کیا میں شدت پسند ہوں؟

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
کیا میں شدت پسند ہوں؟
ولی اللہ ہزاروی
کوئی بھی معاشرہ اپنے رسم و رواج اور قوانین کی بدولت پہچانا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ قوانین اور رسم و رواج مذہب اور تہذیب کی بنا پر رائج پاتے ہیں۔ معاشرے میں بسنے والے باسی انہی قوانین کی بنا پر اپنے تہوار مناتے اور مذہبی ہم آہنگی اور ملی اخوت کا ثبوت دیتے ہیں۔

معاشرے میں بسنے والے بعض افراد کو اپنی سوچ کے مطابق کچھ تہواروں اور قوانین سے انکار بھی ہوتا ہے جن کا وہ آزادی اظہار رائے کی بنا پر نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ انکی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے گروہ کو شدت پسند بھی کہا جاتا ہے جبکہ اپنی سوچ کی مخالفت کرنے والوں کو یہ گروہ بھی جواب میں شدت پسند کہتا ہے۔ اس طرح ایک ہی معاشرے میں دو مخالف قسم کی سوچ کے حامل افراد بس رہے ہوتے ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کی نظر میں شدت پسند ٹھہرتے ہیں۔ ان میں پنپنے والی نظریاتی مخالفت، تکرار اور انتہا پسندی انکے معاشرے کی مجموعی ہم آہنگی اور ملی اخوت کو نہ صرف ٹھیس پہنچاتی ہے بلکہ ان کو آپس میں جوڑے رکھنے کے اس عنصر کو ختم بھی کر سکتی ہے۔ سوچ کی کشمکش کا یہ معاملہ یونہی آگے بڑھتا رہے تو کوئی بعید نہیں کہ آنے والی نسلیں ان تہواروں اور باہمی یگانگت و محبت کی چاشنی سے محروم ہو جائیں۔

ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سی قومیتیں، مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف تہذیبوں کے حامل افراد کی ایک کثیر تعداد موجود ہے، اسی لئے خیالات کا ٹکراو یہاں بھی موجود ہے۔ سب سے زیادہ یہاں مذہب کارڈ کھیلا جاتا ہے۔ اکثریت رکھنے والے مذہب کے اکثر ماننے والے اپنے عقائد کی بنا پر اپنے مخالفین کو آئے روز مذہب سے فارغ قرار دیتے رہتے ہیں۔ جب ان امور سے فراغت نصیب ہوتی ہے تو ان انتہا پسندوں میں سے چند گنے چنے لوگ اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر نہ صرف زبردستی اپنے عقائد لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ جب بھی موقع ملتا ہے انکے مذہب، عقائد اور عبادت گاہوں کو اپنی شدت پسندی کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ پھر چاہے وہ زبردستی اسلام قبول کروانے کا معاملہ ہو، مندر کو توڑنے کی کوشش ہو یا گرجا گھر کو خاکستر کرنے کا امر ہو۔ مجھے اکثر اس بات کا خوف رہتا ہے کہ یہ معاشرہ بھی اپنی آنے والی نسل کےلیے تہواروں، مذہبی ہم آہنگی اور ملی اخوت کی بے جان لاش نہ چھوڑ جائے۔ کیونکہ معاشرہ ہم سے ہے اور ہماری مثبت یا منفی سوچ سے ہی معاشرہ تشکیل پائے گا۔

مندرجہ بالا مسائل کی وجہ سے ہمارے اوپر دہشت گردی اور شدت پسندی کی مہر ثبت ہو چکی ہے جبکہ اس میں قصور کسی طور بھی تمام پاکستانیوں یا مسلمانوں کا نہیں۔ شدت پسند ہمیشہ چند ہی ہوتے ہیں پھر چاہے اور مثبت سوچ کے حامل شدت پسند ہوں یا منفی سوچ کے۔ باقی کے افراد درمیانے درجے میں ٹھہرتے ہیں جنہیں کسی بھی واقعے، تہوار اور کسی بھی امر سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

