چہرے کا نابینا پن

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,663
1,591
1,213
Lahore,Pakistan
چہرے کا نابینا پن

رضوان عطا

ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت سے لوگوں کو ملتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ زیادہ وقت گزرنے پر چند ایک کو دوسری ملاقات پر پہچاننے سے قاصر رہیں۔ یہ ایک عام اور قابلِ فہم امر ہے۔ تاہم یہ تصور کہ فرد اپنے دوستوں، والدین اور شریک حیات کے چہروں کو شناخت کرنے کے قابل نہ رہے کس قدر خوف ناک ہے۔ اسی طرح یہ خیال کہ آپ کے بچے کو آپ ہی کی شناخت میں مشکل ہو کتنا اندوہناک ہے۔ دراصل یہ ممکن ہے اور اس خلل کو چہرے کا نابینا پن (Prosopagnosia) کہا جاتا ہے۔ اس میں فرد لوگوں کے چہرے نہیں پہچان پاتا۔ اس میں چہرے کے علاوہ دوسری چیزوں کا ادراک اورفہم عام طور پر متاثر نہیں ہوتا۔فرد مختلف اشیا میں تمیز کر سکتا ہے لیکن صرف یہ ایک کمزوری اس کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیتی ہے کیونکہ انسان معاشرے میں رہتا ہے اور اسے دوسروںسے میل ملاپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مبتلا بیشتر افراد اپنے اہلِ خانہ، شریکِ حیات یا دوستوں کو پہچاننے کے لیے متبادل طریقے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان کے چلنے کے انداز، بالوں کے سٹائل، آواز یا کپڑوں کے طرز سے مدد لیتے ہیں۔مشکل یہ ہے کہ یہ طریقے انہی لوگوں پر کارآمد ہو سکتے ہیں جن سے پہلے واقفیت ہو۔ اب اگر کو ئی ناواقف انجانے مقام پر ملتا ہے تو کیا کیا جائے! اس خلل کی شدت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر امریکا میں اڑھائی فیصد آبادی اس میں مبتلا ہے۔ مختلف ممالک کی آبادی میں اس کا تناسب مختلف ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں اعدادوشمار کا فقدان ہے۔ اثرات: اگر آپ کسی قریبی دوست یا جاننے والے سے یوں گفتگو کریں جیسے جانتے ہی نہیں تو وہ یقینا نالاں ہو گا۔ چہرے کے نابینا پن میں مبتلا افراد اسی لیے دوسروں سے ملنے جلنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ ان میں معاشرتی تشویش کا خلل (سوشل اینگزائٹی ڈس آرڈر) بھی زیادہ ہوتا ہے۔ وہ ڈرے رہتے ہیں کہ کہیں وہ زیادہ لوگوں کے درمیان جائیں اور ناگہانی صورتِ حال سے ان کا واسطہ پڑ جائے۔ انہیں دوسروں سے تعلقات بنانے کے ساتھ ساتھ کیرئیر میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایسے افراد میں یاسیت بھی عام ہوتی ہے۔ چہرے کے نابینا پن میں مبتلا بعض افراد چہرے کے بعض تاثرات نہیں پہچان پاتے یا انہیں عمر اور صنف کا اندازہ لگانے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس میں مبتلا فرد کو مختلف چیزوں کو پہچاننے میں بھی دشواری ہو سکتی ہے جیسا کہ کار یا عمارت۔ بہت سے افراد کو راستوں کا پتا نہیں چلتا۔ وہ زاویے یا فاصلے کا درست اندازہ نہیں کر پاتے۔ سفر کے دوران انہیں اہم جگہ یا مقامات کو یاد کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس خلل میں یوں بھی ہوتا ہے کہ فرد فلم یا ٹیلی ویژن پروگرامز کے پلاٹ کو سمجھ نہ پائے۔ اس کی بنیادی وجہ کرداروں کے چہروں کی شناخت نہ کر پانا ہے۔ وجوہات اور اقسام: ابتدائی طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ یہ مسئلہ سر میں چوٹ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جتنا سمجھا جاتا تھا اس سے کہیں زیادہ لوگ دماغی چوٹ کے بغیر چہرے کے نابینا پن میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک حاصل کردہ یا ایکوائرڈ کہلاتا ہے اور دوسری ڈویلپمنٹل۔ ایکوائرڈ دماغ کے اس حصے کو پہنچنے والے نقصان سے ہوتا ہے جسے اوسکی پیٹو-ٹمپورل لوب کہتے ہیں۔ اگر بلوغت میں دماغی چوٹ سے یہ مسئلہ پیدا ہو تو فرد کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ چہرے شناخت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے البتہ بچپن میں ایسا ہونے سے ممکن ہے اسے اپنے اس خلل کا پتا ہی نہ چلے۔ ڈویلپمنٹل کسی دماغی ضرب کے بغیر ہوتا ہے اور اس کا سبب جیناتی ہوسکتا ہے ۔ اس کے نسل در نسل منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس مشکل کے شکار افراد کے بھائی بہنوں یا والدین کو بھی یہ مسئلہ ہوتاہے۔ تشخیص: اگر آپ کو چہروں کی شناخت میں مسئلہ پیش آ رہی ہو تو ڈاکٹر عموماً کلینکل نیورو سائیکالوجسٹ سے رجوع کرنے کا کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن سے پہچاننے سمیت دیگر صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرکسی ایسے چہرے کو دکھایا جائے جسے آپ نے پہلے نہ دیکھا ہو اور پھر اسے پہچاننے کا کہا جائے۔ مشہور چہروں کی شناخت کرائی جائے۔ چہروں کے مابین مماثلتوں اور امتیاز کی نشاندہی کا کہا جائے۔ عمر، صنف اور جذباتی تاثرات کا جائزہ لینے کی مشق کرائی جائے۔ علاج: بدقسمتی سے اس کا کوئی تسلیم شدہ علاج نہیں تاہم بہتری کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں اور خصوصی تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ مبتلا افراد کو اس مسئلے کے ساتھ زندگی گزارنے اور پیش آنے والے مشکلات سے نپٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ کیا آپ کے بچے کو یہ مسئلہ ہے؟:بچوں میں اس مسئلے کی تشخیص آسان نہیں ہو تی، لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً بچہ اچانک ملنے پر جان پہچان والے لوگوں کو شناخت نہ کر سکے۔ وہ عوامی مقامات پر جانے سے گریزاں ہو۔ جب آپ اسے سکول لینے جائیں تو وہ آپ کے ہاتھ ہلانے کا انتظار کرے۔ سکول میں اسے دوسروں سے ملنے جلنے اور دوست بنانے میں دشواری ہو۔ اسے فلم یا ٹی وی شوز کے پلاٹ کو سمجھنے میں مشکل ہو۔

