چھ ستمبر 1965ء اور آج کے حالات تحریر : صہیب مرغوب

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
چھ ستمبر 1965ء اور آج کے حالات تحریر : صہیب مرغوب
115709

ستمبر 2019ء ہے ۔1965ء کی صورتحال سوچی سمجھی عالمی سازش تھی۔ جنگ کی کھچڑی 1964ء میں پکنا شروع ہوئی تھی۔ جب بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ دونوں ممالک میں تصادم کا سبب بن گئی تھی ۔یہ جنگ اچانک ،راتوں رات شروع نہیںہوئی تھی ،بھارت کی اپریل سے جاری سرحدی خلاف ورزی اس کی عالمی سازشوں کا نتیجہ تھی۔ عالمی سیاسی حالات ہمارے حق میں نہ تھے۔ یورپی ممالک نے پاک چین دوستی کی وجہ سے اپنا تمام وزن بھارت کے حق میں ڈال دیا تھا۔کر نے سے روک دیاتھا، اور ایک ایسا ماحول پیدا کر دیاتھا جس میں پاکستان کا دفاع انتہائی مشکل ہوگیاتھا۔ ہمارے پاس4ہفتے اور بھارت کے پاس 12ہفتے کا جنگی سازو سامان موجود تھا۔بھارت کو معلوم تھا کہ پاکستان کے پاس اسلحہ کی کمی ہے ،جو اسلحہ تھا اس پر بھی شدید پابندیاں عائد تھیں، امریکہ نے اسلحہ بھارت کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ اول تو ہمیں اس شرائط پر اسلحہ لینا ہی نہیں چاہیے تھا کیونکہ ہم چین کے دشمن ہر گز نہ تھے اور دوسرے کسی ملک کے ساتھ جنگ کا امکان سر ے سے موجود ہی نہ تھا۔ شرائط ناقابل قبول تھیں۔ بہرکیف ، ایک عالمی رہنما نے سابق وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو اسلحہ کی کمی جتاتے ہوئے کہا تھا کہ

’’ آپ کے پاس اسلحہ ہی نہیں ہے، جنگ خالی ہاتھوں سے نہیں لڑی جاتی‘‘ ۔

بھٹو نے کہا تھا کہ ’’ہم اور ہماری فوج خون کے آخری قطرے تک وطن کے دفاع میں لڑے گی، گولہ بارود ختم ہوگیا تو ہم لاٹھیوں، ڈنڈوں اور پتھروں سے جنگ جاری رکھیں گے۔یہ بھی نہ رہے تو دست بازو سے کام لیں گے۔ مگر دفاع کی جنگ کبھی نہیں تھمے گی۔ ‘‘یہ مضمون لکھتے وقت سابق امریکی صدر جانسن کے نام پر قائم ’’جانسن لائبریری ‘‘، لائبریری آف کانگریس اور دوسری لائبریریوںکی دستاویزات ،خفیہ دستاویزات ،جریدہ فارن پالیسی سمیت سینکڑوں خطوط اور بیانات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ کہانی انہی کی ہے بس الفاظ میرے ہیں۔ آئیے پڑھتے ہیں۔

ًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًً 1963ء میں چواین لائی نے پاکستان کا دورہ کیا کر لیا کہ پوری عالمی سیاست تلپٹ ہوگئی۔ پاکستان کے حلیف مخالفین کی صف میں کھڑے ہو گئے۔ اور بھارت کے مخالفین عصر حاضر کی طرح بھارت کی پشت پر دکھائی دینے لگے۔ چو این لائی کا دورہ پاکستان کے ختم ہوتے ہی امریکہ نے بھارت کے ساتھ پانچ سالہ دفاعی معاہدے اور سپرسونک لڑاکا طیارہ بنانے میں مدد دینے پر حامی بھر لی۔ امریکہ نے اسی وقت برطانیہ کو بھارت کی مدد کرنے کی ’’ہدایت ‘‘ دے دی ۔امریکی ایما پر برطانیہ نے بھی بھارت کی دفاعی انڈسٹری کو استحکام دینے کے لئے دست تعاون بڑھا دیا۔سابق صدرجانسن کے حکم پر رولز رائس کار کمپنی نے بھارت کے لڑاکا طیاروں کے لیے بیرون ملک کہیں اپنا پلانٹ لگانے پر بھی غور شروع کر دیا۔ ان کاروں کے انجن بھارت کے HF24نامی سپر سونک لڑاکا طیاروں میں استعمال کئے جاسکتے تھے۔ فروری 1964ء میں ہی امریکہ کو بھارت کی ایٹمی صلاحیتوں کا علم تھا۔ بھارت یورپ کے ایٹمی تعاون سے 4سے 6مہینے میں ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا ،امریکہ نے بھارت کو بھاری پانی مہیا کیا تھا مگر بقول امریکہ، یہ بھاری پانی بہت محفوظ ہے اور امریکہ اس کے استعمال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ تارا پور کا ایٹمی مرکز امریکہ کی مدد سے ہی لگایا گیاتھا۔

