کیا ہم اپنا 10 فیصد دماغ استعمال کرتے ہیں؟

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
کیا ہم اپنا 10 فیصد دماغ استعمال کرتے ہیں؟
1564954959710.jpeg


کی ہالی وُڈ فلم ’’فینومینن‘‘ میں اداکار جان ٹراولٹا زلزلوں کی پیش گوئی کرنے اور فوراً غیرملکی زبانیں سیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ 2014ء کی فلم ’’لوسی‘‘ میں سکارلٹ جوہنسن مارشل آرٹس کی غیرمعمولی قابلیت حاصل کر لیتی ہے اور ’’لِمٹ لیس‘‘ میں بریڈلے کوپر رات بھر میں پورا ناول لکھ لیتا ہے۔ سائنس کے ساتھ ایسی ہیرا پھیری عام لوگوں کو خاصا متاثر کرتی ہے۔دراصل ہم ہر وقت کم و بیش اپنا پورا دماغ استعمال میں لاتے ہیں ۔ اگر واقعی 10 فیصد دماغ سے ہمارا گزارا ہو سکتا ہے تو اس کے زیادہ تر حصے پر ضرب لگنے سے قابلِ ذکر اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ دماغ کے تھوڑے سے حصے کو بھی اگر نقصان پہنچے تو کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ فرد حواس کھو سکتا، فالج کا شکار ہو سکتا ہے، یا اس کے کچھ اعضا کارآمد نہیں رہتے۔نظامِ قدرت کا اصول ہے کہ بے مقصد حصے جسم میں باقی نہیں رہتے۔ کوئی انسانی عضو اتنی توانائی صَرف نہیں کرتا جتنی دماغ کرتا ہے۔ یہ کل جسمانی توانائی کا 20 فیصد تک استعمال میں لاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے دماغ کو برقرار رکھنے کے لیے انسان اپنے قیمتی وسائل کا بہت بڑا حصہ تفویض کر دیتا ہے۔ یہ بلاوجہ تو نہیں! چند ایسی تکنیک ہیں جن سے دماغ کی سرگرمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ’’پوزیٹرون امیشن ٹوموگرافی‘‘ (پی ای ٹی) اور ’’فنکشنل میگنیٹک ریزونینس امیجنگ‘‘ (ایف ایم آر آئی) داخلی سرگرمی کی تصویر بنانے کی تکنیک ہیں جن کی مدد سے ڈاکٹر اور سائنس دان دماغ کی اندرونی سرگرمیوںکا براہِ راست مشاہدہ کرتے ہیں۔ ان کے ڈیٹا سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہر طرح کی سرگرمی کے لیے 10 فیصد سے کہیں زیادہ، دماغ کا ایک بہت بڑا حصہ استعمال میں آتا ہے۔ یہ کوئی سادہ سی سرگرمی ہو سکتی ہے جیسے کسی تصویر کو دیکھنا، یا پھر کوئی پیچیدہ کام جیسے مطالعہ یا ریاضی کا سوال حل کرنا۔ ابھی تک سائنس دانوں کو دماغ کا وہ حصہ نہیں ملا جو کوئی کام نہ کرتا ہو۔ تو پھر یہ خیال کہاں سے آیا کہ دماغ کا صرف 10 فیصد حصہ استعمال ہوتا ہے اور 90 فیصد بے کار ہے؟ اس کا ’’الزام‘‘ انیسویں صدی کے ماہر نفسیات ولیم جیمز پر لگایا جاتا ہے جس کے مطابق ہماری بیشتر ذہنی صلاحیتیں استعمال میں نہیں آتیں۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے کبھی فیصد میں نہیں بتایا تھا۔ البرٹ آئن سٹائن سے غلط طور پر وابستہ اقوال کو بھی سبب خیال کیا جاتا ہے لیکن دراصل امریکی کی ’’سیلف ہیلپ‘‘ کی صنعت سے یہ خیال پیدا ہوا۔ 1936ء میں ڈیل کارنیگی کی معروف زمانہ کتاب ’’کیسے دوست بنائے جائیں اور لوگوں پر اثر انداز ہوا جائے‘‘ کے دیباچے میں اس کا اولین ذکر ملتا ہے۔ اس کے بعد یہ خیال کہ ہم نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہی استعمال کیا ہے، سیلف ہیلپ کے ماہرین کا پسندیدہ حوالہ بن گیا ہے۔ جو لوگ اپنی ذہانت اور کارکردگی میں راتوں رات غیرمعمولی اضافے کی توقع رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ بری خبر ہے۔ لیکن اچھی خبر بھی ہے۔ اگر محنت کی جائے تو ہماری ذہنی استعداد اور کارکردگی میں خاصا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر ہم ایسے کام کریں جن میں ذہنی مشق اور چیلنج شامل ہوں تو بہت اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?