کیا آپ کو ڈپریشن ہے؟

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
کیا آپ کو ڈپریشن ہے؟
1564007565372.jpeg


محمد شاہد

ہم میں شاید ہی کوئی شخص ہو گا جو کبھی نہ کبھی، چاہے تھوڑے عرصے کے لیے ہی سہی، اداسی اور مایوسی کی کیفیات سے دوچار نہ ہوا ہو، لیکن یہی علامات اگر مستقل پائی جائیں تو ڈپریشن کی بیماری کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور اتنی مہلک ہو جاتی ہیں کہ اس کے تقریباً پندرہ فیصد مریض اپنی زندگیاں خود اپنے ہاتھوں سے ختم کر لیتے ہیں۔ کسی بھی ایک وقت میں کل آبادی کا تقریباً دو سے پانچ فیصد مرد اور پانچ سے آٹھ فیصد خواتین اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟:۱۔ کیا آپ روزانہ، دن کا بیشتر حصہ اداس رہتے ہیں، روتے ہیں یا ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے رونے کو دل چاہ رہا ہے یا طبیعت بوجھل محسوس ہوتی ہے؟ ۲۔ جن کاموں کا آپ کو پہلے شوق تھا، کیا اب ان کاموں میں آپ کی دلچسپی کم ہو گئی ہے یا آپ ان سے لطف اندوز نہیں ہو پا رہے؟ کیا آپ نے ان کاموں میں حصہ لینا کم کر دیا ہے؟ ۳۔ کیا آپ ہر وقت تھکے ہوئے رہتے ہیں، کوئی بھی معمولی سا کام کرنے سے بہت جلد یا بہت زیادہ تھک جاتے ہیں؟ ۴۔ کیا آپ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہت حقیر یا گِرا ہوا محسوس کرتے ہیں، اپنے اردگرد ہونے والی ہر بات کے لیے آپ کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں یا اپنی چھوٹی چھوٹی ناکامیوں کو ہر وقت یاد کرتے رہتے ہیں؟ ۵۔ کیا آپ ایسا محسوس کرتے رہتے ہیں کہ آپ کے سوچنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے، آپ باتوں پر صحیح طریقے سے توجہ نہیں دے پا رہے یا آپ فیصلہ کرنے میں دقت محسوس کرنے لگے ہیں؟ بعض مریض ایسا محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جیسے ان کی یادداشت کمزور ہو گئی ہو۔۶۔ کیا آپ ذہنی اور جسمانی طور پر بہت بے چین رہنے لگے ہیں؟ ایک جگہ بیٹھ نہ سکتے ہوں، چلتے رہتے ہوں، ہاتھوں پیروں کو حرکت دیتے رہتے ہوں، اپنے کپڑوں یا چیزوں کو صحیح کرتے رہتے ہوں؟ یا آپ ذہنی و جسمانی اعتبار سے بہت سست ہو گئے ہیں، یعنی بولنے، سوچنے اور حرکات کی رفتار بہت سست ہو گئی ہو؟ ۷۔ کیا آپ کو اکثر مرنے کے خیالات یا خودکشی کے خیالات آتے ہیں، یا پھر آپ نے خودکشی کا منصوبہ بنایا ہے؟ ۸۔ کیا آپ کی بھوک یا وزن پہلے سے کم یا زیادہ ہو گئے ہیں؟ ڈپریشن میں عام طور پر بھوک کم ہو جاتی ہے۔ ۹۔ کیا آپ کی نیند پہلے سے کم یا زیادہ ہو گئی ہے؟ ڈپریشن میں عام طور پر نیند کم ہو جاتی ہے، مریض یا تو اپنے وقت سے پہلے جاگ جاتا ہے یا رات میں بار بار اس کی آنکھ کھلتی ہے۔ بعض مریضوں کو نیند آنے میں بہت دیر لگتی ہے۔ اگر مندرجہ بالا علامات میں سے کوئی سی پانچ علامات، دو ہفتے سے زیادہ عرصہ تک، دن کے بیشتر حصے میں موجود رہی ہوں، اداسی اتنی شدید ہو کہ زندگی تکلیف دہ ہو گئی ہو یا مریض کے روزمرہ کے کاموں یا اس کے تعلقات میں فرق آ گیا ہو، تو اس کی تشخیص ڈپریشن ہو گی۔ اگر علاج نہ کیا جائے؟:اگر ڈپریشن کا علاج نہ کیا جائے اور مریض کو بالکل اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو؛ 70 سے 80 فیصد مریض خودبخود ہی چھ سے آٹھ مہینے میں بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ 10 سے 20 فیصد مریضوں کی بیماری دو سال سے زائد جاری رہ سکتی ہے۔ 10 سے 15 فیصد مریض خودکشی کر لیتے ہیں۔ کچھ مریض کھانا پینا چھوڑنے کے نتیجے میں بے حد کمزور اور لاغر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر ان کو کوئی جسمانی بیماری ہو جائے تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اگر بروقت علاج ہو جائے تو 70 سے 80 فیصد مریض چھ سے آٹھ ہفتے میں ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ وجوہات:اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اگر کسی کو کوئی دکھ پہنچتا ہے، یا کوئی نقصان ہوتا ہے، یا کسی عزیز کا انتقال ہو جاتا ہے تو انسان کو افسردگی اور اداسی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک فطری ردِ عمل ہے۔ اگر یہ کیفیت غیر معمولی طور پر طویل اور شدید ہو جائے تو ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اگر کسی کو کوئی دکھ اور تکلیف پہنچے اور وہ اپنے دل کی بات دوسرے سے نہ کہہ سکے یا اس کے ساتھ کوئی غم گسار نہ ہو، تو یہ اداسی مزید بڑھ جاتی ہے۔ خواتین مردوں کی نسبت اداسی اور افسردگی کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ حمل اور زچگی کے مراحل سے گزرنے کے بعد بچوں کی پرورش اور گھر کی دیکھ بھال کی وجہ سے عورتیں ذہنی دباؤ میں آ جاتی ہیں۔ ڈپریشن موروثی بھی ہوتا ہے۔ شخصیت کی چند خصوصیات بھی ڈپریشن پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بظاہر بغیر کسی وجہ کے بھی زندگی کے کسی حصہ میں ڈپریشن کی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ علاج کب لازمی ہو جاتا ہے؟:اگر ڈپریشن کی علامات مریض کی ذاتی و سماجی زندگی اور کارکردگی کو متاثر کریں۔ جب مریض خودکشی کے خیالات ظاہر کرنے لگے یا خودکشی کی کوشش کرے، یا جو لوگ انتقال کر چکے ہوں ان کو بہت زیادہ یاد کرنے لگے، یا ان سے ملنے کی زیادہ باتیں کرنے لگے۔ جب مریض کھانا پینا چھوڑ دے۔ جب مریض کے بولنے، سوچنے یا حرکات و سکنات کی رفتار بہت سست ہونے لگے۔ جب مریض اپنے آپ کو بہت برا سمجھنے لگے اور کہنے لگے کہ دنیا میں جو کچھ برائی ہو رہی ہے اسی کی وجہ سے ہو رہی ہے اور دنیا کی فلاح کے لیے اس کا مر جانا ہی بہتر ہے۔ جب مریض شدید مایوسی کا شکار ہو جائے اور سمجھنے لگے کہ حالات اب ہر صورت میں بگڑتے ہی جائیں گے اور کسی طرح بھی بہتر نہیں ہو سکتے۔ زچگی کے بعد ڈپریشن کی علامات ظاہر ہوں اور خاتون خود کو یا اپنے بچے کو نقصان پہنچانے کا ارادہ ظاہر کرے۔ علاج: بیشتر افراد کے لیے ادویات اور سائیکوتھراپی میں سے ایک یا دونوں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ادویات میں مختلف طرح کی اینٹی ڈیپریسنٹس دی جاتی ہیں۔ انہیں ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے۔ادویات کی طرح تھراپی کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ڈپریشن میں بہت سے خیالات کو انسان اپنے ذہن سے نہیں نکال پاتا۔ اسے بہتری اور بحالی کے لیے دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔رشتہ داروں، عزیز و اقارب کو سمجھ لینا چاہئے کہ اسے مدد اور سہارے کے علاوہ معالج کے مشورہ اور ادویات کی ضرورت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈپریشن کے لئے دوائیاں استعمال کرنے کے بعد مریض ان کا عادی ہو جاتا ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن اچھے ماہر اول تو ایسی ادویات سے پرہیز کرتے ہیں، دوم علاج اس انداز سے کرتے ہیں کہ مریض ادویات کا عادی نہ ہو۔ نیز صرف ادویات کی نہیں بالکل بیرونی ماحول کو بدلنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام خاندان کے افراد، دوست اور اردگرد کے دوسرے افراد کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات مریض کی حالت اتنی خراب ہو جاتی ہے کہ ادویات کے استعمال کے سوا چارہ نہیں رہتا۔ اِن دوائیوں کے استعمال سے دماغ میں کیمیائی عمل شروع ہونے سے مریض کی زندگی میں خوشی واپس لوٹنے لگتی ہے اور وہ پھر سے روزمرہ کے کاموں میں دلچسپی لینے لگتا ہے۔خیال رہے کہ اینٹی ڈپریسنٹس ادویات اچانک ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں چھوڑنی چاہئیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213
یہ تو آپکے پیشہ ورانہ مضامین میں سے ہے اسی لئے علامات زیادہ اور علاج کم لکھا ہے
اہم معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
یہ تو آپکے پیشہ ورانہ مضامین میں سے ہے اسی لئے علامات زیادہ اور علاج کم لکھا ہے
اہم معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
جو علاج خود کرنا ہے وہ کر لیں اگر علامات ختم نہ ہوں تو پھر ہماری باری :))۔
پسند اور رائے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213
جو علاج خود کرنا ہے وہ کر لیں اگر علامات ختم نہ ہوں تو پھر ہماری باری :))۔
پسند اور رائے کا شکریہ
مجھے تو چھٹیاں منسوخ ہونے پر ہونے والا تھا لیکن برسات بچا گئی
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?