کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟ فیصل علی

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,804
1,313
Lahore,Pakistan
کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟ فیصل علی

115027

پانچ اگست سے دو ہفتے قبل بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد اچانک بڑھنے لگی ۔یہ تعداد ہزاروں سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ کا مجموعہ عبور کر گئی۔بھارتی مقبوضہ کشمیر سمیت آزاد کشمیر و پاکستان میں اس عمل کو لے کر خوب تشویش کی لہر دوڑگئی۔ وزیر اعظم پاکستان اس سارے عمل سے ٹھیک دو ہفتے پہلے امریکہ کا دورہ کر کےآئے تھے اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا گیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے تیار ہیں اور انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی اس مسئلےپر ثالثی کے لیے درخواست کی گئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ کی اس پیش کش کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔پاکستانی قوم میں ایک جذبہ قومیت بیدار ہوا کہ ان کا لیڈر بڑا معرکہ مار آیا ہے،لیکن اس سب کے پس پشت کیا چل رہا تھا کسی کوکو ئی خبر نہیں تھی۔وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرفتاریوں کا کھیل چلتا رہا۔نیب ،کرپشن اور تُو چور ،میں پاک صاف کی گیم بڑی دلچسپی سے ٹیلی ویژن سکرینوں کی زینت بنتی رہی۔ اخباروں میں اداریےچھپتے رہے اور سوشل میڈیا پر پٹواری اور یوتھیے اپنے اپنے آقاؤں کےلیے جزا و سزا کا میدان سجائے اپنا اپنا منجن بیچ رہے تھے۔


کہانی میں زہر اس وقت بھرا جب وادی کشمیر مکمل فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گئی ۔ کچھ بڑا ہونے والا ہے اور آپ نے یہ کیا تو ہم وہ کر دیں گے جیسی باتیں گردش کرنے لگیں ۔ پاکستان میں جمہوریت کے مقدس ایوانو ں میں چوہے بلی کا کھیل کھیلنے والے حکومت اور اپوزیشن کے رہنما اس بات سے بے خبر تھے کہ پچھلے ایک ماہ سے بھارتی میڈیا میں کیا ڈھول پیٹے جا رہے ہیں اور اخبار کیا لکھ رہے ہیں۔ ان سب کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی، کیونکہ کسی کی ابو بچاؤمہم چل رہی تھی اور کوئی تبدیلی کے صفحے ٹٹول رہا تھا ۔ اُدھرجناب وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے واپسی کے ساتھ ہی کنٹرول لائن پر فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا ۔کشمیریوں کی شہادتیں ہونے لگیں ،اس وقت تک یہاں اسلام آباد والوں کو خطرہ کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی تھی ۔پھر 4 سے 5 اگست کا د ن آگیا ۔ناقدین کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کو جو کچھ دہلی میں ہونے والا تھا یہاں اسلام آباد میں موجود کچھ جمہوروں اور غیر جمہوروں کو اس کا علم تھا کہ نریندر مودی پانچ اگست کوبھارتی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے اپنی کابینہ میٹنگ میں کیا بات کرے گا اورکشمیر میں یہ ایک لاکھ اور کچھ ہزار اوپر جو تازہ فوج تعینات ہے یہ کیوں لائی گئی ہےاور پانچ اگست کی شام تک بھارتی سینیٹ کس بل کی منظوری دینے والا ہے!.یہ سب یہاں اسلام آباد والوں کے علم میں تھا لیکن یہ رازداری اورر اس پر کچھ نہ کرنا شاید ان کے اُن بیانات کی تائید تھی جو یہ اپنے دور کنٹینر میں فرمایا کرتے تھے یا یہ سب واشنگٹن ڈیل کا حصہ تھا؟


جناب عمران خان نے اک بار فرمایا تھا کہ کشمیر کا بہترین حل اس کی تین حصوں میں تقسیم ہے. بلکل اسی طرح کی تقسیم جس طرح جناب مودی نے فرمائی ہے۔لداخ الگ اور جموں و کشمیر الگ الگ انتظامی اکائیاں بنادی گئیں ہیں اور یوں کشمیر کامسئلہ کاغذ پر دھری چند سطروں میں حل کرنے کی نا ممکن کوشش کی گئی۔ یہ بھول کر کہ اس ریاست کے جغرافیے میں ستر سالوں سے خون اس کی حد بندی کی لکیروں کو دوبارہ اپنے رنگ سے روشنائی دے کر تازہ کرتا رہتاہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے کئی برسوں سے بر سر پیکار تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آئین اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ ایک اکھنڈ بھارت کاقیام اور ریاست جمو ں وکشمیرکو بھارت میں ضم کرنا ان کا مشن ہے۔اب کی بار نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے فوری بعد پہلا کام اپنی فاشسٹ جماعت کے آئین کی تکمیل کرتے ہوئے کشمیر کی ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کر نے کا کیاہےلیکن ہم کسی خدائی معجزے کے انتظار میں ہیں۔ اسلام آباد میں جمہوریت کے معزز ایوانوں میں تو معجزے ہو سکتے ہیں ،جیسے حالیہ سینیٹ انتخابات میں جن اور پریاں چئیرمین سینیٹ کا انتخاب کر گئے،لیکن کشمیر یوں کی تاریخ کے ساتھ کوئی معجزہ نہ پہلے کبھی ہوا نہ اب ہو رہا ہے اور نہ ہو سکے گا۔