۔25فروری کو امریکہ نے کہاکہ جنرل ایڈمز پاک بھارت کشیدگی کا جائزہ لینے کے لئے خطے کا دورہ کریں گے، پاک چین تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے امریکہ ہانگ کانگ سے بھی رپورٹ طلب کرے گا۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ امریکہ نے بھارت کی فوجی امداد میں فوری اضافے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم 70کروڑ ڈالر کی فوجی اور اقتصادی امداد دینے کو تیار ہیں مگر ایوب کو نہرو کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہیں کریں گے۔کیونکہ بھارت کوحکمرانی کے بحران کا سامنا ہے۔ اگر بھارت ٹوٹتا ہے تو اس میں ہمارابھی نقصان ہو گا۔ بھارت اگرکیمونسٹ ملک بن جاتا ہے تو یہ چین جیسی دوسری برائی ہوگی۔ اگر بھارت سوویت بلاک میں رہتا ہے تو بھی یہ ہمیں قبول نہیں‘‘۔

بھارت کے ساتھ فوجی منصوبوں میں اشتراک کے ساتھ ہی امریکہ نے پاکستان کی تمام فوجی اور سول امداد بند کر دی۔ امریکہ نے عالمی بینک، جرمنی اور برطانیہ سمیت کنسورشیم کو پاکستان کی امداد بند کر نے کوکہہ دیا۔جس پر کنسورشیم نے اپنا اجلاس ملتوی کر دیا۔امریکہ نے پاکستان کوملنے والی تمام عالمی امدادکو امریکی کانگریس کی منظوری سے مشروط کر وا دیا ۔ امریکی کانگریس کا اجلاس اگست 1965ء میں ہونا تھا۔ اسی پاکستان کو امداددینے والے کنسورشیم نے اجلاس کی تاریخ 27ستمبر 1965رکھ دی ۔ بھارت کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر بھابھا اور سابق وزیراعظم لال بہادر شاستری نے ڈنکے کی چوٹ پر امریکی رہنمائوں کے روبرو دو سال میں دو چار نہیں ،بلکہ سینکڑوں ایٹم بم بنانے کی دھمکی دے ڈالی ۔مگر امریکی رہنما چپ چاپ سنتے رہتے،کیونکہ پینٹا گان ، دفتر خارجہ ، سی آئی اے اورنیشنل سکیورٹی افیئر ز سمیت سبھی کامقصد پاکستان کو نیچا دکھانے کے سوا کچھ نہ تھا۔اسے پاک چین دوستی کی قیمت تو ادا کرنا تھی۔ہمارے ہاں جدید ترین اسلحہ بنایاجا رہا ہے، جس نے بھارت کے ہرانے میں ہماری مدد کی ۔

پاک بھارت سرحد کی صورتحال 1965میں کم وبیش ایسی ہی تھی جیسی ہم آج دیکھ رہے ہیں۔بھارت آئے روز کسی نہ کسی محاذ پر گولہ باری کر کے سول آبادی کو نشانہ بنا تا رہتاتھا ،ہر بار اسے کرارا جواب ملتا مگراس کے باوجود اس کی جنگی حس ٹھنڈی نہ پڑتی اور چند ہی روز بعد وہ پھر گولہ باری کا آغاز کر دیتا۔ایک روز اس نے طیارے پاکستان کی حدود میں داخل کر دیئے ،یہ دن بھارت کے سکون کا آخری دن تھا اس روز پاک فضائیہ نے بھارت کے جنگی طیاروں کو فضا میں جالیا اور انہیںمار بھگایا۔جس طرح پاکستان نے ابھی نندن کو حراست میں لے کر بھارت کا سکون غارت کر دیا اسی طرح 1965ء میں بھی ہلواڑہ،آدم پور اورپٹھان کوٹ جیسے ہوائی اڈوں کو نیست و نابود کر کے علاقائی برتری کا خواب چکنا چور کر دیا تھا۔