 

Armaghankhan

Likhy Nhi Ja Sakty Dukhi Dil K Afsaany
Super Star
Sep 13, 2012
10,212
5,553
1,113
KARACHI
چہرے کا نابینا پن

رضوان عطا

ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت سے لوگوں کو ملتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ زیادہ وقت گزرنے پر چند ایک کو دوسری ملاقات پر پہچاننے سے قاصر رہیں۔ یہ ایک عام اور قابلِ فہم امر ہے۔ تاہم یہ تصور کہ فرد اپنے دوستوں، والدین اور شریک حیات کے چہروں کو شناخت کرنے کے قابل نہ رہے کس قدر خوف ناک ہے۔ اسی طرح یہ خیال کہ آپ کے بچے کو آپ ہی کی شناخت میں مشکل ہو کتنا اندوہناک ہے۔ دراصل یہ ممکن ہے اور اس خلل کو چہرے کا نابینا پن (Prosopagnosia) کہا جاتا ہے۔ اس میں فرد لوگوں کے چہرے نہیں پہچان پاتا۔ اس میں چہرے کے علاوہ دوسری چیزوں کا ادراک اورفہم عام طور پر متاثر نہیں ہوتا۔فرد مختلف اشیا میں تمیز کر سکتا ہے لیکن صرف یہ ایک کمزوری اس کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیتی ہے کیونکہ انسان معاشرے میں رہتا ہے اور اسے دوسروںسے میل ملاپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مبتلا بیشتر افراد اپنے اہلِ خانہ، شریکِ حیات یا دوستوں کو پہچاننے کے لیے متبادل طریقے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان کے چلنے کے انداز، بالوں کے سٹائل، آواز یا کپڑوں کے طرز سے مدد لیتے ہیں۔مشکل یہ ہے کہ یہ طریقے انہی لوگوں پر کارآمد ہو سکتے ہیں جن سے پہلے واقفیت ہو۔ اب اگر کو ئی ناواقف انجانے مقام پر ملتا ہے تو کیا کیا جائے! اس خلل کی شدت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر امریکا میں اڑھائی فیصد آبادی اس میں مبتلا ہے۔ مختلف ممالک کی آبادی میں اس کا تناسب مختلف ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں اعدادوشمار کا فقدان ہے۔ اثرات: اگر آپ کسی قریبی دوست یا جاننے والے سے یوں گفتگو کریں جیسے جانتے ہی نہیں تو وہ یقینا نالاں ہو گا۔ چہرے کے نابینا پن میں مبتلا افراد اسی لیے دوسروں سے ملنے جلنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ ان میں معاشرتی تشویش کا خلل (سوشل اینگزائٹی ڈس آرڈر) بھی زیادہ ہوتا ہے۔ وہ ڈرے رہتے ہیں کہ کہیں وہ زیادہ لوگوں کے درمیان جائیں اور ناگہانی صورتِ حال سے ان کا واسطہ پڑ جائے۔ انہیں دوسروں سے تعلقات بنانے کے ساتھ ساتھ کیرئیر میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایسے افراد میں یاسیت بھی عام ہوتی ہے۔ چہرے کے نابینا پن میں مبتلا بعض افراد چہرے کے بعض تاثرات نہیں پہچان پاتے یا انہیں عمر اور صنف کا اندازہ لگانے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس میں مبتلا فرد کو مختلف چیزوں کو پہچاننے میں بھی دشواری ہو سکتی ہے جیسا کہ کار یا عمارت۔ بہت سے افراد کو راستوں کا پتا نہیں چلتا۔ وہ زاویے یا فاصلے کا درست اندازہ نہیں کر پاتے۔ سفر کے دوران انہیں اہم جگہ یا مقامات کو یاد کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس خلل میں یوں بھی ہوتا ہے کہ فرد فلم یا ٹیلی ویژن پروگرامز کے پلاٹ کو سمجھ نہ پائے۔ اس کی بنیادی وجہ کرداروں کے چہروں کی شناخت نہ کر پانا ہے۔ وجوہات اور اقسام: ابتدائی طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ یہ مسئلہ سر میں چوٹ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جتنا سمجھا جاتا تھا اس سے کہیں زیادہ لوگ دماغی چوٹ کے بغیر چہرے کے نابینا پن میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک حاصل کردہ یا ایکوائرڈ کہلاتا ہے اور دوسری ڈویلپمنٹل۔ ایکوائرڈ دماغ کے اس حصے کو پہنچنے والے نقصان سے ہوتا ہے جسے اوسکی پیٹو-ٹمپورل لوب کہتے ہیں۔ اگر بلوغت میں دماغی چوٹ سے یہ مسئلہ پیدا ہو تو فرد کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ چہرے شناخت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے البتہ بچپن میں ایسا ہونے سے ممکن ہے اسے اپنے اس خلل کا پتا ہی نہ چلے۔ ڈویلپمنٹل کسی دماغی ضرب کے بغیر ہوتا ہے اور اس کا سبب جیناتی ہوسکتا ہے ۔ اس کے نسل در نسل منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس مشکل کے شکار افراد کے بھائی بہنوں یا والدین کو بھی یہ مسئلہ ہوتاہے۔ تشخیص: اگر آپ کو چہروں کی شناخت میں مسئلہ پیش آ رہی ہو تو ڈاکٹر عموماً کلینکل نیورو سائیکالوجسٹ سے رجوع کرنے کا کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن سے پہچاننے سمیت دیگر صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرکسی ایسے چہرے کو دکھایا جائے جسے آپ نے پہلے نہ دیکھا ہو اور پھر اسے پہچاننے کا کہا جائے۔ مشہور چہروں کی شناخت کرائی جائے۔ چہروں کے مابین مماثلتوں اور امتیاز کی نشاندہی کا کہا جائے۔ عمر، صنف اور جذباتی تاثرات کا جائزہ لینے کی مشق کرائی جائے۔ علاج: بدقسمتی سے اس کا کوئی تسلیم شدہ علاج نہیں تاہم بہتری کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں اور خصوصی تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ مبتلا افراد کو اس مسئلے کے ساتھ زندگی گزارنے اور پیش آنے والے مشکلات سے نپٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ کیا آپ کے بچے کو یہ مسئلہ ہے؟:بچوں میں اس مسئلے کی تشخیص آسان نہیں ہو تی، لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً بچہ اچانک ملنے پر جان پہچان والے لوگوں کو شناخت نہ کر سکے۔ وہ عوامی مقامات پر جانے سے گریزاں ہو۔ جب آپ اسے سکول لینے جائیں تو وہ آپ کے ہاتھ ہلانے کا انتظار کرے۔ سکول میں اسے دوسروں سے ملنے جلنے اور دوست بنانے میں دشواری ہو۔ اسے فلم یا ٹی وی شوز کے پلاٹ کو سمجھنے میں مشکل ہو۔