اب ہم او آئی سی کی جانب دیکھ رہے ہیں،عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ اس اقوام متحدہ سے اُمیدیں لگائی جا رہی ہیں جس کی قرارداوں کے ساتھ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر کھلواڑہو گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ جو فلسطین کو ابھی تک انصاف نہ دلوا سکی ۔ وہ او آئی اسی جوناجیریا ، شام اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کر سکی ۔ جو ایران اور سعودی عرب کی نفرت نہ مٹا سکی اور دنیا کے دیگر مسلم علاقوں سے مسلم کشی نہ رکوا سکی ۔


محترم عمران خان صاحب! 6 اگست کو پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس ہوتا ہے وہاں آپ کی زباں آپ کے جسم کا ساتھ نہیں دیتی ۔ آپ حواس باختہ نظر آتے ہیں اور سوال کرنے پر کہتے ہیں کہ کیا کروں میں؟ ۔۔جنگ کروں ؟ گویا آپ بے بس ہیں۔ اچھا یہ تو ہم جانتے ہی ہیں لیکن خان صاحب آپ نے بھارتی وزیر اعظم کے دوبارہ انتخابات جیتنے پر انہیں مبارکباد کے ساتھ لکھ بھیجا تھا کہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا ۔ہم کو معلوم نہیں تھا کہ آپ یہ حل پہلے سے طے کر چکے ہیں ۔ کشمیر کی تقسیم کی جو بات آپ نے اک برس پہلے کی تھی کہیں یہ موجودہ تقسیم آپ کے اس بیان کا تسلسل تو نہیں؟ کیا آپ اس ڈیل کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے یا آپ اس کا حصہ بھی ہیں ؟


افسوس ،شرم اور خطرے کی بات یہ ہے کہ جس ثالثی کی پیش کش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر چکے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق ہے، جو 1947 والی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس حصہ پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں نے کچھ اخبارات میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ اسی کے تناظر میں امریکی صدر نے آپ کو مسلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ۔ اب یہ ثالثی ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر تو نہیں ہونے والی؟خان صاحب آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شہیدوں کی بیوایں، یتیموں کی آہیں او ر گولیوں اور بموں سے متاثرہ انسانی جانیں مایوس ہو چکی ہیں ۔ خان صاحب! آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کشمیر سازش جیسی باتیں بحث و مباحثہ میں سنی جا رہی ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے خان صاحب ؟ کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟

 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,771
1,753
213
کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟ فیصل علی

View attachment 115027
پانچ اگست سے دو ہفتے قبل بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد اچانک بڑھنے لگی ۔یہ تعداد ہزاروں سے بڑھتے ہوئے ایک لاکھ کا مجموعہ عبور کر گئی۔بھارتی مقبوضہ کشمیر سمیت آزاد کشمیر و پاکستان میں اس عمل کو لے کر خوب تشویش کی لہر دوڑگئی۔ وزیر اعظم پاکستان اس سارے عمل سے ٹھیک دو ہفتے پہلے امریکہ کا دورہ کر کےآئے تھے اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا گیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے تیار ہیں اور انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی اس مسئلےپر ثالثی کے لیے درخواست کی گئی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ٹرمپ کی اس پیش کش کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا تھا۔پاکستانی قوم میں ایک جذبہ قومیت بیدار ہوا کہ ان کا لیڈر بڑا معرکہ مار آیا ہے،لیکن اس سب کے پس پشت کیا چل رہا تھا کسی کوکو ئی خبر نہیں تھی۔وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرفتاریوں کا کھیل چلتا رہا۔نیب ،کرپشن اور تُو چور ،میں پاک صاف کی گیم بڑی دلچسپی سے ٹیلی ویژن سکرینوں کی زینت بنتی رہی۔ اخباروں میں اداریےچھپتے رہے اور سوشل میڈیا پر پٹواری اور یوتھیے اپنے اپنے آقاؤں کےلیے جزا و سزا کا میدان سجائے اپنا اپنا منجن بیچ رہے تھے۔