بھارت نے 1964سے ہی پاکستان کی سرحدی چوکیوں کے نزدیک نقل و حمل شروع کر دی تھی۔ ماحول کشیدہ تھا۔ امریکہ، روس اور چین باریک بینی سے صورتحال کا جائزہ لے رہے تھے۔ چین کے بیانات پاکستان کے حق میں تھے مگر امریکہ ، روس اور چین دونوں پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ امریکہ کے ریڈار پر روس سے زیادہ چین مشکوک تھا۔ جبکہ چین کی نظریں واشنگٹن اور ماسکو پر تھیں۔ سابق سوویت یونین بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کے بعد جنوب مشرقی ایشیاء میں ایک نیا کھیل کھیلنے کے لیے تیار تھا۔ امریکہ ، روس اور بھارت کی اس تکون کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے پس پشت ڈالنا ، بھارت کو علاقائی تھانیدار بنانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ 8جنوری 1964ء کو پاکستان کے سفیر غلام احمد نے امریکی حکام کو امریکی دفتر خارجہ کے حکام سے ملاقات کی اور انہیں پاکستانی کشمیر اور بانڈری لائن کے قریب بھارتی فوجیوں کی نقل و حمل سے آگاہ کیا۔ شنید تھی کہ یہ فائرنگ امریکی ہتھیاروں کی مدد سے کی گئی۔ پاکستانی سفیر نے امریکہ کو یاد دلایا کہ اکتوبر 1963ء کے معاہدے کے مطابق ’’امریکہ کسی بھی جنگ کی صورت میں پاکستان کی مدد کرنے کا پابند ہے ‘‘اس سلسلے میں سیٹو اور سینٹو کا بھی حوالہ دیا گیا۔ اسی موضوع پر امریکی انڈر سیکرٹری بال Ball اور بھٹو کے مابین مذاکرات ہوئے۔ امریکی رہنما ٹالبوٹ نے پاکستان کو یقین دلایا کہ امریکہ 24جنوری 1957ء کو ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کا پابند ہے اور دوسرے ممالک کی خارجہ پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔مگر عملی طور پر مذکرات ناکام ہوئے۔

ادھر لوک سبھا میں بھارتی زعما کے لب و لہجہ میں تلخیاں علاقے میں کسی کشیدگی کی علامت تھی۔ لوک سبھا میں ہونے والی بحث کشمیری اور پاکستانی عوام کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔ بعض رہنمائوں نے دو ٹوک انداز میں پاکستان کو ہڑپ کر نے کی دھمکی دی تھی۔ جس پر پاکستانی سفیر نے امریکی حکومت سے اعتراض کیاتوامریکی جنرل ٹیلر نے ایوب خان سے رابطہ کیا ۔ جنرل ٹیلر نے ایوب خان کو یقین دلایاکہ’’ہم اپنے موقف پر قائم ہیں‘‘۔ ٹیلی فونک بات چیت کے بعد جنوری کے دوسرے ہفتے میں جنرل ٹیلر پاکستان کے دورے پر آئے۔ جہان انہوں نے پاکستان سے تعاون کاپانچ سالہ پروگرام پیش کر دیا۔ اسی قسم کا پلان امریکی انتظامیہ بھارت کو بھی پیش کرچکی تھی ۔

جلتی پر تیل کا کام نرائن گنج اور ڈھاکہ میں فسادات نے کیا۔ کلکتہ میں 175مسلمانوں کی شہادت کے بعد 20ہزار سے زائد مسلمان پہلے مرحلے میں سابقہ مشرقی پاکستان میں داخل ہو گئے۔ یہ بالکل 1971ء جیسی صورتحال تھی۔ 1971ء میں بھارت نے مشرقی پاکستان کے باشندوں کی آمد کا بہانہ بنا کر مغربی پاکستان پر بھی حملہ کیاتھا۔ بہر کیف بھارت نے آسام اور بنگال میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دی تھی۔جیسا کہ آج بھی آسام میں صورتحال اتنی ہی خراب ہے، وہاں34لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کیاجارہاہے۔ سابق صدر ایوب خان نے آسام اور مغربی بنگال میں مسلمانوں کی شہادت اور انخلا روکنے کا مطالبہ کیاتھا ۔سابقہ مشرقی پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب ہندو بھی آباد تھے۔ جن کا مقصد ڈھاکہ ، راجشاہی، سلہٹ اور نرائن گنج سمیت متعدد مقامات پر حالات کو کشیدہ کرنا تھا۔ یہ ہندو چارو ں طرف سے گھیرے میں لینے والی بھارتی فوج کو اندر سے

6ستمبر

مدد دینے کے لیے تیار تھے۔ بڑھتی ہوئی بھارتی مداخلت کے پیش نظر راجشاہی میں بھارتی قونصل خانہ بند کر دیاگیا۔

