں آتاہے
سلطان صلاح الدین ایوبی کی وفات (۳۱۲۱ئ) پر اس کی وسیع وزرخیز سلطنت اس کی اولاد میں تقسیم ہو گئی۔ دنیا کے بہت سے بانیانِ سلطنت اور اولو العزم فرماں رواﺅں کی طرح اس کی اولاد اس کی صلاحیتوں کی وارث اور صحیح جانشین ثابت نہ ہو سکی۔ عرصہ تک وہ ایک دوسرے سے دست وگریباں اور برسرِ پیکار رہے۔ بعض اوقات ان میں سے بعض افراد نے اپنے ہی بھائیوں اور افرادِ خاندان کے خلاف صلیبی فرماں رواﺅں اور فرنگی حریفوں سے مدد لینے اور ان سے ساز باز کرنے سے بھی احتراز نہیں کیا۔
اس طوائف الملوکی‘ خاندانی رقابتوں اور خانہ جنگیوں سے سلطنت کے زیر فرمان ممالک میں سیاسی انتشار‘ انتظامی ابتری اور اخلاقی زوال رونما ہوا۔ لوگ ایک بے یقینی کی فضا میں زندگی گزار رہے تھے۔ صلیبیوں اور فرنگیوں کی بار بار ان اسلامی شہروں پر تاخت ہوتی رہتی تھی جن کو سلطان صلاح الدین نے بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد واپس لیا تھا۔ انتظامی اور اخلاقی دونوں طرح کی کوتاہیوں اور بے راہ روی کا نتیجہ وباﺅں‘ امراض اور قحط کی شکل میں رونما ہوا اور مصر جیسے زرخیز ملک میں جو دوسرے ملکوں کا پیٹ بھر سکتا تھا‘۱۲۲۱ءمیں جب کہ چچا بھتیجے الملک العادل اور الملک الافضل کے درمیان خانہ جنگی نے مصر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا‘ دریائے نیل میں طغیانی نہیں آئی جس سے مصر میں ایسی گرانی رونما ہوئی اور ایسا شدید قحطپڑا کہ آدمی نے آدمی کو بُھون کر کھایا‘ موت کی ایسی گرم بازاری تھی کہ مُردوں کو کفن دینا ممکن نہ تھا۔
موئورخ ابو شامہ کے بیان کے مطابق تنہا الملک العادل (سلطانِ مصر) نے صرف ایک مہینے میں دو لاکھ بیس ہزار مُردوں کو اپنے ذاتی مال سے کفن دیا۔ ’البدایہ والنہایہ‘ (کتاب ) کے مطابق بہت بڑی تعداد میں بچے بھون کر کھا لئے گئے اور اس میں ایسی عمومیت ہوئی کہ اِس میں لوگوں کو کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
موئو رخ ابنِ کثیر کے بیان کے مطابق جب کھانے کے لیے بچے اور چھوٹی عمر کے لڑکے نہیں رہے تو جس آدمی کا جس آدمی پر زور چلا اس نے اس کو بھون کر کھا لیا۔ سنّت اللہ کے مطابق آسمانی تنبیہات کا سلسلہ بھی جاری تھا اور ایسے غیرمعمولی واقعات بھی پیش آرہے تھے جو توبہ‘ انابت اور اصلاحِ حال کا خیال وجذبہ پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔ چنانچہ اسی (۱۲۲۱ئ) میں ایک عظیم زلزلہ آیا جس کی زد میں خاص طور پر ملکِ شام‘ بلادِروم اور عراق تھے۔ اس کی ہلاکت آفرینی اور دہشت انگیزی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تنہا نابلس (شہر) اور اس کے اطراف میں بیس ہزار انسان زلزلے میں دب کر مر گئے۔
اِدھر یہ غیر معمولی حوادث پیش آرہے تھے‘ اُدھر عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں خانہ جنگی اور برادر کُشی کا سلسلہ جاری تھا۔ ۵۲۲۱ءمیں ایک ہی خاندان کے دو افراد قتادہ حسینی (امیرِمکہ) اور سالم حسینی( امیرِ مدینہ) میں سخت جنگ ہوئی۔ ۷۲۲۱ءمیں غوریوں اور خوار زم شاہیوں کی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا اور مسلمانوں نے مسلمانوں کا خون بہایا۔ ادھر یہ ہو رہا تھا‘ اُدھر ۸۲۲۱ءمیں فرنگیوں نے شام کے مختلف علاقوں پر حملے شروع کیے۔ ۱۳۲۱ءمیں جزیرہ(دجلہ وفرات کے درمیان کا حصّہ) کے مسلمان حکام نے فرنگیوں سے سازش کی اور ۲۴۲۱ءمیں فرنگیوں نے مصر کے شہر دمیاط پر قبضہ کر لیا جو فوجی ودفاعی حیثیت سے بڑی اہمیت رکھتا تھا۔
اُدھر مرکزِ خلافت بغداد میں سلطنت کی ظاہری شان وشوکت‘ عجمیتکلفات اور دولت وتمدن کے کھوکھلے مظاہر اپنے نقطہ¿ عروج کو پہنچ گئے تھے۔ خلفاءکے منظورِ نظر مصاحبین اور معتمدین کی دولت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اور اسی حساب سے ان کے عیش وعشرت اور دادو دہش کے مظاہرے عام تھے۔