کہانی میں زہر اس وقت بھرا جب وادی کشمیر مکمل فوجی چھاونی میں تبدیل ہو گئی ۔ کچھ بڑا ہونے والا ہے اور آپ نے یہ کیا تو ہم وہ کر دیں گے جیسی باتیں گردش کرنے لگیں ۔ پاکستان میں جمہوریت کے مقدس ایوانو ں میں چوہے بلی کا کھیل کھیلنے والے حکومت اور اپوزیشن کے رہنما اس بات سے بے خبر تھے کہ پچھلے ایک ماہ سے بھارتی میڈیا میں کیا ڈھول پیٹے جا رہے ہیں اور اخبار کیا لکھ رہے ہیں۔ ان سب کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی، کیونکہ کسی کی ابو بچاؤمہم چل رہی تھی اور کوئی تبدیلی کے صفحے ٹٹول رہا تھا ۔ اُدھرجناب وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے واپسی کے ساتھ ہی کنٹرول لائن پر فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا ۔کشمیریوں کی شہادتیں ہونے لگیں ،اس وقت تک یہاں اسلام آباد والوں کو خطرہ کی نوعیت معلوم نہیں ہو سکی تھی ۔پھر 4 سے 5 اگست کا د ن آگیا ۔ناقدین کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کو جو کچھ دہلی میں ہونے والا تھا یہاں اسلام آباد میں موجود کچھ جمہوروں اور غیر جمہوروں کو اس کا علم تھا کہ نریندر مودی پانچ اگست کوبھارتی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے اپنی کابینہ میٹنگ میں کیا بات کرے گا اورکشمیر میں یہ ایک لاکھ اور کچھ ہزار اوپر جو تازہ فوج تعینات ہے یہ کیوں لائی گئی ہےاور پانچ اگست کی شام تک بھارتی سینیٹ کس بل کی منظوری دینے والا ہے!.یہ سب یہاں اسلام آباد والوں کے علم میں تھا لیکن یہ رازداری اورر اس پر کچھ نہ کرنا شاید ان کے اُن بیانات کی تائید تھی جو یہ اپنے دور کنٹینر میں فرمایا کرتے تھے یا یہ سب واشنگٹن ڈیل کا حصہ تھا؟


جناب عمران خان نے اک بار فرمایا تھا کہ کشمیر کا بہترین حل اس کی تین حصوں میں تقسیم ہے. بلکل اسی طرح کی تقسیم جس طرح جناب مودی نے فرمائی ہے۔لداخ الگ اور جموں و کشمیر الگ الگ انتظامی اکائیاں بنادی گئیں ہیں اور یوں کشمیر کامسئلہ کاغذ پر دھری چند سطروں میں حل کرنے کی نا ممکن کوشش کی گئی۔ یہ بھول کر کہ اس ریاست کے جغرافیے میں ستر سالوں سے خون اس کی حد بندی کی لکیروں کو دوبارہ اپنے رنگ سے روشنائی دے کر تازہ کرتا رہتاہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے کئی برسوں سے بر سر پیکار تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا آئین اس بات کی تشریح کرتا ہے کہ ایک اکھنڈ بھارت کاقیام اور ریاست جمو ں وکشمیرکو بھارت میں ضم کرنا ان کا مشن ہے۔اب کی بار نریندر مودی نے الیکشن جیتنے کے فوری بعد پہلا کام اپنی فاشسٹ جماعت کے آئین کی تکمیل کرتے ہوئے کشمیر کی ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کر نے کا کیاہےلیکن ہم کسی خدائی معجزے کے انتظار میں ہیں۔ اسلام آباد میں جمہوریت کے معزز ایوانوں میں تو معجزے ہو سکتے ہیں ،جیسے حالیہ سینیٹ انتخابات میں جن اور پریاں چئیرمین سینیٹ کا انتخاب کر گئے،لیکن کشمیر یوں کی تاریخ کے ساتھ کوئی معجزہ نہ پہلے کبھی ہوا نہ اب ہو رہا ہے اور نہ ہو سکے گا۔


اب ہم او آئی سی کی جانب دیکھ رہے ہیں،عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ اس اقوام متحدہ سے اُمیدیں لگائی جا رہی ہیں جس کی قرارداوں کے ساتھ ایک بار پھر بڑے پیمانے پر کھلواڑہو گیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ جو فلسطین کو ابھی تک انصاف نہ دلوا سکی ۔ وہ او آئی اسی جوناجیریا ، شام اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کر سکی ۔ جو ایران اور سعودی عرب کی نفرت نہ مٹا سکی اور دنیا کے دیگر مسلم علاقوں سے مسلم کشی نہ رکوا سکی ۔


محترم عمران خان صاحب! 6 اگست کو پارلیمنٹ کا ایک مشترکہ اجلاس ہوتا ہے وہاں آپ کی زباں آپ کے جسم کا ساتھ نہیں دیتی ۔ آپ حواس باختہ نظر آتے ہیں اور سوال کرنے پر کہتے ہیں کہ کیا کروں میں؟ ۔۔جنگ کروں ؟ گویا آپ بے بس ہیں۔ اچھا یہ تو ہم جانتے ہی ہیں لیکن خان صاحب آپ نے بھارتی وزیر اعظم کے دوبارہ انتخابات جیتنے پر انہیں مبارکباد کے ساتھ لکھ بھیجا تھا کہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا ۔ہم کو معلوم نہیں تھا کہ آپ یہ حل پہلے سے طے کر چکے ہیں ۔ کشمیر کی تقسیم کی جو بات آپ نے اک برس پہلے کی تھی کہیں یہ موجودہ تقسیم آپ کے اس بیان کا تسلسل تو نہیں؟ کیا آپ اس ڈیل کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے یا آپ اس کا حصہ بھی ہیں ؟