۔1964ء میںبھارت نے چکنوٹ سیکٹر اور پونچھ سیکٹر میں گولہ باری کی۔ بگڑتی ہوئی صورتحال پرپاکستان نے19جنوری 1964ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلا س طلب کر لیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح اس وقت بھی امریکہ اور برطانیہ نے ثالثی کی پیش کی ۔مگر آج کی طرح بھارت نے مسترد کر دی۔ثالثی کی پیش کش کے با وجودپاکستان کی جانب امریکی رویہ سرد پڑتا جارہا تھا۔ 1962ء کے موسم سرما اور موسم بہار میں اقوام متحدہ کی سلامی کونسل میں ہونے والی بحثو ں میں امریکہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ مگر 1964 ء میں امریکی گرم جوشی قدر ے ختم ہو چکی تھی۔انہی دنوں دفتر خارجہ کے ایگزیکٹو سیکرٹری میکیزون( Mckazon)کا ایک خط منظر عام پر آیا۔انہوںنے لکھا تھا کہ ’’امریکہ کی مسلسل حمایت سے ایوب خان مضبوط ہوتے جارہے ہیں ، وہ بھارت سے نبٹنے کے لئے توانائی اور طاقتور محسوس کرتے ہیں ،وہ بھارت کے معاملہ میں خود کو طاقتور سمجھنے لگے ہیں ،لہٰذا کچھ سرد مہری دکھانا چاہیے‘‘۔

امریکی دفتر خارجہ ، اس کے سفیر اور کئی افسران بھی امریکی انتظامیہ کو جنوب مشرقی ایشیاء میں اسے چین سے ڈرا رہے تھے۔ ان افسروں کا مقصد یہ بارو کرانا تھا کہ پاکستان کی مدد سے چین خطے کا چوہدری بن جائے گا۔ چین کے اثر و نفوذ کو روکنے کے لیے بھار ت کی مدد کرنا امریکہ پر فرض ہے۔ بقول امریکی ماہرین ،پاکستان چینی بلاک میں شامل ہو رہا تھا۔۔امریکی نقطہ نظر کو بھانپتے ہوئے پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بھٹو نے 29نومبر 1964ء کو بھی یقین دلایا کہ صدر ایوب خان نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ ( صدر جانسن) کو یہ پیغام پہنچا دوں کہ آپ خود کو اس پریشانی سے آزاد کر یں کہ پاکستان کسی صورت میں خارجہ پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔ شاستری نے زور دیا کہ امریکہ اگر اسی طرح پاکستان کی مدد کرتا رہا تو مسئلہ کشمیر کبھی حل نہیں ہوگا۔ بھارتی دباو پر امریکہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع ہو گیا۔

یکم مئی کو حالات بگڑنے کے بعد امریکہ نے مداخلت کی ۔ صدر جانسن کا ہنگامی پیغام ملنے کے بعد بائونڈری ایریا پر دوبارہ مذاکرات کی کرن دکھائی دی۔ پاکستان رن کچھ میں سیز فائر پر آمادہ ہوگیا۔ مگر بھارت کے صاف انکار کے بعد حالات بگڑ گئے۔امریکہ نے اپنے بعض افسران کوسرحدی معائنے کے لیے پاکستان اور بھارت بھیجا۔امریکی جنرل پہلے بدین پہنچا ،جہان اس نے آٹھویں ڈویژن کی نقل و حمل کا اچھی طرح جائزہ لیا۔ امریکی فوج نے بھارتی علاقے کا بھی دورہ کیا ۔بھارت نے راجھستان سیکٹر پر گولہ باری میں امریکی راکلس 6ایم ایم رائفلیں استعمال کیں،پاکستان نے امریکہ سے شکایت کی۔ گولیوں کے خول امریکی افسر کو پیش کیے گئے۔ امریکی افسر نے تسلیم کیا کہ چین کو مارنے کے لئے بھارت کو دیا گیا اسلحہ بھارت نے دوست ملک پاکستان کیخلاف استعمال کیا ہے۔ وہ بھارت کو یہ اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہا۔ واجپائی نے بھارتی پارلیمنٹ میں رن آف کچھ اور راجھستان کے بارے زور دار جذباتی تقریر کی۔ تقریروں سے ایسے ہی شواہد ملے کہ بھارت نے امریکی ہتھیاروں سے لیس کئی بریگیڈ پاکستان کے ساتھ جنگ میں جھونک دیئے ہیں۔