ان کے مقابلے میں بغداد کے سب سے بڑے مدرسے المستنصر یہ کے لائق اساتذہ کی تنخواہیں بہت معمولی اور حقیر تھیں۔ اساتذہ کو ۲۱ دینار ماہانہ سے زیادہ نہیں ملتے تھے۔ شان وشوکت کے اظہار کے لیے عید اور جانشینی کے موقع پر جو شاہانہ جلوس بغداد میں نکلتے تھے‘ سارا شہر ان میں شرکت کرنے‘ ان کا تماشا دیکھنے میں محو اور خود فراموش ہو جاتا تھا۔ نمودونمائش کے ماسوا جس طرح بے پروائی و بے تکلفی سے دینی فرائض نظر انداز ہوتے‘ نمازیں قضا ہوتیں‘ اس کا اندازہ کرنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ ۷۶۲۱ءکی عید کے موقع پر جو شاہی جلوس نکلا و ہ رات کو جا کر ختم ہوا اس کی مشغولیت کے سبب عید کی نماز نہ ہو سکی اور لوگوں نے نصف شب کے قریب نمازِ عید قضا کر کے پڑھی۔ اسی طرح ۱۷۲۱ءکی عید الاضحیٰ اہلِ بغداد نے غروبِ آفتاب کے وقت پڑھی کیونکہ وہ خلیفہ کاشاہی جلوس دیکھنے میں محو رہے ۔
 

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,922
1,586
363
خلیفہ کے لیے زمین بوسی کا عام رواج تھا‘ اسی طرح آستانہ بوسی اور زمین پر ناک رکھنے کا بھی دستور تھا اور اس میں کسی کو قباحت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ جائدادوں کی ضبطی کے واقعات بکثرت پیش آتے تھے۔ رشوت کی گرم بازاری تھی۔ باطینوں (اہل تشیع کا ایک فِرقہ) عیّاروں اور ٹھگوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی تھیں۔ اخلاقی بے راہ روی بہت بڑھ گئی تھی۔ دل بہلانے والے مشاغل کا زور تھا۔ مغنّیات (گانے والیاں) کی کثرت تھی اور دولت جمع کرنے کا شوق فزوں تر تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب تاتاری ترکستان وایران کو تہ و بالا کر رہے تھے اور اسلام کے سب سے بڑے قلعہ بغداد پر ان کی نگاہیں تھیں۔
موئورخ ابن کثیر ۳۵۲۱ءکے آغاز کی خبر اس طرح دیتا ہے کہ سلاطینِ بنی ایوب (سلطان صلاح الدین کے جانشین) ایک دوسرے سے نبرد آزما اور برسرِ پیکار تھے۔ دارالخلافہ بغداد میں کچھ ایسا انتشار برپا رہا کہ ۷۶۲۱ءسے ۰۷۲۱ءتک خُلفا کی طرف سے نہ حج کا انتظام ہوا‘ نہ غلاف ِ کعبہ بدلا گیا۔ ۱۲دن تک بیت اللہ شریف کی دیواریں بالکل کُھلی رہیں۔ لوگوں نے اُسے بدشگونی پر محمول کیا۔
(دورِ ماضی) ۲۰۲۱ءمیں الناصر الدین اللہ تختِ خلافت پر بیٹھا۔ اس کو مسلسل چھیالیس سال تک خلافت وحکومت کا موقع ملا۔ اتنی طویل مدت کسی عباسی خلیفہ کو نصیب نہیں ہوئی۔ لیکن اس کا دور خلافتِ عباسیہ کا تاریک ترین دور تھا۔ مئورخین نے بڑے سخت الفاظ میں اس پر تنقید کی ہے۔ مو¿رخ ابنِ کثیر کا بیان ہے ”رعیت کے ساتھ اس کا سلوک نہایت ظالمانہ تھا اس کے زمانے میں عراق ویران ہو گیا۔ ملک کے باشندے مختلف شہروں اور ملکوں میں متفرق و آوارہ ہو گئے‘ اس نے ان کی جائدادیں اور دولت ضبط کر لی۔ اس کے کاموں اور رویّے میں بڑا تضاد تھا۔ آج ایک بات کرتا تھا کل اس کے خلاف۔ اس کی تمام تر دلچسپی تفریحی مشاغل کی طرف تھی۔ اس نے جوانمردی اور سپہ گری کے لیے ایک خاص وردی ایجاد کی تھی اور صرف اس وردی والوں کے لیے فنونِ سپہ گری کے مظاہرے کی اجازت تھی‘ وردی کے بغیر نہیں۔“ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فنونِ سپہ گری کا عراق سے خاتمہ ہو گیا۔اہلِ ایران کا ’البدایة والنہاتیہ‘ کے حوالے سے بیان ہے کہ اسی خلیفہ نے سب سے پہلے تاتاریوں کو اسلامی قلمرو پر حملہ کرنے کی طرف متوجہ کیا اور ان کے پاس پیغام بھیجا۔