افسوس ،شرم اور خطرے کی بات یہ ہے کہ جس ثالثی کی پیش کش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر چکے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق ہے، جو 1947 والی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس حصہ پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں نے کچھ اخبارات میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ اسی کے تناظر میں امریکی صدر نے آپ کو مسلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ۔ اب یہ ثالثی ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر تو نہیں ہونے والی؟خان صاحب آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شہیدوں کی بیوایں، یتیموں کی آہیں او ر گولیوں اور بموں سے متاثرہ انسانی جانیں مایوس ہو چکی ہیں ۔ خان صاحب! آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کشمیر سازش جیسی باتیں بحث و مباحثہ میں سنی جا رہی ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے خان صاحب ؟ کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟


افسوس ،شرم اور خطرے کی بات یہ ہے کہ جس ثالثی کی پیش کش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر چکے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق ہے، جو 1947 والی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس حصہ پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں نے کچھ اخبارات میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ اسی کے تناظر میں امریکی صدر نے آپ کو مسلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ۔ اب یہ ثالثی ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر تو نہیں ہونے والی؟خان صاحب آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شہیدوں کی بیوایں، یتیموں کی آہیں او ر گولیوں اور بموں سے متاثرہ انسانی جانیں مایوس ہو چکی ہیں ۔ خان صاحب! آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کشمیر سازش جیسی باتیں بحث و مباحثہ میں سنی جا رہی ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے خان صاحب ؟ کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟
@Angela
اس مضمون کے متعلق آپ کی کیا سوچ ہے
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,804
1,313
Lahore,Pakistan
افسوس ،شرم اور خطرے کی بات یہ ہے کہ جس ثالثی کی پیش کش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر چکے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق ہے، جو 1947 والی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس حصہ پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں نے کچھ اخبارات میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ اسی کے تناظر میں امریکی صدر نے آپ کو مسلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ۔ اب یہ ثالثی ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر تو نہیں ہونے والی؟خان صاحب آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شہیدوں کی بیوایں، یتیموں کی آہیں او ر گولیوں اور بموں سے متاثرہ انسانی جانیں مایوس ہو چکی ہیں ۔ خان صاحب! آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کشمیر سازش جیسی باتیں بحث و مباحثہ میں سنی جا رہی ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے خان صاحب ؟ کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟
@Angela
اس مضمون کے متعلق آپ کی کیا سوچ ہے
وہ ابھی سوچوں میں گم ہیں کیا جواب دیں ۔۔۔۔
شکریہ
 

