کوئی تو حد ہو بے حِسی کی بھی , ایم ابراہیم خان

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
2,692
2,814
213
~Dasht e Tanhaayi~
کوئی تو حد ہو بے حِسی کی بھی , ایم ابراہیم خان
View attachment 116529
شہر کو گھیر لے تاریکی سرِشام اب کے
شہر کا نام تو بس رہ گیا ہے نام اب کے
اپنے ہی گھر میں سکوں ملنا ہے دشوار بہت
جنگلوں میں ہی چلو کرنے کو آرام اب کے
میں نے جنگل جو کہا شہر کو ، جگنو بولا
تھا فقط میرا ہی گھر ، کرنے کو بدنام اب کے
ایک کیاری پہ بھٹکتی ہوئی تتلی دیکھی
کہتی تھی شہر کے گل تو ہیں ، خوں آشام اب کے
کھیلتے کودتے جن گلیوں میں ہوتے ہیں جواں
ان جوانوں کے ہیں خوں رنگ درو بام اب کے
انّا لِلّلہ جو ہوئے لقمہ ء دہشت گردی
چلتے پھرتے بھی تو بے روح سے اجسام اب کے
فاختاؤں سے جو پوچھا تو وہ یوں گویا ہوئیں
امن کی آشا لگےآرزوئے خام اب کے
باندھ کر سر سے کفن گھر سے نکلیئے ہر روز
یا تو پھر چل ہی پڑیں اوڑھ کے احرام اب کے
شہر کی بُلبلیں روتے ہوئے کہتی ہیں ندیؔم
گیت کیا گائیں بسیروں پہ ہے کہرام اب کے
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,464
1,313
Lahore,Pakistan
شہر کو گھیر لے تاریکی سرِشام اب کے
شہر کا نام تو بس رہ گیا ہے نام اب کے
اپنے ہی گھر میں سکوں ملنا ہے دشوار بہت
جنگلوں میں ہی چلو کرنے کو آرام اب کے
میں نے جنگل جو کہا شہر کو ، جگنو بولا
تھا فقط میرا ہی گھر ، کرنے کو بدنام اب کے
ایک کیاری پہ بھٹکتی ہوئی تتلی دیکھی
کہتی تھی شہر کے گل تو ہیں ، خوں آشام اب کے
کھیلتے کودتے جن گلیوں میں ہوتے ہیں جواں
ان جوانوں کے ہیں خوں رنگ درو بام اب کے
انّا لِلّلہ جو ہوئے لقمہ ء دہشت گردی
چلتے پھرتے بھی تو بے روح سے اجسام اب کے
فاختاؤں سے جو پوچھا تو وہ یوں گویا ہوئیں
امن کی آشا لگےآرزوئے خام اب کے
باندھ کر سر سے کفن گھر سے نکلیئے ہر روز
یا تو پھر چل ہی پڑیں اوڑھ کے احرام اب کے
شہر کی بُلبلیں روتے ہوئے کہتی ہیں ندیؔم
گیت کیا گائیں بسیروں پہ ہے کہرام اب کے
خوب صورت
:(
 
  • Like
Reactions: Angela

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
3,713
3,788
213

شہر کو گھیر لے تاریکی سرِشام اب کے
شہر کا نام تو بس رہ گیا ہے نام اب کے
اپنے ہی گھر میں سکوں ملنا ہے دشوار بہت
جنگلوں میں ہی چلو کرنے کو آرام اب کے
میں نے جنگل جو کہا شہر کو ، جگنو بولا
تھا فقط میرا ہی گھر ، کرنے کو بدنام اب کے
ایک کیاری پہ بھٹکتی ہوئی تتلی دیکھی
کہتی تھی شہر کے گل تو ہیں ، خوں آشام اب کے
کھیلتے کودتے جن گلیوں میں ہوتے ہیں جواں
ان جوانوں کے ہیں خوں رنگ درو بام اب کے
انّا لِلّلہ جو ہوئے لقمہ ء دہشت گردی
چلتے پھرتے بھی تو بے روح سے اجسام اب کے
فاختاؤں سے جو پوچھا تو وہ یوں گویا ہوئیں
امن کی آشا لگےآرزوئے خام اب کے
باندھ کر سر سے کفن گھر سے نکلیئے ہر روز
یا تو پھر چل ہی پڑیں اوڑھ کے احرام اب کے
شہر کی بُلبلیں روتے ہوئے کہتی ہیں ندیؔم
گیت کیا گائیں بسیروں پہ ہے کہرام اب کے
ارے واہ آپ نے تو شاعری میں کراچی کے موجودہ حالات کی زبردست عکاسی کر دی
بہت عمدہ
 
Top
Forgot your password?