گزشتہ روز ناروے میں چند شدت پسندوں نے اسلام کے خلاف ایک احتجاجی ریلی منعقد کی جس کی اجازت وہاں کی لوکل اتھارٹیز نے دی۔ کسی مذہب کے خلاف احتجاجی ریلی کسی طور بھی آزادی اظہار رائے نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی بھی معاشرہ کسی دوسرے مذہب کی توہین کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیشگی طور پر آگاہ کر دیا تھا کہ احتجاج کے دوران کوئی بھی عمل اس طرح کا نہ کیا جائے جسکا فی الفور رد عمل وہاں بسنے والے مسلمانوں کی طرف سے آئے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو۔

پولیس کے ان احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے ریلی کے لیڈر لارس تھورسن نے مسلمانوں کی مذہبی کتاب قرآن کریم کے دو نسخے کوڑے دان میں پھینکے جب کہ ایک نسخے کو نذر آتش کیا۔ اسی عمل کے دوران ایک مسلمان ”شدت پسند“ الیاس نامی نوجوان برق رفتاری سے تھورسن کی جانب لپکا اور اس پر حملہ کر دیا۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے دونوں کو حراست میں لیا اور ریلی کو فی الفور منتشر کر دیا۔

یہ تو ہے ناروے کے واقعے کا منظر، جو مختلف میڈیا رپورٹس میں من و عن بیان کیا گیا ہے۔ قارئین کے ذہنوں میں ہو سکتا ہے یہ سوال اٹھے کہ دونوں ہی شدت پسند کیسے؟ اپنی تحریر کے دوسرے حصے میں میں نے دو چیزوں کا ذکر کیا ہے ایک تو مہر جو ہم مسلمانوں پر ثبت ہو چکی کہ ہم شدت پسند ہیں اور دوسرے مثبت شدت پسند۔ اب چونکہ میرے معاشرے میں بھی مختلف سوچوں کے حامل افراد موجود ہیں اور آپکے ”آزادی اظہار رائے“ کے ساتھ” آزادی فکر “بھی ہے تو آپ آزاد ہیں کہ الیاس نامی مسلمان کو آپ جیسا بھی شدت پسند سمجھنا چاہیں سمجھ لیں مگر ایک احسان میری ذات پر بھی کیجئے گا کہ مجھے بھی الیاس کی کیٹگری میں شامل حال رکھئے گا کیونکہ ہاں میں بھی ویسا ہی ”شدت پسند“ ہوں۔

میں اور مجھ سمیت ہر جذبہ ایمانی رکھنے والا مسلمان شدت پسندی کا مظاہرہ کرتا رہا ہے، جب بھی عیسائیوں کے گرجا گھروں کو آگ میں جلایا گیا، جب جب معصوم ہندو بہنوں کو زبردستی اسلام قبول کروایا گیا، جب کسی غیر مسلم پر جھوٹا الزام لگا کر اسے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم بنایا گیا، جب بھی مندروں کو توڑا گیا، جب اسلام کی غلط شکل پیش کر کے اسے دوسروں پر تھوپا گیا، میں شدت پسند رہا۔

جب بھی اسلام کے نام پر لوگوں کے گلے کاٹے گئے، میں شدت پسند رہا جب پشاور کے 144 معصوم پھولوں کو جہاد کے نام پر مسلا گیا۔ جی ہاں قارئین میں شدت پسند رہا جب فرانس کے چرچ میں کسی بد بخت نے کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور میں نے اپنی فیس بک کی پروفائل پکچر فرانس کے جھنڈے میں بدل دی۔ میں کرتار پور راہداری کھلنے پر بھی شدت پسندی کا مظاہرہ کرتا رہا کہ چلو ہم تو اجمیر شریف نہیں جا سکتے مگر ہمارے سکھ اور ہندو بھائی بہن اپنے روحانی پیشوا کے پاس با آسانی آ سکتے ہیں۔ میں شدت پسند رہا جب مذہبی ہم آہنگی اور ملی اخوت کی خاطر میں عیسائی دوستوں کو کرسمس، ایسٹر اور ہندو دوستوں کو دیوالی اور ہولی کی مبارکبادیں دیتا رہا یہ سب سوچے بغیر کہ ان تہواروں کا میرے عقائد اور میرے مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی میری شدت پسندی ہی تھی کہ عید کی سوئیاں اور محرم کی نیاز اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ بانٹتا رہا۔ میں شدت پسند ایسا کہ کل جہان کےلیے ہدایت بن کر آنے والے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کی محفل میرے ہندو دوستوں نے سجائی اور آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نعتیں وہاں میں پڑھتا رہا۔