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
1,999
2,136
213
~Dasht e Tanhaayi~
افسوس ،شرم اور خطرے کی بات یہ ہے کہ جس ثالثی کی پیش کش امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر چکے ہیں وہ ممکنہ طور پر پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق ہے، جو 1947 والی ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے اور اس حصہ پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں لاگو ہوتی ہیں۔ بھارتی صحافیوں نے کچھ اخبارات میں لکھا ہے کہ نریندر مودی ریاست جموں وکشمیر کی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے ہی آگاہ کر چکے تھے۔ اسی کے تناظر میں امریکی صدر نے آپ کو مسلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی ۔ اب یہ ثالثی ممکنہ طور پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر تو نہیں ہونے والی؟خان صاحب آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر شہیدوں کی بیوایں، یتیموں کی آہیں او ر گولیوں اور بموں سے متاثرہ انسانی جانیں مایوس ہو چکی ہیں ۔ خان صاحب! آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کشمیر سازش جیسی باتیں بحث و مباحثہ میں سنی جا رہی ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے خان صاحب ؟ کیا کشمیر پر ڈیل ہو چکی ہے ؟
@Angela
اس مضمون کے متعلق آپ کی کیا سوچ ہے
فی الحال تو ہم ان سب معاملات سے کچھ دور ہی ہیں اپنے کچھ اشوز کی وجہ سے۔۔بہت سی چیزوں اور باتوں پہ دھیان نہیں دے پا رہے۔۔۔لیکن جہاں تک یہ ناچیز واقف ہے۔۔۔عمران خان نے حالیہ تقریر میں سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا ’یہ مجھے بتا دیں کہ میں اور کیا کروں؟ کیا میں حملہ کردوں ہندوستان پر`۔اس جملہ سے بہت سے لوگ یہ مطلب لے رہے ہیں کہ عمران خان کشمیر کے معاملے میں بے بس ہو گیا ہے اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔لیکن اگر آپ نے اس اجلاس کی ویڈیو دیکھی ہو تو آپ ایک دفعہ یہ سوچنے پہ ضرور مجبور ہوں گے کہ کشمیر پر ہونے والے اس مشترکہ اجلاس میں مشترکہ کیا تھا آخر؟ اپوزیشن عمران خاں پر اور ان کی حکومت پر آوازیں کس رہی ہے۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ''وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے تین حصے ہونے چاہئیں اور آج بھارت نے کشمیر کے تین حصے کردیئے۔ ''۔۔وہی سب کچھ تھا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔۔۔۔تب عمران خان نے کہا تھا کہ یہ سب آخر چاہتے کیا ہیں۔۔۔ عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنانے کی کوشش ان کے نسل پرستانہ رویے کا مظہر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے اپنے نظریے کے لیے اپنے آئین، قوانین اور تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ کشمیری عوام جو ظلم کا سامنا کر رہے ہیں وہ اس قانون کی وجہ سے غلامی کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کشمیری مزاحمت مزید شدت پکڑے گی اور ’ہم سب کو سمجھنا ہے کہ اب یہ مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے اس اقدام کو عالی سطح پر اٹھائے گا۔ ’ہم ہر فورم میں جائیں گے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی کریمینل کورٹ جائیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مسئلہ کیا ہے۔‘ ان باتوں کے جواب میں بھی اپوزیشن نے جو منہ میں آیا کہا۔۔۔شہباز شریف نے کہا کہ 'میں پورے پارلیمان اور پاکستان کی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہم دو راہے پر کھڑے ہیں۔ جھکنا ہمارا آپشن یقینا نہیں اور اگر ایسا نہیں تو فیصلہ کر لیں کہ کام صرف باتوں سے نہیں چلے گا۔
لیکن ہم ان سب سے جس فیصلے پہ اب تک پہنچے ہیں وہ یہی ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کو اپنی طرف الجھایا ہے۔مل جل کر اس مسئلے کا حل سوچنے کی بجائے ایک دوسری پہ چھڑھائی کی جارہی ہے۔عوام کو امید دکھانے کی بجائے ان کی ڈھارس بندھانے کی بجائے ان میں انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔۔مسئلہ کشمیر بہت پرانا ہے۔۔سترسال کسی کی غلامی میں رہنا اور ظلم ستم کی خون سے لکھے گئی اس تاریخ کو پڑھیں تو رونگٹے کانپ اٹھتے ہیں۔لیکن اب بھی کی بار جو ائین کو ختم کیا گیا ہے اس سے۔۔کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ اگر آئینِ ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم آباد کار یہاں بس جائیں گے جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں گے۔