1965کی جنگ سے پہلے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نوجوان مردوں اور عورتوں کو بھی گرفتار کرنا شروع کر دیا تھا۔ کیونکہ آزاد کشمیر میں بھی جنگ میں شدت آ رہی تھی ۔یہ دہلی کے ایوانوں میںخطرے کی گھنٹی کی طرح گونج رہی تھی جس کی باز گشت امریکہ میں بھی سنی گئی۔مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کوپیچھے ہٹانے کے لیے بھارت نے سلیمانکی سیکٹر پر شدید گولہ باری کی ۔14مئی کو کینبرا طیاروں نے کھاریاں کی جانب پرواز کرنے کی کوشش کی ۔ پاکستان نے عالمی سطح پر احتجاج کیا۔پاکستان یہ طیارہ گرا دیتا تو یقینا جنگ اسی روز پھیل جاتی ،پھر اسے کنٹرول کرنا ناممکن ہوتا۔کھاریاں کی جانب پرواز کے فوراََ بعد نئے احکامات جاری ہوئے۔ فوج اور فضائیہ ہر بھارتی طیارہ گرانے کا حکم مل گیا۔ اس کے بعد بھارتی فوج نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی جرات نہیں کی۔

۔23مئی کو بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری نے امریکی صدر جانسن کو ایک اور خط لکھا ۔جس میں پاکستان کیخلاف درجنوں الزامات عائد کیے گئے۔شاستری کے خط کے جواب میں امریکہ نے بھارت کو 22کروڑ 70لاکھ ڈالراورپاکستان کو صرف 1.85ڈالر دینے کا اعلان کیا۔اس امریکی شہ پر بھارت اپنی 4ڈویژن حملہ آور فوج پاکستانی سرحد سے ڈیڑھ سو گز کے فاصلے پرلے آیا تھا ۔16اور 17مئی کو بھارتی فوج نے اچانک کارگل سیکٹر میںحملہ کر دیا۔ بھارتی فوج 6جون تک کارگل کے مغرب میں 20سے 25میل اندر گھسنے کا ناپاک منصوبہ بنا رہی ہے۔ پاک فوج نے وہ بھارتی حملہ ناکام بنانے کے بعد چھمب میں کئی میل اندر تک داخل ہوگئی۔ بھارت نے ایک مرتبہ پھر امریکی ہتھیاروں کے استعمال کا راگ الاپا۔نیشنل سکیورٹی کونسل کے رابرٹ گومر نے کہا کہ ’’ہم پاکستان پر دبائو ڈالنے کے لیے پہلے ہی اقدامات کر چکے ہیں۔ ایف 104طیاروں کی دو سکواڈرن کی فراہمی دو سال سے روک رکھی ہے۔ مزید اقدامات کر رہے ہیں جس کے باعث پاکستان کا خون رس رہا ہے‘‘۔ انہوں نے جملہ استعمال کیا ’پاکستان از بلیڈنگ ‘۔

اس موقع پر غیر جانبدار حلقوں کی جانب سے پٹرولنگ کی پیش کش کی گئی جسے بھارتی وزیراعظم شاستری نے مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان رن کچھ خالی کرے پھر غور کریں گے۔ شاستری نے عالمی امن کو رن کچھ میں پاکستان کی مکمل واپسی سے مشروط کر دیا۔ حالانکہ بائونڈری کمیشن نے یہ علاقے پاکستان کو دئیے تھے۔ رن کچھ سے مکمل واپسی کے بعد پاکستان کا یہ پورا سیکٹر غیر محفوظ ہو جاتا ۔ہماری دفاعی گہرائی ختم ہو جاتی۔یکم ستمبرکو سردار سورن سنگھ نے پاکستان پر حملہ کر نے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر حملہ ناگزیر ہے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو جانے والے تمام راستے بند کر دئیے۔اورسیز فائر لائن پر گولہ باری شروع کر دی گئی۔ 2ستمبر کو سیکرٹری خارجہ رش ،تالبوت اور وائس ٹیلر ،ایڈمن روبن نے ہنگامی طو رپر مذاکرات کیے،انہوں نے کہا کہ ’’ جنگ ہوئی تو 10لاکھ لوگ مارے جائیں گے‘‘۔ بھارت سیز فائر لائن خالی کرنا چاہتا تھا۔ مگر تربیت یافتہ لوگ مقبوضہ کشمیر میں گھس چکے ہیں۔بھارت سیز فائر کا احترام کرے ورنہ سری نگر کو جانے والی سڑک کاٹ دی جائے گی۔ چنانچہ جموں و کشمیر میں پونچھ سیکٹر، سری نگر میں رن آف کچھ کے معاملات مزید بگڑنا شروع ہو گئے۔ امریکہ نے کہا کہ ہم 10ہزار میل دور سے بھارت اور پاکستان کے ٹینکوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔ مقبوضہ کشمیر میں پورے 2-3ہزار مسلح لوگ ہوں گے۔