nice
 
  • Like
Reactions: intelligent086

maria_1

Senior Member
Jul 7, 2019
601
481
63
چہرے کا نابینا پن

رضوان عطا

ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت سے لوگوں کو ملتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ زیادہ وقت گزرنے پر چند ایک کو دوسری ملاقات پر پہچاننے سے قاصر رہیں۔ یہ ایک عام اور قابلِ فہم امر ہے۔ تاہم یہ تصور کہ فرد اپنے دوستوں، والدین اور شریک حیات کے چہروں کو شناخت کرنے کے قابل نہ رہے کس قدر خوف ناک ہے۔ اسی طرح یہ خیال کہ آپ کے بچے کو آپ ہی کی شناخت میں مشکل ہو کتنا اندوہناک ہے۔ دراصل یہ ممکن ہے اور اس خلل کو چہرے کا نابینا پن (Prosopagnosia) کہا جاتا ہے۔ اس میں فرد لوگوں کے چہرے نہیں پہچان پاتا۔ اس میں چہرے کے علاوہ دوسری چیزوں کا ادراک اورفہم عام طور پر متاثر نہیں ہوتا۔فرد مختلف اشیا میں تمیز کر سکتا ہے لیکن صرف یہ ایک کمزوری اس کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیتی ہے کیونکہ انسان معاشرے میں رہتا ہے اور اسے دوسروںسے میل ملاپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مبتلا بیشتر افراد اپنے اہلِ خانہ، شریکِ حیات یا دوستوں کو پہچاننے کے لیے متبادل طریقے استعمال کرتے ہیں۔ وہ ان کے چلنے کے انداز، بالوں کے سٹائل، آواز یا کپڑوں کے طرز سے مدد لیتے ہیں۔مشکل یہ ہے کہ یہ طریقے انہی لوگوں پر کارآمد ہو سکتے ہیں جن سے پہلے واقفیت ہو۔ اب اگر کو ئی ناواقف انجانے مقام پر ملتا ہے تو کیا کیا جائے! اس خلل کی شدت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر امریکا میں اڑھائی فیصد آبادی اس میں مبتلا ہے۔ مختلف ممالک کی آبادی میں اس کا تناسب مختلف ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں اعدادوشمار کا فقدان ہے۔ اثرات: اگر آپ کسی قریبی دوست یا جاننے والے سے یوں گفتگو کریں جیسے جانتے ہی نہیں تو وہ یقینا نالاں ہو گا۔ چہرے کے نابینا پن میں مبتلا افراد اسی لیے دوسروں سے ملنے جلنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ ان میں معاشرتی تشویش کا خلل (سوشل اینگزائٹی ڈس آرڈر) بھی زیادہ ہوتا ہے۔ وہ ڈرے رہتے ہیں کہ کہیں وہ زیادہ لوگوں کے درمیان جائیں اور ناگہانی صورتِ حال سے ان کا واسطہ پڑ جائے۔ انہیں دوسروں سے تعلقات بنانے کے ساتھ ساتھ کیرئیر میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایسے افراد میں یاسیت بھی عام ہوتی ہے۔ چہرے کے نابینا پن میں مبتلا بعض افراد چہرے کے بعض تاثرات نہیں پہچان پاتے یا انہیں عمر اور صنف کا اندازہ لگانے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس میں مبتلا فرد کو مختلف چیزوں کو پہچاننے میں بھی دشواری ہو سکتی ہے جیسا کہ کار یا عمارت۔ بہت سے افراد کو راستوں کا پتا نہیں چلتا۔ وہ زاویے یا فاصلے کا درست اندازہ نہیں کر پاتے۔ سفر کے دوران انہیں اہم جگہ یا مقامات کو یاد کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس خلل میں یوں بھی ہوتا ہے کہ فرد فلم یا ٹیلی ویژن پروگرامز کے پلاٹ کو سمجھ نہ پائے۔ اس کی بنیادی وجہ کرداروں کے چہروں کی شناخت نہ کر پانا ہے۔ وجوہات اور اقسام: ابتدائی طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ یہ مسئلہ سر میں چوٹ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جتنا سمجھا جاتا تھا اس سے کہیں زیادہ لوگ دماغی چوٹ کے بغیر چہرے کے نابینا پن میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک حاصل کردہ یا ایکوائرڈ کہلاتا ہے اور دوسری ڈویلپمنٹل۔ ایکوائرڈ دماغ کے اس حصے کو پہنچنے والے نقصان سے ہوتا ہے جسے اوسکی پیٹو-ٹمپورل لوب کہتے ہیں۔ اگر بلوغت میں دماغی چوٹ سے یہ مسئلہ پیدا ہو تو فرد کو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ چہرے شناخت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے البتہ بچپن میں ایسا ہونے سے ممکن ہے اسے اپنے اس خلل کا پتا ہی نہ چلے۔ ڈویلپمنٹل کسی دماغی ضرب کے بغیر ہوتا ہے اور اس کا سبب جیناتی ہوسکتا ہے ۔ اس کے نسل در نسل منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اس مشکل کے شکار افراد کے بھائی بہنوں یا والدین کو بھی یہ مسئلہ ہوتاہے۔ تشخیص: اگر آپ کو چہروں کی شناخت میں مسئلہ پیش آ رہی ہو تو ڈاکٹر عموماً کلینکل نیورو سائیکالوجسٹ سے رجوع کرنے کا کہتے ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن سے پہچاننے سمیت دیگر صلاحیتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرکسی ایسے چہرے کو دکھایا جائے جسے آپ نے پہلے نہ دیکھا ہو اور پھر اسے پہچاننے کا کہا جائے۔ مشہور چہروں کی شناخت کرائی جائے۔ چہروں کے مابین مماثلتوں اور امتیاز کی نشاندہی کا کہا جائے۔ عمر، صنف اور جذباتی تاثرات کا جائزہ لینے کی مشق کرائی جائے۔ علاج: بدقسمتی سے اس کا کوئی تسلیم شدہ علاج نہیں تاہم بہتری کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں اور خصوصی تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیے جاتے ہیں۔ مبتلا افراد کو اس مسئلے کے ساتھ زندگی گزارنے اور پیش آنے والے مشکلات سے نپٹنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ کیا آپ کے بچے کو یہ مسئلہ ہے؟:بچوں میں اس مسئلے کی تشخیص آسان نہیں ہو تی، لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً بچہ اچانک ملنے پر جان پہچان والے لوگوں کو شناخت نہ کر سکے۔ وہ عوامی مقامات پر جانے سے گریزاں ہو۔ جب آپ اسے سکول لینے جائیں تو وہ آپ کے ہاتھ ہلانے کا انتظار کرے۔ سکول میں اسے دوسروں سے ملنے جلنے اور دوست بنانے میں دشواری ہو۔ اسے فلم یا ٹی وی شوز کے پلاٹ کو سمجھنے میں مشکل ہو۔

Thanks 4 informative and useful sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?