چھاپہ خانہ شروعات کیسے ہوئی؟

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,466
1,313
Lahore,Pakistan
چھاپہ خانہ شروعات کیسے ہوئی؟

رضوان عطا

کچھ ایجادات تاریخِ انسانی کا رخ بدل دیتی ہیں۔ ان میں سے ایک چھاپہ خانہ یا مطبع ہے جس میں سیاہی کی مدد سے کاغذ یا کسی دوسرے مواد پر تحریر یا تصویر کو مشینی عمل کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ عہدوسطیٰ اور اس سے قبل قلم دوات سے لکھی کتب تک چند افراد یا مخصوص طبقے کو رسائی ہوا کرتی تھی لیکن چھاپہ خانے نے کتب، رسائل اور اخبارات ہر خاص و عام کے گھر تک پہنچا دیے ۔ چھاپہ خانے کا خمیر چین سے اٹھا مگر اسے مشینی صورت دے کر یورپ نے انقلابی آہنگ عطا کیا۔ تاریخ نے تاحال ایسے شواہد فراہم نہیں کیے کہ پہلے چھاپہ خانے کی تاریخ، مقام اور ایجاد کنندہ کے بارے بتایا جا سکتے البتہ تاریخ کے اوراق اتنے بھی خالی نہیں۔ چین کے شہر ڈون ہوانگ کے قریب غار سے تقریباً ایک ہزار برس سے سربمہر کتاب ملی۔ 1900ء میں دریافت ہونے والی یہ قدیم ترین شائع شدہ معلوم کتاب ہے اور ’’ڈائمنڈ سُترا‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ چین کے تانگ سلسلۂ شاہی کے دور میں 868ء کے لگ بھگ شائع ہوئی اور اشاعت میں جس طریقے کو برتا گیا اسے بلاک پرنٹنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں لکڑی کے قالبوں پر کندہ لکھائی پر سیاہی لگا کر چھپائی ممکن بنائی جاتی ہے۔غالباً لکڑی کے بلاک کیساتھ ہی کاغذ پر چھپائی شروع ہوئی ۔پرنٹنگ نے کتب کی ظاہری شکل کو بدل دیا، وہ مرغولوں میں لپٹی ہونے کے بجائے موجودہ صورت میں آ گئیں۔ اس دور میں خطے کے دوسرے ممالک مثلاً جاپان اور کوریا میں بھی یہ طریقہ رائج تھا۔ شواہد عندیہ دیتے ہیں کہ چودہویں صدی کے اواخر میں دھاتی متحرک ٹائپ ایک کوریائی سادھو بیجن کی تخلیق ہے۔ اس نے اسی طریقے کی مدد سے بدھ مت سے متعلق اقوال کو شائع کیا۔ دو جلدوں پر مشتمل یہ کتاب ’’جیک جی‘‘ کہلاتی ہے اور متحرک دھاتی ٹائپ پر شائع ہونے والی قدیم ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ غیر دھاتی مواد سے تیار کردہ بلاکس کی مدد سے کاغذ پر پہلی کتاب 1040ء میں شائع ہوئی اور اس کا سہرا چین کے بی شنگ کے سر ہے۔ اور اس کا پتا 1084ء کی ایک کتاب سے چلتا ہے۔ بی شنگ نے پختہ چینی مٹی کو برتا۔ اس زمانے میں وقت کے ساتھ کتب قدرے عام ہونے لگیں ۔ انہیں جمع کرنا باعثِ افتخار ہوتا اور طبقۂ اعلیٰ سعی کرتا کہ اس کے پاس زیادہ سے زیادہ ذخیرۂ کتب ہو۔ لکڑی کے بلاکوں کی مدد سے ہونے والی چھپائی کم و بیش متروک ہونے کے بعد تیرہویں صدی کے اوائل میں واپس آئی۔ کاشتکاری سے وابستہ وانگ چن نے لکڑی کے بلاکوں کو نفیس اور ان کی ترتیب کو تیز رفتار بنایا۔ زراعت کے متعلق اس کی تیار کردہ کتاب ’’نونگ شو‘‘ بڑے پیمانے پر شائع ہونے والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے۔ یہ یورپ بھی برآمد ہوئی۔ یورپ میں چھپائی کا آغاز وانگ چن کے ڈیڑھ صدی بعد ہوا۔ اس دوران وانگ چن کی جدید کاری سے چینی مستفید ہوتے رہے۔ ایشیا میں بلاک چھپائی کے زیادہ عام نہ ہونے کی ایک وجہ یہاں کے طرزِ تحریرکا پیچیدہ ہونا تھا جس کے بلاک تیار کرنے اور ترتیب دینے کے لیے بہت محنت درکار ہوتی۔ یورپ کا لاطینی طرزِ تحریرسادہ ہے جس میں جاپانی اور چینی وغیرہ کے ’’کریکٹرز‘‘ کے برخلاف حروف تہجی کو آگے پیچھے جوڑ کر الفاظ بنائے جا سکتے ہیں۔ مصری عربوں نے بلاک پرنٹنگ نویں صدی عیسوی میں شروع کر لی تھی اور اسی سے متاثر ہو کر یورپ میں اس کا آغاز ہوا۔ ایشیا کی طرح یورپ میں بلاک پرنٹنگ زیادہ تر اپنے ابتدائی دور میں کپڑوں کے ڈیزائن کے لیے مخصوص تھی۔یورپ میں 1300ء تک یہ عام تھی۔ یورپ میں مشینی چھاپہ خانے کی شروعات جوہانس گوٹن برگ نے کی جو اشاعت کو تیز رفتار بنانے کا متمنی تھا۔ جرمنی سے سیاسی جلاوطنی کے بعدفرانس کے شہر سٹراس برگ میں اس نے 1440ء میں اس سلسلے میں تجربات کا آغاز کیا۔ 10 برس بعد جب وہ جرمنی میں اپنے شہر پہنچا تو اس قابل تھا کہ مشین نصب کر کے اسے کاروباری مقاصد کے لیے برت سکتے۔ گوٹن برگ نے لکڑی کے بجائے دھات کو برتا اور حروف کے بلاک کے بجائے ایک حرف کو۔اس نے اسی مناسبت سے اپنی سیاہی بھی تیار کی۔ اس نے کاغذ کو سپاٹ کرنے کے لیے عرق نکالنے کے آلے ’’وائن پریس‘‘ میں ترمیم کی۔ یہ روایتی طور پر وائن تیار کرنے کے لیے انگوروں کو مسلنے یا اولیو سے تیل نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ ایک دولت مندہانز فسٹ کا مقروض ہوا اور پھر اشاعتوں کے منصوبے میں اسے شامل کر لیا لیکن تین برس بعد فوسٹ نے گوٹن برگ کو بے دخل کر دیا اورقانون کی مدد لیتے ہوئے گوٹن برگ کے تمام سازوسامان پر قبضہ کر لیا۔ اس کا سازوسامان فوسٹ کے ساتھ ایک سابق خطاط پیٹر شوفرکے ہاتھ آیا۔ شوفر تکنیکی اعتبارسے اس کام میں مزید بہتری لایا۔ جن محنت کشوں نے گوٹن برگ کے ابتدائی تجربات میں اس کی معاونت کی تھی ان کے توسط سے جرمنی میں پرنٹنگ کامیاب کاروبار بن گیا۔ اب وہ خودپرنٹر اور دوسروں کو بتانے اور سکھانے والے بن گئے۔ جرمنی کے بعد گوٹن برگ کی ایجاد سے اٹلی مستفید ہوا۔ یہاں چھاپہ خانہ 1465ء میں پہنچا اور چند ہی سالوں میں اٹلی میں یہ کامیاب تجارت بن گئی۔ 1470ء میں جرمن پرنٹرز کو پیرس میں چھاپہ خانے لگانے کی دعوت دی گئی۔ لائبریرین منتخب کر کے اپنی کتاب چھپواتے جن میں زیادہ تر طلبہ کے لیے نصابی کتب ہوتیں۔ چند ہی برس میں جرمن وہاںا س کاروبار میں اپنی کمپنیاں بنانے لگے۔ 1473ء میں سپین اور 1495ء میں پرتگال میں چھاپہ خانے پہنچ گئے۔ گوٹن برگ کی ایجاد 1476ء میں ولیم لیکسٹن کے ذریعے انگلستان پہنچی۔ وہ کئی برس بیلجیئم میں رہا تھا۔ وہ 1471ء میں جرمنی کے شہر کولون یہ کام سیکھنے کے لیے گیاتاکہ بیلجیئم میں چھاپہ خانے قائم کر سکے۔ انگلستان واپس آنے پر اس نے ویسٹ منسٹر ایبے میں چھاپہ خانہ قائم کیا، وہاں وہ 1491ء میں اپنی موت تک شہنشاہت کے لیے بطور پرنٹر کام کرتا رہا۔ تقریباً تین سو سال تک یورپ میں لکڑی سے بنے تختہ نما شکنجے کو دبا کرکاغذ پر چھپائی ہوتی رہی۔ اس سے فی گھنٹہ ایک جانب کی اڑھائی سو شیٹوں کی تیاری ہوتی۔پھر دھات اور سلنڈر نے اس کی جگہ لی۔انیسویں صدی کے وسط میں نیویارک سے تعلق رکھنے والے رچرڈ ایم ہوئی نے گھومنے والے سلنڈر کی مدد سے رفتار میں انقلاب برپا کر دیااور گھنٹے بھر میںہزار ہا شیٹوں کی تیاری کو ممکن کر دکھایا۔1870ء میں اس نے ایسی روٹری پریس تیار کی جو کاغذ کے دونوں اطراف ایک ہی وقت میں چھپائی کی صلاحیت رکھتی تھی ۔روٹری کے بعد آف سیٹ پریس نے رنگین اشاعتوں کو آسان کر دیا۔ بجلی کے استعمال کے ساتھ بیسویں صدی میں چھاپہ خانوں کے ڈیزائن میں جدت نے رفتار اور معیار کو مزید بڑھایا اور 1950ء کی دہائی میں جب کمپیوٹر کو اس کام شامل کیا گیا تو یہ عمل اس دور میں داخل ہوا جس میں آج ہم زندہ ہیں۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?