میری شدت پسندی کا عالم دیکھیے کہ سکھ دوستوں کی دستار میں نے اپنے سر پر سجا لی اور گرو نانک کی درگاہ پر حاضری بھی دی۔ میں شدت پسند ہی تھا کہ میرے والدین حج سے واپس آئے تو عرب کی کھجوریں، آب زم زم، تسبیح اور دیگر تبرکات بطور تحفہ اپنے غیر مسلم دوستوں میں بانٹتا رہا۔

پنجابی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ پیو سب دے سوہنڑے، اپنے پیو ورگا کوئی نہیں (باپ سب کے پیارے ہوتے ہیں مگر اپنے باپ جیسا کوئی نہیں) بالکل اسی طرح مذہب سب کے پیارے ہیں مگر اپنے مذہب جیسا کوئی نہیں۔ میں نے شدت پسندی کی جو مثالیں بیان کی ہیں وہ شدت پسندی میری دوسرے مذاہب کے لیے تھی تو سوچیں کہ جب بات اپنے مذہب پر آئے گی تو میں کس قدر شدت پسند ثابت ہونگا۔ میں اخوت، بھائی چارے، مذہبی ہم آہنگی اور ملی اخوت کا قائل ہوں مگر جب میرے مذہب، میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور میرے قرآن پر کوئی بھی آنچ آئے گی تو میں شدت پسند ہی ثابت ہوں گا اور اسکے لیے مجھے اس سوچ کی ضرورت نہیں کہ اسکا تعلق میرے انسٹیٹوٹ، میرے کاروبار، میرے فرینڈ سرکل یا میرے دیگر معاملات زندگی سے ہے یا نہیں، جب میں نے دوسرے مذاہب یا انسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ نہ سوچا اور محبت کا پرچار کرتا رہا تو میرا ایمان اپنے مذہب کے بارے میں ایسا سوچنے کی مجھے گنجائش نہیں دیتا۔

پھر چاہے میرے احتجاج یا میری ایسی شدت پسندی سے کسی کو بھی کیسی بھی تکلیف ہو۔ میرا تعلق ان چند فیصد مسلمانوں سے نہیں جو دوسرے مذاہب کو اپنے مفاد اور اپنی نفرت کی آگ میں جلا کر جنت میں جانا چاہتے ہیں۔ میرا تعلق تو میرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہے اور نبی بھی وہ جو خود شدید محبت کے قائل تھے کہ پتھر کھا کر بھی دعا دیتے رہے اور کچرے سے کپڑے ناپاک ہوتے رہے مگر اف تک نہ کی اور پھر شدت پسندی ایسی کہ عیادت کے لیے بھی پہنچے۔

ہم مزید کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم کسی بھی صورت احتجاج تو کر سکتے ہیں۔ میں اور باقی مثبت سوچ کے مسلمان دوسرے مذاہب کے لیے کھڑے ہوتے آئے ہیں۔ ظلم تو ظلم ہے وہ کسی بھی انسان، کسی بھی مذہب اور کسی بھی عقیدے کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ لہذا میری مسلمان دوستوں کے علاوہ غیر مسلم دوستوں سے بھی درد مندانہ ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ ملی اخوت اور مذہبی ہم آہنگی کو قائم رکھیں۔ احتجاج ضرور کریں اخلاقی و قانونی حدود میں رہتے ہوئے جو مرضی طریقہ اختیار کریں، کسی بھی مذہب و ملت کے فرد کیلئے نہ صرف قابل قبول ہو گا بلکہ ہو سکتا ہے وہ آپ کے ساتھ ہی شامل ہو جائے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?