۹۴۲۱ءمیں الناصر الدین اللہ کی وفات ہوئی اور مستنصر باللہ (۰۵۲۱ء۔۷۶۲۱ئ) اس کا جانشین ہوا۔ یہ خلیفہ دیندار‘ نیک سیرت اور پاکیزہ خصائل کا حامل تھا لیکن افسوس کہ اس کو انتظام واصلاح کے بوجوہ مواقع نہ مل سکے۔ ۷۶۲۱ءمیں اس کی وفات پر اس کا بیٹا مستعصم باللہ خلیفہ ہوا۔ مستعصم ایک صحیح العقیدہ‘ دیندار اور پرہیز گار خلیفہ تھا۔ وہ کبھی مسکرات ومحرمات کے قریب نہیں گیا۔ قرآن کا حافظ تھا وقت پر نماز کا پابند تھا۔ تاہم ابنِ اثیر کے قول کے مطابق طبیعت میں ضرورت سے زیادہ نرمی اور بیدار مغزی کی کمی تھی۔
۹۶۲۱ءمیں ابن العلقمی نے سلطنتِ عباسیہ کا قلمدانِ وزارت سنبھالا۔ اس کی آمد کے بعد خلافت کے نظم ونسق میں خاصی برہمی پیدا ہوئی۔ ہوا یوں کہ۲۸۲۱ءمیں بغداد میں شیعہ سُنی کا زبردست جھگڑا ہوا یہاںتک کہ ابنِ علقمی کے عزیزوں کے مکانات تک لوٹ لئے گئے۔ ان واقعات سے اس کے دل میں بددلی کا پیدا ہونا یا جذبہ انتقام کا ابھرنا بعیدا ز قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ خود بھی راسخ العقیدہ شیعہ تھا۔
اُس وقت جبکہ تاتاری خطرہ بغداد کے دروازوں پر دستک دے رہا تھا اور تاتاری فوجیں بغداد کی طرف بڑھ رہی تھیں‘ وزیر اعظم ابنِ علقمی کی ہدایت اور حکم سے بغداد کی افواج میں نمایاں تخفیف کی گئی۔ سواروں کی تعداد گھٹا کر دس ہزار کر دی گئی۔ بقیہ سپاہیوں کو رخصت کر دیا گیا اور ان کے منصب روک لئے گئے۔ یہاں تک کہ فارغ کردہ سپاہیوں کو لوگوں نے بازاروں اور مساجد کے دروازوں پر بھیک مانگتے دیکھا۔ اُس وقت شعرا نے اسلام کی کَس مَپُرسی پر مرثیے کہے۔
مستعصم اگرچہ ذاتی طور پر نیک سیرت اور نیک خیال خلیفہ تھا اور اصلاح وترقی کا خواہش مند بھی‘ لیکن زمانے کا فساد‘ معاشرے کا انتشار اور اہل وارکانِ حکومت کا بگاڑ اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ بہتری کی کوئی صورت ممکن نظر نہیں آتی تھی۔ یہ واقعہ تاریخ میں پیش آتا رہا ہے کہ کسی زوال پذیر سلطنت کا آخری فرماں روا اصلاح پسند اور نیک سیرت تھا لیکن اس خاندان اور اس سلسلہ سلطنت کی زندگی کا پیمانہ لبریز ہو چکا اور فساد بڑھتے بڑھتے اس آخری نقطہ پر پہنچ چکا تھا جب اسے آخری منزل پر پہنچنے اور اس کے قدرتی نتائج ظاہر ہونے سے بظاہر کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی۔
اگرچہ بغداد میں اہلِ اصلاح کی ایک تعداد علم ودرس اور عبادت میں مشغول تھی اور کچھ اللہ کے بندے خانقاہوں اور مساجد میں خلوت نشین اور راجع اِلی اللہ تھے لیکن حکّام اور آسودہ حال طبقے میں بگاڑ بہت پھیل چکا تھا۔ اُس عہد کا ایک مورخ ابو الحسن خزرجی اپنے زمانہ کے اہلِ عراق کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”جاگیروں اور جائدادوں کا شوق بہت بڑھ گیا ہے‘ رفاہِ عامہ کے کام اور اجتماعی مصالح سے لوگوں کو واسطہ نہیں رہا۔اُن دنیاوی اُمور میں مشغولیت بڑھ گئی ہے جو جائز نہیں ہیں۔ عمّال سلطنت نے ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے اور ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھا کرنے کی فکر ہے۔“
آگے چل کر وہ لکھتا ہے:
”یہ صورتِ حال بڑی خطرناک ہے‘ سلطنت کُفر کے ساتھ توزندہ رہ جاتی ہے‘ ظُلم کے ساتھ ہر گز نہیں۔“
اُدھر عالمِ اسلام کے مشرقی حصّہ میں خوارزم شاہی بلا شرکتِ غیرے حکومت کر رہے تھے۔ یہ بڑے جاہ جلال کی سلطنت تھی جو تیرہویں صدی کے شروع میں سلطنتِ سلجوقیہ کے کھنڈروں پر قائم ہوئی۔ اس خاندان کا سب سے بڑا‘ حوصلہ مند اور عالی ہمت سلطان علاوالدین محمد خوارزم شاہ (۱۲۲۱ئ۔۸۳۲۱ئ) تھا جو اپنے عہد کا سب سے بڑا نہ صرف مسلمان بادشاہ بلکہ شایداس دور کا سب سے طاقتور سلطان تھا۔ ہیر لڈ لیمب اپنی کتاب چنگیز خان میں لکھتا ہے:
” اسلامی ملکوں کے قلب میں سلطان خوارزم شاہ اورنگِ شاہی پر خدائے جنگ بنا بیٹھا تھا۔ اس کی قلمرو ہندوستان کی سرحد سے بغدادتک اور بحرِ خوازم (آرال) سے خلیجِ عجم (فارس) تک چلی گئی تھی۔ سلجوقی ترکوں کے سوا جنہوں نے صلیبیوں پر فتوحات حاصل کی تھیں اور مصر کے سلاطین (مملوک) سے قطع نظر کر کے باقی جس قدر اسلامی سلطنتیں تھی ان پر سلطان محمد خوارزم چھایا ہوا تھا۔ سلطان محمدخوارزم رتبہ میں شہنشاہ تھا۔ عباسی خلیفہ ناصر الدین اللہ اس سے ناراض تھے مگر اس کی قوت کو مانتے تھے۔ خلیفہ بغداد دنیاوی اقتدار سے محروم ہو کر پاپائے روم کی طرح صرف دین کا ہادی ورہنما رہ گیا تھا۔“
لیکن تمام تر فتوحات کے باوصف تمدن اور نظم ونسق کی خرابیاں اندر ہی اندر کام کرتی رہیں اور بالآخر اُس نکتہ پر جا پہنچیں جہاں زوال کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں۔ چنگیز خان کا مسیحی مورخ ہیرلڈ لیمب کا یہ بیان محض دینی تعصب اور مبالغہ آرائی پر محمول نہیں کیا جا سکتا:
”مسلمانوں کی دنیا جنگ وپیکار کی دنیا تھی اور ایسی دنیا تھی جو نغمہ وسُرود سے بھی شغف رکھتی تھی اور ذوقِ سماع بھی خوب تھا۔ لیکن اس ظاہر کے ساتھ باطن میں ایک ہیجان کی ہمہ وقت کیفیت رہتی تھی۔ بادشاہوں کی جگہ محلوک اور غلام حکومت کرتے تھے۔ دولت جمع کرنے کا بہت شوق تھا‘ اخلاقی برائیاں اور ملکی سازشیں بھی کم نہ تھیں۔ انتظامِ امور ایسے لوگوں کے سپرد تھا جو رعایا کو لوٹتے اور کھاتے تھے۔ عورتوں کی نگہداشت خواجہ سراﺅں کے ذمّہ تھی اور ایمان کا مالک خدا تھا۔“
خوازم شاہی سلاطین سے بھی اس موقع پر وہی مہلک غلطی ہوئی جو سپین کے عرب فرماں رواﺅں نے کی تھی اور جس کوقدرتی مکافاتِ قانون نے معاف نہیں کیا تھا۔ یعنی یہ کہ انہوں نے اپنی ساری طاقت توسیع واستحکام اور حریفوں کی سرکوبی میں صرف کی لیکن اس انسانی آبادی میں جو ان کی سرحد سے متصل تھی اور بجائے خود ایک دنیا تھی‘ تبلیغِ اسلام اور ان تک خدا کا آخری پیغام پہنچانے کی کوئی فکر نہیں کی جذبہ دینی سے قطع نظر سیاسی فراست اور دُور اندیشی کا بھی یہ تقاضا تھا کہ وہ اس وسیع انسانی آبادی کو اپنا ہم آہنگ اور ہم عقیدہ بنانے کی کوشش کرتے اور ہمیشہ کے لئے ا س خطرے سے محفوظ ہو جاتے جو نہ صرف ان کو بلکہ تمام مسلمانوں کو پیش آسکتا تھا اور آیا۔
یہ زمانہ اور حالات تھے جب تاتاری ابتداًاپنے قائد چنگیز خاں کی قیادت میں عذابِ الہٰی کی طرح عالمِ اسلام کے مشرقی حصّے ترکستان وایران کی طرف بڑھے‘ پھر اُس بغداد کی نوبت بھی آگئی جہاں کا نقشہ اوپر کی سطروں میں گزرا ہے اور بالآخر انہوں نے ۷۷۲۱ءمیں اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ عالمِ اسباب میں اس کا قریبی محرک یہ واقعہ ہوا کہ چنگیزخان نے خوارزم شاہ کو پیغام بھیجا کہ میں بھی ایک وسیع سلطنت کا فرماں روا ہوں اور آپ بھی ایک بڑی مملکت کے تاجدار ہیں‘ بہتر ہو گا کہ ہم دونوں تجارتی تعلقات قائم کریں۔ ہمارے تاجر بے خوف وخطر آپ کی قلمرو میں جائیں اور یہاں کی پیداوار اور مال وہاں فروخت کریں اور آپ کے تاجر اطمینان کے ساتھ ہمارے ملک میں آئیں اور وہاں کا مال یہاں بیچیں۔
خوارزم شاہ نے اس پیشکش کو منظور کر لیا اور تجارتی تعلقات قائم ہو گئے۔ یوں تجارتی قافلے بے تکلف دونوں ملکوں میں آنے جانے لگے۔ اس کے بعد کیا پیش آیا جس سے عالمِ اسلام اچانک خون کے سمندر میں ڈوب گیا؟ اس کی تفصیل مغربی مورخ کی زبان سے سنئے جس کی تصدیق اسلامی مورخین کے بیانات سے بھی ہوتی ہے اور جس کا اجمالاً کچھ ذکر ابتدا میں آچکا ہےہیرلڈ لیمب لکھتا ہے:
”لیکن تجارت کے تعلقات جو چنگیز خان نے قائم کئے تھے وہ یک لخت ختم ہو گئے اور یہ اس طرح ہوا کہ قراقرم (مملکتِ تاتار) سے تاجروں کا ایک قافلہ مغرب (ترکستان) کو جا رہا تھا کہ راستے میں ’ اترار‘ کے حاکم نے جس کا نام انیل جق تھا‘ قافلے کے سب آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور اس کی اطلاع اپنے آقا یعنی خوارزم شاہ کو اس طرح دی کہ گویا اس قافلے میں جاسوس بھی موجود ہیں۔ حاکمِ ترار کے پاس سے اطلاع آتے ہی سلطان محمد خوارزم شاہ نے بے سوچے سمجھے حکم دے دیا کہ قافلہ کے کُل تاجروں کو ہلاک کر دیا جائے۔ چنانچہ اس حکم کے مطابق قراقرم سے آئے ہوئے کل تاجر قتل کر دیے گئے۔ اس واقعہ کی اطلاع جس وقت چنگیز خاں کو ہوئی تو اس نے فوراً اپنے سفیر بھیج کر خوارزم شاہ سے اس کی شکایت کی‘ سلطان محمد نے سفیروں کے سردار کو بھی قتل کرا دیا اور جو لوگ اس کے ساتھ تھے ان کی ڈاڑھیاں جلوا دیں۔
اِس سفارت میں سے جن لوگوں کی جان بچ گئی‘ وہ چنگیزخان کے پاس واپس آئے اورکل احوال عرض کیا…. دشتِ گوبی کا خان یہ احوال سنتے ہی ایک پہاڑی پرچڑھ گیا کہ تنہائی میں اِس واقعہ پر غور کرے…. مغلوں کے ایلچی کو مار ڈالنا ایسا فعل تھا جسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ یہ حرکت ایسی تھی جس کا بدلہ لینا مغلوں کی روایات کے مطابق ضروری تھا۔ چنگیز خان نے اپنی فوجوں کواکٹھا کیا اور کہا:
”جس طرح آسمان پر دو آفتاب نہیں رہ سکتے اسی طرح زمین پر دوخاقان نہیں رہ سکتے۔“
اس کے بعد تاتاریوں کا لشکر سیلِ بلا کی طرح نکلا‘ سب سے پہلے بخارا کو تاخت وتاراج کیا‘ اسے ایک تو دہ خاک بنا دیا۔ شہر کی آبادی میں سے کوئی زندہ نہیں بچا۔ پھر سمر قند کو برباد کیا‘ ساری آبادی کو فنا کے گھاٹ اتار دیا یہی حشر عالمِ اسلام کے نامی گرامی شہروں‘ رے‘ ہمدان‘ زنجان‘ قزوین‘ مرو‘ نیشا پور اور خوازم کا ہوا…. خوارزم شاہ جو عالمِ اسلام کا واحد سب سے طاقتور فرماں روا اور سلطان تھا‘ تاتاریوں کے خوف سے بھاگا پھرتا تھا اور تاتاری اس کے تعاقب میں تھے۔ یہاں تک کہ بحیرہ قزوین کے ایک نا معلوم جزیزے میں وہ فوت ہوا۔
تاتاریوں کی ہیبت اور دہشت کا یہ عالم تھا کہ بعض اوقات ایک تاتاری ایک گلی میں گُھستا ہے جہاں سو مسلمان موجود ہیں لیکن کسی کو مقابلے کی ہمت نہیں ہوتی اوروہ ایک ایک کر کے سب کو قتل کر دیتاہے۔
ایک گھر میں ایک تاتاری عورت مرد کے بھیس میں گُھس گئی اور تنہا سارے گھر والوں کو قتل کر دیا۔ بعض اوقات تاتاری نے کسی مسلمان کو گرفتار کیا اور اس سے کہا کہ اِس پتھر پر سر رکھ دے میں خنجر لا کر تجھے ذبح کروں گا‘ مسلمان سہما پڑا رہا اور بھاگنے کی ہمت نہ ہوئی‘ یہاں تک کہ وہ خنجر لایا اور اس کوقتل کیا۔
تاتاری یورش دنیائے اسلام کے لیے ایک بلائے عظیم تھی۔ مسلمان مبہوت وششدر تھے‘ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہراس اور یاس کا عالم طاری تھا۔ تاتاریوں کا مقابلہ ناممکن اور ان کی شکست ناقابلِ قیاس سمجھی جاتی تھی یہاں تک کہ ضرب المثل کے طور پر یہ فقرہ مشہور تھا۔
”اگر تم سے کہا جائے کہ تاتاریوں کو کہیں شکست ہوئی ہے‘ تو یقین نہ کرنا“ جن ملکوں یا شہروں کی طرف اُن کا رُخ ہو جاتا‘ سمجھ لیا جاتا کہ ان کی تباہی یقینی ہے۔ پھر ان کی جان ومال‘ عزت وآبرو‘ مساجد ومدارس کی خیر نہیں تھی۔ تقریباً سارا عالمِ اسلام (خصوصاً اس کا مشرقی حصّہ) اس فتنہ جہاں سوز کی لپیٹ میں آ گیا۔ مورخ ہر طرح کے واقعات پڑھتا اور لکھتا ہے‘ اس کے سامنے قوموں کی تباہی اور ملکوں کی بربادی کے اتنے مناظر گزرتے ہیں کہ اس کی طبیعت بے حس اور اس کا قلم بے درد ہو جاتا ہے لیکن اس حادثہ جانکاہ کا ذکر کرتے ہوئے ابنِ اثیر جیسا مورخ اپنی قلبی کیفیت اور تاثر کو چھپا نہیں سکا۔ وہ لکھتا ہے