اور ایسا ہی ہو گا۔۔اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا۔۔۔۔۔
جہاں تک ہم سمجھتے ہیں امت مسلمہ کے ہر فرد پر جہاد تب سے واجب ہوا ہے جب کشمیر کی پہلی عورت بیوہ ہوئی۔۔جب پہلا بچہ اپنے والدین سے محروم ہوا۔۔۔جب پہلی بہن نے اپنے بھائی کو کھویا۔۔۔جب ان لوگوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ٹوٹنے شروع ہوئے۔۔لیکن چونکہ یہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی سر پرستی میں یہ کام سرانجام دے۔۔۔تا کہ انتشار کا اندیشہ نہ ہو۔۔اسی لئے سب چپ چاپ بیٹھے ہر آنے والی حکومت کا منہ دیکھتے رہے۔۔۔۔لیکن اس معاملے پہ بات ہونے کے باوجود امریکہ اس معاملے میں انوولو ہونے سے کتراتا رہا۔۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس نے ثالثی کی پیشکش کی پے۔جس پہ بھی بہت سی ملی جلی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔۔عمران خان کو اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کروانا چاہیے۔۔اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ کام انشاءاللہ انشاءللہ انشاءللہ وہ اور عوام مل کے سر انجام دے گی۔۔تاکہ کشمیریوں کو اور انتظار نہ کرنا پڑے۔۔۔۔۔ عمران خان کو عوام کے معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ باتیں کر کے عوام کے دل جیتنا آسان ہے لیکن اپنے وعدوں اور منشور کے مطابق ڈیلیور کرنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن ہم نے عمران خان اور سابقہ حکمرانوں کی جتنی بھی تقارہر سنی ہیں ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ شخص دل دے بولتا ہے۔۔اس میں کچھ کر گزرنے کی لگن ہے۔ ان کو پاکستان کے چاروں صوبوں اور مرکز میں نمائندگی ملی ہے۔ عوام نے اعتماد کیا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی ناکامی اور کامیابیوں کو مد نظر رکھیں۔اب ہمارے پاس عمران خان پہ بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ہمیں ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہماری عوام ہمیشہ بدترین کی توقع ہی کیوں رکھتی ہے۔۔۔؟؟؟ کیا یہ مایوسی کی انتہا نہیں؟؟؟۔۔آج جس موڑ پر ہم کھڑے ہیں اس سے چھٹکارا پانے کا بس ایک ہی حل ہے کہ سب اپنے مفادات ایک طرف رکھ دیں۔۔۔۔
ہمارا یہ سب کہنے کا مقصد عمران خان کی حمایت یا تعریف کرنا نہیں۔۔ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تمام لوگوں نے آکر حکومت میں اپنی من مرضیاں کی ہیں۔۔۔عمران خان نے بہت سے ایسے کام سر انجام دئیے ہیں جو دوسری حکومتوں میں نہیں ہوئے۔۔۔ملک کی شہری ہونے کے ناطے آپ تمام حکمرانوں کی کارکردگی سے واقف ہی ہوں گی۔۔۔ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ہم نہیں جانتے کہ عمران خان کے دل میں کیا ہے۔۔لیکن وہ اپنی ہر تقریر میں اپنا لائحہ عمل ضرور بتاتا ہے جو کہ ہر حکومت کہ ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ہمارے نہیں خیال میں اپنی 17 سالہ زندگی میں ہم نے کسی حکمران کو اس انداز سے خطاب کرتے ہوئے سنا ہے جس انداز سے عمران خان کرتا ہے۔۔ہم ان کی باتوں سے امپریس نہیں۔۔لیکن ان کے جذبے سے ضرور امپریس ہیں۔۔۔آپ بس دعا کریں کہ جو وہ کہتا ہے خدا تعالی اسے وہ کرنے کی توفیق دے۔اسے بھٹکنے سے بچائے۔۔۔اگر اس نے امید کی شمع روشن کی ہے تو ہیں چاہیے کہ اس شمع کو روشن رکھنے اور یقین میں بدلنے کے لئے اس کا ساتھ دیں ۔ورنہ۔۔اس کے علاوہ اگر آپ لوگ کچھ کر سکتے ہیں تو ضرور کیجیے گا۔۔لیکن ہمارے خیال میں وہ صرف انتشار ہی ہو گا۔۔۔
ہم نے اپنی چند سوچوں کو زبان دی ہے۔۔ہر ایک کی اپنی الگ رائے ہوتی ہے۔۔۔ہم عمر و تجربہ ، عقل و دانشمندی اور فہم و فراست میں صفر ہیں۔۔۔اس لئے جو ہمیں سمجھ آیا ہم نے لکھ دیا۔۔۔۔آپ سب ہم سے بہتر سوچتے ہوں گے۔۔۔اور حالات سے بہتر طریقے سے واقف ہوں گے۔۔۔ ہماری تو بس یہی دعا ہے کہ خدائے بزرگ و بر تر ہم سب کے حال پررحم فرمائے اور کشمیر پر اپنی خاص رحمت کا نزول فرماتے ہوئے ان کواس آزمائش اور امتحان سے نکال دے۔۔۔آمیں۔۔۔ورنہ یاد رکھئے ہم میں سے ہر ایک روز حشر ان کے سامنے مجرم ہو گا۔۔۔اگر ہمارے پاس کچھ اور کرنے کا اختیار نہیں تو ان کے لئے دعا تو کر ہی سکتے ہیں۔۔۔کیونکہ آہوں اور سسکیوں میں مانگی گئی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی
@Don @saviou @Shiraz-Khan @Seemab_khan @Mahen @shehr-e-tanhayi @Hoorain
@Aaylaaaaa @minaahil @H@!der @Untamed-Heart @Sehar_Khan
@duaabatool @Armaghankhan @Layla
@Kavi @Gaggan @AnadiL @Um_mm
@Hasii @Bird-Of-Paradise @shzd @zehar @Syeda-Hilya