یکم ستمبر تک جنگ میں کافی تیزی آ چکی تھی۔پاکستان کی فوجیں ٹٹوال ، اڑی اور پونچھ سیکٹر میں بھارتی علاقے میں کئی میل اندر داخل ہو چکی تھیں جس پر بھارت نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ پاکستان نے 25 ہزار سے زائد جوان سول کپڑوں میں کشمیر میںداخل کر دئیے ہیں جوبھارتی فوج کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔مگر یہ الزامات آج کی طرح بے بنیاد ثابت ہوئے۔یکم ستمبر کو ہی پاکستان نے ’’آپریشن گرینڈ سلام ‘‘ کے نام سے بڑاجوابی حملہ کیا۔جس کا مقصد اکھنور پر قبضہ کر کے بھارت کی سپلائی لائن کو کاٹ دینا تھا۔ اس کے لئے پوری تیاری کرلی گئی تھی۔صدر ایوب خان اچھی طرح جانتے تھے کہ بھارت کو اگر کسی بھی علاقے میںایک دو جگہ بڑی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تو اس کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ اور اسی روز وہ مذاکرات کی میزپر آجائے گا۔اسی لئے یکم ستمبر کی سہ پہر تک چھمب سیکٹر میں بھاری توپ خانے کی گولہ باری کی زد میں آگیا تھا۔ جنگ بھارتی علاقے میں ہورہی تھی ،پاک فوج نے پاکستانی سرحدوں کو ہر لحاظ سے محفوظ بنا لیا تھا۔بھارت کو وہاں بھی سرپرائز ملا۔جدید ترین ٹینکوں اور دوسرے ہتھیاروں سے مسلح فوج حیران رہ گئی اور پاکستان نے چھمب سکیٹر میں زبردست کامیابیاں حاصل کر لیں۔چنانچہ اگلے ہی روز بھارت نے پاکستان پر مکمل حملہ کرنے کے لئے بھارتی فضایہ کو بھی جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ یہاں بھی اس کے لئے کئی سرپرائز تیار تھے۔بھارتی طیاروں نے آزاد کشمیر اور پنجاب میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر یہاں بھی ہمارے مجاہدین ان کے منتظر تھے ۔پہلے ہی حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔

اب آیا چھ ستمبر کا دن۔

بھارتی حکومت نے بوکھلاہٹ میںدوسری جنگ عظیم میں حصہ لینے والے میجر جنرل نرن جان پرشاد (Niranjan Prasad) کو پاکستان پر مکمل حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔وہ اپنے 15ویں انفنٹری ڈویژن کے سات رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ آور ہوئے مگر انہیں یہاں بھی سرپرائز ملا ۔ ملک کا بچہ بچہ اپنی فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا تھا۔بھارت کو دوسری جنگ عظیم کے سابق جنرل پر اتنا اعتماد تھا کہ وہ ہمارے جم خانہ میں شام کی چائے نوش فرمانے کی سوچ رہے تھے ، ہم ابھی نندن کی طرح ہندوئوں کو قید میں چائے تو پلا سکتے ہیں مگر جم خانہ میں نہیں۔ویسے بھی ہمارے بیوروکریٹس نے وہاں کبھی ہمیں چائے پینے کی اجازت نہیں دی، وہ ہندوئوں کو وہاں گھسنے کی کیسے اجازت دیتے ہندوئوںکی وردی تو وہاں ویسے ہی بین ہے!ان کا خیال تھا کہ آدھے گھنٹے میں بی آر بی پار کر کے لاہور میں موج مستی کریں گے کیونکہ انہوں نے بھی سن رکھا تھاکہ جس نے لاہور نہیں دیکھااس نے کچھ نہیں دیکھا۔لاہور میں چائے پینے کی آرزو رکھنے والے میجر جنرل کے حملہ آور قافلے پر پاک فوج نے جوابی حملہ کر دیا،ہمارا حملہ اس قدر شدید تھا کہ بھارتی جنرل جان بچانے کے لئے اپنا ہی جنگی قافلہ چھوڑ کر بھاگ نکلا،کئی ہفتوں تک کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہیں۔اسی اثنا میں پاک فوج نے کھیم کرن پر بھی قبضہ کر لیا۔لاہور میں باٹا پور کا علاقہ بھاتی فوج کا قبرستان بن گیا۔اسی طرح کی کہانی ہر سیکٹر پر دہرائی گئی۔