”یہ حادثہ اتنا ہولناک تھا کہ میں کئی برس تک اس پس وپیش میں رہا کہ اس کا ذکر کروں یا نہ کروں۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہمہ گیر تباہی کی خبر سنانا آسان نہیں‘ کس کا جگر ہے کہ اس ذلت ورسوائی کی داستان سنائے۔ کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا‘ کاش میں اس واقعہ سے پہلے مر چکا ہوتا…. لیکن میرے بعض دوستوں نے اسے لکھنے پر مجھے مجبور کیا۔ یہ وہ حادثہ کبریٰ اور مصیبت عظمیٰ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔اس واقعہ کا تعلق ویسے تو تمام انسانوں سے ہے لیکن بطور خاص مسلمانوں سے ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ از آدم تاایں دم ایسا واقعہ دنیا میں پیش نہیں آیا‘ تو وہ کچھ غلط دعویٰ نہ ہو گا کہ تاریخِ عالم میں اس کے پاسنگ کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ شاید دنیا قیامت تک (یا جوج ماجوج کے سوا) کبھی ایسا واقعہ نہ دیکھے…. یہ حادثہ عالمگیر وعالم آشوب تھا۔ یہ ایک طوفان کی طرح اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے عالم پر چھا گیا۔“
سقوطِ بغداد
بالآخر یہ وحشی عالمِ اسلام کو زیروزبر کرتے‘ خون کے دریا بہاتے اور آگ لگاتے ۲۷۲۱ءمیں ہلاکو خان کی سرکردگی میں دنیائے اسلام کے دارالخلافہ اور اُس وقت کے سب سے بڑے علمی مرکز اور متمدن شہر بغداد میں داخل ہوئے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ بغداد کی تباہی اور مسلمانوں کے قتلِ عام کی تفصیل طویل اور دردناک ہے۔ کچھ اندازہ اُن مورخین کے بیانات سے ہو گا جنہوں نے اس حادثہ کے آثار اپنی آنکھوں سے دیکھے یا اس کی تفصیلات دیکھنے والوں سے سُنیں۔
لہٰذا مورخ ابنِ کثیر لکھتے ہیں۔
”بغداد میں چالیس دن تک قتل وغارت کا بازار گرم رہا۔ چالیس دن کے بعد یہ گلزار شہر جو دنیا کا جگمگاتا ہوا پُررونق ترین شہر تھا‘ ایسا ویران وتاراج ہو گیا کہ تھوڑے سے آدمی زندہ دکھائی دیتے تھے۔ بازاروں اور راستوں پر لاشوں کے ڈھیر اس طرح لگے تھے کہ ٹِیلے نظر آتے تھے۔ ان لاشوں پر بارش ہوئی تو صورتیں بگڑ گئیں اور سارے شہر میں تعفن پھیلا اور شہر کی ہوا مسموم ہو گئی اور سخت وبا پھیلی جس کا اثر شام تک پہنچا۔ اس ہوا اور وبا سے بکثرت اموات ہوئیں۔ گِرانی‘ وبا اور فناتینوں چیزوں کا وہاں دور دورہ تھا۔“
شیخ تاج الدین البسکی لکھتے ہیں:
”ہلاکو خان نے خلیفہ بغداد (مستعصم) کو ایک خیمہ میں اتارا اور وزیر ابن العلقمی نے علما واعیانِ شہر کو دعوت دی کہ خلیفہ اور ہلاکو کے صلح نامہ پر گواہ بنیں۔ وہ آئے تو اُن سب کی گردن اڑا دی گئی۔ اسی طرح ایک ایک گروہ یکے بعد دیگرے بلایا جاتا اور اس کی گردن اڑا دی جاتی۔ پھر خلیفہ کے معتمدین ومقربین کو بلایا گیا اور انہیں بھی قتل کر دیا گیا۔ خلیفہ کے متعلق عام طور پر مشہور تھا کہ اگر اس کا خون زمین پر گرا تو کوئی بڑی آفت آئے گی کیونکہ اس کا تعلق آلِ رسول سے ہے۔ ہلاکو اس بارے میں مترّدِد تھا۔ نصیر الدین طوسی نے کہا کہ یہ کوئی مشکل بات نہیں‘ خلیفہ کا خون نہ بہایا جائے بلکہ دوسرے طریقے سے اس کی جان لی جائے۔ چنانچہ اس کو فرش (قالین) میں لپیٹ دیا گیا‘ پھر ٹھوکروں اور لاتوں سے اس کو ختم کر دیا گیا۔ بغداد میں ایک مہینہ سے زیادہ قتلِ عام جاری رہا اور صرف وہی بچ سکا جو چھپا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ ہلاکو نے مقتولین کو شمار کرایا تو ۸۱ لاکھ مقتولین شمار ہوئے۔ اگرچہ بعض مورخین نے مقتولین کی تعداد اس سے کم بیان کی ہے تاہم ۵۲ لاکھ کی آبادی میں یہ کچھ بعید بھی نہیں۔
عیسائیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اعلانیہ شراب پئیں اور سُور کا گوشت کھائیں۔ اگرچہ رمضان کا زمانہ تھا مگر مسلمانوں کو مجبورکیا گیا کہ وہ شرکت کریں۔ مسجدوں کے اندر شراب انڈیلی گئی اور اذان کی ممانعت کر دی گئی۔ یہ وہ بغداد ہے جو (جب سے آباد ہوا) کبھی دارالکفر نہیں ہوا تھا‘ وہاں وہ واقعہ پیش آیا جو کبھی تاریخ میں پیش نہیں آیا۔“