@Manahi007 @ujalaa @*Sonu* @Fantasy
@Shanzykhan @NXXXS @AnadiL @Basitkikhushi
@whiteros @namaal @Abid Mahmood @Zunaira_Gul
@Fanii @junaid_ak47 @Mas00m-DeVil @maria_1
@Asheer @arzi_zeest @mashooma @intelligent086 @ROHAAN
@St0rm @Museebat @Adeeha_ @Ram33n @Elephent @ujalaa @Angela @Museebat @Seemab_khan @Sehar_
۔
وہ ابھی سوچوں میں گم ہیں کیا جواب دیں ۔۔۔۔
شکریہ
تو اور کیا بھیا۔۔۔:(۔۔۔بس پوچھیں ہی نہ :(۔
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,804
1,313
Lahore,Pakistan
فی الحال تو ہم ان سب معاملات سے کچھ دور ہی ہیں اپنے کچھ اشوز کی وجہ سے۔۔بہت سی چیزوں اور باتوں پہ دھیان نہیں دے پا رہے۔۔۔لیکن جہاں تک یہ ناچیز واقف ہے۔۔۔عمران خان نے حالیہ تقریر میں سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا تھا ’یہ مجھے بتا دیں کہ میں اور کیا کروں؟ کیا میں حملہ کردوں ہندوستان پر`۔اس جملہ سے بہت سے لوگ یہ مطلب لے رہے ہیں کہ عمران خان کشمیر کے معاملے میں بے بس ہو گیا ہے اور وغیرہ وغیرہ۔۔۔لیکن اگر آپ نے اس اجلاس کی ویڈیو دیکھی ہو تو آپ ایک دفعہ یہ سوچنے پہ ضرور مجبور ہوں گے کہ کشمیر پر ہونے والے اس مشترکہ اجلاس میں مشترکہ کیا تھا آخر؟ اپوزیشن عمران خاں پر اور ان کی حکومت پر آوازیں کس رہی ہے۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ''وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے تین حصے ہونے چاہئیں اور آج بھارت نے کشمیر کے تین حصے کردیئے۔ ''۔۔وہی سب کچھ تھا جو ہمیشہ ہوتا ہے۔۔۔۔تب عمران خان نے کہا تھا کہ یہ سب آخر چاہتے کیا ہیں۔۔۔ عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنانے کی کوشش ان کے نسل پرستانہ رویے کا مظہر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت نے اپنے نظریے کے لیے اپنے آئین، قوانین اور تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
وزیراعظم نے سوال اٹھایا کہ کشمیری عوام جو ظلم کا سامنا کر رہے ہیں وہ اس قانون کی وجہ سے غلامی کے لیے تیار ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کشمیری مزاحمت مزید شدت پکڑے گی اور ’ہم سب کو سمجھنا ہے کہ اب یہ مسئلہ مزید سنجیدہ صورتحال اختیار کر گیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان انڈیا کے اس اقدام کو عالی سطح پر اٹھائے گا۔ ’ہم ہر فورم میں جائیں گے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی کریمینل کورٹ جائیں گے اور دنیا کو بتائیں گے کہ مسئلہ کیا ہے۔‘ ان باتوں کے جواب میں بھی اپوزیشن نے جو منہ میں آیا کہا۔۔۔شہباز شریف نے کہا کہ 'میں پورے پارلیمان اور پاکستان کی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہم دو راہے پر کھڑے ہیں۔ جھکنا ہمارا آپشن یقینا نہیں اور اگر ایسا نہیں تو فیصلہ کر لیں کہ کام صرف باتوں سے نہیں چلے گا۔
لیکن ہم ان سب سے جس فیصلے پہ اب تک پہنچے ہیں وہ یہی ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کو اپنی طرف الجھایا ہے۔مل جل کر اس مسئلے کا حل سوچنے کی بجائے ایک دوسری پہ چھڑھائی کی جارہی ہے۔عوام کو امید دکھانے کی بجائے ان کی ڈھارس بندھانے کی بجائے ان میں انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔۔مسئلہ کشمیر بہت پرانا ہے۔۔سترسال کسی کی غلامی میں رہنا اور ظلم ستم کی خون سے لکھے گئی اس تاریخ کو پڑھیں تو رونگٹے کانپ اٹھتے ہیں۔لیکن اب بھی کی بار جو ائین کو ختم کیا گیا ہے اس سے۔۔کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ اگر آئینِ ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم آباد کار یہاں بس جائیں گے جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہو جائیں گے۔
اور ایسا ہی ہو گا۔۔اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا۔۔۔۔۔
جہاں تک ہم سمجھتے ہیں امت مسلمہ کے ہر فرد پر جہاد تب سے واجب ہوا ہے جب کشمیر کی پہلی عورت بیوہ ہوئی۔۔جب پہلا بچہ اپنے والدین سے محروم ہوا۔۔۔جب پہلی بہن نے اپنے بھائی کو کھویا۔۔۔جب ان لوگوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ٹوٹنے شروع ہوئے۔۔لیکن چونکہ یہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی سر پرستی میں یہ کام سرانجام دے۔۔۔تا کہ انتشار کا اندیشہ نہ ہو۔۔اسی لئے سب چپ چاپ بیٹھے ہر آنے والی حکومت کا منہ دیکھتے رہے۔۔۔۔لیکن اس معاملے پہ بات ہونے کے باوجود امریکہ اس معاملے میں انوولو ہونے سے کتراتا رہا۔۔پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اس نے ثالثی کی پیشکش کی پے۔