 

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan

چھ ستمبر سے 17ستمبر تک بھارتی شکست کی داستان





عمومی طور پر یہی کہا جاتاہے کہ پاکستان اور بھارت میں صرف کشمیر ہی تحریک پاکستا ن اور قیام پاکستان کانا مکمل ایجنڈا ہے۔ مگر اس کے علاوہ بھی کئی علاقے مائونٹ بیٹن نے عین موقع پر بھارت کے حوالے کر دیئے تھے ،جو حضرت قائد اعظم ؒاور پھر لیاقت علی خان کے زمانے سے ہی اختلافات کا باعث بن رہے تھے ۔ان میں رن آف کچھ کا علاقہ بھی شامل تھا۔ اس کاجو حصہ پاکستان کو ملنا چاہئے تھا مائونٹ بیٹن نے وہ بھی بھارت کو دے دیاتھا۔1956،میں بھارت نے رن آ ف کچھ میں مزید علاقہ ہتھیانے کی کوشش کی جسے پاکستان نے ناکام بنا دیا۔


۔1965میں پاکستان نے بھارت کی نیت کو بھانپتے ہوئے فوجی نقل وحمل میںاضافہ کر کے بھارت کو پیچھے دھکیل کر اس کے عزائم خاک میں ملادیئے۔8اپریل 1965کو ایک مرتبہ پھر بھارت نے گولہ باری شروع کر دی جس کا اسے منہ توڑ جواب دیا گیا ۔بعدازاں بھارت نے ایک بار پھر عالمی اداروں اور برطانیہ سے رجوع کیا،اور ان سے مداخلت کی اپیل کی ۔بھارت کی مدد کی اپیل پربرطانوی وزیر اعظم ہیرلڈ ولسن نے لبیک کہتے ہوئے دونوں مماملک پر زور دیا کہ وہ جنگ کو پھیلانے کی بجائے کسی فارمولے پر متفق ہو جائیں۔ان کے مشورے پر دونوں ممالک نے ایک ٹریبونل کے قیام پر اتفاق کر لیا۔دونوں ممالک مان گئے کہ علاقائی حدود کے بارے میں یہ ٹریبونل جو بھی فیصلہ کرے گا وہ دونوں ممالک کو تسلیم ہو گا۔ٹریبونل نے 910 کلو میٹر کا علاقہ پاکستان کو دے دیا۔پاکستان یہ فیصلہ مان گیا۔مگر بھارت شور کرتا رہا۔


۔5اگست1965کو بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی۔اور بعض علاقوں پر گولے برسائے۔پہل کرتے ہوئے ہمارے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پاک فوج نے اسے کئی کلومیٹر اندر دھکیل دیا۔پاک فوج نے ٹٹوال ،اڑی اور پونچھ سیکٹر میں بھارت کو ناکوں چنے چبا دیئے۔اسی دوران بھارت نے کشمیر میں حاجی پیر پاس پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں پاک فوج نے بھی یکم ستمبر کو آپریشن گرینڈ سلام کا آغاز کر دیا۔یکم ستمبر کو ساڑھے تین بجے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں گولہ باری شروع ہو گئی۔پاکستان نے بھی بھرپور جواب دیا جس میںبھارتی فوج کا بھاری نقصان ہوا۔ بھارتی فوج اپنے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں چھوڑ کر فرار ہو گئی۔اسی دن بھارت نے فضائیہ کو طلب کر لیا ۔ دو ستمبر کو پاک فضائیہ ،جوپہلے ہی سے ریڈ الرٹ تھی، حرکت میںآگئی۔پاک فضائیہ نے مقبوضہ کشمیر اور پنجاب میں بھارتی ہوئی اڈوں اور دوسری فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔بھارتی حکومت نے عین اسی دن انفنٹری ڈویژن اور تھری ٹینک ریجمنٹ کو لاہورپر دھاوا بولنے کا حکم دے دیا ۔ لاہور نہر اور باٹا پور کے راستے وہ لاہور میں داخل ہونا چاہتے تھے۔جنرل پرشاد لاہور کے جم خانہ میں پرشاد کھانے کے موڈ میں تھے!۔یہ حملہ بھی بری طرح ناکام بنا دیا گیا اور جنرل پرشاد خود بھی میدا ن سے بھاگ نکلے ۔