اِس سانحہ کے پس منظر میں خلیفہ کے وزیر (آج کے حساب سے وزیرِاعظم) ’ابن العلقمی‘ کا کردار بہت خاص نظر آتا ہے۔ مو رخین کے قول کے مطابق بغداد پر تاتاریوں کا یہ حملہ سلطنتِ عباسیہ کے وزیر ابن العلقمی کی دعوت وتحریک پر ہوا تھا‘ جس نے ہلاکو خان کو خط لکھ کر بغداد پر حملہ کرنے کی ترغیب دی‘ مدد کا وعدہ کیا اور اس کے لیے ضروری انتظامات بھی کئے۔
شیخ سعدی نے جو اُس زمانے میں موجود تھے‘ ایک دلدوز مرثیہ کہا جس کا ایک شعر یہ ہے۔
آسمان راحق بودگر خون بیارد بر زمین
برزوالِ ملکِ مستعصم امیر المومنین
(آسمان کو حق ہے اگر وہ امیر المومنین مستعصم کے زوال پر خون کے آنسو بہائے)
بغداد کے بعد تاتاریوں نے حلب کا رُخ کیا اور ابنِ کثیر کے بیان کے مطابق اس کے ساتھ بھی بغداد جیسا سلوک کیا۔ وہاں سے دمشق کی طرف بڑھے اور ۲۸۲۱ءمیں اس پر قبضہ کر لیا۔ شہر کے عیسائیوں نے تاتاری فاتحین کا شہر سے نکل کر استقبال کیا اور ان کو تحائف پیش کئے۔ ابنِ کثیر جو خود دمشق کے رہنے والے تھے اس واقعہ کی تصویر یوں کھینچتے ہیں:۔
”عیسائی بابِ تو ماسے داخل ہوئے‘ وہ صلیب کو لوگوں کے سروں پر بلند کئے ہوئے اپنا مخصوص نعرہ لگا رہے تھے اور پکارپکار کر کہہ رہے تھے کہ دینِ برحق یسوع مسیح کا دین غالب آگیا۔ وہ اسلام اور اہلِ اسلام کی صاف صاف مذّمت کرتے۔ ان کے ہاتھوں میں شراب کے برتن تھے‘ جس مسجد کے پاس سے گزرتے اس کے آس پاس شراب چھڑکتے پھر لوگوں کے چہروں اور کپڑوں پر بھی چھڑکتے۔ گلیوں بازاروں میں جو شخص بھی گزرتا اس کو حکم دیتے کہ صلیب کی کھڑے ہو کر تعظیم کرے۔ مسلمان یہ نقشہ دیکھ کر جمع ہو گئے اور اُن لوگوں کو دھکیل
کر کینسہ مریم تک پہنچا دیا گیا۔ وہاں عیسائی مقررنے کھڑے ہو کر مسیحیت کی تعریف میں تقریر کی اور دینِ اسلام اور اہلِ اسلام کی مذّمت کی۔“
 

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,922
1,586
363
تاتاریوں کی پہلی شکست
شام پر قبضہ کے بعد تاتاریوں کا رخ قدرتی طور پر مصر کی طرف تھا کہ تنہا وہی اسلامی ملک تھاجو اُن کی غارت گری سے اب تک بچا ہوا تھا۔ سلطانِ مصرمَلِک المظفر سیف الدین کو معلوم تھا کہ اب مصر کی باری ہے۔ اس نے مناسب سمجھا کہ وہ مصر میں رہ کر مدافعت کرنے کی بجائے خود آگے بڑھ کر شام میں تاتاریوں پر حملہ کر دے۔ چنانچہ اُسی سال یعنی ۲۸۲۱ءمیں عین جالوت کے مقام پر تاتاریوں اور مصر کی اسلامی افواج کا مقابلہ ہوا اور سابقہ تجربوں کے بالکل برعکس حیران کُن طورپر تاتاریوں کو شکستِ فاش ہوئی۔ وہ بُری طرح بھاگے‘ مصریوں نے ان کا تعاقب کیا اور کثرت سے ان کا قتل ِعام کیا۔ وہ بڑی تعداد میں گرفتار بھی ہوئے۔
علّامہ سیوطی تاریخ الخلفا میں لکھتے ہیں:
”تاتاریوں کو شرمناک شکست ہوئی اور مسلمانوں نے فتح پائی۔ تاتاریوں کا قتلِ عام ہوا اور وہ اس طرح سراسیمہ ہو کر بھاگے کہ لوگوں کی ہمتیں بڑھ گئیں وہ آسانی سے انہیں پکڑلیتے اور قتل کرتے تھے۔“عین جالوت کے معرکے کے بعد سلطان ملک الظاہر بیبرس نے متعدد بار تاتاریوں کو شکست دی اور سارے ملک شام سے ان کو بے دخل کر دیا اور اس طرح وہ کہاوت غلط ثابت ہوئی کہ تاتاریوں کو شکست دینا ممکن نہیں۔
تاتاریوں میں اشاعتِ اسلام
قریب تھا کہ سارا عالمِ اسلام اس سیلاب ِ بلا میں بہ جائے اور جیسا کہ اس وقت کے اہل ِنظر اور درد مند مسلمان مصنفین نے خطرہ ظاہر کیا کہ شاید اسلام کا نام ونشان مٹ جائے گا کہ دفعتاً تاتاریوں میں اشاعتِ اسلام شروع ہو گئی اورجو کام مسلمان بادشاہ اور ان کی شمشیریں نہ کر سکیں‘ وہ اسلام کے داعیوں اور خدا کے مخلص بندوں نے انجام دیا۔