جس پہ بھی بہت سی ملی جلی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔۔عمران خان کو اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر حل کروانا چاہیے۔۔اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ کام انشاءاللہ انشاءللہ انشاءللہ وہ اور عوام مل کے سر انجام دے گی۔۔تاکہ کشمیریوں کو اور انتظار نہ کرنا پڑے۔۔۔۔۔ عمران خان کو عوام کے معیار پر پورا اترنا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ باتیں کر کے عوام کے دل جیتنا آسان ہے لیکن اپنے وعدوں اور منشور کے مطابق ڈیلیور کرنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن ہم نے عمران خان اور سابقہ حکمرانوں کی جتنی بھی تقارہر سنی ہیں ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ شخص دل دے بولتا ہے۔۔اس میں کچھ کر گزرنے کی لگن ہے۔ ان کو پاکستان کے چاروں صوبوں اور مرکز میں نمائندگی ملی ہے۔ عوام نے اعتماد کیا ہے۔ ماضی کی حکومتوں کی ناکامی اور کامیابیوں کو مد نظر رکھیں۔اب ہمارے پاس عمران خان پہ بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ہمیں ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہماری عوام ہمیشہ بدترین کی توقع ہی کیوں رکھتی ہے۔۔۔؟؟؟ کیا یہ مایوسی کی انتہا نہیں؟؟؟۔۔آج جس موڑ پر ہم کھڑے ہیں اس سے چھٹکارا پانے کا بس ایک ہی حل ہے کہ سب اپنے مفادات ایک طرف رکھ دیں۔۔۔۔
ہمارا یہ سب کہنے کا مقصد عمران خان کی حمایت یا تعریف کرنا نہیں۔۔ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تمام لوگوں نے آکر حکومت میں اپنی من مرضیاں کی ہیں۔۔۔عمران خان نے بہت سے ایسے کام سر انجام دئیے ہیں جو دوسری حکومتوں میں نہیں ہوئے۔۔۔ملک کی شہری ہونے کے ناطے آپ تمام حکمرانوں کی کارکردگی سے واقف ہی ہوں گی۔۔۔ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ہم نہیں جانتے کہ عمران خان کے دل میں کیا ہے۔۔لیکن وہ اپنی ہر تقریر میں اپنا لائحہ عمل ضرور بتاتا ہے جو کہ ہر حکومت کہ ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ہمارے نہیں خیال میں اپنی 17 سالہ زندگی میں ہم نے کسی حکمران کو اس انداز سے خطاب کرتے ہوئے سنا ہے جس انداز سے عمران خان کرتا ہے۔۔ہم ان کی باتوں سے امپریس نہیں۔۔لیکن ان کے جذبے سے ضرور امپریس ہیں۔۔۔آپ بس دعا کریں کہ جو وہ کہتا ہے خدا تعالی اسے وہ کرنے کی توفیق دے۔اسے بھٹکنے سے بچائے۔۔۔اگر اس نے امید کی شمع روشن کی ہے تو ہیں چاہیے کہ اس شمع کو روشن رکھنے اور یقین میں بدلنے کے لئے اس کا ساتھ دیں ۔ورنہ۔۔اس کے علاوہ اگر آپ لوگ کچھ کر سکتے ہیں تو ضرور کیجیے گا۔۔لیکن ہمارے خیال میں وہ صرف انتشار ہی ہو گا۔۔۔
ہم نے اپنی چند سوچوں کو زبان دی ہے۔۔ہر ایک کی اپنی الگ رائے ہوتی ہے۔۔۔ہم عمر و تجربہ ، عقل و دانشمندی اور فہم و فراست میں صفر ہیں۔۔۔اس لئے جو ہمیں سمجھ آیا ہم نے لکھ دیا۔۔۔۔آپ سب ہم سے بہتر سوچتے ہوں گے۔۔۔اور حالات سے بہتر طریقے سے واقف ہوں گے۔۔۔ ہماری تو بس یہی دعا ہے کہ خدائے بزرگ و بر تر ہم سب کے حال پررحم فرمائے اور کشمیر پر اپنی خاص رحمت کا نزول فرماتے ہوئے ان کواس آزمائش اور امتحان سے نکال دے۔۔۔آمیں۔۔۔ورنہ یاد رکھئے ہم میں سے ہر ایک روز حشر ان کے سامنے مجرم ہو گا۔۔۔اگر ہمارے پاس کچھ اور کرنے کا اختیار نہیں تو ان کے لئے دعا تو کر ہی سکتے ہیں۔۔۔کیونکہ آہوں اور سسکیوں میں مانگی گئی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی
@Don @saviou @Shiraz-Khan @Seemab_khan @Mahen @shehr-e-tanhayi @Hoorain
@Aaylaaaaa @minaahil @H@!der @Untamed-Heart @Sehar_Khan
@duaabatool @Armaghankhan @Layla
@Kavi @Gaggan @AnadiL @Um_mm
@Hasii @Bird-Of-Paradise @shzd @zehar @Syeda-Hilya
@Manahi007 @ujalaa @*Sonu* @Fantasy
@Shanzykhan @NXXXS @AnadiL @Basitkikhushi
@whiteros @namaal @Abid Mahmood @Zunaira_Gul
@Fanii @junaid_ak47 @Mas00m-DeVil @maria_1
@Asheer @arzi_zeest @mashooma @intelligent086 @ROHAAN
@St0rm @Museebat @Adeeha_ @Ram33n @Elephent @ujalaa @Angela @Museebat @Seemab_khan @Sehar_
۔

تو اور کیا بھیا۔۔۔:(۔۔۔بس پوچھیں ہی نہ :(۔
اگر یہ سب پڑھنے کے بعد بھی قارئین کی تسلی نہ ہو تو پھر اس قوم کا ’’اللہ ہی حافظ’’ ہے
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,771
1,753
213
اگر یہ سب پڑھنے کے بعد بھی قارئین کی تسلی نہ ہو تو پھر اس قوم کا ’’اللہ ہی حافظ’’ ہے
نماز مغرب کا وقت ہوا چاہتا ہے افطاری کے بعد جواب ملے گا انہوں نے کیا لکھا ہے
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?