چہل قدمی کیجیے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,862
8,956
1,313
Lahore,Pakistan
چہل قدمی کیجیے
116894

حسن ذکی کاظمی
یہ بات آپ بخوبی جانتے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔ ضروری نہیں کہ اس مقصد کے حصول کی خاطر آپ روزانہ گھنٹوں سخت قسم کی ورزش کریں۔ ورزش کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین بڑی حد تک اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری صحت کے لیے یہ بات نہ ضروری ہے اور نہ ترجیحی کہ ہم سخت ورزش کریں یا جسمانی صحت کے کلبوں میں جا کر جان ماریں۔ ہو سکتا ہے کہ پابندی سے چہل قدمی کر لینا ہی ہمارے لیے بہترین ورزش ثابت ہو۔ جی ہاں! اگر آپ ہفتے میں پانچ دن آدھا آدھا گھنٹہ تیزچہل قدمی (ایک گھنٹے میں تین چار میل کی رفتار سے) کر لیں تو بہت مناسب ہو گا۔ ممکن ہے کہ فوری طور پر آپ کو اس کے مثبت اثرات محسوس نہ ہوں، لیکن طبی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ کچھ عرصے بعد پابندی سے پیدل چلنے یا واکنگ کے فوائد ضرور ظاہر ہوتے ہیں۔ چہل قدمی کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ یہ ایک مکمل ورزش ہے۔ خصوصاً ان لوگوں کے لیے بہت اچھی اور محفوظ ورزش ہے جو اس میدان میں نئے ہیں۔ بیشتر افراد کے لیے پیدل چلنا گھنٹوں کی دوڑ کی نسبت زیادہ اچھی ورزش ہے اور اس کے منفی ذیلی اثرات بھی نہیں ہوتے۔ بعض حالیہ تحقیقی مطالعوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ لگاتار آدھا گھنٹہ واک کرنے کے بجائے اگر دن میں 3، 4 بار یا 10،10 منٹ تیز چلا جائے تو کم و بیش یکساں فائدہ ہوتا ہے۔ آئیے اب ان فوائد پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو چہل قدمی سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ٭ تیزچلنے سے دل کو فائدہ پہنچتا ہے۔ دل کو قوی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں سے خون کی روانی تیز اور درست رفتار سے ہو، پیدل چلنے کے ذریعے یہ کام بخوبی ہوتا ہے۔ پابندی سے واک کی جائے تو فشار خون میں کمی ہوتی ہے اور اس طرح شریانوں پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ واک سے خون میں مفیدِ صحت کولیسٹرول (HDL) کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ اس سے خون میں چپچپاہٹ کم ہوتی ہے اور خون کے لوتھڑے بننے کا امکان کم ہوتا ہے۔ ان سب عوامل کو یکجا کر لیا جائے تو دل کے دورے کا خطرہ نصف ہو سکتا ہے۔ ٭ 2 تحقیقی مطالعوں سے ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ طرزِزندگی میں تبدیلی پیدا کر کے زیادہ وزن والے لوگ قسم دوم کی ذیابیطس کو مؤخر کر سکتے ہیں یا روک سکتے ہیں۔ طرزِ زندگی کی ان تبدیلیوں میں روزانہ آدھے گھنٹے کی تیز چہل قدمی اہم ہے۔ ٭ دونوں جائزوں سے اندازہ ہوا کہ جن لوگوں نے ابتدا ہی میں 5 فیصد وزن کم کر لیا، انہیں سب سے زیادہ فائدہ ہوا، لیکن ایک اور تحقیقی مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا وزن کم نہیں ہوا انہیں بھی واکنگ سے فائدہ ہوا۔ ٭ امریکا میں ہونے والی ایک طویل تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ جو لوگ ہفتے ہیں 6 سے زیادہ گھنٹے پابندی سے واک کرتے ہیں، ان میں خون کے لوتھڑے بننے سے فالج کا خطرہ 40 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ ٭ وزن کو معمول کے مطابق رکھنا اس وقت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب انسان کی عمر بڑھ رہی ہو، کیونکہ اس صورت میں صرف غذائی احتیاط سے کام نہیں چلتا۔ اگر کم از کم آدھا گھنٹہ روزانہ تیز چہل قدمی کر لی جائے تو چند سو حرارے خرچ ہو جاتے ہیں اور انہضام کا نظام دن بھر درست رہتا ہے، جس سے وزن میں کمی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ٭ پیدل چلنے سے نہ صرف پٹھوں پر اچھا اثر پڑتا ہے بلکہ اس سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔ تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو خواتین بچپن اور جوانی میں پابندی سے ورزش کرتی رہیں اور مناسب مقدار میں کیلشیم کھاتی رہیں، ان میں آگے چل کر ہڈیوں کی بوسیدگی امکان کم ہو گیا۔ ٭ چہل قدمی گھٹنوں اور جوڑوں کے گرد عضلات کو مضبوط بنا کر جوڑوں کے درد سے چھٹکارا پانے میں مدد دیتی ہے۔ اگر نہانے کے تالاب میں چلا جائے تو بھی جوڑوں کے درد کو آرام آتا ہے۔ ہو سکتا ہے جوڑوں کے آرام کی خاطر مریضوں کو یہ مشورہ دیا جائے کہ وہ ایک دن چھوڑ کر ورزش کریں۔ ٭ تجربوں کے بعد محققین کو معلوم ہوا ہے کہ تیز چہل قدمی سے یاسیت اور اضمحلال میں کمی ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ یاسیت سے نجات کی ادویہ سے مرض کو زیادہ تیزی سے فائدہ ہوتا ہے لیکن ایک تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ لمبے عرصے میں وہ مریض زیادہ فائدے میں رہے جنہوں نے ایسی ادویات کھانے کے بجائے ورزش کا سہارا لیا۔ اندازہ یہ لگایا گیا کہ دواؤں کے ذریعے صحت یاب ہونے والوں کا دوبارہ یاسیت میں مبتلا ہو جانے کا امکان ان سے زیادہ ہوتا ہے، جو دواؤں کے بجائے ورزش کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ چہل قدمی آپ کے ہر مرض کی دوا نہیں ہے اور نہ اس کا فوری فائدہ ہوتا ہے۔ ایک ماہر کے مطابق بعض لوگ جنہوں نے کبھی پابندی سے ورزش نہیں کی، یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چہل قدمی شروع کریں گے تو ہفتہ بھر میں اس کا اثر ظاہر ہونے لگے گا۔ اس قدر جلدی تو نہیں، لیکن ہاں، اگر یہ ورزش پابندی سے جاری رہے اور پابندی سے روزانہ آدھا گھنٹہ چلا کریں تو دیرینہ امراض کا امکان 40 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ پیدل چلنے کے وقت ڈھیلا اور آرام دہ لباس اور جوتے پہنیں۔ جوتے ایسے ہوں کہ پیر کے انگوٹھوں پر دباؤ نہ پڑے اور ان کے لیے کافی جگہ ہو۔ اکثر یہ کوشش کریں کہ گاڑی یا موٹر سائیکل شاپنگ ایریا سے ذرا دور پارک کریں تاکہ آپ کو اس بہانے کچھ چلنے کا موقع مل جائے۔ لفٹ کے بجائے جس قدر ممکن ہو سیڑھیاں استعمال کریں۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?