تاریخ کے عجیب ترین واقعات اور حقائق میں سے اس ناقابلِ تسخیر قوم کا اسلام سے مسخّر ہو جانا ہے۔ تاتاریوں کا ایک سال کے عرصہ میں برق وباد کی طرح وسیع اسلامی دنیا پر چھا جانا اور عالمِ اسلام کو بزور شمشیر فتح کر لینا اتنا عجیب واقعہ نہیں جتنا یہ کہ اپنے انتہائی عروج کے زمانہ میں یہ نیم وحشی قوم اپنے مفتوح اور بے دست وپا مسلمانوں کے دین کی حلقہ بگوش بن گئی۔ پروفیسر ٹی ۔ ڈبلیو آرنلڈ اپنی مشہور کتاب (PREACHING OF ISLAM)میں لکھتا ہے:
”اسلام اپنی گزشتہ شان وشوکت کے خاکستر سے پھر اٹھا اور واعظین اسلام نے ان وحشی مغلوں کو مسلمان کر لیا۔ یہ ایسا کٹھن کام تھا جس میں سخت مشکلیں پیش آئیں کیونکہ دو مذاہب والے اِ س بات کی کوشش میں تھے کہ مغلوں اور تاتاریوں کو اپنا معتقد بنائیں۔ ان میں ایک عیسائی تھے اور دوسرے بدھ مت کے پیرو۔“
اسلام کے لئے ایسے وقت میں بدھ مذہب اور عیسائی مذہب کا مقابلہ کرنا اور مغلوں کو ان دونوں مذاہب سے بچا کر اپنا پیروبنانا ایسا کام تھا جس میں بظاہر کامیابی نا ممکن معلوم ہوتی تھی لیکن علمائے اسلام نے یہ کارنامہ بڑی محنت وجانفشانی اور خوش اسلوبی سے انجام دیا۔
یہ واقعہ جتناعجیب اور عظیم الشان ہے اتنا ہی یہ امر حیرت انگیز ہے کہ تاریخ میں اس کی تفصیلات اور جزئیات بہت کم ملتی ہیں اور جن لوگوں کے ہاتھوں یہ کارنامہ انجام پایا ان کاتاریخ کے دفتر میں بہت کم سراغ ملتا ہے۔ جن مخلصین نے اس خون آشام تاتاری قوم کو اسلام کا حلقہ بگوش بنایا ان میں بہت کم لوگوں کا نام دنیا کو معلوم ہے مگر ان کا یہ کارنامہ دنیا میں اور ان کا یہ احسان نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ پوری انسانیت پر قیامت تک برقرار رہے گا۔ چنگیز خان کی سلطنت انتقال کے بعد اس کے چار بیٹوں کی چار شاخوں میں بٹ گئی تھی۔ ان چاروں شاخوں میں اسلام کی اشاعت شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ ایک صدی کے اندر اندر تقریباً ساری تاتاری قوم مسلمان ہو گئی۔ پروفیسر آرنلڈ لکھتا ہے:
”مغلوں (تاتاریوں) کا پہلا بادشاہ جو مسلمان ہوا وہ برکہ خان تھا۔ یہ ۶۵۲۱ءسے ۵۶۲۱ءتک ’سیراداورا‘ کا خان رہا۔اس بادشاہ کے مسلمان ہونے کی نسبت لکھا ہے کہ ایک دن وہ ایک کارواں میں پہنچا جو بخارا سے آیا تھا اس میں دو مسلمان تاجر تھے جن کو برکہ خان الگ لے گیا اور اسلام کے متعلق کچھ سوالات کئے۔ مسلمانوں نے اپنے مذہب کے احکام وارکان اِس خوبی سے بیان کئے کہ ’ سیراداورا کے خان کو مسلمان ہو جانے کا شوق پیدا ہوا لہٰذا وہ اسلام لے آیا۔ اس کا حال برکہ خاں نے اپنے چھوٹے بھائی سے بیان کیا اور اسے بھی اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی۔ اس کے بعد برکہ خان نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد برکہ خاں نے سلطانِ مصر رکن الدین بیبرس سے مصالحت کر لی۔ تاتاری سلطنت اور چنگیزی خاندان کی دوسری شاخ ’ دولتِ ایلخانیہ‘ میں اشاعتِ اسلام کے بارے میں آرنلڈ لکھتا ہے:
”ہلاکو خاں کا بیٹا ’تکودار‘ جو اپنے بھائی باقا خان کا جانشین ہوا‘ دولتِ ایلخانہ کا پہلا بادشاہ تھا جس نے اسلام قبول کیا۔“ یوں تاتاریوں میں اشاعتِ اسلام کا سلسلہ چل نکلا اور وہ قوم جس نے پورے عالمِ اسلام کو پامال کر کے وحشت وبربریت کی مثالیں قائم کر دی تھیں اور جس کے سامنے کوئی اسلامی طاقت ٹھہر نہیں سکتی تھی‘ چند برس کے عرصہ میں اسلام کی حلقہ بگوش بن گئی۔ اسلام نے دوبارہ اس بات کا ثبوت دیا کہ اس کو اپنے دشمنوں کو تسخیر اور اپنے دامِ محبت میں اسیر کرنے کی عجیب وغریب قدرت حاصل ہے۔ تاتاری نہ صرف مسلمان ہوئے بلکہ ان میں بڑے بڑے مجاہد اور فاتح‘ بڑے بڑے عالم اور فقیہ اور بڑے بڑے باخدا درویش پیدا ہوئے جنہوں نے بہت سے نازک موقعوں پر اسلام کی پاسبانی کا فرض انجام دیا۔ ع
ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
 
Top
Forgot your password?