۔8ستمبر کو بھارت نے راجھستان کی جانب سندھ میں حملہ تیز کر دیا۔اس کا خیال تھا کہ منا بائو کا بارڈر آسانی سے اسکے کنٹرول میں چلا جائے گا چنانچہ بھارت نے توپ خانہ اور مشین گنوں سے لیس فوجی دستے منا بائو بھیج دیئے ۔بھارت نے فرنٹ لائن پر 5مراٹھا لائٹ انفٹری رکھی تاکہ پاک فوج دھوکے میںآجائے،بھاری توپ خانہ چھاپنے کمی کوشش کی تھی۔اس کا مقصد سندھ کے اندر تک حملہ کرناتھا،مگر پاک فوج نے یہ حملہ بھی ناکام بنا دیا۔ پاک فوج نے ناصرف مراٹھا ہلز پر قبضہ کر لیا بلکہ ہمارے طیاروں نے وہاں بھیجی جانے والی کمک کو بھی نشانہ بنایا۔جودھ پور سے صرف 25کلومیٹرکے فاصلے پر واقع یہ اہم علاقہ دوبارہ حاصل کرنے کے لئے بھارت نے کئی حملے کئے مگر پاکستان فضائیہ نے بھارتی فوجی کی سپلائی لائن ہی کاٹ دی ،ریلوے لائنیں بھی تباہ کر دیں۔ یوں منا بائو کا یہ اہم بھارتی علاقہ پاکستان کے قبضے میں آ گیا۔ سقوط منا بائو سے بھارت میں سکوت طاری ہو گیا۔


۔9ستمبر کو بھارت نے سیالکوٹ کا محاذ بھی کھول دیا، وہ جنگ کو مختلف محاذوں پر پھیلا کر پاک فوج کی جنگی صلاحیت کو متاثر کرنا چاہتا تھا مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جہاں جہاں بھی جائے گا ،اسے منہ کی کھانا پڑے گی۔ بھارت نے فرسٹ آرمرڈ ڈویژن اس محاذپر جھونک دی۔ اس ڈویژن کو فخر بھارت بھی کہاجاتا ہے ۔’’فخر بھارت‘‘ کا خیال تھا کہ وہ ایک سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سیالکوٹ میں داخل ہو گی اور دریائے توی کو عبور کر کے شہر پر قبضہ کر لیں گے۔ مگر یہ محاذ کھولنا بھی بھارت کو مہنگا پڑ گیا۔یہی جگہ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنی ۔یہاں دنیا کی تاریخ کی ٹینکوں کی ایک خوفناک ترین لڑائی لڑی گئی۔ کئی سو ٹینک تباہ کر دیئے گے،پاک فوج کے چھٹے انفنٹری ڈویژن نے ’’ فخر بھارت‘‘ کہلانے والی فوج کو دھول چٹائی۔لوگ آج بھی چونڈہ کی جنگ اور پاک فوج کی جوانمردی کی مثالیں دیتے ہیں۔بھارت کو ایک ہی بار کرارا جواب دینے کے لئے پاک فوج نے آپریشن وائنڈ اپ( Operation Windup)شروع کیا،یعنی بھارتی فوج کا ’’بستر گول آپریشن‘‘ لانچ کر دیاگیا۔ اس آپریشن کے دوران بھارتی فوج کو مزید پیچھے دھکیل دیا گیا۔بھارت کو مزید پیچھے دھکیلنے کے لئے پاک فوج کے فرسٹ آرمرڈ ڈویژن نے کھیم کرن پر حملہ کر دیا۔یہاں پاک فوج نے بھارت کے 32ٹینک نیست ونابود کر دیئے۔


اس جنگ میں پاک فضائیہ نے بھارت پر2279 حملے کئے ،جو ایک ریکارڈ ہیں۔ پاک فضائیہ نے بھارت کے 67سے زائد طیاروں کو تباہ کر دیا۔اس فضائی جنگ کے ایک ہیرو محمد محمود عالم (ایم ایم عالم)کا نام ستارے کی طرح آسمان پر جگمگانے لگا ۔انہوں نے تن تنہا بھارت کے نو طیارے مار گرائے۔بری فوج نے بھی پاکستان کی بحری حدود میں بار بار داخل ہونے کی بھارتی کوشش کو ناکام بنا دیا ۔ بھارت نے کئی بار چاہا کی اپنی آبدوزوں کی مدد سے کراچی کی جانب بڑھے مگر کراچی تو دور کی بات ہے ،ہماری بحری فوج نے بھارت کو اس کے اپنے پانیوں کی حدود سے بھی پیچھے ہی دھکیلے رکھا ۔اس جنگ میں پاکستان نے بھارت کے سولہ سو مربع میل علاقے پر قبضہ کیا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?